Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مفتاح القرآن۔۳

مفتاح القرآن۔۳

المعروف بہ تفسیر سورۃ الفاتحہ

مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو

(شمارہ 683)

حضرت مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری چشتی سجادہ نشین ترنوائی شریفؒ فاضل دارالعلوم دیوبندکی تصانیف میں سے (۱) باب الفیض (۲) عزیز العقائد (۳) تفسیر سورۃ فاتحہ۔ پہلے دو مکمل ہونے کے بعد اب تیسرا رسالہ تفسیر سورۃ فاتحہ شروع کیا جارہا ہے۔

چنانچہ سرور دوعالمﷺنے فرمایا ہے:

انما یرحم اللہ من عبادہ الرّحماء۔

اللہ اپنے رحیم بندوں پر رحم فرماتا ہے۔ (صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری چشتی)

دائرۃ الحروف مع مؤکلات

قرآن کریم کے تیس پارے ہیں جن میں تیس حروف تہجی ہیں۔ اب ہر حرف کے مؤکل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ’’آ‘‘ اس حرف کا مؤکل اسرائیل ہے۔ ’’ب‘‘ اس حرف کا مؤکل جبرائیل ہے۔ ’’ت‘‘ اس حرف کا مؤکل عزرائیل ہے۔ ’’ث‘‘ اس حرف کا مؤکل میکائیل ہے۔ ’’ج‘‘ اس حرف کا مؤکل کلکائیل ہے۔ ’’ح‘‘ اس حرف کا مؤکل شنکفیل ہے۔ ’’خ‘‘ اس حرف کا مؤکل میکائیل ہے۔ ’’د‘‘ اس حرف کا مؤکل دردائیل ہے۔ ’’ذ‘‘ اس حرف کا مؤکل ابرائیل ہے۔ ’’ر‘‘ اس حرف کا مؤکل امواکیل ہے۔ ’’ز‘‘ اس حرف کا مؤکل سرفائیل ہے۔ ’’س‘‘ اس حرف کا مؤکل ہمواکیل ہے۔ ’’ش‘‘ اس حرف کا مؤکل ہمزائیل ہے۔ ’’ص‘‘ اس حرف کا مؤکل ایجمائیل ہے۔ ’’ض‘‘ اس حرف کا مؤکل عطکائیل ہے۔ ’’ط‘‘ اس حرف کا مؤکل اسمائیل ہے۔ ’’ظ‘‘ اس حرف کا مؤکل تورائیل ہے۔ ’’ع‘‘ اس حرف کا مؤکل لوبائیل ہے۔ ’’غ‘‘ اس حرف کا مؤکل لوفائیل ہے۔ ’’ف‘‘ اس حرف کا مؤکل سرعمائیل ہے۔ ’’ق‘‘ اس حرف کا مؤکل عطرائیل ہے۔ ’’ک‘‘ اس حرف کا مؤکل طاطائیل ہے۔ ’’م‘‘ اس حرف کا مؤکل رومائیل ہے۔ ’’ن‘‘ اس حرف کا مؤکل حولائیل ہے۔ ’’و‘‘ اس حرف مؤکل رقتمائیل ہے۔ ’’ہ‘‘ اس حرف کام مؤکل دوریائیل ہے۔ ’’ی‘‘ اس حرف کا مؤکل سرکتائیل ہے۔

(نوٹ) ’’ء‘‘ اور ’’یے‘‘ باقی رہے۔ ہمزہ، الف میں مدغم اور یے،ی میں مدغم ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بھی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ بزرگوں سے سنا اور پڑھا ہے کہ سب سے اول یہ بسم اللہ الخ حضرت آدم علیہ السلام پر اتری حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ سب اشیاء سے پہلے خدا تھا اور کوئی چیز اس کے ساتھ نہ تھی اس وقت خدا نے نور کو پیدا کیا اور نور کے بعد لوح وقلم کو، پھر قلم سے ارشاد کیا کہ جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب کو لوح پر لکھ لیں پہلے جو کچھ قلم نے لوح پر لکھا وہ ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ تھی۔جب یہ بسم اللہ حضرت آدم علیہ السلام پر اتری تھی تو آپ نے فرمایا کہ اب  میری اولاد عذاب سے محفوظ رہے گی۔ پھر یہ آیت حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اتری پھر حضرت سلیمان علیہ السلام پر اتری۔ اس وقت خدا نے اس بسم اللہ کا نام آیت ایمان رکھا تھا۔ پھر یہ بسم اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتری۔ پھر بسم حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اتری۔ اسی ہی آیت ایمان بسم اللہ کی برکت سے سب انبیاء نے معجزات دکھائے۔ یہ اسی ہی کی برکت اور تاثیرتھی۔ پھر یہ بسم اللہ حضرت مصطفیﷺ پر اتری اور آپ نے ہرکام کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ارشاد فرمایا۔ حتیٰ کہ ہرکتاب اور ہرمکتوب کے شروع میں بسم اللہ لکھی جانی شروع ہوئی۔ بسم اللہ ہی کی برکت سے یہ امت محمدیہ قذف، خسف اور مسخج سے محفوظ ہے۔

حضرت خالد بن ولیدؓ کو ایک شخص نے زہر قاتل کھلایا اور کہا کہ اگر واقعی بسم اللہ کی یہ فضیلت ٹھیک ہے تو اس کو پی لو۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر اس کو پی لیا تو ان کو کچھ نقصان نہیں ہوا۔ (شمس المعارف خواص بسملہ ص۵۷)

فائدہ جلیلہ:

لفظ ’’اللہ‘‘ اس ذات کا نام ہے جو الوہیت کی تمام صفات کی جامع ہے۔ اسی لیے یہ اسم خدائے قدوس کے ننانوے اسماء سے عظمت وشان میں سب سے بڑا ہے اور یہ اسم خدا ہی کے لیے خاص ہے۔ حقیقتاً یا مجاز کسی دوسرے کے حق میں نہیں بولا جاتا۔ انسان کو چاہیے کہ دل کی پوری توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یاد میں مستغرق رہے۔ لفظ ’’اللہ‘‘ کا وظیفہ حاصل کرنے کے لیے کسی نیک اور صالح وسالک صاحب طریقت سے بیعت حاصل کرے۔ اسی اسم سے انسان مراتب عُلیی کو حاصل کرلیتا ہے اور اسی اسم کی برکت سے اس کے لطائف کھلتے ہیں میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہ اسم ہر ولی کے لیے اسم اعظم ہے۔ (صاحبزادہ ابو الفیض  محمد امیر خسرواشعری چشتی مانسہرہ ہزارہ)

’’الرحمٰن‘‘  اور ’’الرحیم‘‘ یہ دونوں اسم رحمت سے مبالغہ کے لیے مشتق ہیں اور رحمٰن میں زیادہ مبالغہ ہے کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کی رحمت کو شامل ہے۔علاوہ اس کے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے سب کام اسی رحمٰن اور رحیم خدا کے سپرد کردے اور اپنی توجہ صرف اس کی رحمت کی طرف رکھے اس درجہ کا نام تعلق بالرحمٰن والرحیم ہے۔

سورۃ الفاتحہ مکیہ وھی سبع اٰیات

سورۃ فاتحہ مکی ہے اور اس کی سات آیتیں ہیں۔

الفاتحہ

پڑھ کر فاتحہ کو دل سے فاتحہ سے یاری

قرآن کی یہ سورت چھوٹی سی ہے پیاری

سردار انبیاء نے اس کا بیان کیا ہے

رکھے نہیں خدا نے اس میں حروف ناری

ہر آدمی کی فاتح یہ فاتحہ ہوئی ہے

ہر ورد پہ یہ خسرو سورت ہوئی ہے  بھاری

پیغمبر خدا نے اس کی صفت بیاں کی

 اس سے نجات دوزخ یہ حرز جاں ہماری

یہ سلسلہ میں رائج پڑھنا ہے فاتحہ کا

ہر نقشبند وچشتی اور قادری کو پیاری

مہروردیوں میں اپنے اوراد میں لکھا ہے

چھوڑے گا اس کو وہی قسمت ہے جس کی یاری

 یہ سورت شفاء ہے ہر درد کی دواء ہے

 دفع کرے یہ سورت ہر اک بلا ہماری

سورۃ فاتحہ کے متعدد نام ہیں۔

۱۔ فاتحہ،۲۔ فاتحۃ الکتاب، ۳۔ ام القرآن، ۴۔ سورۃ الکنز، ۵۔کافیہ، ۶۔شافیہ، ۷۔شفاء، ۸۔شبع شافی، ۹۔نور ،۱۰۔ رقیہ، ۱۱۔سورۃ الحمد، ۱۲۔سورۃ الدعاء، ۱۳۔تعلیم المسئلہ، ۱۴۔سورۃ المناجات، ۱۵۔التسفویض، ۱۶۔سورۃ السوال، ۱۷۔ام الکتاب، ۱۸۔فاتحہ القرآن، ۱۹۔ سورۃ الصلوۃ، ۲۰۔دافیہ

اس سورۃ میں سات آیتیں ہیں اور ستائیس کلمے، ایک سو چالیس حروف ہیں۔ کوئی آیت ناسخ یا منسوخ نہیں۔

شان نزول

یہ سورۃ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ یا دونوں میں نازل ہوئی۔ بناء بر اختلاف اقوال راویان۔ عمرو بن شرجیل سے منقول ہے کہ نبی اکرمﷺنے حضرت بی بی خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے فرمایا۔ میں ایک نداء سنا کرتا ہوں جس میں ’’اقراء‘‘ کہا جاتا ہے۔ ورقہ بن نوفل کو خبردی گئی ۔ عرض کیا کہ جب یہ نداء آوے آپ باطمینان سنیں اس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا۔ فرمائیے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  الحمد للہ رب العالمین۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول میں یہ پہلی سورت ہے مگر دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سورۃ اقراء نازل ہوئی اس سورت میں تعلیماً بندوں کی زباں میں کلام فرمایا ہے۔

مسئلہ: نماز میں اس سورت کا پڑھنا واجب ہے امام اور اکیلے کے لیے زباں سے۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor