Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رسول اکر م ﷺنے رمضان کیسے گزارا؟

رسول اکر م ﷺنے رمضان کیسے گزارا؟

انتخاب:سعید الاسلام مدانی

(شمارہ 692)

رمضان المبارک کے بابرکت اور عظیم مہینے کی عبادت کی اہمیت ہر باعمل مسلمان پر واضح ہے۔ تاہم ہمارا عام تصور یہ ہے کہ اس ماہ میں اپنی مصروفیات اور ہو سکے تو ہر طرح کے میل جول کو منقطع کرکے بس دن رات عبادت میں لگے رہنا ہی شاید اس ماہِ صیام کا حق ادا کرنا ہے او راس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہم عام طور پر فضائلِ رمضان المبارک میں احادیث نبوی اور تفصیلات ہی وہ بیان کرتے ہیں جو اسی مزاج کی حامل بھی ہیں اور اسی سوچ کو پختہ تر کرنے والی ہیں۔

 حالانکہ قرآن مجیدکو دیکھاجائے تو سیاق وسباق ، جہاد، جنگ اور اس کے متعلقہ مسائل کو بیان کیا گیا ہے درمیان میںماہِ صیام کا ذکر ہے اور اس ماہ کی فضیلت اور قرآن مجید کی فضیلت کا ذکر ہے۔

 روزہ ایک تربیت ہے اورقرآن مجید کا تراویح میں سننا ایک روحانی ترقی کا ذریعہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ ساری محنت مشقت کس مقصد کے لیے ہے ؟ یہ تیاری آئندہ کن مشکل مراحل کی طرف اشارہ کر رہی ہے؟ اس استخراج کی کوشش بندہ خود اپنے ناقص ذہن سے کرے گا تو ایک ناپاک جسارت او رچھوٹا منھ او ربڑی بات ہو گی، جس کا بندہ اپنے دین وایمان کی حفاظت کی خاطر سوچ بھی نہیں سکتا کہ دینی معاملات میں کوئی بات خیر القرون سے ہٹ کر یا بلاد لیل کی جائے۔

آئیے، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہ وسال اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ کارناموں کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کیسے گزارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے آپ کی معیت او راتباع میں یہ وقت کیسے صرف کیا؟

یہ بات طے ہے کہ رمضان المبارک کے روزے 2 ہجری میں فرض ہوئے اور اس کے احکام دو تین سالوں میں مکمل ہوئے۔

اب 2 ہجری کے رمضان المبارک سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک یعنی ربیع الاول۱۱ ہجری تک ۹ رمضان المبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں آئے ہیں۔ یہ۹ رمضان المبارک آپ نے کیسے اور کن حالات میں گزارے اور اپنے ساتھیوں (رضی اللہ عنہم) کی کیا تربیت فرمائی او رکیا پیغام دیا؟ وہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابوں کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔

رمضان المبارک۲ ہجری

یہ پہلا رمضان المبارک ہے، بڑے ذوق وشوق سے مدینہ منورہ میں اس عبادت کا آغاز ہوا، اہتمام کیا گیا۔ ساتھ ہی مکہ میں جووادی نخلہ میں سریہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرکردگی میں روانہ کیا گیاتھا،ان کے ہاتھوں یکم رجب کو ایک کافر مارا گیا، اس کی اسارت اور ردّ عمل مکے میں جاری تھا اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے تھے۔  جمادی الاولی۲ ہجری، مطابق نومبر625ء (حضرت) ابوسفیان کی زیر قیادت جو قافلہ ملک شام گیا تھا،اب وہ قافلہ بھی واپس آرہا تھا اور اس کی اطلاعات تھیں اور قریش بھی جو انتقام میں جل بھن کر جنگی تیاریوں میں مصروف تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے دوسرے ہفتے میں۳۱۳ جانثاروں کو ساتھ لے کر نہایت قلیل تیاری کے ساتھ قافلے کا راستہ روکنے کا ارادہ کرکے مدینہ سے نکلے او راس سفر میں ہی اللہ تعالیٰ نے فتح کا وعدہ فرمایا اور اپنی تدبیر سے اہل ایمان اور کافروں کو بدر پہنچا دیا جہاں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تاریخی فتح دے کر ’’یوم بدر‘‘ کو’’ ایام اللہ‘‘ میں سے اہم دن بنا دیا۔ یہ واقعہ۱۷ رمضان المبارک کا ہے۔ گویا یہ پہلا رمضان المبارک بدر کی طرف پیش قدمی اور جنگ کے بعد کے حالات سے نپٹتے نپٹتے گزر گیا۔ مسلمانوں کی پہلی عید، میدان بد رکی شان دار کامیابی، سورۃ روم میں موعود یہود ونصاریٰ کی فتح کی خوش خبری کا مدینہ پہنچنا اور بدر کی فتح پر آس پاس کے علاقوں سے تہنیتی وفود کے جلو میں گزری ۔

 رمضان المبارک۳ ہجری

رمضان المبارک۳ ہجری آپ صلی اللہ علیہ وسلم او رآپ کے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے مدینے میں گزارا، اس دوران قریش کی سال بھر کی جنگی تیاریوں کی تکمیل کی اطلاعات آرہی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ مشوروں میں وقت گزار رہے تھے کہ یکایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قاصد کے ذریعے مکہ سے تین ہزار افراد کا لشکر روانہ ہونے کی اطلاع ملی، جو بھرپور تیاری کے ساتھ روانہ ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحمل سے مشورے کیے اور دفاعی او رجنگی منصوبہ بندی فرمائی۔

عید الفطر اسی منصوبہ بندی میں گزاری ، قریش کا لشکر ۶شوال۳ھ کو مدینہ اترا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ساتھ باہر نکل کر رات گزاری اور ۷شوال ۳ھ جنگ اْحد کا دن ہے۔ یہ دن یوں بھی بہت اہم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت مبارک شہید ہوئے۔ اس جنگ میں ۷۰ مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، جن میں حضرت امیر حمزہ ، حضرت معصب بن عمیر اور حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالی عنہم بھی شامل تھے۔

رمضان المبارک۴ ہجری

شعبان۴ ہجری میں کفار کے عہد کے مطابق ایک معرکہ پیش آیا، جسے غزوہ بدر دوم کہتے ہیں ،اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس تشریف لے گئے۔ واپسی پر رمضان کا ماہ مبارک آیا، جو آپ نے مدینہ منورہ میں گزارا۔

رمضان المبارک ۵ ہجری

الرحیق المختوم کے مؤلف کے بقول غزوہ احزاب شوال۵ ھ میں پیش آیا تھا۔ دو تین ماہ قبل سے ہی قریش کی جنگی تیاریوں کی اطلاعات مدینہ پہنچ رہی تھیں ، عرب بھر سے قریش کے حلیف (اتحادی ) قبائل کے لشکر تیار تھے او رمدینہ پر حملہ کے منتظر اس پس منظرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودنے کا حکم دیا، یہ آپ کی ذاتی بصیرت کا شاہ کار ہے۔ یہ خندق تقریباً۹ کلو میٹر لمبی تھی او رمسلمانوں نے نہایت جاں فشانی سے اس کی کھدائی کی تھی، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں شریک رہے، سردی کا موسم تھا۔ ماہ رجب ، ماہ شعبان او ررمضان المبارک ۵ھ کا ایک حصہ اسی خندق کی تیاری میں گزر گیا اور باقی رمضان المبارک، شوال کا مہینہ لشکر کی آمد اور حملہ کے خطرے میں گزرا۔ شوال میں۲۸ دن یہ محاصرہ رہا، تاہم کفار کا لشکر بغیر فتح کے نامراد لوٹ گیا۔ یہ مسلمانوں کے لیے بڑی کامیابی تھی۔ یہ رمضان المبارک بھی جنگی تیاریوں اور پہروں کے جلو میں او رجہاد کے ماحول میں گزرا۔

رمضان المبارک۶ ہجری

۲ شعبان کو غزوہ بنی المصطلق کے لیے روانگی ہوئی اور اواخر شعبان میں واپسی، اسی غزوہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر قذف کا واقعہ پیش آیا، جس سے ۴۰ روز تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھریلو معاملات میں منافقین کے رویے کی وجہ سے سنگین کیفیت سے دو چار رہے، پورا رمضان المبارک ظاہری طور پر ایک طرح کی بے سکونی میں گزرا۔

رمضان المبارک۷ہجری

صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان عمرہ نہیں کر پائے تھے، اس لیے قضائے عمرہ کے لیے۷ ھ میں روانگی ہوئی۔ صلح کے بعد امن کا زمانہ رہا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف آوری کے بعد یہ پہلا رمضان المبارک ہے جو نہایت سکون کے ساتھ گزارا اور صحابہ کو روزے کی برکات اور احکام سکھائے اور ۱۳۰ صحابہ کو ایک مہم کے لیے روانہ فرمایا۔

رمضان المبارک۸ہجری

۸ ہجری میں رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی حدیبیہ کا معاہدہ قریش کی بدعہدی کی وجہ سے ٹوٹ چکا تھا۔ حضرت ابو سفیان اس کی تجدید کی کوشش کے لیے مدینہ حاضر ہوئے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان سے ملاقات ہی نہیں فرمائی۔ حضرت ابوسفیان کی واپسی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا اور تیاری کے بعد سفر کا آغاز کیا اور دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کے باہر پڑاؤ ڈالا۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ ایمان لے آئے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے، بغیر جنگ کے مکہ فتح ہو گیا۔ یہ واقعہ۲۰ رمضان المبارک۸ ھ کا ہے۔۱۵ دن مکہ میں قیام رہا۔ گویا اوائل رمضان المبارک سے ہی مکہ روانگی ہو گئی تھی۔ یہ ماہ صیام بھی جہاد اور جنگ کی کیفیات میں بسر ہوا۔

رمضان المبارک ۹ہجری

یہ رمضان المبارک سفر تبوک میں صرف ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اس جنگ کی تیاری فرمائی ، نفیر عام دی،۳۰ہزارکا لشکر لے کر مقام تبوک روانہ ہوئے۔ ایک ماہ جانے میں صرف ہوا، ایک ماہ کے لگ بھگ وہاں قیام رہا ،قیصر روم جنگ میں مقابلہ پر نہیں آیا۔ واپسی کا سفر رمضان المبارک میں ہوا اور شوال کے اوائل میں مدینہ تشریف آوری ہوئی۔ یہ رمضان المبارک پورا سفر جہاد میں گزرا۔

رمضان المبارک۱۰ ہجری

یہ رمضان المبارک جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تقریباً چھ ماہ پہلے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں گزارا اور چوں کہ۸ اور۹ھ کے ماہ صیام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں مقیم نہ ہونے کی وجہ سے اعتکاف نہیں کر سکے تھے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے ماہ کا اعتکاف فرمایا۔ واللہ اعلم

خلاصہ کلام یہ ہے کہ:

 ر مضان المبارک مسلمانوں کی فوجی قسم کی ایک تربیت کرتا ہے اور روحانی برکات توجو ہیں وہ ہیں، ظاہری برکات میں سے بھی ڈسپلن اور نظم وضبط کا عادی بناتا ہے، اس نظم وضبط کاہدف اور استعمال کیا ہے ؟ یہ آج کا عام مسلمان اور رہنمایانِ قوم نہیں سوچتے۔ صوفیائے کرام اپنے مریدوں کی تربیت کر رہے ہیں، مگر اس تربیت کا ہدف کیا ہے ؟ یہ بات بھی بتانا اور عام کرنا ضروری ہے۔ اس تربیت کا ہدف سوائے جہاد فی سبیل اللہکے اور کچھ نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تربیت میدان جہاد میں بھی دی اور سفر جہاد میں بھی دی اور روزے کی برکات کے حصول کا اصل محل اور صحیح استعمال سکھایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مدنی دور میں ۹رمضان المبارک آئے، جن میں رمضان۲ ھ جنگ بدر میں اور رمضان۳ھ جنگ احد سے قبل کی تیاری میں صرف ہو گئے، رمضان۵ھ جنگ احزاب سے قبل خندق کی کھدائی اور جنگی تیاریوں میں گزرا، رمضان۶ ھ غزوہ بنی المصطلق سے واپسی پر منافقین کی شرارت کے نتیجہ میں واقعہ افک کے پریشان کن حالات اورکرب میں گزرا، رمضان المبارک۸ ھ فتح مکہ کے سفر اور فتح مکہ اور اس کے بعد جنگی انتظامات میں صرف ہو گیا،۹ ھ کا ماہ صیام قیصر روم کے مقابلے میں جنگ کے لیے لشکر کی روانگی، قیام اور واپسی میں گزر گیا۔ صرف۴ ھ،۷ھ،۱۰ھ کے۳ ماہِ صیام مدینے میں حالت امن میں گزرے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس ماہ کی عبادت کے نتیجے میں حاصل توانائی اور روحانی جذبے او رشوق کا اصل ہدف سوائے جہاد کے اورکچھ نہ تھا۔کاش! آج ہمارا رمضان المبارک گزارنے اور اس کی برکات کے حصول کا ہدف ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اتباع میں جہاد کا شوق اور جذبہ جہاداْ جاگر کرنا ہی ہو جائے تو شاید اس سے امت مسلمہ کی تقدیر بد ل جائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor