Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قصاص کی اَہمیت اور چند اہم مسائل

قصاص کی اَہمیت اور چند اہم مسائل

مدثر جمال تونسوی

(شمارہ 689)

یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی  الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَیٰ بِالْأُنثَیٰ  فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ شَیْء ٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء ٌ إِلَیْہِ بِإِحْسَانٍ  ذَٰلِکَ تَخْفِیفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ  فَمَنِ اعْتَدَیٰ بَعْدَ ذَٰلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ۔ (البقرۃ:۱۷۸)

’’اے ایمان والو! جو لوگ (جان بوجھ کر ناحق) قتل کر دیئے جائیں ان کے بارے میں تم پر قصاص (کا حکم) فرض کر دیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، اور عورت کے بدلے عورت(ہی کو قتل کیا جائے)۔ پھر اگر قاتل کو اس کے بھائی (یعنی مقتول کے وارث) کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے، تو معروف طریقے کے مطابق (خون بہا کا) مطالبہ کرنا (وارث کا) حق ہے اور اسے خوش اُسلوبی سے اداء کرنا (قاتل کا) فرض ہے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک آسانی پیدا کی گئی ہے اور ایک رحمت ہے۔ اس کے بعد بھی کوئی زیادتی کرے تو وہ دردناک عذاب کا مستحق ہے۔ ‘‘

نزولِ آیت کا پس منظر:

قبل از اسلام ، زمانۂ جاہلیت میں قصاص کو ایک تماشا بنا دیا گیا تھا، اور لوگ اس بارے میں افراط و تفریط کی راہ چل رہے تھے۔

ایک طرف معاملہ یہ تھا کہ بڑے لوگوں پر قصاص معاف سمجھا جاتا تھا، ان کی طرف سے صرف تھوڑا سا روپیہ دے دِلا کر مقتول کے وارثوں کو خاموش کردیا جاتا تھا ، گویاکہ چھوٹے آدمیوں کی جان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی۔

 دوسری طرف کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ مقتول کے وارث بجائے قاتل کے اُس قاتل کے کسی عزیز کو قتل کر ڈالتے تھے اور کبھی ایسا ہوتا تھا کہ بجائے ایک شخص کے، قاتل کے خاندان کے بہت سے آدمیوں کو قتل کردیا جاتا تھا۔

 لیکن اسلام جو ایک منصفانہ شریعت اور عادلانہ قانون لے کر آیا تھا اس نے دیگر معاملات کی طرح، قصاص کے مسئلے میں بھی ان تمام غلطیوں کی اصلاح کی جس میں دنیا مبتلا تھی اور قصاص کا مکمل عادلانہ اور منصفانہ قانون دُنیا کے روبرو پیش کردیا۔

 چنانچہ اس آیت کا نزول بھی ایسے موقعہ پر ہوا جبکہ دو قبیلوں میں باہمی نزاع تھا، ایک قبیلے کے کئی خون دوسرے قبیلے کے ذمے چڑھ گئے تھے۔ مقتولین کا قبیلہ قصاص کا طالب تھا،قاتلوں کا قبیلہ چونکہ باعزت اور بڑے لوگوں کا قبیلہ تھا، اس لیے وہ اپنی برتری کے باعث اس مساوات سے اِنکار کرتے تھے یا واقعہ اس طرح تھا کہ مقتولین کا قبیلہ بڑے لوگوں کا قبیلہ تھا وہ انتقام کے لئے یہ مطالبہ کرتا تھا کہ ہم اپنے مقتول غلام کے بدلے میں تمہارا آزاد آدمی قتل کریں گے اور لونڈی کے بدلے میں تمہاری آزاد عورت کو قتل کریں گے کیونکہ ہم قوت اور مال میں تم سے اونچے ہیں۔ بہر حال ان لوگوں نے اپنا فیصلہ نبی کریمﷺ کے روبرو پیش کیا۔ اس پر یہ قانونِ قصاص نازل کیا گیا۔

دس اہم مضامین:

اس مختصر تمہید کے بعد اس آیت کے متعلق چند باتیں سمجھ لینی چاہئیں۔

(۱)قاتل پر قصاص کا حکم اُس صورت میں لاگو ہوتا ہے جب کہ اس نے جان بوجھ کر اسلحہ یا اسلحہ جیسی کسی چیز مثلاً دھاری دھار لکڑی، یا پتھر وغیرہ سے (ناحق) قتل کیا ہو، اور اس جرم کو کبیرہ گناہوں میں سے شمار کیا گیا ہے، اور اس پر سخت ترین وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔

(۲) اسلامی قانون میں کسی مقتول کے قصاص کا حق اس کے ورثاء کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ حکومت کو صرف نافذ کرنے کا حق ہے۔ چنانچہ اگر مقتول کے ورثاء قاتل کو معاف کردیں تو حکومت کو خود بدلہ لینے کا حق نہیں ہے اور انصاف بھی یہی ہے کہ کسی شخص کے مرنے کا اثر جس جماعت اور جس سوسائٹی پر پڑتا ہے اس کو ہی یہ حق ہونا چاہئے کہ چاہے وہ انتقام لے یا معاف کردے یا خون بہالے۔

 (۳)البتہ قاتل کے خلاف حکومت وہاں خود مدعی ہوسکتی ہے جہاں مقتول کا کوئی وارث نہ ہو اور مقتول کی جانب سے کوئی مدعی نہ ہو۔ موجودہ تہذیب میں یہ دستور نہیں ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسی حکومتوں کا قانون اِسلامی قانون کے خلاف ہے کیونکہ اس وقت مختلف حکومتوں کے مروجہ قانون میں سرکار خود مدعی ہوتی ہے۔

(۴) جب قانونِ اِسلامی میں قصاص اولیائے مقتول کا حق ہے تو وہ معاف بھی کرسکتے ہیں، یا بجائے قصاص کے دیت یعنی خون بہابھی لے سکتے ہیں۔ جس طرح وہ فیصلہ کرلیں حکومت کو فریقین کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا۔

(۵) دیت یا خون بہا کی مقدار اسلام نے سو اونٹ، یا ایک ہزار دینار، یا دس ہزار درہم مقرر کئے ہیں۔ جب کبھی اونٹوں پر یا دینار ودرہم پر فریقین کی صلح ہوتو شریعت نے جو مقدار مقرر کی ہے وہی لینی ہوگی۔ اس سے زیادہ لینے کا حق نہ ہوگا، ہاں اگر باہمی رضامندی سے کم پر صلح ہوجائے تو مضائقہ نہیںہے۔ مثلاً مدعی پچاس اونٹوں پر صلح کرلے۔

 اور اگر صلح اونٹ، دینار اور درہم کے ماسوا کسی اور سامان اور اشیاء پر ہوجائے تو پھر گنجائش ہے چاہے وہ مال جس پر صلح ہوئی ہو وہ ہزار دینار سے زائد کا ہو تب بھی لے لینا جائز ہوگا بلکہ صلح ہوجانے کے بعد اگر اولیائے مقتول چاہیں تو اس سامان کے بدلے میں نقد روپیہ لے لیں یہ بھی جائز ہے، اور کسی سامان پر صلح ہوجانے کے بعد نقد روپے کی مقدار اگر شرعی مقررہ مقدار سے بڑھ جائے تب بھی لے لینا جائز ہے۔مثلاً فریقین نے غلہ پر صلح کرلی، صلح کے بعد یہ طے ہوا کہ بجائے غلہ کے اس کی قیمت دے دو اور وہ قیمت ہزار دینار یا دس ہزار درہم سے زیادہ ہوئی تب بھی اس قیمت کا لینا جائز ہوگا۔

(۶) خوں بہا قاتل کے مال میں سے لینا ہوگا ،کسی اور کے مال سے وصول نہیں کیا جائے گا اور وہ مال جو قاتل سے لیا جائے گا وہ مقتول کے وارثوں پر وراثت کی طرح تقسیم کیا جائے گا ۔

(۷) مقتول کے ورثہ میں سے اگر ایک شخص بھی اپنے قصاص کا حق معاف کردے گا تو سب کے قصاص کا حق ساقط ہوجائے گا۔ کیونکہ قتل کی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ البتہ دیت یعنی خون بہامیں ان کا حق باقی رہے گا۔مثلاً ایک مقتول کے چار لڑکے ہوں۔ ایک اس میں سے قصاص کو معاف کردے تو باقی تین کا حق بھی ساقط ہوجائے گا اور وہ مجرم کے قتل کا مطالبہ نہیں کرسکیں گے۔ ہاں خوں بہا میں ان کا حق باتی رہے گا۔ اور وہ تینوں بیٹے اپنے حصہ کا خون بہا وصول کرلیں گے۔

(۸) چونکہ قتل کے مقدمہ میں بہت سے مسلمانوں پر ذمہ داری ہوتی ہے، چنانچہ کوئی مدعی بنتا ہے، کوئی گواہی دیتا ہے، کوئی ملزم کو گرفتار کرکے پیش کرتا ہے، کوئی حکم کو نافذکرتا ہے، اور کبھی قاتل خود پیش ہوکر اِقرار کرلیتا ہے۔

اس لیے آیت کے آغاز میں ’’یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا‘‘ سے جو خطاب ہے وہ خطاب بھی عام ہے۔ بعض اہل علم نے ’’حکام‘‘ کو مخاطَب بنایا ہے، بعض نے ’’اولیائے مقتول‘‘ کو، اور بعض نے قاتل کے حمایتیوں کو۔ اگرچہ سب احتمال صحیح ہیں لیکن عمومی خطاب مراد لینا بہتر ہے، اس لئے کہ قانون کا فائدہ ہر مسلمان کو پہنچتا ہے۔

(۹) اس آیت میںیہ جو کہا گیا کہ ’’آزاد کے بدلے آزاد‘‘، ’’غلام کے بدلے غلام‘‘، ’’عورت کے بدلے عورت‘‘، تویہ بات حصر کے لیے نہیں ہے کہ یوں کہا جائے بس قصاص یا تو آزاد آدمیوں کے درمیان جاری ہوگا، یا دو غلاموں کے درمیان جاری ہوگا، یا دو عورتوں کے درمیان جاری ہوگا،اور ان صورتوں کے علاوہ اور کسی صورت میں قصاص نہیں ہوگا۔

بلکہ آیت کا منشا صرف اُس مساوات کا ظاہر کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان میں رکھی ہے۔ اگر کوئی آزاد آدمی اپنے علاوہ کسی دوسرے کے غلام کو قتل کردے گا یا کوئی مرد کسی عورت کو قتل کردے گا یا کوئی عورت کسی مرد کو قتل کردے گی تب بھی قاتل پر قصاص جاری ہوگا۔

اسی طرح کوئی بڑا آدمی کسی چھوٹے آدمی کو قتل کردے، تو اس پر بھی قصاص جاری ہوگا،یا اگر چند آدمی مل کر ایک مسلمان کو قتل کردیں تو ان سب پر قصاص جاری ہوگا۔ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قصاص میں کوئی اِمتیاز نہ برتا جائے۔

البتہ وہ صورتیں مستثنیٰ ہوں گی جن کو شریعت نے خود مستثنیٰ کردیا ہو مثلاً باپ یا ماں اپنے بیٹے کو قتل کردے یا کوئی اپنی لونڈی اور غلام کو قتل کردے تو اس قسم کے قتل کا حکم علیحدہ ہے۔ جو قانون کی کتابوں میں مفصل مذکور ہے۔ بلکہ یہ آیت تو اپنے مفہوم میں اتنی وسیع ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کافر کو بھی قتل کردے گا تو اس مسلمان پر بھی قصاص جاری ہوگا، اور اَحناف کا یہی مسلک ہے۔

فائدہ : جس طرح اس آیت میں بنی نوع انسان کی مساوات کا اعلان ہے اس سے یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ طریقۂ قتل میں بھی مساوات برتی جائے، اور جس طرح قاتل نے مقتول کو قتل کیا ہے، بعینہ اسی طرح قاتل کو بھی قتل کیا جائے کیونکہ یہ صورت سب جگہ اختیار نہیں کی جاسکتی۔اس لیے علمائے حنفیہ کے ہاں عمومی ضابطہ یہ ہے کہ :

لا قود الا بالسیف (مختصر القدوری)

’’قصاص میں بس تلوار کے ذریعے بیک وار قاتل کا سر قلم کردیا جائے‘‘

ہاں اگر کیفیتِ قتل میں کوئی امکانی شکل مساوات کی حاصل ہوسکتی ہواورامام حالات کے پیش نظر بعینہ اسی کیفیت کو اختیار کرنا مناسب سمجھے تو اسے اختیار ہے کہ وہ اولیائے مقتول کی دِل جوئی اور قاتل گروہوں کی عبرت انگیزی کے لئے قاتل کو اُسی طرح قتل کرائے، جس طرح اس نے قتل کیا تھا۔

جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ایک یہودی کو سزا دی تھی۔ جس نے ایک لڑکی کا زیور اُتارنے کی غرض سے اس کا سر پتھر سے کچل دیا تھا، توآپﷺ نے بھی اس یہودی کا سر پتھر سے کچلوایا تھا، لیکن کیفیتِ قتل میں چوںکہ سب جگہ مساوات نا ممکن ہے اس لئے قاتل کو تلوار سے قتل کردینا کافی ہے۔

(۱۰) ہم نے ابھی بتایا ہے کہ قتل کے نفاذ کا حق امیر یا والی یا والی کے مقرر کردہ حکام کو ہے، یہ اس لیے ہے تاکہ ہر شخص قانون کو ہاتھ میں نہ لے لے۔ کیونکہ ایسا کرنا عام خانہ جنگی کا اور فتنہ و فساد کاسبب ہوجاتا ہے اور اس طرح نظامِ امن درہم برہم ہوجاتا ہے۔

قاتل کو بھائی کہنے کی حکمت:

آیت بالا میں فرمایاگیا ہے کہ ’’قاتل کوا س کے بھائی کی جانب سے کچھ معاف کردیا جائے‘‘۔ اس جملے میں مقتول کے ورثاء کو قاتل کا بھائی فرمایا گیا، یہ اس لیے تاکہ رحم اور مہربانی کا برتائو کیا جائے۔ نیز اس لیے کہ اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو ناحق قتل کردے تو وہ قاتل اسلام سے خارج نہیں ہوجاتا بلکہ بدستور مقتول کا دینی بھائی رہتا ہے۔

(اس آیت مبارکہ کی مکمل تفسیر کچھ مناسب تبدیلی، تسہیل اور اِضافات کے ساتھ تفسیر کشف الرحمن، مرتبہ مولانا سعید احمد دہلویؒ، تلمیذِ رشید مفتی محمد کفایت اللہ دہلویؒ سے لی گئی ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor