Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سید بادشاہ۔۲

سید بادشاہ۔۲

(قطب الاقطاب ، امیر المجاہدین حضرت سید احمد شہیدؒ کی مفصل سوانح حیات)

انتخاب: مولوی محمد حق نواز

(شمارہ 683)

ابتدائی حالات، تعلیم اور سفر لکھنؤ

صفر ۱۲۰۱ھ میں تکیہ رائے بریلی کے ایک بڑے علمی، روحانی گھرانے میں حضرت سید احمد شہیدؒ کی پیدائش ہوئی۔جب آپ کی عمر چار سال کی ہوئی تو دستور کے مطابق آپ کو مکتب میں داخل کروایا گیا، لیکن آپ کی طبعیت پرھائی کی طرف راغب نہ ہوئی اور آپ پڑھنے پڑھانے کی طرف متوجہ نہ ہو سکے۔ تین سال مکتب میں گذر گئے اور باوجود استاد کی توجہ و شفقت اور بزرگوں کی تاکید و فہمائش کے صرف قرآن مجید کی چند سورتیں یاد ہو سکیں اور مفرد و مرکب الفاظ لکھنا سیکھ سکے۔ آپ کے بڑے بھائی صاحبان سید ابراہیم و سید اسحاق صاحب کو آپ کی تعلیم کا بڑا اہتمام رہتا تھا اور وہ بہت تاکید بھی کرتے تھے، والد ماجد نے فرمایا کہ ان کو اللہ پر چھوڑ دو، اللہ جو ان کے حق میں بہتر سمجھے گا، کرے گا، ہماری تاکید کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

البتہ آپ کو بچپن میں کھیل کود کا بڑا شوق تھا، خصوصاً مردانہ اور سپاہیانہ کھیلوں کا، کبڈی بڑے شوق سے کھیلتے تھے اور اکثر لڑکوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے اور اور ایک گروہ دوسرے گروہ کے قلعے پر حملہ کرتا اور فتح کرتا۔

جب آپ سن بلوغ کو پہنچے تو آپ کو خدمت خلق کا ایسا ذوق پیدا ہوا کہ اچھے اچھے بزرگ اور خدا پرست انگشت بدنداں رہ گئے۔ ضعیفوں، اپاہجوں اور بیواؤں کے گھروں پر دن میں دو مرتبہ جاتے، ان کا حال پوچھتے اور کہتے کہ اگر لکڑی، پانی، آگ وغیرہ کی ضرورت ہو تو لے آؤں؟ ۔ باصرار ان کی ضرورتیں معلوم کرکے پوری کرتے، بازار سے ان کے لئے سودا لاتے، لکڑی لاد کر اور پانی بھر کر لاتے اور ان کی دعائیں لیتے اور کسی طرح سے اس کام سے اکتاہٹ نہ ہوتی۔ عزیزوں، ہمسائیوں کے گھروں میں جا کر دیکھتے کہ برتنوں میں پانی ہے، جلانے کے لئے لکڑی ہے یا نہیں، پانی نہ ہوتا تو بھر لاتے، لکڑی نہ ہوتی تو جنگل سے کاٹ لاتے۔

کھیل اور خدمت کے ساتھ ساتھ آپ کو عبادت و ذکر کا بے حد ذوق تھا، رات کو عبادت اور دن کو خدمت اور تلاوت ودعاء میں مشغول رہتے ، قرآن مجید میں تدبر فرماتے رہتے اور یہی آپ کا مشغلہ تھا۔

آپ کا ابتدائی شوق جہاد

ایک مرتبہ ہندو مسلمانوں میں جنگ ہو گئی، آپ نے بھی جانا چاہا۔ لیکن دایہ نے کسی طرح جانے نہ دیا، والدہ محترمہ نماز پڑھ رہی تھیں، اور آپ منتظر کھڑے تھے کہ والدہ سلام پھیریں تو جانے کی اجازت طلب کریں۔ والدہ نے جب سلام پھیرا تو دایہ سے کہا بی بی تمہیں ضرور احمد سے محبت ہے مگر میری طرح نہیں ہو سکتی، یہ روکنے کا موقع نہ تھا، جاؤ احمد اللہ کا نام لے کر جاؤ ، مگر خبردار! پیٹھ نہ پھیرنا، ورنہ تمہاری صورت نہ دیکھوں گی، اور اگر وہ نکل جانے کے لئے راستہ مانگیں اور کہیں کہ ہم کو جانے دیجئے تو راستہ دے دینا۔ آپ جیسے ہی پہنچے، انہوں نے کہنا شروع کر دیا ہم کو راستہ دے دو ، ہم چلے جائیں، ہمیں آپ سے کچھ مطلب نہیں ، آپ کا بھی ہم سے کچھ جھگڑا نہیں۔ جیسے ہی آپ نے یہ سنا تو بھائیوں سے کہا کہ ان کو جانے دو اور کچھ روک ٹوک نہ کرو، اسی میں خیر ہے۔

آپ کی ورزشیں

اللہ تعالیٰ جس سے جو کام لینا چاہتا ہے، اس کے لئے اس کا سامان اور اس کا شوق پیدا کر دیتا ہے، اور اسی قسم کی تربیت فرماتا ہے۔ سید صاحب سے اللہ تعالیٰ نے جو کام لینا تھا، اس کے لئے جسمانی قوت و تربیت کی ضرورت تھی، چنانچہ آپ کو ابتداء سے بہت زیادہ توجہ اسی طرف تھی، اور آپ کے بچپن کے کھیلوں میں بھی یہ چیز نمایاں تھی۔

سید عبد الرحمن صاحب مرحوم سپہ سالار افواج نواب وزیر الدولہ، سید صاحب کے چھوٹے بھانجے تھے، وہ بیان کرتے ہیں: ’’سید صاحبؒ کی عادت تھی کہ سورج نکلنے کے گھنٹوں بعد تک ورزش اور کشتی میں مشغول رہتے، میں بچہ تھا، آپ کے بدن پر (گیلی) مٹی ملتا، یہاں تک کہ وہ خشک ہو کر جھڑ جاتی، مجھے اپنے پیروں پر کھڑا کر کے پانچ پانچ سو ڈنڈ پیلتے تھے، ۲۰ اور ۳۰ سیر کے مگدر (ڈمبل) ہلاتے تھے، اور ان میں تعداد کا خیال نہیں تھا بلکہ وقت کا اندازہ تھا، مثلاً دو گھنٹے، تین گھنٹے ، چار گھنٹے۔

معین خاں کے مقبرے کے پاس (تکیے کے قریب، ندی کنارے) پتھر کا ایک ستون ہے، چار ہاتھ لمبا اور بہت دبیز، نیچے سے موٹا، اوپر سے پتلا، یہ شہ زوروں کی ورزش گاہ تھی ، اوپر سے ہر زور آور اس کو اٹھا کر کھڑا کر دیتاتھا، نیچے سے کوئی زانوں تک کوئی کمر تک لے آتا تھا۔ ایک روز چاندنی رات میں ہم وہاں سے گزرے تو سید صاحبؒ نے فرمایا کہ اس کو اٹھانا چاہئے۔ یہ کہہ کر پتھر کو جھک کر اپنے کندھے پراٹھا لیا اور بیس قدم چل کر اس کو زمین پر اس زور سے پٹکا کہ ایک ہاتھ تک زمین کھد گئی۔ دوسرے روز لوگوں نے پتھر کو اپنی جگہ سے اتنی دور زمین میں گڑھا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ کون دیو یا جن تھا، جس نے اتنی دور لا کر چھوڑ دیا۔

تیرنے اور پانی میں ٹھہرنے کی آپ نے بہت مشق کی تھی۔ نواب وزیر الدولہ مرحوم والی ریاست ٹونک آپ کی تیراکی کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ مولوی علیم اللہ دہلی کے مشہور تیراک استاد اور مشہور استاد کے شاگرد کہتے تھے کہ یہ وصف سید صاحب ہی میں دیکھا کہ سخت بہاؤ میں بہاؤ کے خلاف تیرتے تھے، میں باوجود اتنی مشق اور زمانے کے یہ نہیں کر سکتا۔

سفر لکھنؤ

آپ جوان ہو چکے تھے، والد صاحب کا انتقال ہو چکا تھا، حالات کا تقاضا تھا کہ آپ ذمہ دارانہ زندگی میں قدم رکھیں اور تحصیل معاش کی فکر کریں۔ آپ کی عمر ۱۷، ۱۸ سال کی تھی، ۱۲۱۸ھ میں یا ۱۲۱۹ھ میں اپنے چند عزیزوں کے ساتھ لکھنؤ چلے گئے۔ لکھنؤ میں نواب سعادت علی خاں خلف نواب شجاع الدولہ کا عہد حکومت تھا۔ سلطنت اودھ کی پوری تاریخ میں ان سے زیادہ منتظم اور بلند حوصلہ فرمانروا اودھ کے تخت پر نہیں بیٹھا، مگر اس سلطنت کی تعمیر اور اس کے خمیر میں کچھ ایسی خرابیاں شروع ہی سے شامل تھیں کہ کبھی اس کی چول ٹھیک نہ بیٹھی، ان کے عہد حکومت میں بھی باوجود ان کی بیدار مغزی، مستعدی اور کار پردازی کے رعایا کو حقیقی اطمینان اور فارغ البالی حاصل نہ ہوئی اور ان زیادتیوں اور ظلم و ستم کا سدباب نہ ہوا جو ابتدائے سلطنت سے جاری تھا۔ کمپنی (ایسٹ انڈیا کمپنی) کو بھاری لگان کی ادئیگی کی مد میں سلطنت کا بہت سا روپیہ خرچ ہو جاتا تھا، اخرجات کو کم کرنے کے لئے نواب کو فوج کا ایک بڑا حصہ برطرف کرنا پڑا۔

لکھنؤ پہنچ کر سب ساتھی روزگار کی تلاش میں اِدھر ااُدھر پھرنے لگے، مگر روزگار مفقود تھا، دن بھر دوڑ دھوپ کرتے، مگر بے کار، خرچ بھی ختم ہو رہا تھا، اور اب دو وقت کھانے کے بھی لالے پڑ رہے تھے، سوائے سید صاحبؒ کے ہر شخص نہایت پریشان اور متفکر تھا، کوئی ایک دو جز کسی کتاب ’’کریما‘‘ یا ’’مقیما‘‘ وغیرہ کی کتابت کر کے شام کو فروخت کرتا، کوئی بازار سے تھوڑا سا کپڑا خرید کر اس کی ٹوپیاں سی کر بیچتا اور کھانے کا انتظام کرتا۔ خود سید صاحبؒ ایک امیر کے یہاں کہ خود ان کی حالت اچھی نہ تھی، لیکن سادات سے نہایت محبت و اعتقاد رکھتے تھے، مہمان تھے، ان کے یہاں سے دو وقتہ اچھا کھانا آتا، آپ اپنے عزیزوں کے ساتھ جا کر شریک ہو جاتے، اپنا کھانا ان کے سامنے رکھ دیتے اور خود ان کی دال روٹی پر گزر کرتے۔ ان کو باصرار کھانا کھلا دیتے اور خود کوئی عذر کر دیتے اور خود اس میں سے ایک لقمہ نہ لیتے۔ کبھی وہ سب فاقے سے ہوتے تو اپنا کھانا ان کو کھلا دیتے اور خود کوئی عذر کر دیتے، چار مہینے اسی طرح گذر گئے، اس کے بعد ان امیر کو سرکار لکھنؤ کی طرف سے سو سوار بھرتی کرنے کا حکم ہوا۔ مگر اس خبر کو سن کر سو کی بجائے ایک ہزار مسلح اور آراستہ امید وار حاضر ہو گئے، امیر نے ہر دس امید واروں میں سے ایک کو نوکر رکھ لیااور دو اسامیاں سید صاحبؒ کے حوالے کر دیں، آپ نے یہ دو اسامیاں دوسرے دو غریبوں کو دلا دیں اور اپنے عزیزوں کو فضل الٰہی کا امید وار بنا دیا۔

اس عرصہ میں والی لکھنؤ سیر و شکار کے لئے پہاڑوں کی طرف روانہ ہوا اور وہ امیر بھی جن کے یہاں سید صاحبؒ مہمان تھے، ہمرکاب ہوئے، سید صاحبؒ بھی مع اعزاء ساتھ ہوئے اور اسی شان سے جس طرح رائے بریلی سے لکھنؤ آئے تھے، تین مہینے اس سفر میں گذر گئے، سخت سردی کا موسم اور میدانوں پہاڑوں کا سفر، سخت مصیبتیں اٹھانی پڑیں اور کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ سید صاحبؒ راتہ بھر سمجھاتے رہے، عزیزوں اس تلاش و جستجو، اس تکلیف اور مصیبت کے باوجود دنیا تمہیں نہیں ملتی، ایسی دنیا پر خاک ڈالو اور میرے ساتھ دہلی چلو اور شاہ عبد العزیز صاحبؒ کا وجود غنیمت سمجھو، لیکن آپ کے ساتھی دوسرے عالم میں تھے، یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی، بلکہ ہنستے تھے۔

سفر دہلی

مولوی سید محمد علی صاحب (جو کہ اس سفر میں سید صاحبؒ کے ساتھ تھے) ’’مخزن احمدی‘‘کہتے ہیں کہ جب سید صاحبؒ کو ساتھیو ں سے مایوسی ہوئی تو ایک رات مجھے الگ لے گئے اور خصوصیت کے ساتھ سمجھایا اور کہا ’’کل یا پرسوں ہم دہلی جائیں گے، ہماری خواہش ہے کہ آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔‘‘ میں نے کہا ’’آپ کے پاس سوائے ان کپڑوں کے جو بدن پر ہیں کوئی سامان نہیں ہے، آپ ہی ایسی بے سر و سامانی کی حالت میں سفر کی ہمت رکھتے ہیں، میں کم ہمت ایسے سفر کی طاقت نہیں رکھتا۔‘‘ اس طرح دو تین دن گذر گئے اور لشکر کا کوچ ہو گیا، دوپہر کو ہم لوگ منزل پر پہنچے اور سب ہمراہی ایک جگہ اکٹھے ہوئے، تو معلوم ہوا کہ سید صاحبؒ نہیں ہیں، جہاں جہاں احتمال تھا، شام تک تلاش کیا، لیکن پتہ نہ چلا، چونکہ یہ سفر محمدی کے جنگل میں تھا ، اور وہ جنگل نہایت خطرناک اور درندوں، شیر، بھیڑیے، ریچھ ، ہاتھی وغیرہ کے لئے مشہور تھا، اور ہر منزل پر ایک دو آدمی ان کا شکار ہو جاتے تھے۔ اس لئے ہم سب کو فکر ہوئی کہ نصیب دشمناں کوئی حادثہ تو پیش نہیں آیا، رفتہ رفتہ اس کا یقین آ گیا، تین دن رات ہم لوگ اسی رنج و الم میں مبتلاء رہے، چوتھے روز محمدی کی طرف سے لشکر میں ایک آدمی آیا، اس نے کہا کہ ایک میاں اس حلیے کے جو صرف حضرت کا ہی ہو سکتا تھامجھے راستے میں دکھائی دیئے، ان کے سر پر راب کا گھڑا تھا، اور پیچھے ایک سپاہی، میں نے کہا ’’میاں سپاہی، یہ صاحبزادے تو شریف آدمی معلوم ہوتے ہیں، کیا ماجرا ہے؟‘‘ اس نے یہ عجیب قصہ سنایا کہ ’’جب میں اپنے مکان سے چلا تو ایک بوڑھے کے سوا کوئی مزدور نہیں ملا، وہ بوڑھا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ تھا، لیکن اس پر کئی فاقے ہو چکے تھے، اس نے اس امید سے کہ پیٹ بھرنے کو مزدوری مل جائے گی، بوجھ لے لیا اور گرتا پڑتا میرے ساتھ چلا، تھوڑی دیر کے بعد یہ صاحب ملے اور مزدور کی یہ حالت دیکھ کر ان کے آنسو نکل آئے اور مجھ سے کہا ’’بندۂ خدا کچھ خدا کا خوف کر، کیوں اس بیچارے سے بے گار کر ارہا ہے؟ میں نے کہا ’’میں نے اس پر زبردستی نہیں کی، بلکہ اس کو مزدور کیا ہے‘‘ آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا ’’دو روز سے فاقہ تھامیں نے کہا یہ مزدوری کر لوں، شاید پیٹ بھرنے کا سامان ہو جائے۔‘‘ آپ نے مجھ سے کہا ’’اگر مزدوری تمہارے پاس ہو تو اس کو دے دو، ورنہ خدا کے غصب سے ڈرو۔‘‘ میں نے اسی وقت پیسے نکال کر دے دیئے، آپ نے کہا ’’اب تھوڑی دیر اس درخت کے نیچے بیٹھ کر دم لے لو۔‘‘ میں بیٹھ گیا، آپ نے کہا ’’اب اس مزدور کو رخصت کر دو اور مجھے مزدور سمجھو، تمہارا بڑا احسان ہو گا۔‘‘ میں نے کہا ’’صاحبزادے ! نیکی اور شرافت اور سمجھ داری تمہاری شکل سے ٹپکتی ہے، مگر اس وقت تم بچوں کی سی باتیں کر رہے ہو، اس جنگل میں تو رستم کا بھی جگر شق ہوتا ہے، خود صحیح سلامت پہنچ جانا ہی بڑی بات ہے، اس بوجھ کے ساتھ منزل پکڑنا بہت دشوار ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’اگر تم میرے ساتھ سلوک کرو گے تو ساری عمر تمہارا احسان نہ بھولوں گا۔‘‘ میں نے مجبور ہو کر گھڑا سر پر رکھ دیا اور آپ نہایت اطمینان سے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے چلے آئے۔‘‘ یہ سن کر عزیزوں کو اطمینان ہوا کہ خدا کا شکر ہے، خیریت سے ہیں۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor