Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 676

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 676)

علی بن الحسن بن علی

نیشاپور کے حنفی علماء میں سے تھے ،فقہ، حدیث اور تفسیر کے علاوہ علم کلام اور علم عقائدمیں سند مانے جاتے تھے۔ اس زمانہ میں اعتزال کا فتنہ زوروں پر تھا آپ نے معتزلہ کے ساتھ کامیاب مناظرے کئے، تبلیغی خدمات بھی بہترطورپر انجام دیں ۔قرآن عزیز کی ایک تفسیر بھی لکھی جو مناظرانہ طرز پرہے۔ ۴۸۴؁ھ میں انتقال ہوا۔

ف)…تفسیر کا نام’’تفسیر نیشاپوری‘‘ ہے اور مطبوعہ ہے۔

عبداللہ بن محمدبن الحسین بن باقیا

۱۵ ذی قعدہ ۴۱۰؁ھ کوپیدا ہوئے، حنفی مسلک کے امام وقت مانے گئے۔’’فاضل بزاز‘‘ کا لقب پایا، بڑے ادیب اور صاحب قلم تھے۔ تفسیر قرآن کے موضوع پر ’’متشابہات‘‘ پر ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’الجمان فی متشابہات القرآن‘‘ ہے۔ جس کے متعلق علماء کرام نے فرمایا: لم یسبق علیٰ مثلہ۔ ۴ محرم ۴۸۵؁ھ کوفوت ہوئے۔

 ف)…یہ کتاب حکومت کویت کی وزارت نشر و اشاعت نے ۱۹۶۸؁ء میں شائع کردی ہے۔

عبدالواحد بن محمدبن علی شیر ازی

ابو الفرج انصاری کے نام سے مشہور ہوئے، قاضی ابی لیلیٰ سے علوم اسلامیہ حاصل کئے۔ اپنے زمانہ میں شام کے شیخ مانے گئے دمشق کاسلطان’’تتش‘‘ آپ کابڑا احترام کرتا تھا، قرآن عزیز کی ایک تفسیر تیس جلدوں میں لکھی جس کا نام’’الجواہر‘‘ہے۔ شیخ ابو الفرج کی صاحبزادی اس تفسیرکی حافظہ تھی۔دمشق ہی میں ۲۸ ذی الحج ۴۸۶؁ھ کوفوت ہوئے۔

محمد بن عبدالحمید بن حسن

سمرقند کے جلیل القدر حنفی عالم تھے۔ فقہ، اصول فقہ اور تفسیر قرآن عزیز میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ قرآن عزیز کی ایک عمدہ تفسیر لکھی،۴۸۸؁ ھ کوفوت ہوئے۔

منصور بن محمدبن عبدالجبار بن احمد السمعانی المروزی

۴۲۶؁ھ کو ولادت ہوئی احناف کے بلند پایہ صاحب علم اور صاحب قلم عالم تھے۔ کئی کتابیں تصنیف فرمائیں جن میں سے ایک تفسیر قرآن عزیز بھی ہے جس کے متعلق مولانا عبدالحیٔ لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:صنف تفسیر الحسن اس تفسیر سے کافی زمانہ تک لوگ فائدہ اٹھاتے رہے۔ بروز جمعہ ۴۸۹؁ ھ کوفوت ہوئے۔

 ف)… اس تفسیر کاکتب خانہ تحقیقات اسلامیہ اسلام آباد میں عکسی نسخہ موجود ہے نمبر ۳۳۔

الامام ابوالقاسم عبدالکریم

شافعی المذہب علماء محققین میں سے تھے، قرآن عزیزکی ایک تفسیربہ نام’’لطائف الاشارات‘‘ لکھی، ۴۸۹؁ھ کو وفات پائی ۔

علی بن سہل بن عباس

نیشاپورکے عالم باعمل تھے، علم تفسیر پربھی عبور حاصل تھا قرآن کریم کی ایک تفسیرلکھی جس کا نام ’’زادالحاضر و البادی‘‘ ہے، ذیقعدہ ۴۹۱؁ھ کو وفات پائی۔

سلیمان بن عبداللہ بن محمد المفتی الحلوانی

نہروان کے علماء میں سے تھے، آپ کو علم نحو، ادب اور لغت میں امام وقت تسلیم کیاگیا، چنانچہ عربی لغت میں ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’کتاب القانون فی اللغۃ‘‘ ہے اور وہ دس جلدوں میں ہے۔ قرآن عزیز کی ایک بہترین تفسیر بھی لکھی، ۴۹۴؁ھ کو فوت ہوئے۔

ابو سعد محسن بن کرامۃ الجشمی البیہقی

بیہق کے ان جلیل القدر علماء میں سے تھے جن کو لغت، عربی ادب اور قرأت و احکام کے ساتھ پورا پورا تعلق تھا، کئی تصانیف کے علاوہ قرآن عزیز کی ایک جامع تفسیر مرتب کی جس کا نام’’التہذیب فی التفسیر‘‘ ہے، جس کے بارہ میں خلیفہ چلپیؒ نے فرمایاہے:

’’ذکر القرأۃ اولا ثم اللغۃ ثم الاعراب ثم المعنی ثم الا حکام‘‘

خلیفہ نے لکھا ہے کہ انہوں نے اس تفسیر کا قلمی نسخہ جو کہ ۶۵۲؁ھ کا لکھاہواہے خود دیکھا ہے اور یہ تفسیر کئی جلدوں میں ہے،نیز اس تفسیر کا ایک کامل قلمی نسخہ مخطوطہ ۱۱۰۰؁ھ ۹ جلدوں میں اور ینٹل لائبریری بانکی پور( بھارت) میں ہے۔( مفتاح الکنوز الخفیہ ج ۲ ص ۴۹۹)

ڈاکٹر عدنان زرزور نے لکھا ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیم کے آخری سفر میں قاہرہ میں جن کتب سے استفادہ کیا ہے وہ قاہرہ کے کتب خانہ کی قیمتی کتاب’’الجشمی البیہقی‘‘ کی تفسیر’’ کتاب التہذیب‘‘ ہے، اس عظیم مفسر کی وفات ۴۹۴؁ھ کو ہوئی۔

 ابوطاہر بن سوار احمد بن علی

آپ بغداد کے ان علماء کرام میں سے تھے جن کوقرأت اور تجوید پر عبور حاصل تھا، آپ نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’المستنیر‘‘ ہے جس میں سارے قرآن عزیز کی’’قرأت عشرہ‘‘کوباسند جناب رسول اللہﷺ تک ذکر فرمایا۔ یہ کتاب اگرچہ تفسیر کے متعلق تونہیں مگر اس موضوع پر کامل اور جامع ہونے کی وجہ سے یہاں اس کو ذکر کیاگیا، مصنف کی وفات۴۹۹؁ھ کو ہوئی۔

عبدالوہاب بن محمد بن عبدالوہاب

علاقہ شیراز کے قصبہ فاس میں پیدا ہوئے، علماء زمانہ سے علوم حدیث و قرآن حاصل کیے۔ ادب، لغت اور دیگرعلوم اسلامیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے۔آپ کی تصانیف کی تعداد ستر ہے جن میں سے قرآن عزیز کی ایک جامع تفسیر بھی ہے۔اس تفسیر میں ترجمہ اور تفسیر کی شہادت کے طورپرایک ہزار اشعار پیش کئے، ۲۷ رمضان ۵۰۰ ؁ھ کوشیراز میں فوت ہوئے۔

محمود بن حمزہ بن نصرکرمانی نحوی

اپنے وقت کے علم نحو کے جلیل القدر فاضل تھے، اسباب منع صرف کے متعلق مندرجہ ذیل مشہوررباعی کرمانی ہی نے کہی ہے:

فمعرفۃ و تانیث ونعت

و نون قبلھا الف وجمع

وعجمۃ ثم ترکیب وعدل

ووزن الفعل فالا سباب تسع

آپ نے قرآن عزیز کی دو تفسیریں لکھی ہیں ایک کا نام ’’لباب التفسیر‘‘ ہے اور دوسری کا’’لباب التاویل و عجائب التاویل‘‘ ہے وفات کا سال معلوم نہ ہو سکا البتہ یہ صحیح ہے کہ پانچویں صدی ہجری میں رحلت فرمائی۔

ف)…علم نحو میں جلیل القدر عالم ہونے کے باوجود تفسیر سے پورے واقف نہ تھے اس لئے اس تفسیر میں ایسے اقوال درج کئے جو ناپسند یدہ اور منکرات میں سے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor