Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

اسلام کیا ہے؟۔۴

اسلام کیا ہے؟۔۴

انتخاب: مولوی محمد حق نواز

(شمارہ 684)

اسلام سے صحیح فائدہ اٹھانے کا راستہ

’’اسلام‘‘ حق تعالیٰ کی وہ آخری نعمت ہے جس سے دنیا کو سرفراز کیا گیا ہے اس نعمتِ اسلام سے صحیح اور کامل فائدہ اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب صحیح اسلامی حکومت دنیا میں قائم ہو اور اسلام کے احکام و قوانین جاری کرنے کے لئے اسلامی حکومت کی سر پرستی حاصل ہو، عہدِ نبوت میں جب مدینہ طیبہ اسلامی مرکز بن گیا اور دار الاسلام وجود میں آگیا تب جاکر دینِ اسلام کی برکات کا ظہور ہونا شروع ہوا۔

الغرض: اسلام اور حکومت اسلامی ہی وہ عظیم الشان سر چشمئہ برکات ہے جس کی بدولت اسلام پر صحیح عمل کی توفیق میسر آتی ہے… حکومتِ اسلامی کے قیام کے بعد مسلمانوں کی جان و مال و آبرو کی حفاظت ہوجاتی ہے اور قلب کو سکون حاصل ہوجاتا ہے… اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے اسلامی حدود و تعزیرات کے نافذ ہوجانے کے بعد پر سکون ماحول میسر آجاتا ہے… اسلامی حکومت کا حقیقی بیت المال قائم ہوجاتا ہے جس کی بدولت کوئی یتیم لاوارث، کوئی بیوہ، کوئی مسکین، کوئی فقیر پریشان حال نہیں رہ سکتا… ان کی ہر قسم کی پریشانیوں اور تہیدستی و افلاس کا علاج ہوجاتا ہے… صحیح زکوٰۃ، صحیح عشر و خراج ادا کرنے کے بعد زمین کی پیدا وار میں فوق العادۃ برکت ہونے لگتی ہے اور اس کے نیتجہ میں حقیقی اسلامی ہمدردی سے جمع شدہ اموال خرچ کرنے کی بنا پر مزید برکت نازل ہوتی ہے۔

اُمت محمدیہ اور اسلام

’’اسلام‘‘ جس کامل ترین شکل میں اُمت محمد یہﷺ کے سامنے آج موجود ہے… یہ بڑی کھٹن منزلیں طے کرکے یہاں پہنچا ہے اور اسلام کا یہ خوب صورت باغیچہ جس شان میں آج موجود ہے اور جس طرح  یہ عالَم اسلام پر سایہ فگن ہو رہا ہے اور اس کے شیریں پھلوں اور پھولوں سے اُمت لذت اندوز ہورہی ہے اور اس کی روح پر درخوشبوؤں سے قلب و دماغ کو سکون نصیب ہو رہا ہے… یہ شہداء اُحد اور شہداء بدر کے پاکیزہ اور مقدس خونوں سے سینچ سینچ کر سر سبز و شاداب کیا گیا ہے… اس کے پیھچے اُمت محمد یہﷺ کے جان و نثاروںکی عظیم الشان تاریخ ہے… گھر بیٹھے بٹھائے… یہ نعمت ہمیں اور آپ کو آسانی سے میسر آگئی ہے… ہمیں اس کی کیا قدر ہوسکتی ہے؟۔

اس کی قدر و قیمت تو خلیفہ اول خلیفۃ المسلمین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور سیدنا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے اور سید الشہداء آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور وہ صحابی رسول اور وہ سچا جان ونثار جس کو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے طیار کا لقب عطاء فرمایا:

اور ارشاد فرمایا:آقا مدنی ﷺ نے: 

’’رائت جعفر یطیر مع الملائکۃ فی الجنۃ‘‘۔

فرمایا: ’’میں نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتا ہے۔‘‘

آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اعلان کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جعفر بن طیار رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے… اس وقت ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا آٹا گوندھ چکی تھیں اور بچوں کو نہلا دھلا کر کپڑے پہنا رہی تھیں۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جعفر کے بچوں کو میرے پاس لاؤ۔

انہوں نے ان کو حاضر خدمت کیا:

تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور ان کو پیار کیا۔

حضرت اسماء بنت عمیس رضی ا للہ عنہا یہ حالت دیکھ کر مضطرب ہوگئیں اور پوچھا: 

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان،کیا حضرت جعفر رضی ا للہ عنہ کے بارے میں کوئی خبر آئی ہے؟

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں!وہ شہید ہوگئے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ اسلام کے ساتھ اڑتا ہوا، جنت میں دیکھا ہے۔    

اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جس کے بارے میں مورخیںلکھتے کہ موتہ کے میدان میں جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا تو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوسرے جان ونثار صحابہ کرام سے فرما رہتے تھے کہ اب جھنڈا خالد بن ولید نے اٹھایا ہے جو

سَیْفُ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ ہے

اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔

یہی غزوۂ موتہ ہے جس نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو حضرت جعفر ’’طیار‘‘ رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ’’سیف من سیوف اللہ‘‘ بنایا۔ (بحوالہ انبیاء کی سر زمین میں)

ان سے پوچھے: اس کی داستانیں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی ا للہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریٰ رضی اللہ عنہ سے سنیے۔

آئیے آپ بھی اسلام کی تاریخ کے سنہری اوراق کی کچھ ورق گردانی اور فاتحینِ اسلام کے عظیم الشان و اقعات اور کار نامے پڑھئے!۔

 شایدہمیں بھی کچھ اسلام کی قدر و قیمت کا احساس ہو جائے۔

کنہا: یہ ہے کہ یہ نعمت بڑی مشکلوں سے ہم تک پہنچی ہے لیکن افسوس! آج ہم مسلمان اس فریضئہ سے قطعاً قاصر بلکہ غافل ہو چکے ہیں۔

دینِ الٰہی کی تاریخ

اگر زیادہ گہرائی میں جائے تو اس دینِ الہٰی کی تاریخ اس سے بھی زیادہ قدیم نظر آتی ہے… حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے اس دینِ الٰہی کی خشتِ اول رکھی ہے… ان کے بعد آنے والے حضرات انبیاء علیہم  الصلوۃ و السلام و رسولان عظام پر کیا کیا گذری ہے۔ 

اس کا کچھ اندازہ حضرت رسالت پناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے ہوسکتا ہے۔

’’الأ نبیاء أشد الناس بلایٔ ثم الأمثل فالأ مثل‘‘۔

فرمایا: سب سے زیادہ تکلیفیں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو اٹھانی پڑتی ہیں… پھر جو ان کے جتنا زیادہ قریب و مماثل ہو اس کو۔

اس کی مثال آپ کے سامنے ہیں۔

آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کے محسن، اُمت کے مہربان نبی، سب سے زیادہ اپنی اُمت کی فکر کرنے والے نبی… انہیں اپنی امت کی طرف سے کیسی کیسی تکلیفیں پہنچی…و ادیٔ طائف کا سفر پڑھ کر دیکھیں!

آقا مدنی اپنی اُمت کو جہنم کی آگ سے پہنچانے کی فکر سے وادیٔ طائف میں تشیریف لے گئے لیکن و ادیٔ طائف والوں نے کونسا ظلم ہے جو انہوں نے آپ ﷺ کی ذات اقدس پر نہ کیا ہو…ظالموں نے اس قدر پتھر برسائے کہ آپ زخمی ہوگئی… آپ زخموں کی تکلیف سے بیٹھ جاتے تو یہ بد نصیب لوگ آپ کو بازو سے پکڑ کر دوباری پتھر برسانے کے لئے کھڑ کر دیتے اور ہنستے۔

کونسی ایسی تکلیف ہے جو انہوں اپنے پیارے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ دی ہو… پیارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اندزاہ کیجئے!

آپ لہو لہوان ہونی کی حالت میں بھی اپنی اُمت کی فکر میں ہے… اپنی اُمت کو غذاب میں مبتلاء دیکھنا نہیں چاہتے، فرشتے تشریف لائے کھڑے ہیں آقا اگر آپ کا حکم ہو تو ان ظالموں کو پہاڑوں کے دامن میں پیس کر رکھ دیں… ان کی نسل کو ختم کردیں… ان کو دنیا میں ایسے غذاب میں ڈالے کہ آنے والے انسان ان کو دیکھ کر عبرت پکڑے۔

محبوب خدا کا جواب سنیے! فرمایا:نہیں۔

آپ نے دعا کے لئے ہاتھ مبارک اٹھائے اور فرمایا: اے میرے اللہ! انہیں ہلاک نہ کرنا۔

یہ ساری تکلیفیں اور مصائب و مشکلات اس دین اسلام کے لئے تھیں جو تمام ادیانِ الٰہیہ سماویہ کی آخری کڑی ہے جو جامع ترین کامل ترین شکل و صورت میں ہم تک پہنچا ہے۔

پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس چمن کی آبیاری فرمائی… اس چمن کی آبیاری کی خاطر کونسی قربانی ایسی ہے کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عہنم نے نہ دی ہو۔

پھر تابعین عظام نے کس طرح اس چمن کی آبیاری فرمائی… ان کے بعد محدثین کرام نے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے انفاس قدسیہ اور احادیث بنویہ کی کس شان سے حفاظت فرمائی ہے… اور کیا کیا محنتیں انہوں نے اس سلسلہ میں کی ہیں… ایک ایک حدیث کے سننے اور محفوظ کرنے کے لئے کیسے کیسے طویل وشاق اسفار کیے ہیں… اور پھر اعدایٔ اسلام کی سازشوں اور تحریفات وتلبیسات سے کس طرح بچا بچا کر اُمت کے سامنے یہ امانت پہنچائی ہے۔

الغرض: اس امانتِ الٰہی کو ان حضرات نے کس طرح سینوں سے لگایا اور کس طرح تصنیفی سفینوں(کتابوں) میں اُمت تک پہنچایا؟

یہ اسلامی تاریک کا زریں دور ہے… صحیح البخاری، مسلم شریف، سنن ابوداؤد، جامع الترمذی، سنن نسائی، ابن ماجہ، دارمی وغیرہ وغیرہ تو اس گلستان کے چند پھول ہیں اور اسی بوستان کے چند باثمر پودے ہیں جن کے ثمرات سے آج اُمت فائدہ اٹھا رہے ہے۔

پھر اللہ جل مجدہ نے اس امانتِ الٰہی کے حکم و مصالح کو سمجھانے کے لئے اور اس کی روح کو محکم بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے فقہاء کرام کو پیدا فرمایا ہے۔

 پھر ان حضرات نے اس امانتِ الٰہی کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کی قربانی دے کر اس سے اصلی شکل میں اُمت تک پہنچایا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online