اللہ کا دیا پاکیزہ رزق کھاؤ ، اور اُس کی شکرگزاری کرو۔۲

اللہ کا دیا پاکیزہ رزق کھاؤ ، اور اُس کی شکرگزاری کرو۔۲

مدثر جمال تونسوی

(شمارہ 685)

رہایہ سوال کہ اللہ تعالیٰ نے حرام کو بھی رزق کیوں بنایا ہے؟ یایوں کہہ لیں کے اللہ تعالیٰ نے بعض اَرزاق کو حرام کیوں قرار دیا ہے؟ تو اس کاصاف صاف جواب یہ ہے کہ : اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور مالک مطلق ہیں، وہ اپنے بندوں سے جس طرح کاامتحان لیں، لے سکتے ہیں، اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان ہی ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترجیح دیتے ہوئے حرام سے بچتاہے اور کون اللہ تعالیٰ کے حکم کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

امام محی السنۃ ابو محمد حسین بن مسعود البغوی الشافعیؒ(متوفیٰ۵۱۶ھ) اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ایک حدیث مبارک لائے ہیں۔ ’’حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا: اے لوگو! یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں، اور پاک چیز کو ہی قبول فرماتے ہیں، اور یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے جس بات کو حکم اپنے رَسولوں کو دیا ہے، اُسی بات کا حکم ایمان والوں کو بھی دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا ہے: اے رسولو! تم پاکیزہ رزق کھایا کرو، اور نیک عمل کیا کرو(سورۃ المومنون:۵۱)

اور(ایمان والوں کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا ہے: اے ایمان والو! تم ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پاکیزہ (یعنی حلال) رزق کھایا کرو۔

پھر نبی کریمﷺ نے ذکر فرمایا کہ: ایک آدمی ہوتا ہے، لمبا سفر کرتاہے، بال بکھرے ہوتے ہیں، گرد وغبار سے اَٹا ہوا ہوتا ہے، اس (بے چارگی کی حالت میں) اللہ تعالیٰ کی طرف اپنے ہاتھ پھیلا کر ’’یا رب ، یا رب‘‘ کہہ کر پکارتا ہے، مگر اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام،اُس کا لباس حرام اور اس کی غذا حرام ہوتی ہے، تو پھر اُس کی دعاء کہاں قبول کی جائے گی!!‘‘۔ (معالم التنزیل للبغویؒ)

جس طرح اِسلام نے کسب حلال کی ترغیب اور حکم دیا ہے اسی طرح کسب حرام سے منع فرما کر اس کے بُرے نتائج سے بھی پوری طرح آگاہ کیا ہے، تاکہ بندوں پر ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجائے۔

کسب حرام کے اُن بُرے نتائج میں ایک یہ ہے کہ جو گوشت حرام کھانے سے بنتا ہے وہ جنت میں نہیں جائے گا، بلکہ اس کی جگہ جہنم کی آگ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا یدخل الجنۃ لحم نبت من السحت، وکل لحم نبت من السحت کانت النار اولی بہ(مشکوۃ المصابیح)

ترجمہ:’’وہ گوشت (یعنی انسان)جنت میں نہیں جائے گا جو حرام سے پلا ہو، اور ہر وہ گوشت جو جو حرام سے پلا ہو، توآگ اُس کی زیادہ حق دار ہے۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں اِس کے برے نتیجے کو اس طرح بیان فرمایا:

لایکسب عبد مال حرام فیتصدق منہ یقبل منہ، ولا ینفق منہ فیبارک لہ فیہ، ولا یترکہ خلف ظہرہ الا کان زادہ الی النار، ان اللہ لا یمحو السیء بسیء ، ولکن یمحوا السیء بالحسن، ان الخبیث لا یمحو الخبیث(مشکوۃ المصابیح)

ترجمہ:’’جب کوئی شخص حرام مال کماتا ہے، پھر اُس میں صدقہ کرتا ہے تو وہ صدقہ اُس سے قبول نہیں کیا جاتا اور جب اُس میں سے اپنے لیے خرچ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی اور اگر مرنے کے بعد حرام مال اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے تو وہ اس کے لیے جہنم کا زادراہ بنتا ہے، اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے دور نہیں فرماتے، بلکہ برائی کو نیکی اور اچھائی سے دور فرماتے ہیں، خبیث چیز خبیث کو نہیں مٹاتی۔‘‘

حلال کی صورتیں بہت زیادہ ہیں، اور اس لیے ان سب کا یہاں احاطہ و بیان مشکل ہے، جب کہ حرام کی شکلیں اس کے مقابلے میں محدود ہیں، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں حرام کمائی کی جو چند معروف صورتیں رائج ہیں، ان کی یہاں نشاندھی کردی جائے تاکہ اہل ایمان ان سے بچنے کی خوب کوشش کریں:

۱- سودخوری: یہ اس زمانے کی سب سے بڑی لعنت ہے جس نے تقریباً پوری معیشت کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت بڑا جرم اور بہت بڑا گناہ ہے۔یہاں بس اتنا ذہن میں رہے کہ سود کم ہو یا زیادہ، بالکل حرام ہے ، اور اگر اس کا نام بدل لیا جائے تو بھی اصل حقیقت پر فرق نہیں پڑے گا۔

۲- رشوت خوری: رشوت سے حاصل کردہ مال بھی حرام ہے، اور اگر رشوت کا نام ہدیہ یا تحفہ رکھ لیا جائے تب بھی حرام ہی رہتا ہے،یہ بھی ایسا حرام ہے کہ جس کی نحوست سے سارا معاشرہ گندگی سے آلودہ ہے، اور خاص کر سرکاری اِداروں میں نچلی سطح سے لے کر اوپر کی سطح تک ہر جگہ اس کا چلن عام ہے۔

۳- غصب، چوری، ڈاکہ زنی اور دیگر ایسے ہی ناحق طریقوں سے جو کچھ حاصل کیا جائے وہ سب حرام ہوتا ہے۔

۴- ہر وہ ملازمت حرام ہے جس میں گناہ کیا جاتا ہو، چونکہ گناہ کرنا اور گناہ کی مدد کرنا دونوں حرام ہیں، اس لئے گناہ کی اجرت بھی حرام ہے اور گناہ پر مدد کرنے کی اجرت بھی حرام ہے۔

۵- حرام چیزوں کی تجارت بھی حرام ہے اور اس پر نفع بھی حرام ہے۔ مثلاً شراب، خنزیر، خون، مردار گوشت، تصویریں، چوری کا مال ، ناجائز قبضہ کی ہوئی زمینیں، ان سب چیزوں کی خرید و فروخت حرام ہے اور ایسے کسی کام میں ملازمت کرنے والی کی تنخواہ بھی حرام ہے۔

۶- بیمہ پالیسی: جو جوئے کی ہی ایک شکل ہے حرام ہے، خواہ یہ بیمہ کسی بھی نوعیت کا ہو، زندگی کا بیمہ ہو یا اَموالِ تجارت کا، کار خانوں کا یا ساز سامان اور دیگر چیزوں کا، سب اس حرمت میں برابر ہے۔

۷- وہ میراث جو شریعت کے مطابق تقسیم نہیں کی جاتی، بلکہ جس وارث کے قبضہ میں جو مال آجاتا ہے وہ اپنا بنا کر بیٹھ جاتا ہے، میت کے بیٹے اپنی بہنوں کو اور ماؤں کو میراث نہیں دیتے اور چونکہ میراث تقسیم نہیں ہوتی، اس لئے یتیموں کے حصہ کا مال بھی خورد برد کردیا جاتا ہے، شرعاً جو دوسروں کا مال ہے، اس کو اپنی ملکیت اور کام میں لانا حرام ہے اور نفس کی خوشی سے جو مال نہ دیا گیا ہو، اگرچہ دینے والے نے بظاہر کسی دباؤ میں خاموشی اختیار کرلی ہو، وہ مال بھی حرام ہے۔

۸- غیر مسلم ممالک سے درآمد شدہ غیر مصدقہ اشیاء جن میں بسا اوقات کوئی حرام جزء شامل ہو، اس سے بھی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ معلوم نہیں کہ اس میں کوئی حرام جزو ترکیبی نہ ہو۔

۹- پرائز بانڈاور لاٹریاں: یہ بھی اکثر جوئے پر مشتمل ہوتی ہیں، اور چونکہ جوا حرام ہے اس لیے جوئے کی جو بھی شکل ہو، وہ حرام میں ہی شمار ہوگی۔

۱۰- ناپ تول میں کمی کرنا: یہ ایسی بُری بیماری ہے کہ اس کی وجہ سے انسان خواہ مخواہ کا بوجھ اپنے سر لیتا ہے، کیوں کہ اس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو چیز بیچی جارہی ہے وہ حلال ہی ہوتی ہے اور اس کے لیے بیچنے والے اور خریدار میں سودا جو طئے ہوتا ہے وہ بھی حلال طریقے سے ہوتا ہے مگر بیچنے والا محض کچھ بچانے کے لیے لالچ میں ناپ تول میں کمی کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کی حلال کمائی ، حرام کمائی میں بدل جاتی ہے۔

الغرج یہ حرام کمائی کی چند معروف صورتیں ہیں، جو تقریباً ہر معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں۔

اس لیے اہل ایمان کو حرام سے بچنے کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔،اور کسب حلال کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے ۔

حلال کمائی کے اَسباب اور طریقے اختیار کرنے کے ساتھ، دِل کی سچائی اور اِخلاص سے اِس دعاء کا بھی اگر اہتمام کر لیا جائے تو امید ہے کہ یہ مشکل بہت ہی جلد آسان ہو جائے گی:

اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ ، وَ أَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔ (جامع الترمذی)

’’اے اللہ! اپنے حرام کے بجائے ، اپنے حلال سے میری کفایت فرما دیجیے اور اپنے فضل سے ، اپنے ماسوا سے مجھے بے نیاز بنا دیجیے۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں دوسرا حکم ’’شکر‘‘ کا ہے، اور یہ حکم ’’وجوب‘‘ کے لیے ہے، یعنی اس بات کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا شکر اداء کرنا واجب ہے۔

پھر یہاں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے ’’ضمیر‘‘ کی بجائے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنا ذاتی نام ’’اللہ‘‘ ذکر کیاہے چنانچہ یوں کہا ہے: ’’و اشکروا للہ‘‘، تم اللہ تعالیٰ کا شکراداء کرو، اس میں حکمت یہ ہے کہ لفظ اللہ سے اللہ تعالیٰ کی شانِ الوہیت اور شانِ ربوبیت کی طرف ذہن جائے گا تو گویا یہ سبق دیا گیا کہ جب تمہارا ’’الٰہ‘‘ اور تمہارا ’’رب‘‘ اللہ ہے ، تم سب اسی کے محتاج ہے، اور تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کا عطاء کردہ ہے تو چاہیے کہ پھر شکر بھی اُسی کا اداء کرو۔ اس میں تردید مشرکین کے اس فعل کی کہ وہ رزق تو اللہ تعالیٰ کا دِیا استعمال کرتے تھے مگر اپنی کم فہمی اور بداعتقادی کی وجہ سے شکرگزاری اور عبادت بتوں کی کرتے تھے۔

اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایمان والے بندوں کو یہ حکم دیاکہ شکر بھی میرا ہی اداء کرو، اور اسی بات کو مزید پختہ کرنے کے لیے ، اس آیت کو ختم اس بات پر کیا کہ: ’’ان کنتم ایاہ تعبدون‘‘، یعنی: ’’اگر تم اُسی اللہ کی عبادت کرتے ہو‘‘۔

اس جگہ عبادت سے کیا مراد ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے شیخ الاسلام علامہ محمد طاہر ابن عاشور مالکی تونسی ؒ (متوفیٰ۱۳۹۳ھ) لکھتے ہیں: ’’اس جگہ عبادت سے مراد اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اعتقاد، اعتراف، اور اس کے جھکنا مراد ہے، طاعات شرعیہ جنہیں اعضاء و جوارح کے اَعمال کہا جاتاہے، مراد نہیں ہیں۔ یعنی یہاں عبادت سے عقیدہ مراد ہے، عمل مراد نہیں ہے۔  ‘‘(تفسیر التحریر والتنویر۔ج۲)

٭…٭…٭