Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سید بادشاہ۔۸

سید بادشاہ۔۸

(قطب الاقطاب ، امیر المجاہدین حضرت سید احمد شہیدؒ کی مفصل سوانح حیات)

انتخاب: مولوی محمد حق نواز

(شمارہ 689)

مقبولیت و شہرت اور سفر

دن بدن آپ کی مقبولیت و شہرت بڑھتی گئی، یہ معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دفعۃًاپنے بندوں کے قلوب عموماً اور علماء و صلحاء کے خصوصاً آپ کی طرف پھیر دئیے ہیں، باہر سے کثرت سے دعوت نامے آنے شروع ہوئے، جب بہت سے دعوت نامے جمع ہو گئے تو آپ نے مولانا اسمٰعیل صاحب کے ہاتھ یہ سب دعوت نامے حضرت شاہ صاحبؒ کی خدمت میں بھیج دئیے اور عرض کیا کہ جیسا ارشاد ہو، کیا جائے، شاہ صاحبؒ نے اپنا لباس خاص پہنایا اور بڑی خوشی کے ساتھ رخصت کیا۔

دو آبے کا دورہ

اس سفر میں جس کثرت کے ساتھ مسلمانوں نے آپ کی تشریف آوری سے دینی نفع اور خیر و برکت حاصل کی اور ان مقامات میں جیسی اصلاح ہوئی اور جس محبت و اخلاص اور گرمجوشی سے ہر جگہ آپ کا استقبال ہوا، اس کا کچھ اندازہ کرنے کے لئے ایک رفیق سفر کے حوالے سے اس سفر کی روداد پیش کی جاتی ہے، اس سے یہ بھی اندازہ ہوگا کہ اس زمانے تک کے مسلمانوں میں دین کی کیسی طلب اور قدر اہل دین سے محبت اور اثر پذیری اور صلاحیت موجود تھی اور وہ کس طرح دینی استفادے کے لئے پروانہ اور ہجوم کرتے تھے، اس کا بھی اندازہ ہوگا کہ اس قلیل مدت اور آغاز عمر ہی میں سید صاحبؒ کی شہرت اور مقبولیت کس قدر پھیل گئی تھی۔

غازی الدین نگر

دہلی سے چل کر پہلی منزل غازی الدین نگر (موجودہ غازی آباد) میں ہوئی، شہر سے باہر دو سو آدمیوں نے جو شہر کے ممتاز اور معزز لوگ تھے، بڑھ کر استقبال کیا اور بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ آپ کو فروکش کیا اور ضیافت کی اور عرض کیا کہ ہم مدت سے حصول فیض کے آرزو مند تھے، اللہ تعالیٰ نے ہماری آرزو پوری کی، شہر کے عمائدین نے بیعت کی دوسرے روز بیعت کرنے والوں کا بڑا ہجوم ہوا، ہری رام تحصیل دار کشمیری بھی زیارت و قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا اور بہت سی شیرینی نذرانے کے ساتھ پیش کی، اور بکثرت آدمیوں نے روحانی فیوض اور آپ کے رفقاء کی باطنی توجہات سے نفع حاصل کیا، پانچ روز قیام کے بعد وہاں سے کوچ ہوا۔

اس کے بعد مراد نگر، میرٹھ اور اس کے گرد و نواح، سردھنہ، بڑھانہ،پھلت، مظفر نگر، دیو بند اور اس کے گرد و نواح ، کاندھلہ وغیرہ کے اسفار فرمائے، ہر جگہ عام و خاص کا ہجوم رہا، کثیر خلقت نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، اور روحانی فیوض حاصل کئے۔ اس دورے میں کم از کم چھ مہینے کی مدت صرف ہوئی، دورے سے دہلی واپسی ہوئی، کچھ عرصہ قیام فرما کر آپ نے رائے بریلی کے سفر کی تیاری کی۔

سفر کے برکات و اثرات

آپ کا یہ پورا سفر باران رحمت کی طرح تھاکہ جہاں سے گزرتا ہے، سر سبزی و شادابی، بہار و برکت چھوڑ جاتا ہے، دیکھنے والوں کا متفقہ بیان ہے کہ جہاں آپ تھوڑی دیر ٹھہر گئے، وہاں مساجد میں رونق ، اللہ رسول کا چرچا، ایمانوں میں تازگی، اتباع سنت کا شوق، اسلام کا جوش پیدا ہوگیا اور کہیں کہیں شرک و بدعت اور رفض کا بالکل خاتمہ ہو گیا اور جو بستیاں اور مقامات آپ کے قدوم سے محروم رہے، وہ ان نعمتوں سے محروم رہے، سالہا سال تک یہ اثر اور فرق رہا۔

مولانا سید عبد الحئی صاحبؒ اپنے سفر نامہ ’’ارمغان احباب‘‘ میں مولانا ذو الفقار علی صاحبؒ (والد گرامی حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ) کے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں:

’’مولانا ذو الفقار علی صاحبؒ فرماتے تھے کہ سید صاحبؒ اس نواح (دیوبند و وسہارنپور) کے اکثر قصبہ جات میں تشریف لے گئے، وہاں اب تک خیر و برکت ہے، اور وہ دو ایک گاؤں اور قصبے ایسے ہیں جہاں نہیں گئے، وہاں اب تک وہی نحوست اور شامت باقی ہے، چنانچہ منگلور نہیں گئے، وہاں کے لوگوں میں وہی جہالت و قساوت باقی ہے، ایک اور مختصر گاؤں ہے جہاں مسلمانوں کے دو چار گھر ہیں، اتفاقاً سید صاحبؒ کسی ضرورت سے وہاں بھی گئے، وہاں بھی خیر و برکت پائی جاتی ہے، گویا کہ ایک نور مستطیل ہے کہ جدھر جدھر وہ گئے اُدھر اُدھر وہ پھیل گیا ہے۔‘‘

میاں محمد حسین نوح سہارنپور کے ایک بزرگ اور سید صاحب کے مرید فرماتے ہیں:

’’جہاں جہاں حضرت کے قدم گئے، وہاں وہاں برکت کے اثرات پائے جاتے ہیں، ایک جگہ تشریف لے گئے، اس قصبے نو مسلموں کا محلہ پہلے ملتا تھا، انہوں نے حضرت کو روک لیا، قاضی کے محلے تک نہ جانے دیا، اب خدا کی قدرت دیکھئیے، نو مسلموں کا محلہ نہایت سر سبز ہے (دینی لحاظ سے) اور وہ لوگ بہت خوش حال ہیں، اور قاضیوں کا محلہ ویران پڑا ہوا ہے۔‘‘

سب سے زیادہ سید صاحبؒ کا اثر دہلی اور سہارنپور کے نواح میں ہوااور حقیقت میں یہی آپ کے مرکز رہے، چنانچہ دین داری میں بھی یہ اطراف سارے ہندوستان میں ممتاز ہیں۔ مولانا سید عبد الحئی صاحبؒ اپنے سفر نامے میں سہارنپور کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:

’’اس وقت تک سہارنپور کے جس قدر قصبوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے، وہاں کے ہر فرد کو سید صاحبؒ کا دم بھرتے پایا، جو ہے، ان کی محبت میں چور ہے، اور سب بالاتفاق کہتے ہیں کہ ہم کو ایمان و اسلام کی سیدھی راہ انہیں سے ملی ہے، برائے نام ہی مسلمان تھے، جتنے مشائخ ہیں، وہ سب اسی سلسلے کو مقدم جانتے ہیں، میں نے فی عمری سید صاحبؒ کا اتنا چرچا کہیں نہیں دیکھا، اس طرف کی مساجد عموماً آباد ہیں، ہر مسجد میں حمام گرم ہو رہے ہیں، ہر مسلمان کم سے کم نماز و تلاوت کا ضرور شائق ہے، میرے گمان میں ضلع سہارنپور کے اشرار ہماری طرف اخیار سے اچھے ہیں،اور اخیار کا کیا پوچھنا ہے؟ ان کی تو نظیر اس طرف نہیں ملتی، کسی رنگ میں ہیں، مگر خدا کی لگی ہوئی ہے، بے تکلف اور سچے دین دار مسلمان ہیں، مجلس وعظ معمور رہتی ہے، ابتدا سے انتہا تک نہایت شوق اور رغبت کے ساتھ سنتے ہیں، ہماری طرف کے (اودھ کے) مسلمانوں کی طرح نہیں ہیں کہ سو میں ایک مجلس وعظ میں بیٹھتا ہے، اور دل میں یہی خیال رہتا ہے کہ اب اٹھوں تب اٹھوں۔‘‘

اس تمام سفر میں مولانا عبد الحئیؒ اور مولانا محمد اسمٰعیلؒ ہمرکاب تھے، ان کے مواعظ سے بہت اصلاح و انقلاب ہوا، اس ایک سفر نے وہ کام کیا، جو بڑے بڑے مشائخ کا تزکیۂ باطن اور بڑے بڑے علماء و صلحاء کی برسوں کی تربیت ظاہر کرتی ہے، ہر ہر جگہ سینکڑوں آدمی متقی، متورّع ، عابد، متبع سنت اور ربانی بن گئے، ہزاروں فاسق صالح اور اولیاء اللہ ہو گئے، بیسیوں آدمی قتل کے ارادے سے آئے، اور جاں نثار بن گئے، اور گھر بار چھوڑ کر آپ کے ساتھ ہو گئے، یہاں تک میدان جہاد میں شہید ہو گئے، جس نے ایک بار زیارت کر لی وہ آپ کے رنگ میں رنگ گیا اور مرتے مرتے مر گیا، مگر شریعت سے ایک قدم نہ ہٹا، عورتوں اور بچوں کی بھی یہی حالت تھی، جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور اپنی آنکھیں روشن کرتے، ایمان تازہ کرتے، دعوت دیتے اور اپنے گھر، مال، اولاد میں برکت حاصل کرتے، بارہا ایسا ہوا کہ لوگوں نے دعوت کی ہے، اور دس پانچ آدمیوں کے اندازے سے کھانا پکوایا، لیکن وقت پر سو ڈیڑھ سو آدمی سید صاحبؒ کے خادم اور معتقد آ گئے، صاحب خانہ نہایت پریشان ہوئے، سید صاحبؒ نے اپنی چادر دے دی وہ کھانے پر ڈال دی گئی، اور کھانا نکالا گیا، اور سب کے لئے کافی ہوا، بلکہ بچ گیا۔

مولانا عبد الحئیؒ اور مولانا محمد اسمٰعیل کا یہ حال تھاکہ سواری کے ساتھ پیدل چلتے، لگام تھامتے، جوتیاں اٹھاتے، آپ سوتے تو وہ ساری رات جاگتے۔

اس کے بعد سید صاحبؒ اپنے وطن رائے بریلی واپس آئے، اور گاہے بگاہے آس پاس اور دور دراز علاقوں کے اسفار فرماتے رہے، جہاں بھی تشریف لے جاتے، عوام کا جم غفیر امڈ آتا، ہزاروں کی تعداد میں لوگ آپ کے مرید ہوئے، آپ ان کے مناسب حال نصائح سے نوازتے، جہاں بدعات و رسومات نظر آتیں، آپ اس کی خوب نکیر فرماتے، انہیں اسفار کے دوران بہت سے ڈاکؤوں، چوروں اور جرائم پیشہ لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی، غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا، حتیٰ کے زنانوں (ہیجڑوں) نے بھی آپ سے بیعت کی، اور اپنے پیشہ سے توبہ کی۔ آپ خواتین کی اصلاح کے لئے بھی بہت فکر مند رہے، اپنے تمام مریدوں کو اپنے گھر کی خواتین کی اصلاح کے لئے تاکید فرماتے۔

اس کے بعد سید صاحبؒ نے لکھنؤ کا دورہ فرمایا، لکھنؤ کے لئے سید صاحبؒ اجنبی اور نا مانوس نہیں تھے، آپ کے خاندان کے عالی نسبی، آپ کے بزرگوں کا تقدس و تقویٰ، استقامت اور اتباع شریعت دور دور مشہور اور ہر جگہ مسلم تھا، اور ہر جگہ ان کا عقیدت اور عزت کے ساتھ نام لیا جاتا تھا، آپ کے جد امجد شاہ علم اللہ صاحبؒ کے زہد و ورع اور بدعات سے نفرت اور شریعت پر استقامت کے قصے ابھی لوگوں کو یاد تھے، اور ان کے پوتے حضرت لعل شاہ صاحبؒ کو تو ابھی کچھ زیادہ زمانہ نہیں ہوا تھا، اودھ کے بہت سے قصبات اور خود لکھنؤ میں بہت سے لوگ ان سے بیعت و ارادت کا تعلق رکھتے تھے۔ قندھاریوں کی چھاؤنی میں اور دوسرے رسالے داروں کی چھاؤنیوں میں بہت سے لوگ پہلے سے آپ کے خاندان کے بزرگوں کے مرید اور آپ کے خاندانی معتقد تھے۔ لکھنؤ میں ایک مرتبہ کچھ لوگ بیعت ہوئے، اور آپ سے تبرک کی درخواست کی، آپ نے ان کو کچھ روپے برکت کے لئے عطاء فرمائے اور نصیحت فرمائی کہ ’’اپنے اپنے گھروں کی عورتوں کی ہمیشہ تاکید کرتے رہو کہ کسی طور کا شرک نہ کریں اور جو اللہ تعالیٰ تم کو روزی کی فراغت دے تو نیت خالص جہاد فی سبیل اللہ کی رکھنا، خواہ جان سے، خواہ مال سے اور جو نیت خالص نہ ہو گی تو ہمارے حق میں نقصان ہوگا، اس بات کو خوب سمجھ لو۔‘‘

رائے بریلی کا قیام

لکھنؤ سے واپسی پر سید صاحبؒ کا تقریباً ایک سال رائے بریلی میں قیام رہا، اس قیام کے اہم واقعات میں سے جہاد کے لئے مشق و تربیت کا اہتمام، نکاح بیوگان کی سنت کا احیاء اور نصیر آباد کی مہم ہے۔

جہاد کا شوق اور اس کی تیاری

یوں تو عبادات و سلوک کے ساتھ جہاد کی تیاری آپ ہمیشہ کرتے رہتے تھے، لیکن اس قیام میں اس طرف سب سے زیادہ توجہ تھی، جہاد کی ضرورت کا احساس روز بروز بڑھتا جاتا تھا، اور یہ کانٹا تھا جو آپ کو برابر بے چین رکھتا تھا، دن رات اسی کا خیال رہتا تھا، زیادہ تر یہی مشاغل بھی رہتے، آپ اکثر اسلحہ لگاتے تاکہ دوسروں کو اس اہمیت معلوم ہو اور شوق ہو، دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے، لکھنؤ میں آپ نے ایک مرید کو ایک تفنگچہ دیا اور فرمایا کہ: ’’جہاد فی سبیل اللہ کی نیت سے ہتھیار رکھو اور شکم سیر ہو کر کھاؤ، ان شاء اللہ کفار کے ساتھ جہاد کریں گے، تم بھی مشق میں مشغول رہو، اس سے بہتر کوئی فقیری اور درویشی نہیں‘‘۔

(منظورۃ السعدا)

بد قسمتی سے بہت سے مسلمان ان چیزوں کو تقدس و مشیخت کے خلاف سمجھتے تھے، لکھنؤ میں ایک مرتبہ جب آپ قندھاریوں کی چھاؤنی میں تشریف لے جارہے تھے، آپ بھی ہتھیار باندھے ہوئے تھے، اور وہ لوگ بھی جو آپ کے ساتھ تھے، ایک بڑے خاں صاحب نے یہ دیکھ کر کہا کہ: ’’حضرت! آپ کی سب باتیں تو بہتر ہیں، مگر ایک بات مجھ کو ناپسند ہے، اور وہ آپ کے خاندانِ شان والا کے خلاف ہے، آج تک یہ طریقہ کسی نے اختیار نہیں کیا، آپ کو وہی کام زیبا ہے، جو آپ کے حضرات آباؤ اجداد کرتے آئے۔‘‘ آپ نے فرمایا کہ ’’وہ کون سی بات ہے؟‘‘ کہا، یہ تلوار، بندوق وغیرہ کا باندھنایہ سب اسباب جہالت ہیں، آپ کو نہ کرنے چاہئے۔ یہ نستے ہی سید صاحبؒ کا چہرہ غصے کے مارے سرخ ہو گیا، اور فرمایا کہ خاں صاحب! اس بات کا آپ کو کیا جواب دوں؟ اگر سمجھئے تو یہی کافی ہے کہ یہ وہ اسبابِ خیر و برکت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام کو عنایت فرمائے تھے، تاکہ کفار و مشرکین سے جہاد کریں اور خصوصاً ہمارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سامان سے تمام کفار و اشرار کو زیر کر کے جہان میں دین حق کو روشنی بخشی، اگر یہ سامان نہ ہوتا تو ہم نہ ہوتے، اور اگر ہوتے تو خدا جانے کس دین و ملت میں ہوتے۔ آپ کو سب سے زیادہ خیال جہاد کا رہتا تھا، جس کو مضبوط و توانا دیکھتے، فرماتے کہ یہ ہمارے کام کا ہے۔ ایک مرتبہ چار نوجوان ملاقات کو آئے، چاروں بڑے لمبے لمبے جوان تھے، آپ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ایسے جوان ہمارے کام کے ہیں، پیرزادے لوگ ہمارے کام کے نہیں، اور بہت تعریف کی، وہ آپ کا اخلاق دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ ہم غریب آدمی چار روپے کے سپاہی، آپ ہماری اس طرح تعریف کرتے ہیں، بعد میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جہاد میں اپنا کام تم سے بہتر لے گا۔ (جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor