Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سید بادشاہ۔۳

سید بادشاہ۔۳

(قطب الاقطاب ، امیر المجاہدین حضرت سید احمد شہیدؒ کی مفصل سوانح حیات)

انتخاب: مولوی محمد حق نواز

(شمارہ 684)

دہلی کا قیام، سلوک و تکمیل

سید صاحبؒ دہلی پہنچ کر حضرت شاہ عبد العزیزؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے، شاہ صاحبؒ نے مصافحہ و معانقہ فرمایا اور اپنے برابر بٹھایا اور دریافت کیا: ’’کہاں سے تشریف لائے؟۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’رائے بریلی سے‘‘ فرمایا: کس خاندان سے ہیں؟‘‘ کہا: ’’وہاں کے سادات میں شمار ہے‘‘ فرمایا: ’’سید ابو سعید صاحبؒ ، سید نعمان صاحب سے واقف ہیں؟‘‘ کہا: سید ابو سعید صاحب میرے نانا اور سید نعمان صاحبؒ میرے حقیقی چچا ہیں۔‘‘ شاہ صاحبؒ نے اٹھ کر دوبارہ مصافحہ و معانقہ کیا اور پوچھا: ’’کس غرض کے لئے اس طویل سفر کی تکلیف برداشت کی؟‘‘ سید صاحبؒ نے جواب دیا: ’’آپ کی ذات مبارک کو غنیمت سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی طلب کے لئے یہاں پہنچا‘‘ شاہ صاحبؒ نے فرمایا: ’’اللہ کا فضل اگر شامل حال ہے تو اپنے ددیال، ننہال کی میراث تم کو مل جائے گی‘‘ اس وقت آپ نے ایک ملازم کی طرف اشارہ فرمایا ’’سید صاحب کو بھائی مولوی عبد القادر صاحبؒ کے یہاں پہنچا دواور آپ کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے کر کہنا کہ اس عزیز مہمان کی قدر کریںاور ان کی خدمت میں کوتاہی نہ کریں، ان کا مفصل حال ملاقات کے وقت بیان کروں گا۔‘‘ چنانچہ سید صاحب شاہ عبد القادرؒ کی خدمت میں اکبر آبادی مسجد میں رہنے لگے۔

سلام مسنون کا رواج

سید صاحبؒ جب شاہ عبد العزیزؒ کی خدمت میں پہلی مرتبہ حاضر ہوئے تو نہایت سادگی سے ’’السلام علیکم‘‘ کہا، یہ وہ زمانہ تھا کہ سلام مسنون کا رواج ہی ہندوستان سے جاتا رہا تھا، حتٰی کہ حضرت شاہ صاحبؒ کے خاندان میں بھی اس کی رسم نہ تھی، وہ جب سلام کرتے تھے تو کہتے تھے، عبد القادر سلام عرض کرتا ہے‘‘ ، ’’رفیع الدین تسلیمات عرض کرتا ہے۔‘‘ شاہ صاحبؒ نے جب سید صاحبؒ کا سلام سنا تو بہت خوش ہوئے اور آپ نے حکم دے دیا کہ سلام بطریق مسنون کیا جائے۔

شاہ عبد القادرؒ کی خدمت میں

سید صاحبؒ حسب ارشاد اکبر آبادی مسجد میں ترجمان قرآن حضرت شاہ عبد القادر صاحبؒ کی تربیت میں ٹھہر گئے، یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ آپ کو اس مبارک خاندان کے دونوں بزرگوں سے استفادے کا موقع ملا، شاہ صاحبؒ کو سید صاحبؒ سے بڑی محبت تھی، اور ایک روایت کے مطابق انہوں نے سید صاحبؒ کی بعض ادائیں دیکھ کر شاہ عبد العزیز صاحبؒ سے مانگ لیا تھا، آپ نے شاہ عبد القادرؒ سے کچھ پڑھنا بھی شروع کر دیا۔

بیعت

چند دنوں بعد ایک شب جمعہ کو آپ شاہ عبد العزیزؒ سے بیعت ہو گئے، اور آپ نے طرق ثلاثہ ، چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ میں آپ کو داخل فرما لیا۔ تعلیم سلوک کے ضمن میں حضرت شاہ صاحبؒ نے حسب معمول تصور شیخ کی تعلیم کی، سید صاحبؒ نے نہایت ادب سے عرض کیا ’’حضرت! اس میں اور بت پرستی میں کیا فرق ہے؟ اس میں صورت سنگی اور قرطاسی ہوتی ہے، اور اس میں صورت خیالی، جو دل میں جگہ پکڑ لیتی ہے، اور اس کی طرف توجہ اور اس سے استعانت ہوتی ہے۔ سید صاحبؒ نے فرمایا: ’’شرک کی کسی طرح سے ہمت نہیں ہو سکتی، ہاں کتاب و سنت و اجماع امت سے کوئی دلیل اور اچھی طرح سے اطمینان ہو جائے کہ دونوں ایک چیز نہیں تو خطرہ دور ہو سکتا ہے۔

ولایت انبیاء علیھم السلام سے مناسبت

شاہ صاحبؒ نے یہ سن کر فرط مسرت سے کئی مرتبہ سید صاحبؒ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و انعام سے تم کو ولایت انبیاء سے نوازا۔‘‘ سید صاحبؒ نے اس کی تشریح چاہی تو شاہ صاحبؒ نے اس کی تفصیل اس طرح فرمائی:

’’سادہ اور مطلق ولایت تو یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی بندے کو دوسرے بندوں کے مقابلے میں اپنے قرب سے برگزیدہ کرے، اس برگزیدگی کی نشانی یہ ہے کہ اللہ کی محبت اس کے دل کی گہرائی میں اس طرح پیوست ہو جائے کہ اس کو دنیا اور دنیا کی چیزوں کی طرف کوئی توجہ نہ رہے، اور اولاد اور جاہ و مال کی محبت اس کے دل سے مٹ جائے، اپنے نفس، قلب، جوارح اور اعضاء سے وہ قرب الٰہی اور رضائے خداوندی کا طالب بن جائے اور اس میں وہ اس طرح مشغول و منہمک ہو جائے کہ عوام الناس اس کو مجنون و دیوانہ سمجھیں، تبع تابعین میں سے ایک شخص نے حضرت سفیان سوریؒ سے کہا ’’صحابہؓ اور ہماری کیا نسبت ہے؟ فرمایا: ’’اگر تم ان کو دیکھتے تو دیوانہ سمجھتے اگر وہ تم کو دیکھیں تو کافر و منافق سمجھیں اور تمہارے سلام کا جواب دینے کے روادار نہ ہوں۔‘‘ اسی طرح سے صاحب ولایت نفس کے مجاہدے، صوم و صلاۃ، کثرت نوافل خدمت خلائق میں مشغول ہوتا ہے آیت کے مضمون کے مطابق یعنی جب جاہل ان کے منہ لگتے ہیںتو وہ کہتے ہیں بھائی سلام ہو (ہم کو معاف کرو) مجرمین و فاسقین سے تعرض نہیں کرتا ، گوشہ نگینی اس کو محبوب ہوتی ہے، اس کا عمل اکثر اشارۃ النص اور قرآن کی تاویل یا صوفیوں کی اصطلاح پر ہوتا ہے، ان کے اعمال کو قرب نوافل کہتے ہیں۔ لیکن جس کو اللہ تعالیٰ ولایت انبیاء سے سرفراز کرے ، اس کے دل کی میں جڑ میں اللہ کی محبت اس طرح گڑ جاتی ہے اور اس طرح راسخ ہو جاتی ہے کہ اس ایثار کا اثر جو اس آیت میں (تم ہر گز نیکی نہیں حاصل کر سکتے، جب تک کہ اللہ کی راہ میں اپنی محبوب چیزیں صرف نہ کرو (۳: ۹۲) بیان کیا گیا ہے اور اللہ کے ان نیک و برگزیدہ پیغمبروں کی عادات، جن کے متعلق (وہ ہمارے برگزیدہ اور نیک بندے ہیں (۳۸:۴۷)میں فرمایا ہے اور جن کی تفصیل (بڑی نیکی ہے، جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور دے مال اس کی محبت پر رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دیا کرے اور جب عہد کریںتو اپنے اقرار کو پورا کرنے والے اور سختی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ، یہی سچے لوگ ہیں، اور یہی پرہیز گار ہیں (۲: ۱۷۷) میں کی گئی ہے، وہ ایثار اور پیغمبرانہ اخلاق و عادات اس کی صورت و سیرت میں نمایا ہو جائیں اور یہ خصائل حمیدہ نفسانی و جسمانی ظلمتوں اور کدورتوں کو معدوم کردیں، وہ ہمیشہ خلق خدا کی ہدایت، مجرمین و فساق کو نصیحت، اللہ کے فرائض کو جاری اور قائم کرنے اور انبیاء مرسلین کی سنتوں کو زندہ کرنے، کفار کے خلاف کوشش، اشرار کی تادیب اور گنہگاروں کی تعذیر میں مشغول رہے، اکثر مسلمانوں کی مجلسوں اور ان کے مجمعوں میں جا کر ان کو وعظ و نصیحت کرے، اگر چہ اہل مجلس اس کے سننے کی طرف متوجہ نہ ہوں، اس مشرب کو صوفیوں کی اصطلاح میں قرب الفرائض کہتے ہیں، اس مشرب کی لوگوں کا عمل اکثر عبارۃ النص اور تنزیل قرآنی پر ہوتا ہے، اس مرتبے کی ولایت کے تمام مرتبوں سے اعلیٰ یقین کرنا چاہئے۔

تصور شیخ سے معذرت

سید صاحبؒ نے تصور شیخ سے اس شدت کے ساتھ معذرت کیوں کی اور اس میں کیا قباحتیں اور خطرات ہیں، اس کی تفصیل خود سید صاحبؒ کی زبان سے سننے کی ہے، ’’صراط مستقیم‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’جو اشغال کی بدعات ہیں، انہیں میں سے شغل برزخ (تصور شیخ) بھی ہے کہ وہ اکثر سلاسل طریقت کے پچھلے منتسبین میں بہت شائع وذائع ہے، بلکہ بعض اکابر کے کلام میں اور تعلیم میں بھی وہ شامل ہے، اس شغل کی حقیقت یہ ہے کہ خطرات وساوس کے ازالے اور توجہ کی مرکزیت و یکسوئی کے لئے شیخ کی صورت کو تعین و تشخیص کے ساتھ ذہن میں جماتے ہیں، اور پورے ادب و تعظیم اور اپنی پوری توجہ و ہمت کے ساتھ اس (خیالی) صورت کی طرف متوجہ رہتے ہیں، گویا تمام ادب و تعظیم کے ساتھ شیخ کے رو برو بیٹھے ہیںاور دل کو پورے طور پر اس کی طرف متوجہ کر لیتے ہیں، اس شغل کی حقیقت حال اور اس کا حکم تصویر کی حقیقت حال سے معلوم کیا جا سکتا ہے، سب جانتے ہیںکہ تصویر کا بنانا گناہ کبیرہ اور عظیم معصیت ہے، اس کو دیکھتے رہنا بالخصوص تعظیم و توقیر کے ساتھ حرام ہے، حضرت ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنی قوم سے فرمانا(یعنی یہ کیسے بت ہیں، جن پر تم جمے بیٹھے رہتے ہو (۲۱:۵۲) چونکہ ایسے الفاظ میں ہے جو کہ مطلق ہیں، اور ان میں کوئی قید و تخصیص نہیں، اس لئے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ بتوں پر ’’عکوف‘‘ ممنوع ہے اور عکوف کا معنی ہیں ’’لزومِ حضور‘‘ خواہ قعود و نشست کی شکل میں ہو، خواہ قیام و وقوف کی شکل میں، اس تعظیم و ادب و محبت کے ساتھ یہ دوام حضور اور اس کا لزوم اس آیت کے تحت میں آتا ہے، اس میں تو کسی کو کلام نہیںکہ ظاہری تصویر کے ساتھ جو بھی یہ عمل کرے گا، عاصی و گنہگار ہوگا، اس ظاہری تصویر کے ساتھ مندرجہ بالا عمل کرنے والے اور شغل برزخ (تصور شیخ) کے عامل میں، جو سالک اور راہ حق کا طالب ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ پہلی صورت میں کاغذ یا کسی ایسی ہی چیز پر ایک رنگین تصویر ہوتی ہے اور دوسری شکل (شغل برزخ) میں صفحہ خیال پر شیخ کی ہو بہو صورت اپنے پورے خط و خال اور حلیے کے ساتھ مُرتسم کی جاتی ہے، یہ عمل اگرچہ ظاہری نگاہ میں تصویر پرستی نہیں معلوم ہوتا ، لیکن حقیقتاً وہ صاف صاف صورت پرستی ہے، کاغذی صورت میں صورت ، و حلیے کی اس قدر باریکیاں ظاہر نہیں ہو سکتیں جیسی کہ صورت خیالی میں نمایاں ہوتی ہیں، حالانکہ دونوں بے جان اور بے روح ہیں، اس لئے جہاں تک تصویر کے مقصد و معنیٰ کا تعلق ہے، صورت خیالی صورت قرطاسی سے آگے بڑھی ہوئی ہے، اس لئے کہ ان دونوں کے درمیان صرف اس بات سے تفریق کی جا سکتی ہے کہ اگر کاغذ اور پتھر کی تصویر کی اجازت دے دی جائے تو ظاہری شریعت کے نظام میں بڑا خلل واقع ہو گا، لیکن دوسری شکل (صورت خیالی) میں شریعت کے ظاہری نظم و انتظام کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں، لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ غافل کے ذہن و قلب پر اپنے اس عمل کا جو اثر پڑتا ہے، وہ صورت خیالی کی شکل میں کہیں زیادہ مؤثر اور خطرناک ہے، اس بات کا تقاضا ہے کہ خیالی صورت کا جمانا اور اس کی طرف متوجہ رہنا بدرجہ اولیٰ حرام قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ شغل برزخ کا رواج ناقصوں اور مبتدئیوں کو رفتہ رفتہ کاغذی یا ظاہری تصویر تک پہنچا دے سکتا ہے، وہ ظاہری تصویریں بنا کر وہ تمام تعظیمی حرکات و آداب جو صاحب تصویر بزرگوں اور مشائخ کے سامنے بجا لاتے ہیں، سب ان کی تصاویر کے سامنے بجا لانے لگیں ، اور صاف صاف صنم پرستوں کی شکل اختیار کرنے لگیں۔  (سید صاحب کا یہ اندیشہ واقعہ میں بالکل سچ ثابت ہوا ہے، اس زمانے کے بہت سے پیروں کی تصویریں مریدین تعظیم و برکت کی خاطر گھروں اور دکانوں میں لٹکاتے ہیں، اور ان کے ارد گرد بالکل ہندؤوں کی طرح پھول اور اگر بتی وغیرہ بھی جلاتے ہیں۔ اور باقاعدہ مجلس لگا کر کے اپنے پیر کی تصویر اونچی جگہ پر رکھ کر اس کی تعطیم و توقیر بجا لاتے ہیں، جو کہ شریعت اسلامیہ میں کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ ناقل) 

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شغل برزخ اس فعل حرام کی سرحد تک بھی پہنچا دیتا ہے، اس لئے (اصول شرعیہ کا تقاضا ہے) کہ یہ عمل، جو اس فعل حرام کا مقدمہ ہے، شریعت محمدیہ میں حرام ہو، اسی احتیاط و پیش بندی کی بنا پر کہ صورت پرستی مسلمانوں میں نہ آنے پائے، تصویر سازی کو مطلقاً ممنوع قرار دیا گیا، شرائع سابقہ میں بعض اغراض صحیحہ کے حصول کے لئے، مثلاً کسی غائب، زندہ یا مردے کی شکل و شمائل معلوم کرنے کے لئے اس کی اجازت دی گئی تھی، جب شارع علیہ السلام نے تصویر بازی کے بارے میں اتنی احتیاط و انتظام سے کام لیا ہے، تو آپﷺ کے متبعین اور شریعت محمدیہ کے پیرو وں کو شغل برزخ کو حرام وقبیح ہی سمجھنا چاہئے، جو شخص سیرت محمدی پر نظر رکھتا ہے، اس کو خوب معلوم ہے کہ اگر اس زمانہ مبارک میں اس امر کے متعلق دریافت کیا جاتا تو ضرور اس کی ممانعت کی جاتی اور اس کی حرمت بیان کی جاتی۔‘‘

بیعت وتلقین کے بعد شاہ صاحبؒ نے ہدایت دے کر سید صاحبؒ کو رخصت کیا اور آپ اپنے مسکن پر آئے اور اپنے کام مشغول ہو گئے، شاہ عبد القادرؒ نے بھی ایک مدت تک آپ کو سلوک کی تعلیم و تربیت فرمائی۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor