Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

مفتاح القرآن۔۴

مفتاح القرآن۔۴

المعروف بہ تفسیر سورۃ الفاتحہ

مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو

(شمارہ 685)

حضرت مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری چشتی سجادہ نشین ترنوائی شریفؒ فاضل دارالعلوم دیوبندکی تصانیف میں سے (۱) باب الفیض (۲) عزیز العقائد (۳) تفسیر سورۃ فاتحہ۔ پہلے دو مکمل ہونے کے بعد اب تیسرا رسالہ تفسیر سورۃ فاتحہ شروع کیا جارہا ہے۔

مقتدی کے لیے امام کی زبان سے صحیح حدیث میں ہے ’’قرأۃ  الامام قرأۃ لہ‘‘ امام کا پڑھنا ہی مقتدی کا پڑھنا ہے۔ قرآن پاک میں مقتدی کو خاموش رہنے اور امام کی قرأت سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ ’’اذا قری القرآن فاستمعوالہ وانصتوا‘‘ مسلم شریف کی حدیث میں ہے ’’اذا قرأ فانصتوا‘‘ جب امام قرأت کرے تم خاموش رہو اور بہت احایث میں یہی  مضمون ہے۔ ان شاء اللہ مفصل طور پر آگے بیان کروں گا۔

مسئلہ: نماز جنازہ میں دعاء یاد نہ ہو تو سورۃ فاتحہ بنیت دعاء پڑھنا جائز ہے۔ بنیت قرأت جائز نہیں۔

سورۃ فاتحہ کے فضائل احادیث میں بے شمار وارد ہیں۔ حضورﷺنے فرمایا تورات، زبور، انجیل، اس کی مثل سورت نازل نہیں ہوئی۔ (ترمذی)

ایک فرشتہ نے آسمان سے نازل ہو کر حضورﷺپر سلام عرض کیا اور دو ایسے نوروں کی بشارت دی جو حضورﷺسے پہلے کسی نبی کو عطاء نہیں ہوئے ایک سورۃ فاتحہ دوسرا سورت بقرہ کی آخری آیتیں سورۃ فاتحہ ہر مرض کے لیے شفاء ہے۔ سورت فاتحہ سو مرتبہ پڑھ کرجو دعاء مانگے اللہ تعالی قبول فرماتا ہے۔

مسئلہ: تلاوت سے پہلے ’’اعوذباللہ من الشیطن الرجیم‘‘ بسم اللہ سے قبل پڑھنا سنت ہے لیکن شاگرد استاد سے پڑھتا ہو تو اس کے لیے سنت نہیں ہے۔ (شامی)

اس صورت میں خدائے قدوس کی حمدوثناء ربوبیت، رحمت، مالکیت، استحقاق عبادت، توفیق، خیر اور بندوں کی ہدایت، توبہ الی اللہ اختصاص، عبادت، استقامت، طلب رشد، آداب دعا، صالحین کے حال سے موافقت، گمراہوں سے اجتناب ونفرت، دنیا کی زندگی کا خاتمہ اور روز جزاء کا بالتصریح وبالتفصیل بیان ہے۔ ہرکام کی ابتداء میں ’’بسم اللہ‘‘ کی طرح ’’حمد الٰہی‘‘ کا بجالانا چاہیے۔

مسئلہ: حمد کا بجالانا تین قسم ہے۔ واجب، مستحب اور سنت۔

خطبہ جمعہ میں واجب ہے۔ خطبہ نکاح میں مستحب ہے۔ چھینک آنے کے بعد سنت مؤکدہ ہے۔ (طحطاوی)

خداور انتظار ما نیست

محمدﷺ چشم بر راہ ثنا نیست

خدا مدح آفرین مصطفی بس

محمدؐ حامد حمد خدا بس

مناجاتے اگر باید بیاں کرد

بہ بیتے ہم قناعت میں تو کرد

محمدؐ! از تو مے خوا ہم خدارا

خدایا از تو عشق مصطفے را

دگر لب وامکن مظہر فضولی است

سخن از حاجت افزوں تر است

الحمدللہ میں مناسب معانی یہ ہیں:

سب تعریفیں عمدہ سے عمدہ اول سے آخر تک جو ہوئی ہیں اور جو ہوں گی خدا ہی کو لائق ہیں۔ کیونکہ ہر نعمت اور ہرچیز کا پیدا کرنے والا اور عطاء کرنے والا وہی ہے خواہ  بلاواسطہ عطا فرمائے یا بالواسطہ جیسے دھوب کی وجہ سے اگر کسی کو حرارت یا نور پہنچے تو حقیقت میں آفتاب کا فیض ہے۔

مثلاً چاند کی روشنی اپنی روشنی نہیں ہے چاند کو روشنی کا جو فیض نصیب ہوا ہے حقیقتاً آفتاب سے حاصل ہوا ہے۔ حضورﷺ کے صحابہ کی بزرگی وولایت کا فیض اور اولیاء کی بزرگی ولایت کا فیض حقیقتاً محمد مصطفیﷺکا فیض ہے۔ رب العالمین میں عالمین مجموعۂ عالم ہے اس میں ہرہر جنس مراد ہے۔ مثلاً عالَمِ جن، عالَمِ ملائکہ، عالَمِ انس، عالَمِ حوش وطیور وغیرہ ہیں۔ وہ خدا ہر ایک کا رب اور پالنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت باری تعالیٰ جملہ افرادِ عالَم کے خالق اور رب ہیں اور جملہ افراد عالَم مخلوق ہیں۔ مالکِ یوم الدین سے معلوم ہوتا ہے کہ روز جزاء کے وقت بڑے بڑے امور پیش آنے والے ہیں۔ وہ ایسا خوفناک روز ہوگا کہ بجز باری تعالیٰ کے کسی  کو ظاہری سلطنت وحکومت بھی نصیب نہ ہوگی بڑے بڑے متکبر اور بڑے بڑے بادشاہ ذات باری  کے جلال وہیبت کے سامنے ذلیل وشرمندہ کھڑے ہوں گے اور حضرت باری ان سے فرمائیں گے کہ ’’لمن الملک الیوم‘‘ آج بادشاہی اور طاقت کس کی ہے۔ سب خاموش کھڑے رہیں گے۔ حضرت باری تعالیٰ فرمائیں گے’’للہ الواحد القھار‘‘ ایک ہی زبردست قہرکنندہ کی حکومت ہے یہی وجہ ہے کہ’’یوم الدین‘‘ کو مختص بذات باری کیا ہے۔ ورنہ خدا تو دنیا وآخرت کا خدا ہے اور ’’رب العالمین‘‘ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دنیا والوں کا رب اور خدا ہے۔ ’’ایاک نعبد وایاک نستعین‘‘ کو بھی مختص بذات خداوندی کردیا کہ استعانت خدا ہی سے ہے اور عبادت کے لائق بھی وہی خدا ہے۔ ہاں اگر کسی متمول بندہ کو محض واسطہ رحمت الٰہی اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ استعانت درحقیقت اللہ ہی کی استعانت ہے۔ ’’انعمت علیہم‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر انعام کیا گیا ہے اور وہ چار فرقے ہیں۔ انبیاء،صدیقین، شہداء اور صالحین۔ چنانچہ خدا خود فرماتا ہے ’’اولائک الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیق والشھدآء والصالحین وحسن اُولائک رفیقا‘‘

’’المغضوب علیہم‘‘ سے مراد یہود اور ’’ضالین‘‘ سے  مراد نصاریٰ ہیں دیگر آیات وروایات اس پر شاہد ہیں۔

فائدہ: ’’غیر المغضوب، الذین‘‘ کا بدل ہے یہ اس کی صفت ہے اس لیے اس کا مناسب ترجمہ اس طرح ہے کہ ہمیں سیدھی راہ بتلا، راہ ان لوگوں کی جن پر تو نے فضل فرمایا جن پر نہ تیرا غصہ ہو اور نہ وہ گمراہ ہوئے۔ بعض تراجم دہلویہ میں جو اس کا ترجمہ کیا ہے۔ خلاف ترکیب وخلاف مقصود ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند)

اب معلوم ہوگیا کہ ’’رب العالمین ‘‘ سے تمام کائنات کے حادث ممکن محتاج ہونے اور اللہ تعالیٰ کے واجب قدیم ازلی ابدی حی قیوم، قادر، علیم ہونے کی طرف اشارہ ہے جن کو ’’رب العالمین‘‘ مستلزم ہے۔ دولفظوں میں علم الٰہیات کے اہم مباحث طے ہوگئے۔

’’مالک یوم الدین‘‘ میں مالک کے ظہور تمام کا بیان ہے اور یہ دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ہوسکتا۔ اسی سے معلوم ہوا کہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دار الجزاء ہے۔ اس جہان کے سلسلہ کو ازلی وقدیم کہنا باطل ہے۔ اختتام دنیا کے بعد ایک جزاء کا دن ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online