Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مفتاح القرآن۔۷

مفتاح القرآن۔۷

المعروف بہ تفسیر سورۃ الفاتحہ

مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو

(شمارہ 693)

حضرت مولانا صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری چشتی سجادہ نشین ترنوائی شریفؒ فاضل دارالعلوم دیوبندکی تصانیف میں سے (۱) باب الفیض (۲) عزیز العقائد (۳) تفسیر سورۃ فاتحہ۔ پہلے دو مکمل ہونے کے بعد اب تیسرا رسالہ تفسیر سورۃ فاتحہ شروع کیا جارہا ہے۔

جہری نماز میں فاتحہ کا پڑھنا  مقتدی کے لیے جائز نہیں ہے۔ البتہ امام شافعیؒ کے قول جدید میں مقتدی کے لیے فاتحہ پڑھنے کا کچھ جواز نہیں۔ فرماتے ہیںچنانچہ مزنیؒ کی روایت اس پر شاہد ہے۔ پس تحقیق کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ تمام ائمہ بمع حضرت امام شافعیؒ کے استثنائے قول جدید فاتحہ کا سقوط ہی  مانتے ہیں جو سقوط کے جہری نماز میں متفق علیہ ہے لہذا دوبارہ تنقیح ثانی یہی عرض ہے کہ مقتدی کے لیے فاتحہ پڑھنا رکن نماز نہیں کیونکہ رکن کسی شئی کا اس شئے سے کسی حالت میں تفریق قبول نہیں کرتا، اگر فاتحہ کاپڑھنا بحق مقتدی رکن صلٰوۃ ہوتا تو ہر حالت میں مقتدی کے لیے واجب الاداء ہوتا۔ نماز جہری اور سری میں جدا نہ ہوتا۔ دوسری جگہ عرف الشذی میں یہی ہے کہ صحابہ کرام میں بہت تھوڑے صحابی ہیں جو جہری نماز میں مقتدی کے لیے قائل بالقرائت ہیں۔

کما قیل فاما مذاھب الصحابۃ فلا اعلم من قال بالقرائۃ خلف الامام فی الجھریۃ الاقیل وعنھم ایضاً اختلاف النقل

اور ان سے نقل کی بھی اختلاف ہے کسی روایت سے اجازت اور کسی سے ممانعت پیدا ہوتی ہے۔ پے در پے طور سے اس تھوڑے قدر کے صحابہ سے بھی قرائت خلف الامام کا جہری نماز میں جواز نہیں نکلتا البتہ قرائت خلف الامام کا مذھب صرف عبادہ بن صامت کے خیال میں ہے مگر وہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ صحابی وجوب کے قائل ہیں یا استحاب کے۔ اسی طریقہ سے تابعین کے بھی دوگروہ ہیں، ایک طائفہ تو سری نماز میں قرائت فاتحہ کا قائل ہے اور جہری میں نہیں اور دوسرا طائفہ سری اورجہری دونوں میں قرائت فاتحہ کا قائل نہیں ہے۔

ابوداؤد میں بروایت ابی صالح عن ابی ہریرہ منقول ومروی ہے ’’فاذا قرء فانصتوا‘‘ جب امام قرائت کرے تم خاموش رہو۔

نسائی وابن ماجہ وطحاوی وصحیح مسلم میں یہی الفاظ ہیں اور حضرت علیؓ، حضرت سعدؓ وزید بن ثابتؓ جیسے بزرگوں نے تو صاف فرمادیا ہے:

’’انہ لاقرأۃ مع الامام لافیما جھرولا فیما السر‘‘ جہری اور سری ہر دونمازوں میں فاتحہ کو مقتدی نہ پڑھے۔

پس احتیاط یہی ہے کہ فاتحہ خلف الامام کسی حالت میں نہ پڑھی جائے۔ فاتحہ خلف الامام پڑھنا خلاف اولیٰ ہے۔

ہذا عندی وفوق کل ذی علم علیم۔

دعاگو: فقیر صاحبزادہ ابوالفیض محمد امیر خسرو اشعری وچشتی حسینی مانسہرہ ہزارہ۔

بھلا خسرو ثنائے فاتحہ میں کیا زباں کھولے

خدا نے فاتحہ سے یہ زمین وآسماں کھولے

نسیم صبح صادق کو جلا بخشی ہے مولا نے

غلامان محمدﷺ کے لیے اس نے نشاں کھولے

سکھائے فاتحہ میں اس نے آداب خداوندی

ہمارے واسطے اس نے در باغ جناں کھولے

عرب کے ایک پیغمبرﷺپہ اس نے فاتحہ لاکر

تجلائے الٰہیت کے راز کن فکاں کھولے

اجالا کردیا اس فاتحہ نے ہرزمانہ میں

نسیم رحمت حق نے عجب سرنہاں کھولے

ضمیر آدمیت کی گواہی آج ہے خسرو

کہ سورۃ فاتحہ نے دفتر وہم وگماں کھولے

٭…٭…٭

دعائے فاتحہ کا ترجمہ

’’اے رب میں تجھ سے تیرے اس اسم کے ساتھ سوال کرتا ہوں جس سے تو نے عالم خلق وامر کو مفتوح کیا ہے۔ راز تجلی جو حق کے لیے ظاہر ہونے والی ہے تنزیل کے سبب اور بلند ہے امر اور وجود اور بطون میں اور یہ معقول ہے از روئے حس بھی جس کی تو تائید کروگے بلکہ معلوم ہے اس کے لیے جس کو تو موجود کرے اور اس کے متشابہ مجہول ہیں۔ اس کے لیے جس کو تو چاہے جس حکمت کو تو نے پختہ کیا ہے۔ اس کی یکتائی میں قدح نہیں ہوسکتا، اے علیم، اے حلیم، اے فتاح، اے رب میں تجھ سے سراضافت کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو حضرت وجود اور امکان کے درمیان رابطہ ہے اور مقتضیٰ ہے واسطے طہور نعمت اعظم کے اور سر سیمی کے ساتھ ثبوت الہیات کے عموما خصوصا بداؤ عوداً ان علوم روحانیت کی گنجائش سے استقرار منتہیٰ نہیں ہوتے اور ثبوت ہیں فیض رحمیہ سے جو ختم نہیں ہوتی ہے۔‘‘

٭…٭…٭

چند فضائل سورۃ فاتحہ

٭ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے:

جس شخص نے تین بار سورۃ فاتحہ تین بار سورۃ اخلاص اور معوذتین پڑھے تو موت کے سوا ہر چیز سے امن میں رہے گا۔

٭ جب امام حسن اور حسین علیہما السلام بیمار ہوئے تو حضورﷺکو بہت رنج ہوا تب خدائے قدوس نے وحی کی کہ سورۃ فاتحہ (۴۰) بار پانی پر دم کرکے اس ان کا منہ دھلاؤ خدائے قدوس شفاء دے گا۔

٭ علماء فرماتے ہیں کہ جس مریض کو سورۃ فاتحہ پاک برتن پر لکھ کر پلاؤ اللہ تعالیٰ اس کو آرام دے گا۔

٭ جس کو نسیان ہو وہ سورۃ فاتحہ لکھ کر روز دھو کر پئیے تو نسیان چلاجائے گا۔

٭ جو اس کا کثرت سے وظیفہ کرے اس کا دل پاکیزہ اور کل خطرات نفسانیہ سے صاف ہوجائے گا۔

٭ حضرت امام شعبیؒ کو درد پیٹھ کی شکایت ہوئی کسی نے کہا سورۃ فاتحہ سے علاج کیجئے تو انہوں نے اس کو پڑھ کر جسم اور پانی پر دم کیا اور پیا تو آرام ہوگیا۔

٭ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ہر چیز کی بنیاد ہوتی ہے اور قرآن کریم کی بنیاد سورۃ فاتحہ ہے اور سورۃ فاتحہ کی بنیاد بسم اللہ ہے۔

٭ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ سب سے بہتر علاج سورۃ فاتحہ کے ساتھ ہے اور وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں:

فرماتے ہیں کہ میں ایک مدت سے مکہ میں رہتا تھا اور مجھے ایک ایسا  مرض تھا کہ کسی حکیم کے علاج سے آرام نہ ہوا تب میں نے سوچا کہ خود ہی اس کا علاج کروں اور سورۃ فاتحہ سے میں نے اس کا علاج کیا اور مجھے آرام ہوگیا۔ بعد ازاں جس شخص کو میں دیکھتا کہ اس کو سخت بیماری ہے تو اس کو بتلادیتا اس کو آرام ہوجاتا۔

٭ جوشخص سورۃ فاتحہ ۱۹ مرتبہ پڑھ کر کسی ظالم کے سامنے جائے تو اس کے شر سے محفوظ رہے گا۔

٭ جو شخص سورۃ فاتحہ کا ورد کرتا رہے وہ صاحب کشف ہو۔

معانی سورۃ فاتحہ

الحمد للہ رب العالمین۔ ہر تعریف وستائش وثناء اول سے ابد تک جوکہ موجود یا معلوم تھی یا موجود ومعلوم ہے یا موجود ومعلوم ہوگی وہ تمام وکمال اللہ کے لیے ہے جو کہ مسمیٰ وہ موصوف سب اسماء وکمالات کے ساتھ ہے۔ پیدا کرنے والا اور پالنے والا۔ رکھنے والا ترتیب کرنے والا سب جہاں کے کام کا سازگار ہے، خواہ جہاں جہاں ملائکہ ہو یا جن وانس ہو یا وحوش وطیور ہو یا درندوں کا ہو یا حیوانات آبی کا ہو وہ اللہ سب کا رب اور سب کا پالنے والا ہے اور یا الحمد کا یہ معنی ہے کہ ہر فرد حمد جس حامد سے پایا جائے اور جس زمان ومکان میں ہو اللہ کے لیے ہے یا جنس حمد خواہ قلیل یا کثیر ہو اللہ کے لیے ہے۔

الرحمٰن وہ اللہ جو وجود کو عالم دنیا کے فنا کرنے کے بعد دوبارہ عالم آخرت میں وجود بخشنے والا ہے۔

الرحیم مومنوں کو بہشت میں انعام واکرام دے کر مہربانی کرنے والا ہے جو انعام واکرام جاودانی ہیں۔

مالک یوم الدین۔ یوم جزاء کا مالک ہے اس دن جو تصرف بھی کرے کرسکتا ہے اور وہ یوم آخرت کا خود حاکم وقاضی ہے۔

ایاک نعبد۔ بس ہم تجھ ہی کو پوجتے ہیں اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔کیونکہ تو ہی مستحق عبادت ہے۔(اشارہ) اللہ معبود برحق کو کہتے ہیں اور ایاک نعبد سے معبود برحق کا معنی خوب سمجھا جاتا ہے۔

وایاک نستعین۔ اور ہم اپنی سب حاجات اور مشکلات میں پرستش کے بعد تجھ ہی سے استعانت اور مدد چاہتے ہیں۔

اھدنا الصراط المستقیم۔ ہمیں سیدھی راہ بتاکہ وہ راہ انبیاء واولیاء کے افعال اقوال اور اخلاق کی ہے اور وہی راہ افراط وتفریط متوسط ہے یا یہ معنی کہ ہمیں سیدھی راہ پر قائم رکھ۔ سیدھی راہ سے مراد دین اسلام ہے اور سنت محمد مصطفےﷺہے۔

حضرت قطب العارفین غوث الواصلین سیدنا خواجہ عبیداللہؒ نے اس کا معنی یہ بیان فرمایا ہے کہ ہمیں سیدھی راہ بتلا، سیدھی راہ سے مراد خدا کی محبت کی راہ مراد ہے، یعنی ہمیں تو اپنی محبت کی راہ بتلا  تاکہ ہم بن تیری محبت کے غیر طرف نظر والتفات نہ کریں، غیر سے ہم انقطاع کریں اور تیری محبت میں گرفتار ہوجائیں، تیرے بغیر نہ کسی غیر کی طرف دیکھیں اور نہ ہی کسی غیر سے خوف واندیشہ رکھیں اور کسی غیر کی جانب توجہ نہ رکھیں۔

صراط الذین انعمت علیھم ان کی راہ جن پر تونے انعام کیا ہے۔ ساتھ نعمت نبوت رسالت، ولایت وصدیقیت و شہادت وصلاحیت کے یا راہ ان لوگوں کی جو اہل قرب ہیں، جن کا ظاہر بکمال نعمت قبول شریعت سے آراستہ ہے اور باطن بکمال نعمت اسرار حقیقت سے مزین ہے اور تو نے انہیں  معزز ومکرم بنایا ہے۔

غیر المغضوب علیھم۔ نہ راہ ان لوگوں کی جن پر تیرا غضب ہوا۔ چنانچہ راہ یہود جو کہ عناد وتکبر وقتل انبیاء وتحریف کتب کی وجہ سے مغضوب علیھم ہوئے۔

ولاالضالین اور نہ راہ گمراہوں کی جو سیدھے بتلائے ہوئے راستہ سے بھٹک گئے یا ضالین سے مراد ترساؤ یہود ونصاریٰ ہیں۔ جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام کی شان کو بڑھا کر ابن الٰہ کہہ دیا اور حضرت محمدﷺ کی شان گھٹا کر اور ان کی نبوت سے انکار کرکے انہیں جادوگر، ساحر مجنون کاذب کہہ کر گمراہ ہوئے۔

مولائے قدوس ہم کو بچائے۔ آمین

اے خدا! ہماری یہ دعا قبول فرما۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor