Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اے اہل ایمان!۔۳

اے اہل ایمان!۔۳

از: حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ

(شمارہ 682)

یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاۃِ ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ۔ (البقرۃ:۱۵۳)

اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

صبر اور جہاد فی سبیل اللہ :

اس آیت مبارکہ میں صبر کا حکم ہے اور اس صبر اور جہاد فی سبیل اللہ کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے ہمارے شیخ حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازھر حفظہ اللہ تعالی کی تفسیر سے یہ مفید اقتباس ملاحظہ کیجیے :

خلاصہ : اے مسلمانو! اگر اﷲتعالیٰ کی نصرت ساتھ لینا چاہتے ہو تو صبر اور نماز میں خود کو مضبوط بنائو، صبر کے معنیٰ ہیں شریعت پر ڈٹے رہنا اور اس کا اعلیٰ ترین درجہ جہاد فی سبیل اﷲ ہے۔

(۱)  استعینو ا بالصبر علی الذکر والشکر وسائر الطاعات من الصوم والجہاد وترک المبالاۃ بطعن المعاندین فی امر القبلۃ (روح المعانی)

مدد حاصل کرو صبر سے یعنی ذکر و شکر اور تمام عبادات روزہ جہاد وغیرہ پر ڈٹے رہو اور تحویل قبلہ کے متعلق دشمنوں کے طعنو ں کی پرواہ نہ کرو۔

(۲) یہاں سے اشارہ ہے کہ جہاد میں محنت اٹھا ئو او ر مضبوطی اختیار کرو (موضح القرآن)

(۳) اور اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جہاد میں محنت اٹھائو ، جس کا ذکر آگے آتا ہے کہ اس میں صبر اعلیٰ درجہ کاہے (تفسیر عثمانی)

(۴) ومنھم من حملہ علی الجہاد لانہ تعالیٰ ذکر بعد ہ ولا تقو لو المن یقتل فی سبیل اﷲ ( تفسیر کبیر)بعض اہل تفسیر نے اس آیت میں صبر کا معنیٰ جہاد کیا ہے کیونکہ اس کے بعد والی آیت میں اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں اور ان لوگوں کو مردہ نہ کہو جو اﷲتعالیٰ کے راستے میں قتل کئے گئے۔

(۵) ان اﷲ مع الصبرین بے شک اﷲتعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس ( مع) میں مفہوم نصرت واعانت کا شامل رہتا ہے۔ یقتضی معنی النصرۃ ( راغب ، تفسیر ماجدی )

بعد والی چار آیات سے ربط :

اﷲتعالیٰ کی مدد نصرت اورخصوصی معیت صبر اورنماز کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔او ر صبر کا اعلیٰ درجہ ’’جہاد فی سبیل اﷲ‘‘ ہے پس جو شخص جہاد میں مارا جاتا ہے تو اﷲتعالیٰ اس کو ایسی اونچی مزیدار اورخاص زندگی عطاء فرماتا ہے جس کے سامنے پوری دنیا کی سلطنت اورنعمتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ مگر شہادت تک پہنچنے سے پہلے جہاد میں کافی آزمائشیں آسکتی ہیں، پس کامیاب وہی ہونگے جو استقامت دکھا ئیں گے۔ واﷲاعلم بالصواب۔

(۲) اﷲ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ، اس پر سوال ہو اکہ اگر اﷲ تعالیٰ ساتھ ہے تو مسلمان جہاد میں مارے کیوں جاتے ہیں، یہ لوگ تو دنیا کی نعمتوں سے محروم ہوجاتے ہیں اورجو مارے نہیں جاتے ان پر بھی تکلیفیں آتی ہیں۔ جواب دیا گیا کہ جو مارے گئے وہ تو اصل زندگی پاگئے ایسی مزیدار اورطاقتور زندگی جسے ساری دنیا کے لو گ مل کر بھی نہیں سمجھ سکتے اور جو تکلیفیں اٹھا رہے ہیں وہ بھی رحمت ، اجر اورہدایت کے خزانے جمع کررہے ہیں۔ وا ﷲ اعلم بالصواب۔

دعا : یا اﷲ ہمیں اپنے پسندیدہ صبر اور پسندیدہ نماز پر قائم فرما۔‘‘ (فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد)

اس آیت مبارکہ میں حصول نصرت الٰہی کے لئے صبر کے ساتھ ساتھ نماز کی تاکید کی گئی ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے چند آیات اور احادیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے!

نمازاور اَعمال اوراَخلاق کا تعلق:

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

(اتْلُ مَا أُوحِیَ إِلَیْکَ مِنَ الْکِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَا ء وَالْمُنکَرِ )

’’جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اورنماز قائم کریں ،یقینا نماز بے حیائی اوربرائی سے روکتی ہے۔‘‘ (سورۃ العنکبوت : 45)

نماز افضل عمل:

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟آپ نے فرمایا :’’نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔‘‘(بخاری ومسلم)

نماز اور رب تعالیٰ سے مناجات:

آپ نے ارشاد فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو اپنے رب سے سرگوشی کررہاہوتا ہے۔‘‘(بخاری)

نماز دین کا ستون:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تمام امور کا اصل اسلام ہے ،اور اس کا ستون نماز ہے،اور اس کی بلندی جہاد ہے۔‘‘(ترمذی)

نماز نور ہے:

آپ نے ارشاد فرمایا:’’نماز نور ہے۔‘‘ (مسلم)

نماز کا اہتمام ایمان کی علامت:

آپ نے ارشاد فرمایا:’’منافقین پر فجر اور عشاء کی نمازسے زیادہ گراں کوئی اور نماز نہیں، اور اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نمازوں کے اندر کیا (فضیلت )ہے تو وہ ان دونوں نمازوں کے لئے ضرور آئیں اگر چہ انہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کرہی کیوں نہ آنا پڑے (متفق علیہ)

نماز جہنم سے بچاؤ کا سبب:

آپ نے ارشاد فرمایا ہے :

’’وہ شخص نار (جہنم)میں ہرگز نہیں داخل ہوگا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز پڑھتا رہا یعنی فجر اور عصر کی نماز۔‘‘(مسلم)

نماز باجماعت :

آپ نے ارشاد فرمایا:(صلاۃ الجماعۃ أفضل من صلاۃ الفذِّ بسبع وعشرین درجۃ)

نماز باجماعت،تنہا پڑھی جانے والی نماز سے ستائیس درجہ افضل ہے۔ (متفق علیہ)

نماز کی جگہ بیٹھے رہنا:

آپ نے ارشاد فرمایا:(الملائکۃ تصلی علی أحدکم مادام فی مصلاہ الذی صلی فیہ مالم یحدث، تقول: اللہم ارحمہ‘‘۔جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نمازگاہ میں ہوتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے،فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ حدث نہ کرے (یعنی اس کا وضوٹوٹ نہ جائے )،وہ کہتے ہیں :اے اللہ!تو اسے بخش دے،اے اللہ!تو اس پررحم فرما۔ (متفق علیہ)

نماز باجماعت سے گناہ معاف:

آپ نے ارشاد فرمایا:من توضأ للصلاۃ، فأسبغ الوضوء، ثم مشی إلی الصلاۃ المکتوبۃ فصلاّہا مع الناس أو مع الجماعۃ أو فی المسجد غفراللہ لہ ذنوبہ

جس نے نماز کیلئے وضو کیا اور کامل وضوکیا، پھر فرض نماز کے لئے چلا اور لوگوں کے ساتھ باجماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز پڑھی،تو اللہ تعالی اس کے گناہوں کو بخش دے گا۔ (مسلم)

آپ نے ارشاد فرمایا:

( أرایتم لو أن نہرا ً بباب أحدکم یغتسل منہ کل یوم خمس مرّات ,ہل یبقی من درنہ شیی ء ؟)قالوا:لا یبقی من درنہ شیء،قال )فذالک مثل الصلوات الخمس یمحوا اللہ بہن الخطایا)

’’تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی شخص کے دروازہ پر ایک نہر ہو جس میں وہ ہرروز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو،کیااس کے جسم میں کچہ میل کچیل باقی رہے گا ؟صحابہ نے جواب دیا اس کا کچھ بھی میل کچیل باقی نہیں رہے گا،آپ نے فرمایا :بالکل یہی مثال پنج وقتہ نمازوں کی ہے کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالی گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ (متفق علیہ)

نماز کا ہر قدم باعث ثواب:

آپ نے ارشاد فرمایا:(من تطہر فی بیتہ، ثم مضی إلی بیت من بیوت اللہ لیقضی فریضۃ من فرائض اللہ کانت خطواتہ إحداہا تحط خطیئۃ والأخری ترفع درجۃ )

’’جس نیاپنے گھر میں طہارت حاصل کی، پھر اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کا رخ کیا تاکہ اللہ کے فرائض میں سے کسی فرض نماز کی ادائیگی کرے ،تو اس کا ایک قدم ایک گناہ کو مٹاتا ہے اور دوسرا قدم ایک درجہ کو بلند کرتا ہے۔‘‘ (مسلم)

اذان اور پہلی صف:

آپ نے ارشاد فرمایا:(لو یعلم الناس ما فی النداء والصف الأول ثم لم یجدوا إلا أن یستہموا علیہ ولو یعلمون ما فی التہجیر لاستہموا إلیہ )

’’اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کا کیا اجروثواب اور فضیلت ہے ،پھروہ اس پر قرعہ اندازی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ پائیں تو وہ ضرور اس پر قرعہ اندازی کریں گے،اور اگر انھیں پتہ چل جائے کہ نماز کی طرف جلدی آنے میں کیا اجروثواب ہے تو وہ اس کی طرف ضرور سبقت کریں گے۔‘‘(متفق علیہ)

صبح کی نماز کی خاص فضیلت:

آپ نے ارشاد فرمایا:(من صلی الصبح فہو فی ذمۃ اللہ، فانظر یابن آدم !لایطلبنک اللہ من ذمتہ بشیء

’’جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ داری وپناہ میں ہے ،لہٰذا اے ابن آدم! دیکھ کہیں اللہ تعالیٰ تجھ سے اپنے ذمہ میں سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔‘‘(مسلم)

آپ نے ارشاد فرمایا:(بشّر المشّائین فی الظلم إلی المساجد بالنّورالت ام یوم القیامۃ )

’’تاریکی میں مسجدوں کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری دے دو۔‘‘(ابوداود،ترمذی)

آپ نے ارشاد فرمایا:(من صلی البردین دخل الجنّۃ )

’’جوشخص دو ٹھنڈی نمازیں (یعنی فجر اور عصر )پڑھتا رہا وہ جنت میں داخل ہوگا ) (متفق علیہ)

آپ نے ارشاد فرمایا:(المسجد بیت کل تقی، وتکفل اللہ لمن کان المسجد بیتہ بالرَّوح والرحمۃ ، والجواز علی الصراط إلی رضوان اللہ إلی الجنۃ)

’’مسجد ہر متقی وپرہیزگار کا گھر ہے، اور اس شخص کیلئے جس کا گھر مسجد ہو،اللہ تعالیٰ نے راحت ورحمت اور پل صراط پار کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی یعنی جنت میں پہنچنے کی ضمانت ہے۔‘‘(طبرانی،علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کو صحیح قراردیا ہے۔

آپ کا ارشاد ہے:(من حافظ علیہا کانت لہ نوراوبرہان ا ونجاۃ یوم القیامۃ،ومن لم یحافظ علیہا لم یکن لہ نور،ولا برہان ولانجاۃ، وکان یوم القیامۃ مع قارون وفرعون وہامان وأبی بن خلف)

’’جس نے نما ز کی حفاظت او ر نگہدا شت کی اس کے لئے نماز قیامت کے دن نور،دلیل اورنجات کا باعث ہوگی ،اور جس نے اسکی پابندی نہیں کی اس کیلئے نہ کوئی نور ہوگا ،نہ دلیل ہوگی اورنہ ہی کوئی نجات کا ذریعہ ہوگا،اور وہ قیامت کے دن قارون، فرعون،ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ ‘‘(مسند احمد ،دارمی)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor