تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 675

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 675)

محمد بن عبدالرحمن بن احمدبن علی النسوی

خوارزم کے علاقہ میں پیداہوئے، فقہ میں امام شافعیؒ کے مقلد تھے اور خوارزم کے قاضی القضاۃ تھے چونکہ دنیوی طورپر بھی فارغ البال تھے اس لئے عوام میں’’القاضی الرئیس ‘‘ کے لقب سے مشہور تھے۔ قرآن کریم کی ایک بہترین تفسیر لکھی، ایک سو سال کی عمر میں ۴۷۸؁ھ کو فوت ہوئے۔

 ابو الحسن علی بن فضال مجاشعی

قیروان کے باشندے تھے کچھ زمانہ بعد خراسان چلے آئے اور یہاں نظام الملک کے خواص میں داخل ہوگئے، اپنے زمانہ کے جامع عالم ہونے کی وجہ سے’’ من اوعیۃ العلم‘‘ ’’علم کا لبریزبرتن‘‘ کہلائے جاتے تھے، کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں سے ایک ’’تفسیر القرآن‘ ‘بھی ہے، ربیع الاول ۴۷۹؁ھ کووفات ہوئی۔

 علی بن فضال بن علی

مشہور شاعر’’فرزدق‘‘ کی اولاد سے تھے، فقہ حنبلی میں مقام عظیم کے مالک تھے۔ علوم عربیہ اورتفسیر قرآن عزیز میں بھی بلندمرتبہ تھا۔ قرآن عزیز کی دو تفسیریں لکھیں ایک کا نام ’’برہان العمیدی‘‘ ہے جو بیس جلدوں میں ہے اور بقول نواب صدیق حسن خان مرحوم ۳۵ جلدوں میں ہے اور دوسری کا نام’’الاکسیر فی علم التفسیر‘‘ہے۔۴۷۹؁ھ کووفات پائی۔ آپ کے اشعار میں سے مندرجہ ذیل اشعار مشہور ہیں:

 ترجمہ:بہت سے بھائی جن کو میںنے اپنی زرہ سمجھامگر وہ دشمنوںکے حق میں زرہ بن گئے۔

۲)اور میں نے ان کو نشانہ پر بیٹھنے والے تیر سمجھا،وہ واقعی یوں ہی نکلے مگر میرے دل میں پیوست ہوئے۔

۳)اور انہوں نے کہا کہ ہمارے دل صاف ہیں انہوں نے یہ تو سچ کہا مگر میری محبت سے صاف( خالی) ہیں۔

 عبداللہ بن محمد انصاری الہروی

آپ ہرات کے بلندپایہ حافظ القرآن و الحدیث اور علم طریقت کے امام زمانہ تھے، فقہ حنبلی کے مقلد تھے۔ سلطان محمود غزنویؒ اور الپ ارسلان کازمانہ پایا، حق گو عالم دین ہونے کی وجہ سے اکثر بحث و مناظرہ میںوقت صرف ہوتا تھا، علم سلوک میں آپ کا ایک رسالہ بنام’’ منازل السائرین‘‘ ہے جو ۱۳۲۸؁ھ کو مصر سے پہلی بار شائع ہوا، اس کی کئی شروح لکھی گئی ہیں علم حدیث میں بھی’’ دقیق النظر‘‘محدث تھے آپ کی رائے میں’’سنن ترمذی‘‘ کا مقام بخاری و مسلم سے بلند تھا کہ اس میں ’’رجال‘‘ وغیرہ کئی فنون متعلقہ حدیث و روایت سے بحث کی گئی ہے، آپ نے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ اپنے ناموں کو اسماء الہٰیہ سے مشرف کیا کریں۔ آپ نے قرآن کریم کی ایک تفسیر فارسی زبان میں لکھی جس کا نام’’کشف الاستار وعدۃ الابرار‘‘ ہے آپ نے فرمایا کہ جب میں تفسیر بیان کرتاہوں تو وہ قرآن عزیز کی ایک سو ستائیس تفاسیر کا خلاصہ ہوتاہے۔ آپ کی اس تفسیر کی شرح ابو الفصل رشید الدین المیبندی نے لکھی جو دس ضخیم جلدوں میں ’’ ڈاکٹر آقا علی اصغر حکمت شیرازی‘‘ کی مساعی سے دانش کدہ ایران سے ۱۳۸۰؁ھ کو شائع ہوچکی ہے۔ خواجہ عبداللہ انصاری کی وفات ۴۸۰؁ھ اور بقول علامہ ذہبیؒ ۴۸۱؁ھ کوہرات میں ہوئی۔ ہرات کے حکمران’’شاہ رخ مرزا‘‘ نے پندرہویں صدی عیسوی میں آپ کا عالیشان مقبرہ سنگ یشپ سے تعمیر کروایا۔

 ابو معین الدین ناصر بن خسرو قبادیانی مروزی

ناصر خسرو کی ولادت ۳۹۴؁ھ کوہوئی چونکہ طبیعت میں سیاحت کی طرف میلان تھا اس لئے حجاز، شام، مصر وغیرہ ممالک کاسفرکیااور اپنے سفری مشاہدات کو ایک سفر نامہ میں قلمبند کیا جو’’برلن‘‘ سے شائع ہوچکا ہے، حج بیت اللہ کا شرف بھی حاصل ہوا۔شروع عقائداہل السنۃ و الجماعت کے تھے مگر مصر کے سہ سالہ قیام سے اس کے عقائد میںتذبذب پیدا ہوگیا اور اس کا میلان طبع’’فرقہ باطنیہ‘‘ کی طرف ہو گیا اسی عقیدہ باطنیہ سے متاثر ہو کر ایک تفسیر فارسی زبان میںلکھی  سفرنامہ خسرو مطبوعہ برلن کے مقدمہ میں اس کی تفسیر بلکہ تحریف کی کچھ عبارات دی گئی ہیں جن میںسے ایک عبارت درج ذیل ہے:

اندر اثبات قرآن وتاویل آں…اندر اختلاف رکعات نماز کہ دربیان امت است

خسرو کی وفات بقول چلپیؒ۴۸۱؁ھ کو ہوئی۔ بعض نے اس کا سال وفات۵۳۴؁ھ بھی لکھا ہے۔

 خسرو کے متعلق بعض سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ جب خسرو مصر سے خراسان گیاتو وہاں کے لوگوں میں اس کے عقائد کے متعلق چہ میگوئیاںہونے لگیں تو خسرونے شکوہ کرتے ہوئے اپنے عقائد کا اظہار یوں کیا:

بنالم بتواے قدیم وقدیر

زاہل خراسان صغیر وکبیر!

چہ کردم کہ ازمن رمیدہ شدند

ہمیں خویش وبیگانہ نبرخیر خیر

مقرم بہ فرمان پیغمبر است

نہ انباز گفتم ترانے نظیر

بامت رسانید پیغام تو

محمد رسولت بشیرو نذیر

نیاورد قرآن بہ پیغمبرات

مگرجبریل آں مبارک سفیر

مقرم بمرگ و بحشر و حساب

کتابت زبردارم اندر خمیر

ہوسکتا ہے بعد میں باطنیہ عقائد سے رجوع کرلیا ہو۔ واللہ اعلم

علی بن محمد بن حسین بن عبدالحکیم بن موسیٰ معروف بہ بزدوی

۴۰۰؁ھ میںپیدا ہوئے، علوم اسلامیہ میں اپنے دور کے لاثانی عالم تھے۔ سمر قند کے علماء کا مرجع تھے عوام میںآپ کا لقب’’امام الدنیافی الفروع والاصول‘‘ تھا۔فقہ حنفی کے ’’مفتی اعظم‘‘ تھے آپ نے فقہ میں ’’المبسوط‘‘گیارہ جلدوں میں لکھی ۔ امام محمدؒ کی مرتبہ’’جامع صغیر اور جامع کبیر‘‘ کی شروح لکھیں ،تفسیر قرآن عزیز پر بھی پورا عبورحاصل تھا چنانچہ قرآن عزیز کی ایک مفصل تفسیر لکھی جو ایک سو بیس جلدوں میں ہے ۴۸۲؁ھ کو بخارا میں وفات ہوئی مگر آپ کا تابو ت سمرقند لا کر دفن کردیا گیا۔

 حسن بن علی

کاشغر کے تھے، علوم اسلامیہ سے باخبر تھے۔ صاحب قلم بھی تھے ایک سوسے زائد تصانیف کی ہیں۔ قرآن عزیز کی ایک تفسیرلکھی جس کا نام’’المقنع‘‘ ہے، دائودی نے طبقات المفسرین میں لکھا ہے کہ کا شغری پر وضاع حدیث کا الزام تھا۔ کاشغری کی وفات ۴۸۴؁ھ کو ہوئی۔

٭…٭…٭