Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سید بادشاہ۔۴

سید بادشاہ۔۴

(قطب الاقطاب ، امیر المجاہدین حضرت سید احمد شہیدؒ کی مفصل سوانح حیات)

انتخاب: مولوی محمد حق نواز

(شمارہ 685)

سلسلہ تعلیم کا انقطاع

اس زمانے میں سید صاحبؒ نے اپنی تعلیم کا سلسلہ پھر شروع کیا، حضرت شاہ عبد العزیز صاحبؒ اور شاہ عبد القادر صاحبؒ سے بعض کتابیں پڑھتے تھے، ایک روز عجیب واقعہ ہوا کہ آپ کتاب دیکھتے ہیں تو سامنے سے حروف غائب ہو جاتے ہیں، آپ نے مرض سمجھ کر طبیبوں سے رجوع کیا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، شاہ عبد العزیز صاحبؒ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ باریک چیزوں کی طرف نظر کرو تو معلوم ہوا کہ اس میں کوئی فرق نہیں، صرف کتابوں کی خصوصیت ہے، شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ پڑھنا چھوڑ دو۔

سید صاحبؒ نے اگرچہ درسیات کی تکمیل نہیں کی، لیکن آپ کو دینی علوم سے ضروری واقفیت ہو گئی، آپ ہر وقت علماء، مفسرین، محدثین اور فقہاء کی صحبت میں رہتے تھے، جہاں ہر وقت علم کا چرچا رہتا تھا، جہاں کا گھر بھی مدرسہ تھا، اور جہاں کی تفریح بھی درس تھی، وہاں کی ہوا بھی علم پرور تھی اور وہاں کے بچے بھی دین کی سمجھ اور شریعت سے واقفیت رکھتے تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز صاحبؒ کا شریعت کدہ ہندوستان میں بالاتفاق علم کا سب سے بڑا مرکز تھا، جس میں منتخب علماء وفضلاء حاضر ہوتے تھے، ایک وقت میں صرف اس خاندان میں حضرت شاہ عبد العزیز ؒ، شاہ عبد القادرؒ، شاہ رفیع الدینؒ، مولانا عبد الحیؒ، مولانا اسمٰعیلؒ، مولانا شاہ محمد اسحاقؒ اور مولانا محمد یعقوبؒ موجود تھے، اور سید صاحبؒ کی صحبت انہیں حضرات سے تھی۔ قرآن مجید تو آپ نے خاص طور سے پڑھا، ترجمان قرآن حضرت شاہ عبد القادرؒ کی توجہ اور صحبت نے اسے جلا دی۔

خلاف شرع چیزوں سے حفاظت

اس کے بعد آپ اپنے کام میں ہمہ تن مشغول ہو گئے، شاہ صاحبؒ نے آپ کی خدمت کے لئے تین اشخاص جن کا خود صلحاء میں شمار ہوتا تھا، مقرر کر دئیے، وہ آپ کی ضروریات مہیا کر دیتے تھے۔ ایک مرتبہ چند بے تکلف لوگوں نے جمنا کے کنارے ہندؤوں کے ایک میلے میں چلنے کے لئے آپ سے اصرار کیا اور باوجود آپ کے عذر و انکار کے زبر دستی آپ کو لے گئے، لیکن آپ میلے میں پہنچتے ہی بیہوش ہو گئے، اور اس میں شریک نہ ہو سکے، اور انہیں آپ کو مجبوراً واپس لانا پڑا، اس کے بعد ان کو پھر اس کبھی جرأت نہیں ہوئی۔

باطنی ترقیات

آپ کو چند دنوں میں اس قدر باطنی ترقی ہوئی اور وہ بلند مقامات حاصل ہوئے، جو سالہا سال کی ریاضت و مجاہدوں سے بھی کم حاصل ہوتے ہیں، اور آپ پر بیداری و خواب میں اس قدر انعامات الٰہیہ کی بارش ہوئی جس کی نظیر کم ملتی ہے، صاحب ’’مخزن احمدی‘‘ لکھتے ہیں:

’’قیام دہلی کے اثناء میں رمضان پڑا، اکیسویں شب کو آپ حضرت شاہ عبد العزیزؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’اس عشرے کی کس رات میں شب بیداری کر کے شب قدر کی سعادت حاصل کی جائے؟ ‘‘ مولانا نے متبسم ہو کر فرمایا: ’’فرزند عزیز! شب بیداری کا روزانہ جو معمول ہے، اسی طرح ان راتوں میں بھی عمل کرو، صرف شب بیداری سے کیا ہوتا ہے؟ دیکھو! چوکیدار اور سپاہی ساری رات جاگتے رہتے ہیں، مگر اس دولت سے بے نصیب و محروم رہتے ہیں، اگر تمہارے حال پر اللہ کا فضل ہے ، تو شب قدر میں اگر تم سوتے بھی رہو گے تو اللہ تم کو جگا کر ان برکات میں شریک کر دے گا۔‘‘ سید صاحبؒ یہ سن کر اپنے مسکن میں آ گئے اور عادت کے مطابق شب بیداری کا معمول رکھا، ستائیسویں شب کو آپ نے چاہا کہ ساری رات جاگوں اور عبادت کروں، مگر عشاء کی نماز کے بعد کچھ ایسا نیند کا غلبہ ہوا کہ آپ سو گئے۔ تہائی رات کے قریب دو شخصوں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر جگایا، آپ نے دیکھا کہ آپ کی دائیں طرف رسول اللہﷺ اور بائیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے ہیں، اور آپ سے فرما رہے ہیں کہ احمد جلد اٹھ اور غسل کر، سید صاحبؒ یہ سن کر دوڑ کر مسجد کے حوض کی طرف گئے اور باوجودیکہ سردی سے حوض کا پانی یخ تھا، آپ نے اس سے غسل کیااور فارغ ہو کر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’فرزند! آج شب قدر ہے، یاد الٰہی میں مشغول ہو اور دعاء و مناجات کرو‘‘ اس کے بعد دونوں حضرات تشریف لے گئے۔‘‘

صاحب مخزن لکھتے ہیں:

’’اس کے بعد سید صاحبؒ بارہا فرمایا کرتے تھے: ’’اس رات کو اللہ کے فضل سے واردات عجیب و واقعات غریب دیکھنے میں آئے، تمام درخت اور دنیا کی ہر چیز سجدے میں تھی، اور تسبیح و تحمید میں مشغول ، مگر ان ظاہری آنکھوں سے اپنی اپنی جگہ کھڑی معلوم ہوتی تھی، اس وقت فنائے کلی اور استغراق کامل مجھے حاصل ہوا صبح میں شاہ صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ نے بہت مسرور ہو کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہزار شکر ہے کہ آج کی شب تم اپنی مراد کو پہنچ گئے، اس وقت ترقیات و علوِ درجات کے آثار ظاہر ہونے لگے۔‘‘

مولانا شاہ اسمٰعیل شہیدؒ ’’صراط مستقیم‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ایک بار خواب میں رسول اللہﷺ نے سید صاحبؒ کے منہ میں تین چھوہارے دیئے اور بہت شفقت و محبت سے کھلائے، جب آپ بیدار ہوئے تو ان کی شیرینی آپ کے ظاہر و باطن سے ظاہر تھی، اس کے بعد ایک روز سید صاحبؒ نے خواب میں حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کو دیکھا، حضرت علیؓ نے اپنے دست مبارک سے آپ کو اس طرح نہلایا جیسے باپ اپنے بچوں کو نہلاتے ہیں، اور حضرت فاطمہؓ نے ایک عمدہ لباس آپ کو پہنایا، اس کے بعد سے طریق نبوت کے کمالات آپ پر ظاہر ہونے لگے۔‘‘

رائے بریلی کو واپسی اور نکاح

اس کے بعد اپنے وطن رائے بریلی تشریف لائے، آپ اچانک پہنچے اور مسجد میں مسافرانہ جا کر بیٹھ گئے، آپ جس وقت گھر سے نکلے تھے، اس وقت داڑھی مونچھ بھی نہیں نکلی تھی، اب تشریف لائے تو گھنی داڑھی اور مونچھیں تھیں، لوگوں نے پہچانا نہیں اور سمجھے کہ شاید کوئی مسافر یا درویش ہو، سب سے پہلے میاں عبد القادر خاں نے ( ایک روایت میں ہے کہ سید علم الہادیٰ نے) پہچانا اور گھر میں خبر کی، اعزا ملنے آئے، اور ہاتھوں ہاتھ گھر لے گئے۔

اس مرتبہ وطن میں کئی برس رہنا ہوا، اسی مدت میں آپ نے سید محمد روشن کی صاحبزادی بی بی زہرہ سے نکاح کیا، یہ نسبت پہلے سے تھی، لیکن لڑکی کے گھر والوں کو آپ کی وضع اور عزائم دیکھ کر تأمل تھا، اعزا نے کہہ سن کر راضی کیا اور رشتہ ہو گیا، ۱۲۲۴ھ میں آپ کی بڑی صاحبزادی بی بی سارہ پیدا ہوئیں۔

دہلی کا دوسرا سفر

رائے بریلی سے ۱۲۲۶ھ میں آپ دہلی تشریف لے گئے، یہ دہلی کا دوسرا سفر تھا، کچھ مدت دہلی قیام فرماکر آپ ۱۲۲۷ھ میں نواب امیر خاں کے لشکر میں تشریف لے گئے، جو وسط ہند کے بعض راجاؤں سے برسر پیکار تھے۔

نواب امیر خاں کی رفاقت اور سید صاحب کے مقاصد

سید صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے جس عظیم مقصد کے لئے تیار کیا تھا اور آپ نے جن بلند مقاصد کو اپنے پیش نظر رکھا تھا، ان کی سربراہی مزید تکمیل و پختگی اور عملی مشق و تربیت کی متقاضی تھی، اگرچہ سید صاحبؒ نے شروع سے سپہ گیری اور سپاہیانہ اعمال و اشغال اپنے فطری ذوق و رجحان سے سیکھے تھے، لیکن آپ کو عملی معرکہ آرائی اور میدان جنگ اور اس کے نشیب و فراز سے گذرنے کا اس سے پیشتر موقع نہیں آیا تھا، اس لئے کسی محاذ جنگ کی ضرورت تھی، جہاں رہ کر آپ فوجوں کی قیادت اور دست بدست عملی جنگ کا تجربہ حاصل کریں۔

نیز ایک ایسے شخص کو جو ہندوستان میں اسلام کے غلبے اور دینی حکومت کے قیام کے لئے کوشاں ہو، سب سے پہلے اس کا جائزہ لینا ضروری تھا کہ اس ملک میں کہاں کہاں ایسی آزاد فوجی طاقت پائی جاتی ہے، جو صحیح رہنمائی کے بعد اس عظیم مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

انیسویں صدی کی ابتداء میں سارے ہندوستان میں چار قابل ذکر طاقتیں تھیں، ایک بیدار مغز اور نوخیز طاقت ’’انگریز‘‘ جن کا ستارہ اقبال روز بروز بلند ہوتا جا رہا تھا، دوسرے دکن میں نظام، تیسرے شمالی ہند میں اودھ کی سلطنت، لیکن یہ دونوں طاقتیں انگریزوں کی سرپرستی قبول کر چکی تھیں اور اس ملک میں اسلامی اقتدار کے لئے ان سے امید رکھنا فضول تھا، چوتھے مرہٹے، جو وسط ہند اور دکن میں اپنی ریاستیں قائم کئے ہوئے تھے، لیکن ان کی آپس میں سخت رقابت اور خانہ جنگی تھی، اٹھارہویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں ان کے کچھ سردار اقتدار اعلیٰ کے لئے کشمکش کر رہے تھے۔

ان چار طاقتوں کے علاوہ جن سے اسلامی اقتدار کے قیام کے لئے کسی مدد کی امید نہیں تھی، ایک پانچویں بڑھتی ہوئی آزاد طاقت تھی جس کو وقت کا کوئی مبصر نظر انداز نہیں کر سکتاتھا، یہ روہیلکھنڈکے افغانوں کی طاقت تھی، جن کی قیادت سنبھل (ضلع مراد آباد) کا ایک حوصلہ مند افغان زادہ، امیر خاں کر رہا تھا، امیر خاں کے ساتھ روہیلکھنڈ اور شمالی ہند کے دلیر اور حوصلہ مند پٹھانوں اور سپاہ پیشہ نو جوانوں کی ایک کثیر التعداد اور طاقت و جمعیت رہتی تھی، جس کو مرہٹہ سردار اور راجپوت والیان ریاست ہمیشہ اپنے ساتھ ملانے کی کوشش میں رہا کرتے تھے، اور جس کی شمولیت فتح و شکست کے لئے اکثر فیصلہ کن ثابت ہوا کرتی تھی، اس جمعیت میں ہندوستان کا بہترین فوجی عنصرمسلمانوں کا گرم اور تازہ خون، ہندوستان کی فاتح طاقت کا بچا کھچا سرمایہ اور وقت کے بہت سے شاہین و شہباز تھے۔

امیر خاں

امیر خاں کا خاندان سالار زئی پٹھانوں کا ایک خاندان تھا، جو بونیر کے موضع جوڑ (موجودہ باجوڑ) میں بود و باش رکھتا تھا، اس خاندان کے پہلے فرد طالع خاں محمد شاہ کے عہد میں ہندوستان آئے اور سنبھل ضلع مراد آباد سرائے ترین میں سکونت اختیار ، اس کے فرزند محمد حیات خاں امیر خاں کے والد ہیں۔

امیر خاں ۱۱۸۲ھ میں پیدا ہوئے، ابتداء سپہ گیری کا شوق تھا، پڑھنے لکھنے سے مناسبت نہ تھی، ۱۲۰۲ھ میں قسمت آزمائی اور کشور کشائی کے لئے سنبھل سے نکل پڑے، راستے میں پیشہ اور طالب روزگار آدمی شامل ہوتے رہے، کچھ عرصہ مختلف سرکاروں میں نوکری کی، پھر خود اپنی ایک جمعیت پیدا کر لی اور اپنی لیاقت اور شجاعت کا سکہ بٹھا دیا، بار ہا اپنی قلیل جمعیت سے فوج گراں کا مقابلہ کیا اور بڑے بڑے لشکروں کو شکست دی، ان کی جمعیت اور طاقت روز بروز بڑھتی گئی، ۱۲۱۵ھ میں جب وہ سرونج کی طرف گئے تو ستر سے اسی ہزار تک سوار اور پیادے ان کے ہمراہ تھے، ۱۲۳۰ھ میں انہوں نے پچاس ہزار پیادے اور بارہ ہزار سوار اپنے ایک فوجی افسر میاں محمد اکبر خاں کے سپرد کئے، ان کی جنگی لیاقت اور فوجی اہمیت کی شہرت اتنی دور دور پہنچی تھی کہ ۱۲۲۹ھ میں شاہ شجاع نے ان کو کابل اور نصیر خاں حاکم بلوچستان نے ان کو بلوچستان طلب کیا۔ بیس پچیس سال کابل ، مالوہ، ماواڑ، راجپوتانہ اور دکن کی سرزمین ان کی رزم آرائیوں اور جنگ آزمائیوں کی جولانگاہ رہی، بڑی بڑی ریاستیں ان کی یلغار سے لرزہ بر اندام رہتی تھیں، ذاتی دلیری ، پا مردی، جفا کشی اور قوت برداشت ، رفیقوں کے ساتھ حسن سلوک، فیاضی، اولوالعزمی اور سپاہیانہ اوصاف میں وہ تاریخ کے قدیم فوجی سرداروں اور بانیان سلطنت کو نمونہ تھے، لیکن بلند اور واضح مقصد نہ ہونے کی وجہ سے نیز رفقاء کی بے نظمی اور خود غرضی کے سبب سے جو روپیہ ملنے میں دیر ہو جانے کی وجہ سے دھرنہ دے کر بیٹھ جاتے تھے، اور ان کو حبس میں رکھتے تھے، (ملاحظہ ہو ’’امیر نامہ‘‘) وہ نہ اسلام کی کوئی مفید خدمت انجام دے سکے، اور نہ اپنے ہی لئے کوئی شایان شان مقام حاصل کر سکے، انہوں نے عرصے تک صرف مختلف ریاستوں پر حملہ کر کے یکمشت یا سالانہ رقم وصول کرنے پر اکتفاء کی اور کبھی ایک فریق کو دوسرے فریق کے مقابلے میں مدد کر کے وقتی منفعت حاصل کر لی، کبھی دوسرے فریق کی پہلے فریق کے مقابلے میں حمایت کر کے رقم وصول کر لی۔ آخر میں ۱۲۳۲ھ میں ایسے حالات پیدا ہو گئے اور ان کی سرگرمیوں کا میدان اتنا تنگ ہو گیا کہ انہوں نے انگریز وں سے مصالحت کر لی اور راجپوتانے اور مالوے کے چند متفرق اور غیر اہم حصوں پر قناعت کر کے جن کے مجموعے کا نام ریاست ٹونک تھا، انہوں نے خانہ نشینی اختیار کر لی، اگر وہ اولوالعزمی اور دور بینی سے کام لیتے اور سید صاحبؒ سے مل کر منظم اور بلند مقصد جد و جہد کرتے تو تاریخ اسلام میں ان کا بڑا مقام ہوتا اور ہندوستان کی تاریخ بھی بہت مختلف ہوتی۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor