Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رمضان اورتلاوتِ قرآن

رمضان اورتلاوتِ قرآن

مفتی محمد مجیب الرحمن دیودرگی

انتخاب:مفتی محمدعبیدالرحمن

(شمارہ 693)

رمضان المبارک کو قرآن کریم سے گہری مناسبت ہے۔امام رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

’’ روزہ اور نزول قرآن کے درمیان گہرا تعلق ہے، جب یہ مہینہ نزولِ قرآن کے ساتھ خاص کیا گیا تو ضروری تھا کہ یہ مہینہ روزوں کے ساتھ بھی خاص ہو۔‘‘(تفسیر کبیر3/98)

 حضرت موسی علیہ السلا م کو جب اللہ تعالیٰ نے کتاب دینے کاارادہ کیاتو انہیں ایک ماہ تک روزہ رکھنے کا حکم دیا، پھر اس کے بعد دس دن کا اضافہ کیا ،اس کے بعد کلام الہٰی عطاکیا گیا، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں طویل قرآت فرماتے ، ایک رات رمضان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نیت باندھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ بقرہ پڑھی، پھر سورۂ نساء، پھر سورۂ اٰل عمران، کسی بھی آیت تخویف پر سے گذرتے تو رکتے، دو ہی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا تھا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے، نماز کے لیے اذان دے دی۔(مسند احمد)

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی اہتمام کو دیکھ کر بعض اسلاف رمضان المبارککی تین راتوں میں ایک ختم فرماتے، بعض ہر ہفتہ ایک قرآن اور بعض ہر دس دن میں ایک قرآن ختم کرنے کا اہتمام کرتے۔

(لطائف المعارف1/11)

قرآن کریم کی تلاوت کے فضائل وفوائد بے شمار ذکر کیے گئے ہیں؛اسی لیے اکابراولیائے کرام تلاوتِ قرآن کا بہت ہی زیادہ اہتمام فرماتے تھے؛ تلاوتِ قرآن کے متعلق ان کے ایسے واقعات منقول ہیں، جنہیںپڑھ کر انسان دنگ رہ جاتاہے، ایسے ہی چند واقعات کتبِ تاریخ سے یہاں نقل کیے جارہے ہیں ،شاید ہمیں بھی یہ ذوق نصیب ہوجائے اور یہ انمول خزانہ ہاتھ آجائے۔

٭… امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  رمضان المبارک کی پہلی رات میں اپنے ساتھیوں کو جمع فرماتے، ان کی امامت فرماتے، ہر رکعت میں بیس آیتوں کی تلاوت فرماتے، نیز اسی ترتیب پر قرآن ختم فرماتے، ہر رات سحری تک قرآ ن کریم کا ایک تہائی حصہ تلاوت فرماتے، اس طرح تین راتوںمیں ایک قرآن ختم فرماتے اورر مضان المبارک کے ہر دن میں ایک قرآن ختم کرتے اور یہ ختم افطار کے موقعہ پر ہوتا اور ہر مرتبہ ختم پر دعاء کا اہتمام فرماتے۔ (فتح الباری1/481)

٭…امام احمدرحمۃ اللہ علیہ دن رات میں سو رکعت نماز پڑھتے تھے، حالاں کہ عمر اس وقت اسی برس کے قریب تھی، ہر سات دن میں ایک ختم فرماتے، ہر سات راتوں میں ایک قرآن مجید ختم فرماتے، عشاء کی نماز کے بعد تھوڑی دیر سوتے پھرصبح تک نمازاور دعاء میں مشغول رہتے ۔ (صفۃ الصفوۃ 1/484)

٭… زھیر بن محمدرحمۃ اللہ علیہ رمضان المبارک کے ایک دن ورات میں تین قرآن ختم فرماتے، پورے رمضان  المبارک میں 90 بارقرآن ختم کرتے۔ (صفۃ 1/510)

٭…ابو العباس بن عطاء رحمۃ اللہ علیہ روز انہ ایک قرآن کریم کی تلاوت کرتے، رمضان  المبارک کے ایک دن ورات میں تین قرآن ختم فرماتے۔(صفۃ 1/533) (البدایہ 11/164)

٭… ابو بکر محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ نے دوران طواف 12 ہزار ختم فرمائے۔ (ایضا 1/539)

٭… ابوبکر بن عباس رحمۃ اللہ علیہ  کی وفات کا وقت قریب ہوا تو ان کی بہن رونے لگی، آپ نے ان کی جانب دیکھ کر فرمایا کیوں روتی ہو؟ دیکھو گھر کے اس حصے کو !جس میں تمہارے بھائی نے اٹھارہ ہزار بار قرآن کریم کی تلاوت کی ہے۔ (صفۃ 2/96)

 اسی طرح ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فرزند کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے باپ کو ضائع نہیں کرے گا، جس نے چالیس سال سے ہر رات قرآن ختم کیاہے۔(ایضا) (البدایہ 10/243) چالیس سال تک پشت کو زمین سے نہیں لگایا،60 سال تک روزانہ ایک ختم کرتے،80 رمضان کے روزے رکھے، وفات 96سال میں ہوئی۔

٭عبد اللہ بن ا دریس رحمۃ اللہ علیہ  کی وفات کے موقعہ پر ان کی بیٹی رونے لگی، انہوں نے تسلی دی کہ مت رو ، تمہارا والد اس گھر میں چار ہزار بار قرآن مجید کی تلاوت کر چکا ہے۔(صفۃ 2/98) (البدایہ والنہایہ 10/226)

٭… محمد بن یوسف البناء رحمۃ اللہ علیہ  اپنی آمدنی میںسے صرف ایک درہم اپنے لیے خرچ کرتے، بقیہ صدقہ کردیتے، ہر دن ایک بار قرآن مجید ختم فرماتے۔ (صفۃ الصفوۃ 2 / 287)

٭… عبد العزیز المقدسی رحمۃ اللہ علیہ  ابدال میں سے ہیں، انہوں نے بلوغ سے ہی گناہوں سے بچنے کی بڑی فکر کی اور اس کا اہتمام کرتے رہے، ان کا بیان ہے کہ بلوغ سے لے کر اخیر عمر تک ان کی لغزشیں(36) رہیں، نیز انہوں نے ان میں سے ہر غلطی پر ایک لاکھ دفعہ استغفار کیا اور ہر غلطی کے لیے ایک ہزار رکعت نماز ادا کی، ہر غلطی کی جانب سے ایک دفعہ قرآن ختم کیا ہے، اس کے باوجود بھی میں اللہ کے غصہ سے مامون نہیں کہ وہ میری پکڑ فرمادے اور میں توبہ کی قبولیت کی امیدپر ہوں۔(صفۃ 2/395)

قرآن کریم کی تلاوت کی حدکوئی نہیں اپنے نشاط وقوت پر موقوف ہے۔

٭…حضرت عثمان سے مروی ہے کہ وہ ہر رات ایک قرآن ختم فرماتے، نیز یہی عمل سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے۔ (غذاء الالباب 2/153)

٭… شیخ علی بن الحسن شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال حالت احرام میں سفر حج کے دوران ہوا، بہت زیادہ اونچی ہمت والے تھے، کئی حج کیے، ایک ہزار سے زائد عمرے کیے، چار ہزار سے زائد قرآن پاک کے ختم فرمائے، ہر رات ستر طواف کرتے۔ (مرآۃ الجنان2/252)

٭…ولید بن عبد الملک اپنے ظلم، فسق وفجور میں مشہور تھا، اس کے باوجود قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرتا تھا، تین دن میں ایک قرآن ختم کرتا اور رمضان میں سترہ بارقرآن ختم کردیتا (مرآۃالجنان1/91)

٭… محمد بن علی بن محمد ابو جعفررحمۃ اللہ علیہ  ہمدان کے رہنے والے ہیں، انہوں نے حج کیے،قرآن کریم بہت عمدہ آواز میں تلاوت فرماتے، مسجد نبوی میں ہر سال ایک رات میں روضہ کے پاس کھڑے ہو کر قرآن کریم ختم فرماتے۔ (المنتظم 5/100)

٭… عبد الملک بن الحسن بن احمدرحمۃ اللہ علیہ حدیث کے رواۃ میں سے ہیں، ان کا شمار بڑے زاہدوں میں ہے ہر رات ایک قرآن کریم ختم فرماتے، کثرت سے روزے رکھتے۔ (المنتظم 4/483) (البدایہ 12/147)

٭… صالح بن محمد ابو الفضل شیرازی رحمۃ اللہ علیہ قاریٔ قرآن تھے، فرماتے تھے کہ میں نے قرآن کریم کے چار ہزار ختم کئے ہیں۔(المنتظم 4/22)

٭…ابو بکر بن احمد بن عمر البغدادی رحمۃ اللہ علیہ یہ بڑے عبادت گذار اور صاحب ورع وتقوی ہیں، ایک سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، اس قیام میںانہوں نے ایک ہزار بار قرآن کریم ختم فرمایا۔ (الدارس فی تاریخ المدارس 1/414)

٭…ابو الحسن سلمی رحمۃ اللہ علیہ ابن الحاجب کہتے ہیں کہ ان کا شمار بڑے علماء میں ہے، یہ فقیہ تھے، دن ورات میں ایک بارقرآن کریم ختم فرماتے۔(الدارس فی تاریخ المدارس1/79)

٭…ابو علی عبد الرحیم بن القاضی الاشرف ابی المجدرحمۃ اللہ علیہ  صاحب ثروت تھے، بہت زیادہ صدقہ وخیرات کا اہتمام فرماتے، عبادت وریاضت قابل رشک تھی، ہر دن ورات میں ایک بار مکمل قرآن کریم ختم کرنے کی پابندی فرماتے۔ (البدایہ 13 / 31)

٭…شیخ ابو الفرج ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ معروف عالم دین ہیں ،بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں، وعظ فرماتے تو بیسیوںلوگ تائب ہوجاتے، تقریبا اسی (80) سال عمر ہوئی، ہر دن ورات میں ایک بار قرآن ختم فرماتے۔ (البدایہ 13/13)

٭…سعید بن جبیررحمۃ اللہ علیہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے عظیم شاگرد وں میں سے ہیں، تفسیر ،فقہ اور دیگر علوم کے امام ہیں،آپ کوکئی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی زیارت کی سعادت حاصل ہے، آپ مغرب اور عشاء کے درمیان نمازمیں ایک قرآن کریم روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے ختم فرماتے، پھر کعبۃ اللہ میں بیٹھ کر تلاوت کرتے ہوئے ختم فرماتے، بعض دفعہ کعبۃ اللہ میں ایک ہی رکعت میں ختم فرماتے، ان کے سلسلہ میں مروی ہے کہ ایک باررات کو کعبۃ اللہ میں نماز میں ڈھائی قرآن کی تلاوت فرمائی۔ (البدایہ 9/116)

٭امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ امام صاحبرحمۃ اللہ علیہ  ہر دن ورات میں ایک قرآن ختم فرماتے، جب رمضان المبارک کا مہینہ ہوتا تو عید الفطر ولیلۃ الفطر کو ملا کر62 قرآن ختم فرماتے۔ (اخبار ابی حنیفہ1/41)

خارجہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتیہیں کہ ایک رکعت میں قرآن کریم ختم کرنا چار ائمہ کے سلسلہ میں منقول ہے، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، تمیم داری ،سعید بن جبیر اور امام ابو حنیفہ ، نیز یحییٰ بن نضیر کے سلسلہ میں بھی منقول ہے۔ (مغانی الاخیار5/161)

٭…امام شافعیرحمۃ اللہ علیہ  رمضان المبارک کے مہینہ میں ساٹھ(60) بارقرآن کریم ختم فرما تے۔ (نداء الریان 1/198)

٭…اسود بن یزیدرحمۃ اللہ علیہ  رمضان المبارک میں ہر دو راتوں میں ایک قرآن ختم فرماتے، رمضان المبارک کے علاوہ نو(9) راتوں میں ہمیشہ ختم فرماتے۔ (نداء الریان 1/197)

٭…قتادۃرحمۃ اللہ علیہ سات دن میں ایک بار ہمیشہ قرآن ختم فرماتے، رمضان المبارک میں تین دن میں ایک دفعہ ختم فرماتے، جب عشرہ ٔاخیر آتا ہر رات میں ایک دفعہ ختم فرماتے۔

 (نداء الریان1/198)

٭…امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ عشرۂ اخیر میں ہر رات میں ایک ختم فرماتے اور بقیہ مہینہ میں تین دن میں ایک دفعہ ختم فرماتے۔ (نداء الریان1/198)

٭…سعدبن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ  ہر دن ایک قرآن ختم فرماتے۔ (نداء الریان1/198)

٭… جب رمضان المبارک آتا تو امام زہری رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے تھے یہ تلاوتِ قرآن اور کھانا کھلانے کا مہینہ ہے۔ (نداء الریان1/199)

٭…ابن عون رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق بکار السیرینی کہتے ہیں(عام دنوں میں) ایک دن روزہ رکھتے، ایک دن افطار کرتے، میں ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک رہا، بہترین خوش بو استعمال کرتے، نرم کپڑا پہنتے، ہر ہفتہ ایک دفعہ قرآن ختم فرماتے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی 3 / 132)

 

٭…شیخ علی بن الحسین رحمۃ اللہ علیہ بڑے پْر ہمت شافعی عالم دین ہیں، کئی حج کیے ہیں، ان کے سلسلہ میں مروی ہے کہ ایک ہزار سے زائد عمرے کیے تھے، چار ہزار سے زیادہ قرآن کریم ختم کیے، ہر رات کئی کئی مرتبہ طواف فرماتے تھے، ان کا انتقال حج کے احرام کی حالت میں ہوا۔ (مرآۃ الجنان2/252)

٭…امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ابن عبد الحکیم کہتے ہیں کہ جب رمضان المبارک آجاتاتو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اہل علم کی مجالس ترک کردیتے اور حدیث کا پڑھنا پڑھانا موقوف کردیتے تلاوتِ قرآن کی جانب متوجہ ہوجاتے۔(لطائف 1/172)

٭…شیخ الحدیث مولانا زکریارحمۃ اللہ علیہ ماضی قریب کے وہ عظیم بزرگ ہیں جن کی اصلاحی ،علمی وحدیثی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں، ان کے سلسلہ میں مذکور ہے کہ 38ھ میں ماہِ مبارک میں ایک قرآن روزانہ پڑھنے کا معمول شروع ہوا تھا، جو تقریبا 80ھ تک رہا، بلکہ اس کے بعد تک بھی جاری رہا۔ (آپ بیتی 2/67)

 شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہنے اپنی دادی صاحبہ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ حافظہ تھیں، خانگی مشاغل میں کھانا پکانے کے علاوہ روزانہ ایک منزل پڑھنے کا معمول تھا اور رمضان المبارک میں روز انہ چالیس پارے تلاوت کا معمول تھا۔(آپ بیتی 2/62)

ایسے ہی عاشقین قرآن کے سلسلہ میں وہیب بن وردرحمۃ اللہ علیہ کا ایک اقتباس نقل کرنا مناسب ہے کہ ایک شخص نے وہیب سے سوال کیا کہ کیا آپ رات کو سوتے نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے عجائبات مجھے سونے سے روک د یتے ہیں۔ ایک شخص دوماہ تک آپ کے ساتھ رہا، انہیں سوتا ہوا نہیں دیکھا، اس نے سوال کیا کہ کیا ہوا آپ سوتے کیوں نہیں؟ انہوں نے جواب دیا قرآن کریم کا ایک اعجوبہ ختم نہیں ہوتاکہ دوسرا کھل جاتاہے ۔

قرآن کریم یاد رکھ کر بھی سونے والے کے متعلق احمد ابی الحواررحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں قرآن کریم پڑھتاہوں، اس کی آیت کریمہ میں غوروفکر کرتاہوں تو میری عقل حیران رہ جاتی ہے، تعجب ہے ان حفاظ قرآن پر کہ کیسے انہیں نیند آتی ہے کیسے انہیں اس بات کیگنجائش ہوتی ہے کہ وہ د نیاوی مصروفیات میں مشغول رہیں، اس حال میں کہ وہ قرآن کریم پڑھتے ہوں، بہر حال اگر وہ تلاوت کردہ کو سمجھ لیتے اور اس کا حق جانتے تو اس میں لذت محسوس ہوتی تو ان کی نیندیں اڑ جاتیں۔(لطائف المعارف 1 / 173)

 اکابر کا قرآن کریم سے عشق تقاضا کررہا ہے کہ ہم بھی قرآن کریم سے اپنے لگاؤ میں اضافہ کریں اور قرآن کریم کی تلاوت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor