Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسلامی معاشرتی آداب ۔۴

اسلامی معاشرتی آداب۔۴

از قلم: علامہ عبدالفتاح ابوغدہ رحمہ اللہ

ترجمہ: ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ

(شمارہ 689)

ادب: ۱۴

جب آپ کسی مجلس میں جائیں تو سب سے پہلے سب کو سلام کریں اور اگر سلام کے بعد آپ مصافحہ بھی کرنا چاہتے ہیں تو مصافحہ کی ابتداء اس شخص سے کریں جو سب سے افضل ہو یا عالِم ہو یا بڑا  پرہیز گار ہو یا عمرکے اعتبار سے سب سے بڑا ہو یا کسی ایسی صفت میں ممتاز ہو جو شرعاً قابل احترام ہے، اور افضل کو چھوڑکر کسی ایسے شخص سے ہرگز مصافحہ نہ کریں جو اگرچہ صف اول میں پہلا ہو یا دائیں طرف ہو۔

مگر وہ دوسروں کے مقابلۂ میں عامی شمار ہوتا ہو، بلکہ سب سے پہلے اس شخص سے مصافحہ کریں جو اس مجلس میں اپنی خاص صفت کی وجہ سے سب سے افضل ہو، اور اگر آپ کو معلوم نہیں کہ ان میں سے افضل کون ہے؟… یا آپ سمجھتے ہوں کہ مرتبہ میں سب برابر ہیں، تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو، اس سے ابتداء کریں، کیونکہ بڑی عمر  والے کی پہچان عموماً مشکل نہیں ہوتی۔

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

’’کبر کبر۔‘‘

’’یعنی بڑے کو آگے کرو۔‘‘

(بخاری و نسائی)

ایک اور روایت میں ہے:

’’کبر الکبر فی السن۔‘‘

’’یعنی جو عمر میں بڑا ہے اسے آگے کرو۔‘‘ 

ایک اور روایت میں ہے کہ:

ابد ؤا  بالکبراء أو قال: ’’بالأ کابر۔‘‘

’’یعنی بڑوں سے ابتدا ء کرو۔‘‘

اس کو امام ابو یعلیٰ رحمۃ اللہ علیہ اور طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے الاوسط میں ذکر کیا ہے۔ 

ادب: ۱۵

جب آپ کسی مجلس میں جائیں تو ساتھ بیٹھے ہوئے دوشخصوں کے درمیان نہ بیٹھیں… بلکہ دونوں کے دائیں بائیں بیٹھیں۔

کونکہ آقا مدنی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’لایجلس بین رجلین الا باذنھما۔‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھا جائے، مگر ان کی اجازت سے۔‘‘(ابوداؤد)

اگر اکرام کرتے ہوئے ان دونوں نے آپ کو اپنے درمیان بیٹھنے کی جگہ دے دی ہے تو آپ سکڑ کر بیٹھیں، زیادہ کھل کر نہ بیٹھیں۔

ابن الاعرابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’بعض حکماء کا قول ہے کہ:

دوشخص ظالم ہیں۔

(۱) ایک وہ شخص جسے نصیحت کا تحفہ دیا گیا اور اس نے اسے گناہ کا ذریعہ بنالیا۔

(۲) دوسرا وہ جس کے لئے تنگ جگہ میں بیٹھنے کی جگہ بنائی گئی مگر وہ پھیل کر بیٹھ گیا۔‘‘

نیز جب دو آدمیوں کے پاس بیٹھیں تو ان کی باتوں کی طرف کان مت لگائیں… الا یہ کہ وہ راز کی بات نہ ہو اور نہ ہی ان دونوں سے متعلق ہو… کیونکہ ان کی باتوں کی طرف کان لگانا آپ کے اخلاق کی کمزوری اور ایسی برائی ہے جس کے آپ مرتکب ہور ہے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

’’من استمع الی حدیث  قوم و ھم  لہ  کارھون صبّ فی أذنیہ  الاٰنک  یوم  القیامۃ۔‘‘

ارشاد فرمایا:

’’جو شخص دوسروں کی بات کان لگا کر سنتا ہے جس کا سننا ان کو پسند نہیں… قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔‘‘ (یعنی پگھلا ہوا سیسہ)

اس کو امام بخاری وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

جاننا چاہئے کہ جب آپ تین آدمی بیٹھے ہوں تو دو کو آپس میں سرگوشی نہیں کرنی چاہئے… کیونکہ اس طرح آپ تیسرے آدمی کو اپنے سے الگ کر رہے ہیں اور اسے و حشت میں ڈال رہے ہیں، نتیجتاً اس طرح اس کے ذہن میں مختلف قسم کے خیالات آئیں گے اور یہ خصلت مسلمانوں کو زیب نہیں دیتی… اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس خصلت کی مسلمانوں سے نفی فرمائی ہے۔

چنانچہ آپ ﷺ  نے ارشاد فرمایا:

’’لا یتنا جی اثنان بینھما ثالث۔‘‘

(رواہ الامام أبوداؤد)

ارشاد فرمایا:

’’دو مسلمان آپس میں سر گوشی نہیں کرتے جب کہ ان کے درمیان تیسرا ہو۔‘‘

یہاںآپ ﷺ نے نہی کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا:

بلکہ نفی آپ ﷺ کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے خبردے رہے ہیں کہ یہ ایسی صفت ہے کہ جس کا کسی مسلمان سے صادر ہونے کا تصور نہیں ہوسکتا… لٰہذا اس سے روکا جائے… کیونکہ یہ ایک ایسی خصلت ہے جس کا غلط ہونا ایک فطری چیز ہے۔

اس حدیث کو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے:

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر تین کے بجائے چار آدمی ہوں(دوآدمی) ہوں تو سرگوشی کرسکتے ہیں؟

 تو آپؓ نے فرمایا:

’’پھر کوئی حرج نہیں۔‘‘

ادب:۱۶

قدر و منزلت میں اپنے سے بڑے کا حق پہچانو… پس! اگر آپ اس کے ساتھ چل رہے ہوں تو اس کی دائیں جانب ذرا پیچھے ہٹ کر چلیں اور جب آپ گھر میں داخل ہوں یا گھر سے باہر نکلیں تو اسے اپنے سے آگے کرو… جب آپ کسی بڑے سے ملاقات کریں تو سلام  اور احترام سے اس کا حق ادا کریں، اور جب ان سے گفتگو کریں تو  پہلے ان کو بات کرنے کا موقع دیں، اور نہایت ہی احترام سے کان لگا کر ان کی بات سنیں اور اگر گفتگو کا موضوع ایسا ہو کہ جس میں بحث کی ضرورت ہے تو نہایت ہی ادب، سکون اور نرمی سے بحث کریں اور بات کرتے وقت آوازکو پست رکھیں اور ان کو بلاتے وقت اور خطاب کرتے وقت اس کے احترام کو نہ بھولیں۔

فائدہ:اب مذکورہ بالا آداب کے بارے میں کچھ احادیث خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔

(۱)رسول اللہ ﷺ کے پاس دو بھائی آئے … تاکہ ان کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا ہے آپ کے سامنے عرض کریں… ان میں سے ایک بڑا بھائی تھا… پس چھوٹے بھائی نے پہلے بات کرنی چاہی، تو نبی کریم ﷺ  نے اسے ارشاد فرمایا:

’’کبّر کبّر‘‘

آپ  ﷺ فرمایا:

’’اپنے بڑے بھائی کو اس کا حق دو، اور اسے بات کرنے کا موقع دو۔‘‘

(بخاری و مسلم)

(۲) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لیس منا من لم یجل کبیرنا۔

 آپ  ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑوں کی عزت نہیں کرتا۔‘‘

(۳) اور ایک روایت میں ہے۔

قال رسول اللہ ﷺ:

’’لیس منا من لم یوقّر کبیرنا، و یرحم صغیرنا، و یعرف لعالمنا حقہ۔‘‘

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’وہ شخص ہم میں نہیں ہے جو ہمارے بڑوں کی عزت نہیں کرتا اور ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کھاتا اورہمارے عالِم کا حق نہیں جانتا۔‘‘

اس روایت کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اورحاکمؒ اور طبرانیؒ نے حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

ادب: ۱۷

رسول اللہ ﷺ کا وہ ارشاد خوب غور سے سنو! جس میں آپ ﷺ نوجوانوں کو، اجتماع اور مجلس کے آداب اور بڑے کو چھوٹے پر مقدم کرنے کے بارے میں بیان فرما رہے ہیں:

جلیل القدر صحابی رسول حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عصر تھے… ہم آپ ﷺ  کی خدمت میں بیس دن ٹھرے … رسول اللہ ﷺ نہایت مہربان اور شفیق تھے … آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ ہمیں اپنے گھر والے یاد آرہے ہیں… تو آپ  ﷺ  نے ہم سے پوچھا: پیچھے گھر میں کس کس کو چھوڑ کر آئے ہو؟… جب ہم نے آپ کو بتایا… تو آپ ﷺ نے فرمایا:

’’واپس اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اور ان کے درمیان رہو اور ان کو تعلیم دو اور اچھے کاموں کا حکم دو… پھر جب نمازکا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں سے بڑا ہو، وہ نماز کی اِمامت کرائے۔‘‘

 حافظ ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے’’ذیل طبقات الحنابلۃ‘‘ میں فقیہ ابوالحسن علی بن مبارک کرخی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: ۷ ۸ ۴ھ)جو امام فقیہ ابویعلیٰ حنبلی جو اپنے زمانے میں شیخ الحنابلۃ کہلاتے تھے رحمہم اللہ تعالیٰ کے شاگرد ہیں… ان کے ترجمہ میں لکھا ہے… وہ فرماتے ہیں کہ: ایک دن میں قاضی ابو یعلیٰ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، اثناء میں انہوںنے مجھ سے سوال کیا کہ:

اگر تم کسی ایسے شخص کے ساتھ چل رہے ہو… جس کی تم تعظیم کرتے ہو تو اس کے ساتھ کس جانب چلوگے؟

میں نے عرض کیا:

مجھے معلوم نہیں۔

آپ ؒ فرمایا:

اس کے دائیں طرف چلو اور اسے نمازکے امام کے قائم مقام سمجھو اور بائیں جانب اس کے لیے چھوڑ دو، تاکہ ضرورت کے وقت وہ اسے تھوک وغیرہ کے لیے استعمال کرسکے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor