Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

اسلام کیا ہے؟۔۳

اسلام کیا ہے؟۔۳

انتخاب: مولوی محمد حق نواز

(شمارہ 683)

(بصائر وعبر: از حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ)

دین اسلام کی امتیازی خصوصیات

کون نہیں جانتا کہ اسلام میں غیبت گناہِ کبیرہ ہے اور ایسا گناہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے اور ایک عجیب وغریب مثال سے اس کی قباحت و شناعت و اضح فرمائی ہے…ظاہر ہے کہ غیبت میں کوئی خلاف و اقعہ بات نہیں ہوتی ہے بلکہ جو کمزوری کسی انسان میں ہو اس کا ذکر اس کی غیر موجودگی میں کرنا غیبت کہلاتا ہے وہ بھی اتنا بڑا گناہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ قرآن مجید میں اس کا ذکر فرماتا ہے اور مسلمانوں کو اس سے منع فرماتا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ جھوٹ گناہِ کبیرہ ہے اور جھوٹی بات کہنا منافقت کی علامت بتلائی گئی ہے… منافق وہ شخص ہے جس کی زبان پر اسلام کا دعویٰ ہو اور دل میں کفر چھپا ہو ا ہو … کون نہیں جنتا کہ ’’افتراء‘‘ یعنی کس پر جھوٹی بات لگانا جھوٹا الزام لگانا دینا گناہِ کبیرہ ہے اور یہی ’’افتراء‘‘ اگر حد سے بڑھ جائے کہ لوگ سن کر مبہوت ہو جائیں تو ’’بہتان‘‘ کہلاتا ہے اور وہ گناہِ کبیرہ ہے۔

الغرض: غیبت، کذبِ، افتراء، بہتان، تمام معاصی کبیرہ ہیں اور ان کے مرتکب کے لئے جہنم کی وعید ہے… یہ سب کچھ اس لئے کہ اسلام نے مسلمانوں میں عالمگیر اخوت قائم کی ہے۔

’’انما المؤمنون اخوۃ۔‘‘

(الحجرات)

مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

اسلامی اخوت کے بارے میں احادیث نبویہ ﷺ میں عجیب عجیب حقائق بیان فرمائے گئے ہیں…ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کیا حقوق ہیں؟۔

آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے… نہ اس پر ظلم کرے… نہ اسے دشمن کے حوالے کرے… بوقت حاجت اس کی امداد کرے… اگر کوئی گناہ کرے تو اس کی پردہ پوشی کرے اور جو مسلمان، مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا… حق تعالیٰ شانہ دنیا و آ خرت د ونوں(جہانوں) میں اس کی پَردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘

 اور فرمایا:

’’کہ مسلمانوں کی مثال ہمدردی وغم خواری میں ایک جسد(جسم) کے اعضاء کی طرح ہے اگر ایک عضو درد میں مبتلاء ہو تو تمام بدنِ انسانی بے چین رہتا ہے… فرمایا کہ مسلمان جب مسلمان ہوگا کہ جو چیز خود اپنے لئے پسند کرے وہی مسلمان بھائی کے لئے پسند کرے… فرمایا کہ مسلمان وہ ہے کہ مسلمان اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ رہیں، کہاں تک بیان کیا جائے۔‘‘

مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو ’’اسلام علیکم‘‘ کہے۔

جواب میں دوسرا بھائی اس سے بھی دعا ء دے۔

’’وعلیکم اسلام‘‘

اللہ تعالیٰ شانہ کی تیرے اوپر بھی سلامتی ہو۔

اور مسلمان کو چھینک آئے تو فوراً ۔

’’یرحمک اللہ‘‘ کہے

’’کہ اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمت ہو‘‘۔

 مسلمان کو گالی دینا فسق ہے… غرض قرآن مجید اور احادیث نبویہ ﷺ میں اتنی تفصیل آئی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے… یہ ہیں دینِ اسلام کی وہ امتیازی خصوصیات کہ کوئی دین ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتا… مسلمان کا اکرام واعزاز کرنا اسلام کے بنیادی حقوق میں سے ہے… مسلمان کی خیر خواہی، اس کی نصرت، اس کی ہمدردی، اس پر نیک گمان کرنا وغیرہ وغیرہ… یہ دینِ اسلام کہ وہ باتیں ہیں کہ تہذیب کی مدعی قومیں اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہیں۔

دینِ اسلام رحمت ہے

بلاشبہ اسلام دنیا میں دینِ رحمت ہے تمام ادیانِ الٰہیہ سماویہ میں رحمت بن کر آیا ہے، پوری انسانیت کی ہمدردی کا علمبردار ہے اس کے دامن میں رأفت و رحمت اور اخوت و شفقت کے وہ پھول ہیں جن سے مشام عالم معطر ہے… اسلام نے دنیا کو ہمدردی و محبت کا درس دیا ہے… اسلام آنے کے بعد تمام اربابِ ادیان اپنے اپنے مذہب میں اصلاح کرنے پر مجبور ہوئے کہ اسلام کے آفتاب عالمتاب کے بعد وہ اس قابل نہ تھے کہ دنیا کے سامنے منہ دکھائیں سکیں۔

حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے:

’’لا یبقیٰ بیت وبر ولا مدر الا أدخلہ اللہ الاسلام بعز عزیز و ذل ذلیل‘‘۔

فائدہ: حدیث نبوی کا اشارہ اس مضمون کی طرف بھی ہے کہ ہر ہرگھر میں اسلام پہنچا اور ہر ہر مذہب اور مذہب والوں نے اس کی خوبیوں سے فائدہ اٹھایا۔

اسلام جانوروں پر بھی رحم کرنے کی تعلیم دیتا ہے

اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے یہ بتلایا کہ ایک پیا سے کتے کو پانی پلاکر جنت حاصل کی جاسکتی ہے اور ایک بلی کو ناحق ایذاء دینے سے انسان جہنم میں پہنچ سکتا ہے… اسلام ہی وہ مذہب ہے جو جانوروں پر بھی رحم سکھاتا ہے اور جانور ذبح کرنے کے لئے چُھری تیز کرنے کا حکم دیتا ہے… اسلام ہی وہ مذہب ہے جو دنیا میں مظلوم بننے کو ذریعہ نجات سمجھتا ہے اور نا قابل برداشت تکالیف و مصائب میں صبر و حوصلہ کی تلقین کرتا ہے اور صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر و ثواب کی بشارت سناتا ہے۔

’’انما یوفیٰ الصابرون أ جرھم بغیر حساب‘‘۔

اسلام انتقام لینے کا حکم اس وقت دیتا ہے جب پانی سر سے گذر جائے اور ظلم حد سے بڑھ جائے مگر انتقام کی بھی غیر محدود اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ شرط عائد کرتا ہے انتقام ظلم کے مماثل(برابر) ہو، اس سے متجاوز نہ(زیادہ نہ) ہو۔

فرمایا:

’’ فاعتد وا علیہ بمثل ما اعتدیٰ علیکم۔‘‘  

یعنی جتنا ظلم تم پرکیا گیا بس اتنا ہی انتقام لے لو۔

دوسری جگہ فرمایا:

’’ جزاء سیئۃ مثلھا۔‘‘

برائی کا بدلہ برائی کے برابر…برائی اتنی ہی جتنی برائی ہے۔

اس کے با وجود بھی اسلام نے اعلان فرمایا:

’’ فمن عفا و أ صلح فأ جرہ علی اللہ۔‘‘

فرمایا:

 ’’کہ جو شخص در گذر کرے اور درستگی و اصلاح کی فکر کرے تو حق تعالیٰ شانہ ہی اسے اجر عطا فرمائے گا۔

اسلام کا دستور

’’دین اسلام‘‘ یا ’’شریعتِ اسلامیہ‘‘ نام ہے اس عالمگیر نظامِ انسانیت کا جس میں تکمیلِ انسانیت کے کسی گوشہ کو نظر انداز نہیں کیا گیا، خالق سے رشتہ ہو یا مخلوق سے اور وہ بھی شخصی زندگی سے متعلق ہو یا اجتماعی زندگی سے۔

الغرض: عبادات ہوں یا معاملات معاشر ا ت ہو یا احوال و اخلاق و اعمال ان سب کے لئے ایک علمی دستور اور ایک مقصد و نصب العین ہے، دین اسلام کا علمی دستور قرآن کریم اور مقصود و رضائے الہٰی ہے۔

قرآن حکیم انسانیت کی تکمیل چاہتا ہے اور اس کے لئے اس نے اسلام کے بنیادی اصول و احکام اور اساسی اغراض ومقاصد انتہائی محیر  العقول اور معجزانہ اسلوبِ بیان کے ساتھ واضح کر دیئے ہیں، ان مقاصد و احکام کے سلسلہ بیان میں وہ مظاہر فطرت اور آثار قدرت کو بھی اگر بیان کرتا ہے تو اس کا مقصود بھی یہی ہے کہ انسان کے فکری اور اعتقادی پہلوؤں کی تکمیل کی جائے، اگر وہ تاریخی حقائق بیان کرتا ہے تو اس کی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ ان عبرت انگیز و قائع تکوینی اور آیاتِ الٰہیہ سے انسانی بصیرت و اعتبار کی تربیت و تکمیل کی جائے، اگر احکام الٰہیہ کا ذکر ہوگا تو اس سے بھی یہی مراد ہوگی کہ اشرف ا لمخلوقات انسان کو اکرم المخلوقات بنانے کی تدبیر ہوجائے، ذات و صفات کی توحید و کمال کا بیان ہو یا تذکیر و موعظت کی داستان، قانونِ عدل و انصاف کی تنظیم و تفصیل ہو یا اصول و احکام کی تمہید و انضباط ان سب ہی سے انسان کو انسانیت کی معراج کمال تک پہنچا نا مقصود ہے۔

قرآن کریم نہ تاریخی کتاب ہے کہ محض و اقعات کی تفصیلات ہی بیان کرتا رہے نہ طبیعی نوامیس کی تفصیل و بیان پر مشتمل کتابِ طبیعات ہے کہ محض علمی اور ذہنی عیاشی کے افسانوں میں و قت ضائع کرے، وہ تاریخ کی روح پیش کرتا ہے اورطبیعات کے عقلی و فکر کی نتائج بیان کرتا ہے جن سے توحید الٰہی، خلق و ربوبیت کے حقائق انسان کے دل و دماغ میں پیوست ہوں اور روح کو پاکیزگی حاصل ہو تاکہ وہ نظامِ عالم میں خلیفۃ اللہ کے منصب اعلیٰ کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اَہل بن جائے۔

قرآن کریم اگر کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تو اس کی غرض وغایت یہی ہوتی ہے کہ انسانی ذہن و فکر کے سامنے اللہ تعالیٰ شانہ کی معرفت کا راستہ کھل جائے اور اس غور و فکر کے بصیرت آموز نتائج سے ایمان بالغیب کی تائید اور پرورش ہو، اس لئے کہ ان حقائقِ کونیہ اور حقائقِ الٰہیہ میں گور وحوض سے ایمان قوی ہوگا، وہ ان کی طرف محض علم وفن کی حیثیت سے کبھی دعوت نہیں دیتا کہ محض فن کو مقصد بنا لیا جائے۔

جیسے بعض لوگوں کو اس سلسلہ میں بڑی غلط فہمی ہوئی ہے، انہوں نے ان موضوعات میں قرآنی مباحث کی تفسیر اور ان مباحث کی غرض وغایت بیان کرنے میں بڑے غلو سے کام لیا ہے اور یہ حقیقت ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی ہے کہ قرآن کریم اگر ان طبیعیات میںغور و فکر کی دعوت دیتا ہے تو اس کا مقصد بھی معرفت الٰہی تک پہنچنا ہے اور اگر کسی جگہ ان طبیعی وسائل کو دائرۂ عمل میں لانے کی طرف متوجہ کرتا ہے تو اس کی غرض و غایت یہی ہوتی ہے کہ ان و سائل کو خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا جائے صرف مال و دولت اور ثروت کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

ظاہری بات ہے کہ ذات و صفاتِ الٰہی کے بحرِ بیکراں میں شناوری کا صرف یہی ایک راستہ ہے کہ انسان ان حقائق میں غور کرے تاکہ اس وادی میں اس کی فکر و نظر کی صلاحیتیں زیادہ وسیع ہوں اور اسکے سامنے معرفت الٰہیہ کے نئے نئے ابواب کھلیں اور جب اس طرح قلب و روح کی تربیت ہوجائے اور انسانیت کا صحیح شعور بیدار ہوجائے تو عملی دائرہ کاصحیح مقصد بھی خود بخود متعین ہوجاتا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online