Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 674

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 674)

ف(۲)…آپ کی تفسیر کے متعلق علامہ سبکیؒ اور ابن خلکانؒ نے کہا ہے:من اجود التفاسیرواوضحھا

قشیری کی دوسری مُرتّبہ تفسیر کا نام’’لطائف الاشادات‘‘ ہے۔قشیری نے یہ تفسیر ۴۱۰؁ھ سے قبل لکھی ہے جو ’’متصوفانہ‘‘ تفسیر ہے۔ اس کی نادر بات یہ ہے کہ ہر سورۃ کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا معنی اس طرح کیا کہ اس سورۃ کے معانی سے تعلق ہوجیسا کہ تفسیر رحمانی میں مہائمی نے کیا ہے۔ تاحال اس تفسیر کے مندرجہ ذیل نسخوں کا علم ہوا ہے۔

 ۱)نویں صدی ہجری کا لکھا ہوا ایک کامل نسخہ’’بانکی پور‘‘ کے کتب خانہ میں ہے ۔نمبر ۳۱۲

۲) ایک نسخہ کامل مکتوبہ قدیم مکتبہ جیبہ میں ہے۔

۳)ایک نسخہ کامل مکتبہ آصفیہ میں ہے۔

۴)۷۰۶؁ھ کا مکتوبہ کامل نسخہ جامع عثمانیہ حیدر آباد دکن میں ہے۔

۵)ایک نسخہ مکتبہ محمد پاشا میں ہے۔ نمبر ۱۱۷

۶)ایک ناقص نسخہ ازسورۃ الاحزاب تا آخر مکتوبہ ۶۷۹؁ھ رضا لائبریری رامپور میں ہے۔

۷)ایک ناقص نسخہ برل( لیدن) میں ہے۔

علی بن احمد بن محمدبن علی الواحدی

آپ’’سادہ‘‘ کے مقام پر پیدا ہوئے، ابو الحسن الفہندی سے علوم ادبیہ عربیہ اور ابو اسحق ثعلبی سے علم تفسیر حاصل کیا ،باقی علوم کے علاوہ تفسیر القرآن سے قلبی لگائو اور خصوصی شغف تھا چنانچہ قرآن عزیز کی تین تفسیر یں لکھیں جن کے نام’’البسیط‘‘ یعنی مفصل اور’’الوسیط‘‘یعنی درمیانی اور ’’الوجیز‘‘یعنی مختصرہیں اسی طرح ایک تفسیر ایسی  مُرتّب فرمائی جس میں سید دو عالمﷺ کے تمام تفسیری ارشادات کو جمع کردیا، اس تفسیر کا نام’’تفسیر النبیﷺ ‘ ‘ رکھا۔ ان سب تفاسیر کو اپنے دور میں قبولیت حاصل رہی۔ چھٹی صدی ہجری کے امام عبدالقاہر بن عبداللہ م ۵۶۳؁ھ نے کہا ہے کہ میں نے واحد ی کی  مُرتّبہ تفسیر ’’الوسیط‘‘حفظ کی ہے۔ نیشاپور میں جمادی الآخر ۴۶۸؁ھ کو انتقال فرمایا۔

ف(۱)…تفسیر وسیط جلد دوم کا محظوطہ ۸۷۶؁ھ اسلامیہ کالج پشاور کی لائبریری میں ہے۔

ف(۲)…واحدی نے ایک کتاب بنام ’’اسباب النزول‘‘ بھی لکھی ہے جس کا ایک نسخہ مطبوعہ قاہرہ ۱۳۱۵؁ھ ادارہ تحقیقات اسلامیہ اسلام آباد کے کتب خانہ میں موجود ہے۔

 شہفوربن طاہر محمد الاسفرائنی

آپ’’الامام ابو لمظفر الاصولی المفسر الفقیہ‘‘ کے القاب سے مشہور تھے۔ آپ ’’ اسفرائن‘‘ کے تھے علوم اسلامیہ میں نادر روزگار سمجھے گئے۔ علم کلام، علم تفسیر اور دوسرے علوم پر تصانیف فرمائی ہیں علم عقائد و کلام میں ایک تصنیف بنام’’التبصیر فی الدین‘‘ مرتب کی جو شائع ہوچکی ہے۔ قرآن عزیز کی ایک تفسیر بھی لکھی جس کی وجہ تالیف یوں بیان فرمائی:

’’محمد بن جریر طبری تک تو مفسرین قرآن عزیز نے’’فرق باطلہ‘‘ کی تائید سے گریز کیا مگر اب بعض’’ قدریہ‘‘ اپنے غلط عقائد کی ترویج و اشاعت کے لئے تفسیر قرآن عزیز کو ڈھال بنا کر تحریف معنوی کررہے ہیں اس لئے میں نے ایسی تفسیر کا مرتب کرنا ضروری سمجھا جس میں فرقہ ناجیہ اہل السنۃ و الجماعۃ کے علماء کے اقوال ہوں چنانچہ اس تفسیر میں ان نظریات باطلہ کے نقل کرنے سے گریز کیا ہے اور اس کا نام تفسیر ’’تاج التراجم‘‘ رکھا ۔‘‘

تاریخ ادبیات ایران میں اس پر یوں تبصرہ کیاگیا ہے:

’’اس تفسیر کو چند مجالس میں تقسیم کرکے ہر مجلس میں کسی ایک سورۃ کا ترجمہ اور تفسیر کی گئی ہے جس کا طریقہ تفسیر یہ ہے کہ پہلے ہر آیت کا لفظی ترجمہ پھر اس کا معنی اور متعلقہ قصہ اور شان نزول ذکر کیا گیا ہے‘‘

امام اسفرائنی کا انتقال ۴۷۱؁ھ کو ہوا۔

ف(۱)…اس تفسیر کا نام ’’تاج التراجم فی تفسیر القرآن الاعاجم‘‘ ہے اور تفسیر ’’اسفرائنی‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے، یہ فارسی زبان کی پہلی جامع تفسیر ہے اس کا قلمی نسخہ کتب خانہ’’ ملی پارس‘‘ترکیہ میں موجود ہے’’دانش گاہ ایران‘‘ میں اسی ترکی نسخہ کا مکمل عکس موجود ہے۔ اب یہ تفسیر ایران سے بعض مستشرقوں کی توجہ سے شائع ہوچکی ہے۔

ف (۲)… اس تفسیر کی دوسری جلد قلمی جامع مسجد’’ برہان پور‘‘( بھارت) کے کتب خانے میں موجود ہے جس کے آخر مندرجہ ذیل عبارت موجود ہے:

’’فرغ من نسخہ و تحریرہ ابو بکر ابن محمد بن عبید اللّٰہ الخر اسانی الحمیدی ۵۲۳؁ھ‘‘

 ابو الولید الباجی

آپ کا نام سلیمان تھا۔۳ ذی قعدہ ۴۰۳؁ھ کو اندلس کے قصبہ باجہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ آپ نے مصر ،مکہ مکرمہ، اور موصل کا سفر کیا۔’’حلب‘‘ کے قاضی مقرر ہوئے تیرہ برس بعد وطن مالوف لوٹے۔ ان کا مسلک مالکی تھا چونکہ آپ کے زمانے میں ابن حزم ظاہری موجود تھے جو کہ ظاہری مسلک کی ترویج و اشاعت کررہے تھے چنانچہ ابو الولید کا ان کے ساتھ مناظر ہ ہوا جس سے ظاہری مذہب کا زور ٹوٹ گیا۔ ۱۹ رجب ۴۷۴؁ھ کو وفات پائی’’ابو الولید‘‘نے کافی کتابیں لکھیں جن میں سے مؤطا کی شرح’’المعانی‘‘بیس جلدوں میں،’’کتاب الایماء‘‘دس جلدوں میں اور قرآن عزیز کی ایک تفسیر بھی لکھی۔

عبدالقاہر بن ابن ابو عبداللہ الطاہرالتمیمی

ابو منصور کنیت تھی بغداد میں پیداہوئے مگر پھر ان کے والد ’’نیشاپور‘‘ لے آئے۔ وہاں سے ’’اسفرائن‘‘ آئے اور ابو اسحق اسفرائنی سے فقہ و کلام پڑھا۔ حدیث عمر و بن نجیدوغیرہ محدثین وقت سے پڑھی۔ امام ابو اسحق اسفرائنی نے اپنی زندگی میں ان کو مسندتدریس پر بٹھا دیا ۔اپنے استاد کی وفات کے بعد بھی تقریباً دس سال تک نیشاپور میں تدریس کرتے رہے، آپ کے حلقہ درس سے امام نا صر مروزی اور ابو القاسم قشیری جیسے علماء پیدا ہوئے۔ آپ اس قدر جامع تھے کہ سترہ فنون میں درس دیا کرتے تھے۔ آپ کی زندگی کا آخری دور سیاسی انتشار کا شکار ہوگیا تھا۔ آپ نیشاپور سے پھر اسفرائن آگئے اور وہیں ۴۵۷؁ھ میں انتقال فرمایا۔ کثیر التصانیف تھے جن میں سے قرآن کریم کے متعلقہ موضوع پر ایک تو کامل تفسیر قرآن عزیز ہے اور ایک کتاب نفی خلق القرآن اور ایک کتاب تاویل المتشابہات ہے۔

عبدالکریم بن عبدالصمد القطان ابو  معشر طبری

طبری کے نام سے شہرت پائی۔ مفسر القرآن امام ثعلبیؒ سے قرآن عزیز کی تفسیر پڑھی اور تفسیر’’نقاش‘‘ اور ’’مسند امام احمد‘‘ اپنے شیخ سے پڑھیں۔ شافعی المسلک تھے اور اپنے زمانہ میں امام الشوافع تھے۔ قرآن کریم کی ایک تفسیر لکھی جس کا نام ’’عیون المسائل فی التفسیر‘‘ ہے ۔مکہ مکرمہ میں ۴۷۴ ؁ھ کو فوت ہوئے ۔

ف)…کتب خانہ تحقیقات اسلامیہ اسلام آباد میں اس کا عکسی نسخہ موجود ہے۔ نمبر ۶۷

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor