Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رمضان المبارک

رمضان المبارک

حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمۃ اللہ علیہ

انتخاب:سعید الاسلام مدانی

(شمارہ 693)

ہماری عبادات وطاعات کچھ رسمی صورت کی ہو کر رہ گئی ہیں اور اس بدحواس زندگی اور نفسانی وشہوانی ماحول میں ان کی حقیقت او راہمیت جیسی ہونی چاہیے ہمارے دلوں میں نہیں ہے، اس لیے پہلے تو اللہ پاک سے دعا کریں کہ یا اللہ! آپ نے توفیق دی ہے تو آپ ہی ان عبادات کی اہمیت، برکات وتجلیات اور ان کے ثمرات، فہم سلیم وتوفیق اعمال صالحہ اور حیات طیبہ عطاء فرمائیں۔ آمین

قدر کریں

یہ اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے کہ ہمارے کمزور ایمان اور ناکارہ اعمال کو از سر نو قوی اور کامل بنانے کے لیے رمضان المبارک کے چند گنتی کے دن عطا فرمائے ہیں۔ اس لیے ان کو غنیمت سمجھ کر ہمیں بڑے ذوق وشوق کے ساتھ ان ایام معدودہ کی قدر کرنی چاہیے، یوں تواللہ جل شانہ نے ہماری دنیا وآخرت کے سرمایہ کے لیے ہم کو چند فرائض وحقوق واجبہ کا مکلف بنایا ہے، مگر اس ماہ مبارک میں چند نوافل ومستحبات کے اضافہ کے ساتھ ہم کو زیادہ سے زیادہ حلاوت ایمان اور اعمال کی پاکیزگی اور اپنی رضا کے حصول کا موقع عطا فرمایا ہے، اس کی قدر کرو اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھاؤ اور اس کے شروع ہونے سے پہلے اپنے ظاہری وباطنی اعضا کو خوب توبہ واستغفار سے پاک وصاف کو لو، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ نے اپنے محبوب نبی الرحمۃ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر اس لیے یہ احسان وانعام فرمایا کہ ان کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے فائز المرام ہونے پر خوش ہو جائیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس اعلان کا مصداق بنیں وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی (عنقریب آپ کو آپ کا رب اس قدر عطا کرے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے) اس لیے ہمارے ذمہ بھی شرافت نفس کا تقاضا یہی ہے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ او راپنے آقائے نامدار نبی الرحمۃ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی حتی الامکان کوشش تک کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں، اس لیے ہم اس وقت عہد کر لیں کہ ان شاء اللہ تعالی ہم اس ماہ مبارک کے تمام لمحات، شب وروز اسی احتیاط اور اہتمام میں گزاریں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ ہے۔اس بات کی احتیاطکریںکہ تمام ظاہری وباطنی گناہوں سے بچیں گے او راس بات کا اہتمام کہ زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں گے اور عبادت وطاعات میں مشغول رہیں گے۔

عزم بالجزم

یوں تو سب دن اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں، ہر وقت اور ہر آن انہیں کی مشیت کار فرما ہے او رہماری تمام عبادات وطاعات ان ہی کے لیے ہیں اور وہی ہم کو دنیا وآخرت میں اس کا صلہ مرحمت فرمائیں گے، مگر نبی الرحمۃ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کے ساتھ ان کا لامتناہی احسان خصوصی یہ ہے کہ فرمایا’’ یہ مہینہ میرا ہے اور اس کا صلہ میں خود دوں گا۔‘‘ اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ جو صلہ اور اجر اس ماہ کے اعمال کا ہو گا اس کا بیحدو بے حساب ہونا اللہ تعالیٰ علیم وخیبر کے علم میں ہے، اس احسان شناسی کے جذبے کو قوی کرنے کے لیے توکلاً علی اللہ ہمیں بھی عزم بالجزم کر لینا چاہیے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ ہم جو کچھ بھی کریں گے وہ اللہ رب العالمین کے لیے ہی کریں گے، پھر دیکھیے کہ اس عزم کے صلے میں تائید الہٰی کس طرح ہمارے شامل حال رہتی ہے۔تہیہ کر لیجیے کہ اب ایک پاکیزہ محتاط زندگی گزاریں گے، آنکھوں کا غلط استعمال نہ ہونے پائے، سماعت میں فضول باتیں نہ آنے پائیں، بے کار باتوں میں مشغول نہ ہوں، اس کے علاوہ تمام غیر ضروری تعلقات بھی کم کر دیں۔ ایسی تقریبات میں شریک بھی نہ ہوں جہاں شریعت کے خلاف کام ہوں، تو ان شاء اللہ پاک وصاف رہیں گے۔

یاد رکھیں! ناپاکیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے صحیح تعلق پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی اللہ کا فضل وکرم اور کس قدر بڑا احسان ہے کہ اپنے گنہگار غفلت زدہ بندوں کو پہلے ہی سے متنبہ کر دیا کہ جیسے ہی رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو تو تم اپنے عمر بھر کے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف کرالو، تاکہ تمہیں اپنے مربی حقیقی سے صحیح وقوی تعلق پیدا ہو جائے او راگر تم نے ہماری مغفرت واسعہ ورحمت کاملہ کی قدر نہ کی تو پھر تمہاری تباہی وبربادی میں کوئی کسر باقی نہ رہے گی۔ اب اس اعلان رحمت پر کون ایسا بد نصیب بندہ ہے جو اس کے بعد محروم رہنا چاہے گا۔ا س لیے ہم سب لوگ یقینا بڑے خوش نصیب ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ اپنی زندگی میں پا رہے ہیں ،اب تمام جذبات عبدیت کے ساتھ اور مکمل ندامت کے ساتھ بار گاہ الہٰی میں حاضر ہوں او راس ماہ مبارک کے تمام برکات وانوار وتجلیات الہیہ سے مالا مال ہوں، اللہ تعالیٰ ہم سب کواس کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

پہلے توبہ

جی بھر کر دو دن، تین دن ، چار پانچ دن اپنے تمام گناہ عمر بھر کے جتنے یاد اور تصور میں آسکیں اور جہاں جہاں نفس وشیطان سے مغلوب رہے ہو چاہے وہ دل کا گناہ ہویاآنکھ ،زبان یا کان کا ہو،سب ندامت قلب کے ساتھ بارگاہ الہٰی میں پیش کردو اور کہو کہ اب وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے ،یا اللہ! ہم کو معاف فرما دیجیے۔ یا اللہ! ہم سے غفلت ونادانی کی وجہ سے نفس وشیطان کی شرارت سے عمداً وسہواً جو بھی گناہ کبیرہ وصغیرہ صادر ہو چکے ہیں جو ہماری دنیا وآخرت کے لیے انتہائی تباہ کن ہیں اور ان کا خمیازہ ہم روز بھگت رہے ہیں اپنی مغفرت کاملہ او ررحمت واسعہ سے سب معاف فرما دیجیے۔ ہم انتہائی ندامت قلب کے ساتھ آپ کی بار گاہ میں منت وسماجت کے ساتھ دست بد عا اور سربسجود ہیں۔

’’اے پروردگار! ہم نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے، اگر آپ نے ہماری بخشش نہ کی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقینا نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔‘‘

اے اللہ! ہر وہ بات جو قابل مواخذہ ہو معاف فرما دیجیے۔ دنیا میں قبر میں ، برزخ میں ، حشر میں ، پل صراط پر جہاں جہاں بھی مواخذہ ہو سکتا ہے سب معاف فرمادیجیے اور یا اللہ! آپ جتنی زندگی آئندہ عطاء فرمائیں وہ حیات طیبہ ہو ، اعمال صالحہ کے ساتھ ہو یا اللہ! ہمارے ایمان کو مضبوط اور قوی فرما دیجیے۔

ان شاء اللہ تعالیٰ حسب وعدۂ الہٰی ہماری یہ دعاء ضرور قبول ہو گی، اب خبردار اپنی گزشتہ غفلتوں اور کوتاہیوں کو اہمیت نہ دینا ، زیادہ تکرار نہ کرنا ، مایوس وناامید نہ ہونا جب ان کا وعدہ ہے تو سب ان شاء اللہ معاف ہو جائے گا۔

لیکن ہاں چند گناہ ایسے ہیں جن کی معافی مشکل ہے، مسلمان مشرک تو ہوتانہیں ،لیکن کبھی کبھی یہ ممکن ہے کہ پریشان ہو کر عالم اسباب کی کسی قوت کو موثر سمجھ لیا ہو، دنیاوی وسائل وذرائع کے سامنے اس طرح جھک گئے ہوں، جس طرح ایک مومن کو جھکنا نہ چاہیے تو یا اللہ! آپ یہ سب لغزشیں بھی معاف کر دیجیے۔ بس اب مغفرت کا معاملہ ہو گیا، اب ان کی رحمت واسعہ طلب کرو۔ اسی طرح ایک ناقابل معافی گناۂ کبیرہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے کھوٹ او رکینہ ہو ، کینہ رکھنے والے کے متعلق حدیث میں ہے کہ یہ ایسا شخص ہے جو شب قدر کی تجلیات ، مغفرت اور قبولیتِ دعاء سے محروم رہے گا، عالم تعلقات میں اپنے اہل وعیال ، عزیز واقارب ، دوست احباب سب پر ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ ان میں کسی کی حق تلفی تو نہیں ہوئی ہے کہ کسی کو ہماری ذات سے تکلیف تو نہیں پہنچی ہے، اللہ پاک اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جب تک ان کی مخلوق ہم سے راضی نہیں ہو جاتی۔دیکھو! اگر تم اس معاملے میں حق بجانب ہو اور دوسرا باطل پر ہے تو پھر جب تم اللہ پاک سے مغفرت چاہتے ہو تو اس کو معاف کر دو اور اگر تمہاری زیادتی ہو تو اس سے جاکر معافی مانگ لو۔ اس میں کوئی شرم کی بات نہیں ہے، اگر بالمشافہہ ہمت نہ ہو تو ایک تحریر لکھ کر اس کے پاس بھیج دو کہ یہ ر مضان کا مہینہ ہے ،اس میں اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ دلوں کو صاف رکھنا چاہیے، اس لیے ہم اور آپ بھی آپس میں دل صاف کر لیں اور ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔

اس کے بعد ان سے نہ بد خواہی کر یں، نہ دل میں انتقام لینے کا خیال لائیں ، اپنی بیوی بچوں پر بھی نظر ڈالو کہ ان میں سے کوئی تم سے ناراض تو نہیں، یعنی ان کے ساتھ کوئی بے جا تشدد یا زیادتی تو نہیں کی ہے۔ اگر ایسا ہے تو ان سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں بلکہ خوش اسلوبی سے ایسا برتاؤ کر وجس سے وہ خوش ہو جائیں، اسی طرح بھائی ،بہن، عزیز واقارب، غرض کسی سے کسی قسم کی بھی رنجش ہے تو تم ان کو معاف کردو ،اس لیے کہ تم بھی آخر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے ہو۔

پرہیز کریں

لغو اور فضول باتوں سے پرہیز کریں۔ لغو باتیں کرنے سے عبادت کا نور جاتا رہتا ہے، لغو باتیں کیا ہیں؟ جیسے فضول قصے ، کسی کا بے فائدہ ذکر ، سیاسی امور پر بحث یا خاندان کی باتیں اگر شروع ہو جائیں تو اس میں غیبت ہونے کا امکان ضرور ہوتا ہے، اس لیے اس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہیے،آنکھیں گناہوں کا سرچشمہ ہیں ،ان کو نیچا رکھیں ،۔بد نگاہی صرف کسی پر بری نگاہ ڈالنا ہی نہیں، بلکہ کسی کو حقارت، حسد یا برائی کی نظر سے دیکھنا بھی آنکھوں کا گناہ ہے۔

اگر آپ کسی دفتر میں کام کرتے ہیں تو تہیہ کر لیں کہ تمہارے ہاتھ ، زبان اور قلم سے خدا کی مخلوق کو کوئی پریشانی نہ ہو ،کسی کو دھوکہ نہ دو ، کسی ناجائز غرض سے کسی کا کام نہ روکو، کوئی بات شریعت کے خلاف نہ ہو ، روکے رکھو اپنے آپ کو، اگر آپ تاجر ہیں تو صداقت وامانت سے کام کریں، کسی قسم کے ایسے لالچ یا نفع سے کام نہ کریں جس سے کسی کو نقصان پہنچے یاتمہارا معاملہ کسی کی ایذا کا سبب بن جائے۔

پھر بے کار اور بے فائدہ کتاب اور رسائل کا مطالعہ یا کوئی اور بے کار مشغلہ، ان سب سے بچتے رہیں، صرف تیس دن گنتی کے ہیں ،اگر کچھ کرنا ہی چاہتے ہیں تو کلام پاک پڑھیں، سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھیں اور دینی کتب کا مطالعہ کریں۔

عبادات

رمضان شریف میں دو عبادتیں سب سے بڑی ہیں، ایک تو کثرت سے نمازیں پڑھنا ( اس میں تراویح) کی نماز بھی شامل ہے اور اس کے علاوہ تہجد کی نماز کی چند رکعات ہو جاتی ہیں، پھر اشراق ، چاشت اور اوابین کا خاص طور پر اہتمام ہونا چاہیے، دوسرے تلاوت کلام پاک کی کثرت، جتنی بھی توفیق ہو۔رمضان کی راتیں عبادتوں میں گزارنے سے دن میں بھی سچائی اور دیانت سے کام کی عادت ہو جاتی ہے۔ اس کا اہتمام کریں کہ مسجدوں میں باجماعت نمازیں ادا کریں ۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor