Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اللہ کا دیا پاکیزہ رزق کھاؤ ، اور اُس کی شکرگزاری کرو

اللہ کا دیا پاکیزہ رزق کھاؤ ، اور اُس کی شکرگزاری کرو

مدثر جمال تونسوی

(شمارہ 684)

رَزَقْنَاکُمْ وَاشْکُرُوا لِلَّـہِ إِن کُنتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ۔(البقرۃ:۱۷۲)

ترجمہ : ’’اے ایمان والو! ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے اُس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور اللہ کا شکر اداء کرو، اگر تم اُس کی عبادت کرتے ہو۔ ‘‘

ربط:اِس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے ایمان والوں بندوں پر اپنے اِس احسان کو ذکر فرما رہے ہیں کہ اُس نے زمین میں موجود طیبات اور پاکیزہ چیزوں کو اُن کے لیے مباح فرمایا، جب کہ اس سے قبل مشرکین کو اس بات پر ڈانٹا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ متعدد چیزوں کو حرام بنا رکھا تھا۔ اس لیے اس سے پہلے ’’یاایھاالناس‘‘ کہہ کر خطاب کیا گیاتھا اور اس آیت مبارکہ میں ’’یاایھاالذین آمنوا‘‘ کہہ کر ایمان والوں سے الگ اور مستقل خطاب کیا گیا ہے، جس سے اس حکم کی اہمیت کو بھی ظاہر کرنا مقصود ہے اور اہل ایمان کے بلند مرتبہ مقام کی طرف اشارہ بھی مقصود ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب

اس آیت مبارکہ میں ایمان والوں کو دو حکم دیے گئے ہیں:

(۱)اللہ تعالی کے دیے ہوئے رزق میں سے طیبات کو کھاؤ

(۲)اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کرو

اس میں کوئی شک نہیں کہ اِسلام ہی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے اور ایک پاکیزہ دین ہے، اس کی تعلیمات بھی پاکیزہ ہیں، اسی لیے وہ اپنے ماننے والوں کو خاص کر پاکیزگی کا حکم دیتا ہے۔لباس پاکیزہ، رہائش پاکیزہ، طعام پاکیزہ وغیرہ وغیرہ

اسی پاکیزگی کے پیش نظر اسلام اپنے ماننے والوں کو پاکیزہ روزی او رکسبِ حلال کی ترغیب دیتا ہے۔ چناں چہ اس سلسلہ میں اس نے جائز ذرائع اِختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور ناجائز ذرائع کے استعمال سے روکا ہے او ران ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ روزِی کو ’’حرام‘‘ اور ’’خبیث مال‘‘ سے تعبیر کیا ہے او راس کے بُرے نتائج سے ڈرایا ہے۔ کسب حلال کی ترغیب دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ما أکل احد طعاما قط خیرا من ان یاکل من عمل یدہ، وان نبی اللہ داود کان یاکل من عمل یدیہ(صحیح البخاری، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ)

’’اپنے ہاتھ کی کمائی کا کھانا ، سب سے بہتر کھاناہے، اور اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔‘‘

کسبِ حلال میں دو چیزوں کو پیش نظر رکھا جائے:

جو چیز حاصل کرنے کی کوشش کی جائے وہ بذات خود حلال ہو۔حرام نہ ہو۔

اسے چیز کو حاصل کرنے کے لیے جو طریقہ اور ذریعہ اختیار کیا جائے وہ بھی جائز اور مشروع ہو۔ خلاف شرع اور خلاف قانون نہ ہو۔

کسب حلال کے لیے اسلام نے جن وسائل اور ذرائع کو جائز اور مشروع قرار دیا ہے، اُن ہی ذرائع کو اختیارکرنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے، جیسے تجارت، زراعت، صنعت وحرفت، ملازمت اور مزدوری وغیرہ اور ایسے ذرائع اور اسباب سے بچنا اور دور رہنا ضروری ہے جن کو شریعت نے حرام او رناجائز قرار دیا ہے اور بعض امور ایسے ہوتے ہیں جن کا حلال یا حرام ہونا مشتبہ ہوتا ہے، ایسے امور سے بچنے میں انسان کے دین کی حفاظت ہے اورجس نے ایسے امور سے بچنے کی کوشش نہ کی تو اس کے لیے اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ حرام میں مبتلا ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو درج ذیل اَلفاظ میں بیان فرمایا ہے:

ان الحلال بین وان الحرام بین، وبینھما امور مشتبھات، لا یعلمھن کثیر من الناس، فمن اتقی الشبھات استبرأ لدینہ وعرضہ، ومن وقع فی الشبھات وقع فی الحرام، کالراعی یرعی حول الحمی یوشک ای یرتع فیہ، الا وان لکل ملک حمی، الا وان حمی اللہ محارمہ۔(صحیح البخاری)

’’حلال واضح اور کھلا ہوا ہے اور حرام بھی واضح اور کھلا ہوا ہے اوران دونوں کے درمیان کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مشتبہ ہیں۔ جن کے بارے میں بہت سے لوگ شرعی حکم نہیں جانتے، لہٰذا جو شخص ان مشتبہ امور سے بچتا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا او رجوان مشتبہ امور میں پڑ گیا وہ حرام میں مبتلا ہوا۔

 (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کوایک مثال سے واضح فرمایا) اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کوئی بادشاہ یا حکومت اپنے لیے ایک چرا گاہ مقرر کرکے اسے ممنوعہ علاقہ قرار دے، لہٰذا بکریاں اور جانور چرانے والوں کے لیے سلامتی اس میں ہے کہ وہ اپنے جانور سرکاری چرا گاہ سے دور چرائیں، لیکن انہوں نے یہ احتیاط نہ برتی او راپنے جانوروں کو اسی سرکاری چراگاہ کے قریب چرانے لگے تو بہت ممکن ہے کہ ان کی ذرا سی غفلت سے وہ جانور سرکاری چراگاہ میں داخل ہو جائیں اور وہ چرانے والے سرکاری گرفت میں آکر سزا کے مستحق بن جائیں۔

اس حدیث مبارک میں اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو ’’ممنوعہ علاقہ‘‘ سے تشبیہ دی گئی ہے، او ر’’مشتبہ امور‘‘ کی مثال اُس سر زمین کی ہے جو ممنوعہ علاقہ سے ملی ہوئی ہے ۔ چوں کہ مشتبہ اور حرام چیزوں کی حدود قریب قریب ہیں، اس لیے خطرہ ہوتا ہے کہ جو شخص مشتبہ امور میں مبتلا ہو، وہ کسی بھی وقت اس کی حدود سے آگے بڑھ جائے،اور حرام اور ممنوعہ امور کی حدود میں داخل ہو جائے، اور ظاہر ہے کہ یہ چیز باعث سزا ہے اسی لیے ترغیب دی گئی ہے سزا والی جگہوں کے قریب بھی مت جاؤ۔

اِمام الہدی ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے اسے درج ذیل نکات میں الگ الگ ذکر کیا جاتا ہے:

(۱)دل ان الذی کان لھم الاکل (منہ) و امرھم بالتناول منہ ھو الحلال

یہ آیت دلیل ہے اس بات کی ہے اللہ تعالی نے جس چیز کے کھانے اور لینے کی اجازت دی ہے وہ حلال ہے۔

(۲) ثم فیہ الدلیل علی ان من الرزق ما ھو طیب حلال و ما ھو خبیث حرام اذ لو لم یکن منہ طیب و خبیث لکان لایشترط فیہ ذکر الطیب بل یقول : کلوا مما رزقناکم۔

اس آیت میں یہ بھی دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جو رزق دیا ہے وہ احکام کے لحاظ سے دو قسم کا ہے : ایک حلال اور طیب ، اور دوسرا حرام اور خبیث ، کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو رزق کے ساتھ طیبات کی قید لگانے کی ضرورت نہ تھی بلکہ فقط یوں کہہ دیا جاتا کہ : ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے کھایا کرو۔

چنانچہ علم العقائد کی معروف درسی کتاب عقائد نسفیہ میں امام ابو حفص عمر النسفی (۵۳۷ھ) رحمہ اللہ تعالیٰ اور اس کی محققانہ شرح موسوم بہ شرح العقائد النسفیۃ میں علامہ سعد الدین تفتازانی (متوفی۷۹۳ھ) رحمہ اللہ تعالیٰ رقم طراز ہیں :

و الحرام رزق لان الرزق اسم لما یسوقہ اللہ تعالی الی الحیوان فیاکلہ و ذلک قد یکون حلال و قد یکون حراما و ھذا اولی من تفسیرہ بما یتغذی بہ الحیوان لخلوہ عن معنی الاضافۃ الی اللہ تعالیٰ مع انہ معتبر فی مفھوم الرزق

’’حرام بھی رزق ہے،کیوں رزق ہر اُس چیز کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کسی بھی جاندار چیز کو عطاء کرتا ہیں اور وہ اسے کھاتی ہے، اور یہ چیز کبھی حلال ہوتی ہے اور کبھی حرام ، اور رزق کی یہی تعریف زیادہ بہتر ہے، بہ نسبت اُس تعریف کے جس میں کہا جاتا ہے کہ: رزق اُس چیز کانام ہے جس کے ذریعے کوئی بھی جاندار چیز غذا حاصل کرتی ہے، کیوں کہ اس تعریف میں رزق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا گیاحالانکہ رزق کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے۔‘‘

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor