Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 677

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 677)

چھٹی صدی ہجری کے مفسرین  قرآن عزیز

ابو القاسم حسین بن محمد بن الفضل المعروف بالراغب الاصفہانیؒ

آپ اصفہان کے ان مقتدر علماء کرام میں سے گذرے ہیں جن کو فہم قرآن عزیز سے حصہ و افر عطا ء ہوا تھا، آپ کی مُرتّبہ کتاب’’مفردات القرآن‘‘سند کی حیثیت رکھتی ہے، امام رازیؒ نے امام راغبؒ کو فہم قرآن اور اسلامیات کی روح سمجھنے میں’’امام غزالیؒ‘‘ کا ہم پلہ قرار دیا۔’’مفردات القرآن‘‘ کے علاوہ امام راغبؒ نے تفسیر قرآن عزیز کے سلسلے میں مندرجہ ذیل کتابیں لکھی ہیں:

۱)’’تفسیر الراغب‘‘ اس کے متعلق خلیفہ چلپیؒ نے لکھا ہے:’’یہ ایک جلد میں ہے مگر اس تفسیر کے مقدمہ میں مفید معلومات درج ہیں۔ طرز تفسیر یہ ہے کہ چند آیات متعلقہ اور مربوط کواکٹھا کر کے ان کی تفسیر کی جاتی ہے اس تفسیر کے مستند ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ امام بیضاویؒ نے اپنی تفسیر میں اس سے استفادہ کیا ہے۔‘‘

اس تفسیر کا پورانام’’غرۃ التنزیل‘‘ ہے جس کا ایک کامل نسخہ استنبول کی مسجد ’’ایاصوفیہ‘‘کے کتب خانہ میں موجود ہے، اس کے علاوہ(۲)’’تحقیق البیان فی تاویل القرآن‘‘(۳) درۃ التاویل فی متشابہ التنزیل‘‘ بھی آپؒ کی تصانیف میں سے ہیں۔ امام راغبؒ کی وفات ۵۰۲؁ھ کو ہوئی۔

ابو زکریایحییٰ بن علی بن محمدبن الحسین المعروف بالخطیب تبریزیؒ

۴۲۱؁ھ کو پیدا ہوئے، ابو المعریٰ اور دوسرے علماء وقت سے ادب، فقہ، حدیث وتفسیر حاصل کئے۔ طلب علم کے لئے بغداد وغیرہ کا سفربھی کیا، علم ادب اور نحو میں کئی کتابیں لکھیں، تفسیری موضوع پر’’اعراب القرآن‘‘ کی تشریح میں ایک کتاب بنام ’’الملخص‘‘لکھی جو چودہ جلدوں میں ہے، ابن خلکانؒ نے وہ کتاب مطالعہ کی ہے۔ قرآن عزیز کی ایک جامع تفسیر بھی لکھی ہے، خطیبؒ کی وفات ۵۰۲؁ھ کو ہوئی۔

شمس الاسلام عمادالدین ابو الحسن علی  بن محمد طبریؒ

آپ’’کیا ہراس‘‘ کے نام سے مشہور ہیں،’’کیا‘‘ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے بڑا، بغداد میں ۴۵۰؁ھ کو پیداہوئے ،امام الحرمین سے استفادئہ علوم کرکے یگانہ روزگار ہوئے،اپنے دور میں فقہ شافعی کے عظیم مفتی تھے، کئی مفید کتابیں تالیف فرمائیں جن میں سے ’’احکام القرآن‘‘ مشہور ہے ،بغداد میں ۵۰۴؁ھ کوفوت ہوئے۔

 محمد بن محمدبن احمد ابو حامد غزالیؒ

آپ طوس میں ۴۵۰؁ھ کو پیداہوئے، آپ کے والد ماجد پشمینہ کا کاروبار کرتے تھے اسی نسبت سے غزالی کہلائے، شروع میں اپنے والد ماجد سے مبادی علوم کی کتابیں پڑھیں اور پھر ’’نیشاپور‘‘ آکر‘‘ امام الحرمین‘‘ کی خدمت میں اس قدر منہمک ہوگئے کہ’’امام الحرمین‘‘ کی وفات کے بعد بھی نظام الملک کی وساطت سے ’’مدرسہ نظامیہ‘‘ کے مدرس مقرر ہوئے ،شروع شروع میں مزاج مناظرانہ تھا مگر وعظ وارشاد میں سوز وگداز تھا،سامعین متاثرہوجاتے تھے،ایک دن حسب معمول وعظ فرمارہے تھے کہ آپ کے بڑے بھائی نے آپ کو مخاطب کرکے یہ شعر پڑھے:

واصبحت تھدی ولا تھتدیٰ

وتسمع و عظا ولاتسمع

فیا حجرا لشجر حتی متیٰ

تسمن الحدید ولا  تقطع

اس کلام نے آپ پر اثرکیا، اپنے شہرطوس تشریف لے آئے اور خانقاہ بنا کر تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہوگئے، تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا، آپ کی تصانیف بہت زیادہ ہیںجن میں سے ’’المستصفیٰ، احیاء العلوم، کیمیائے سعادت‘‘ وغیرہ مشہور ومتداول ہیں، آپ نے تفسیر قرآن عزیز کے سلسلے میں دو کتابیں مرتب فرمائیں ایک کا نام ’’جواہرالقرآن‘‘ہے یہ مختصر ہے اور یہ کتاب پہلی بار مصر سے ۱۳۳۹؁ھ کوشائع ہو چکی ہے، اس کی شرح’’شیخ سعد اللہ لاہوری‘‘ نے لکھی ہے اور دوسری تفسیر چالیس جلدوں میں ہے جس کا نام ’’یاقوت التاویل فی تفسیر التنزیل‘‘ہے،انڈیا آفس( لندن) کی لائبریری میں اس تفسیر کا کچھ حصہ موجود ہے جس پر ’’یاقوت التاویل‘‘لکھا ہوا ہے، امام غزالیؒ کی مُرتّبہ تفسیر سورۃ یوسف کا مخطوطہ محررہ۱۱۶۱؁ھ پنجاب یونیورسٹی( لاہور) کی لائبریری میں محفوظ ہے۔امام غزالیؒ نے ۱۴جمادی الثانی ۵۰۵؁ھ کووفات پائی اور’’مقبرہ طاہران طوس‘‘ میںدفن کر دئیے گئے۔

ف(۱)…دہلی کی مطبوعہ ایک فہرست میں اس تفسیر کو’’امام محمد غزالیؒ کے بھائی’’امام حامد غزالی‘‘ کی  مُرتّبہ تفسیر بتایاگیا ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ ۵۰۵؁ھ امام غزالیؒ کا سال وفات ہے نہ کہ حامد غزالی کا۔

ف(۲)…آپ کی ایک تفسیر صوفیانہ طرز پر’’مشکوٰۃ الانوار‘‘ کے نام سے ۱۹۶۴؁ھ کو قاہرہ سے طبع ہوچکی ہے۔

 ابو غالب شجاع بن فارس الذہلی  السہر وردیؒ

بغداد کے رہنے والے تھے اپنے زمانہ کے جلیل القدرعلماء ابن غیلان اورعبدالعزیز ارجی سے علوم حاصل کئے، کئی کتابیں تصنیف فرمائیں قرآن عزیز کی ایک تفسیر بھی  مُرتّب فرمائی ۵۰۷؁ھ کو فوت ہوئے۔

ابوشجاع شیرویہ بن شہرداربن شیرویہ بن فنا خسرو ہمدانی دیلمیؒ

ہمدان کے تھے علم تاریخ و حدیث کے حافظ تھے، مؤرخین نے آپ کو ’’سید حفاظ زمانہ‘‘ کا خطاب دیا ہے، آپ نے حدیث میں ایک مسند جمع کی ہے جس میں دس ہزار احادیث ہیں اور اسی کی نسبت سے آپ مشہور بھی ہوئے، نیز آپ نے قرآن کریم کی ایک تفسیر بھی مُرتّب فرمائی جس کا ذکر علامہ سید سلیمان ندویؒ نے فرمایاہے،۵۰۹؁ھ کو وفات پائی۔

استاذ ابو نصر بن استاذ ابی القاسم عبدالرحیم بن عبد الکریمؒ قشیری

قبیلہ قشیرکی طرف نسبت کی وجہ سے قشیری مشہورہوئے آپ کا سارا خاندان تفسیرقرآن عزیز کا دلدادہ تھا، استاذ ابو نصر کا تویہ حال تھا کہ عمر کے آخری حصہ میں آپ کی زبان سے سوائے کلمات قرآنیہ کے کوئی اور کلمہ نہ نکل سکتا تھا، قرآن عزیز کی ایک تفسیر لکھی ہے جس کے متعلق امام سبکیؒ نے لکھا ہے کہ انہوں نے وہ تفسیر دیکھی ہے۔آپ کی وفات ۲۸/ جمادی الثانی ۵۱۴؁ھ کو نیشاپور میں ہوئی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor