Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مفتاح القرآن۔۶

مفتاح القرآن۔۶

المعروف بہ تفسیر سورۃ الفاتحہ

مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو

(شمارہ 688)

حضرت مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری چشتی سجادہ نشین ترنوائی شریفؒ فاضل دارالعلوم دیوبندکی تصانیف میں سے (۱) باب الفیض (۲) عزیز العقائد (۳) تفسیر سورۃ فاتحہ۔ پہلے دو مکمل ہونے کے بعد اب تیسرا رسالہ تفسیر سورۃ فاتحہ شروع کیا جارہا ہے۔
فائدہ:

اگر کوئی آدمی بغیر فاتحہ کے باطہارت ہوکر قرآن کی کسی سورت یا آیت کو نماز میں پڑھتا ہے تو اس کی نماز بوجہ اس آیہ کریمہ کے درست وصحیح ہے۔ صرف امام اعظمؒ کے نزدیک فاتحہ سے سجدہ سہو پڑے گا کہ فاتحہ کا پڑھنا واجب تھا اور اس نے فاتحہ کو ترک کردیا ہے اور ترک واجب سے سجدہ سہو ہے۔

حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ حدیث میں لاصلوۃ آیا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ نماز سوائے فاتحہ کے ہرگز نہیں ہوتی۔ بس اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دلیل قوی نہیں ہے۔کیونکہ اس ترکیب سے بعینہ ایک دوسری حدیث ہے کہ لاصلوۃ لجار المسجد الافی المسجد ولاصلوۃ للعبد الابق الخ تو جس طرح باتفاق امت ان روایات کے لفظ لاصلوٰۃ سے فساد کا مفہوم نہیں ہوتا بلکہ نفی فضیلت یا کمال کی مفہوم ہوتی ہے۔ اس طرح فاتحہ والی حدیث لاصلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتاب کے متعلق گزارش کرنی خوبی سے خالی نہ ہوگی کہ اس قسم کی روایات میں ترک فاتحہ سے فساد نماز کا اشارہ نہیں ہوتا بلکہ کمال کی نفی ہے۔

بذل المجہود میں ہے کہ ’’المراد الفضیلۃ دون الاصل‘‘ لا سے مراد نفی فضیلت ہے اور قرآن حکیم میں یہ جو آیت ہے انھم لاایمان لھمنفس ایمان کی نفی نہیں ہے بلکہ کمال کی نفی ہے۔ بناء براں معلوم ہوا فاقرئواماتیسر من القرآن کی آیت کا عموم اور اس عموم کو کسی طرح چھوڑ نہ سکنے کی ضرورت مجبور کرتی ہے کہ حدیث کا لحاظ آیہ کریمہ کے حصص یا اوصاف کا معارض یا ناسخ مقصود نہ ہوسکے۔ اگر ہم فاتحہ کی تعیین ایسے انداز سے کریں کہ بغیر فاتحہ کے  نماز کا عنصر ہی حاصل نہیں ہوسکتا تو قطعی طور پر یہ انداز آیت مذکورہ کے عموم کے منافی ہوگا جودرست نہیں ہے۔

’’قرع اللبیب لسمع الخطیب ص۷۱‘‘ پر درج ہے:

’’ومع ھذا روی منع القرأۃ خلف الامام عن ثمانین من الصحابۃ الکبار منھم المرتضیٰ والعبادلۃ الثلاٰثۃ فکان اتفاقھم بمنزلۃ الاجماع انتھٰی‘‘

اسی بڑے جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کو منع فرماتے ہیں ان میں سے حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ ہیں۔

شیخ امام عبداللہ بن یعقوب الحاری سید مونیؒ اپنی کتاب ’’کشف الاسرار‘‘ میں حضرت عبداللہ بن زید بن اسلم کی روایت پیش کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ دس صحابہ اکرام رسول اللہﷺکے قرأت  خلف الامام کو بہت سخت منع فرماتے تھے۔ ان دس میں سے حضرت ابوبکر صدیق، عمرفاروق، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھم ہیں۔

طحاوی میں بروایت علیؓ مذکور ہے:

انہوں نے فرمایا کہ جو آدمی قرأت خلف الامام کرے وہ طریق سنت پر نہیں۔

مصنف ابن ابی شیبہؒ میں بروایت ابن ابی لیلیٰ مذکور ہے کہ جو قرأت خلف الامام کرے اس نے فطرت کے طریق سے خطا کیا۔ دارقطنی میں اسی طرح کے کئی طرق موجود ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنھم سے مذکور ہیں۔ عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں داؤد بن قیس عن محمد بن عجلان فرمایا کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جو آدمی قرأت مع الامام کرے وہ فطرت پر نہیں۔ اسی میں عبداللہ بن مسعود کا فرمان ہے کہ قاری کے منہ میں مٹی ڈالی جائے وہ قاری جو امام کے پیچھے پڑھتا ہے۔

حضرت امام محمدؒ اپنے مؤطا میں فرماتے ہیں:

لاقرأۃ خلف الامام فیما جھر فیما لم یجھر فیہ بذٰلک جائت عامۃ الاخبار وھو قول ابی حنیفۃؒ

امام کے پیچھے جہری اور آہستہ نماز میں قرأت نہیں ہے۔ بہت احادیث ایسی آئی ہیں اور یہی قول امام صاحب کا ہے۔

بہر حال تمام بیان اور اعمال واقوال صحابہ وتابعین  بالاحسان کے قابل تردید شہادت دیے ہیں کہ قرأت خلف الامام کا جواز رسول اللہﷺکے نزدیک نہیں تھا اور حدیث میں من کان لہ امام فقرأۃ الامام لہ قراٰۃ جو کوئی اس کے لیے امام ہو پس امام کی قرأت ہی اس کے لیے کافی ہے، مقتدی پرپڑھنا لازم نہیں ہے۔

اصح الصحاح میں ہے:

حضرت امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں: معنیٰ قول النبی لاصلوٰۃ لمن لم یقرء لفاتحہ الکتاب اذاکان وحدہ

حضورﷺکے اس قول کا معنی کہ نماز بغیر فاتحہ کے نہیں ہے جب کہ آدمی اکیلا ہے۔

واحتج بحدیث جابر بن عبداللہ حیث قال من صلّٰی رکعتا لم یقرء فیھا بام القرآن فلم یصل ان یکون وراء الامام قال الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح۔

امام احمد بن حنبلؒ نے حضرت جابر بن عبداللہؓ کی اس حدیث کو حجت پکڑا ہے کہ حضرت جابرؓ نے فرمایا جس کسی نے ایک رکعت نماز پڑھی اور اس میں فاتحہ نہ پڑھی پس اس نے نماز ہی نہیں پڑھی۔ ہاں امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے۔

 ابوداؤد شریف میں ہے: لاصلوۃ لمن لم یقرء بفاتحۃ الکتاب فصاعدا لمن یصلی وحدہ ای فاما اذا کان مقتدیا بامام فلیس لہ ھذا الحکم بل یکفیہ قرأۃ امامہ بدلیل قولہ تعالیٰ واذا قری القرآن فاستمعوالہ وانصتوا

نماز میں یا فاتحہ سے زیادہ اکیلا ہونے کی صورت میں ہے اور مقتدی کے لیے پڑھنے کا حکم نہیں ہے بلکہ اس کو اپنے امام کا پڑھنا کافی ہے اور دلیل یہ ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تواس کو سنو اور چپ رہو۔ یہ ارشاد خداوندی ہے۔

پوری تحقیق

قبل ازیں اس فقیر نے لکھ دیا ہے کہ قرأت فاتحہ خلف الامام میں علمائے سلف وخلف کا اختلاف چلا آیا ہے۔ حضرت رئیس المحد ثین مولانا محمد انورشاہ صاحبؒ سابق مدرس وشیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند عرف الشذی میں فرماتے ہیں:

واما مذہب الائمۃفالجمہور من ابی حنیفہؒ ومالک واحمدؒ والا وزاعی ولیث ابن السّریۃ فلھم اقوال من الوجوب والاستحباب اذا لاباحۃ والقول القدیم للشافعی عدم الجواز فی الجھریہ لا السریۃ ثم لادخل مصر قال بالوجوب فیہا انتھیٰ۔

جمہور ائمہ احناف ومالکی وحنبلہ واوزاعی کے مذاہب اور لیث ابن سعد اور ابن مبارک اور اسحاق ابن راہویہ کا یہ ہے کہ جہری نماز میں فاتحہ کا پڑھنا مقتدی کے لیے جائز نہیں ہے اور سری نماز میں فاتحہ کا پڑھنا جائز ہے اور جب حضرت امام شافعی مصر میں داخل ہوئے تو قول جدید ان کا یہ تھا کہ فاتحہ کا پڑھنا جہری اور سری نماز دونوں میں واجب ہے۔

حضرت مُزنیؒ کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے بعض احباب سے کہ امام شافعیؒ جہری اور سری دونوں نمازوں میں وجوب کا فرماتے ہیں۔ شوافع کہتے ہیں کہ بعض احباب سے مراد بیع بن سلیمان ہے۔ بہر حال امام شافعی تمام ائمہ اور علماء وفضلاء کا اتفاق ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor