Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 678

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 678)

الشیخ الامام محی السنۃ ابو محمد حسین بن مسعود الفراء بغویؒ

آپ ان علماء کرام میں سے تھے جن کو حدیث اور کتاب اللہ پر کامل عبور حاصل تھا، بہت بڑے زاہد اور شب بیدار تھے، عمر بھرصرف خشک روٹی پر گذارہ کیاکبھی کبھی احباب کے اصرار پر’’زیتون‘‘ کے ساتھ کھانا تناول فرمالیتے تھے، مشکوٰۃ شریف کا جوہر’’مصابیح‘‘ ان ہی کا جمع فرمودہ ہے جس کو خداوند قدوس نے بے مثال مقبولیت سے نوازا ہے۔قرآن عزیز کی ایک تفسیر’’معالم التنزیل‘‘ کے نام سے لکھی جو’’تفسیر بغوی‘‘ کے نام سے مشہور ہے، اس تفسیر میں’’تفسیر القرآن بالقرآن‘‘ کرنے کی محمود سعی کی گئی ہے۔امام بغویؒ نے اپنی تفاسیری اسناد کوباقاعدہ ذکر فرمایا جیسا کہ ’’تذکرۃ المفسرین‘‘ کے مقدمہ میں آپ پڑھ چکے ہیں۔’’معالم التنزیل‘‘ دستیاب ہے اس کا خلاصہ تاج الدین ابو نصر(م۸۷۵؁ھ) نے کیا ہے۔ ’’دارالعلوم دیوبند‘‘کے ایک ادارہ نے اس کااردو ترجمہ بھی کیا ہے۔ فراءؒ کی وفات’’مردوروذ‘‘ میںشوال ۵۱۶؁ھ کو ہوئی، امام ابن تیمیہؒ نے کہا:

’’تفسیر البغوی اسلم من البدعۃ والاحادیث الضعیفۃ‘‘

محمود بن عمر بن محمد بن عمر ابو القاسم زمخشریؒ

آپ بروز بدھ ۲۷ رجب ۴۶۷؁ھ کو خوارزم‘‘کے قصبہ ’’زمخشر‘‘ میں پیداہوئے،اسی نسبت سے زمخشری کہلائے ، طلب علم کے لئے خوارزم کے علاوہ مصر اور خراسان کے علماء کرام سے استفادہ کیا،پھر بیت اللہ کے تقرب کی نیت سے مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگئے اسی لئے آپ کو ’’جار اللہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔بہت عظیم مبلغ،مصنف اور مدرس تھے،چند تصانیف آپ کی مندرجہ ذیل ہیں:

’’الفائق فی لغۃ الحدیث،اساس البلاغۃ،الرائض فی علم الفرائض، المفصل فی النحو، القسطاس فی العروض‘‘ قرآن عزیز کی ایک تفسیر لکھی جو ’’تفسیر کشاف‘‘کے نام سے مشہور و معروف ہے، یہ تفسیر دوران قیام حرم کعبہ ہی میں لکھی ،جیسا کہ کتاب کے آخر میں تحریر ہے:

’’فرغت منھا یداالمصنف تجاہ الکعبۃ فی جناح دارہ السلیمانیۃ التی علی باب الاجیادو الموسومۃ بمدرسۃ العلامۃ ضحوۃیوم الاثنین۲۳ ربیع الثانی ۵۲۸؁ھ‘‘

’’زمخشریؒ‘‘عملاً وفقہاً تو حنفی تھے لیکن عقیدۃً مائل الاعتزال تھے، اسی لئے ابن’’جریر‘‘ کی طرح اپنا ایک علیحدہ حلقہ فکر بنالیا تھا چنانچہ تفسیر کشاف کے متعلق علماء کرام کے تبصروں کا خلاصہ درج ذیل ہے:

’’ابن خلدون، ابن القیم،امام سبکی اور امام سیوطیؒ نے اس تفسیر کواسلامی عقائد کے خلاف قرار دیا۔’’شرف الدین طیبی حنفی‘‘ نے کشاف پرتنقیدلکھی جوچھ ضخیم جلدوں میں ہے۔ ’’احمد بن المنیر مالکی‘‘نے ’’الا نتصاف‘‘ میں ان عقائد کاتنقیدی تجزیہ کیا ہے۔’’ابو حیان اندلسی‘‘نے اپنی مُرتّبہ تفسیر’’البحرالمحیط‘‘ میں اس پرسخت تنقیدی تجزیہ کیا ہے ۔ ’’امام جلال الدین سیوطی اورعلامہ سبکی‘‘نے اس کے مطالعہ سے منع فرمایاہے ،مگر’’علامہ اکمل الدین‘‘ نے کشاف کی شرح میں لکھا ہے کہ

 ’’زمخشری‘‘ نے ان ناپسندیدہ عقائدسے توبہ کرلی تھی اور ایک کتاب بہ نام’’نصائح الصغارو نصائح الکبار‘‘ لکھی تھی‘‘

ان عقائدانہ بے اعتدالیوں کے باوجود علمی اور فنی اعتبار سے کشاف کو بہت مقبولیت حاصل رہی اور ابھی تک ہے،خود ’’ابو حیان اندلسی‘‘ نے’’البحر المحیط‘‘ میں اس کے حوالے نقل کئے ہیں۔ کوفہ کے مشہور حنفی عالم’’صالح بن عبداللہ‘‘( م ۷۲۷؁ھ) تفسیرکشاف کے حافظ تھے،آپ نے کوفہ میں آٹھ بار تفسیر کشاف کا درس زبانی دیا۔’’امام عبدالوہاب شعرانیؒ‘‘نے بھی تفسیر کشاف اور اس کے حواشی کامطالعہ کیا ہے…کشمیر کے سلطان زین العابدین نے ایک کاتب مکہ مکرمہ بھیجا جووہاں سے کشاف کا قلمی نسخہ دوسال میں مکمل کر کے لایا۔عراق اورشیراز کے سلطان ’’ شاہ شجاع بن محمد بن مظفر ملک‘‘ نے اپنے ہاتھ سے تفسیر کشاف کا ایک مکمل نسخہ لکھا ۔تفسیرکشاف کے حواشی اور شروح اس قدر زیادہ ہیں کہ سوائے تفسیر بیضاوی کے اور کسی تفسیر کے نہیں۔’’ابو المحامد فصیح الدین محمد بن عمر مابر نازی‘‘ نے ’’فرائد التفسیر‘‘ کے نام سے اس کا اختصار کیا ہے۔ زمخشری زندگی کے آخری ایام میں وطن آتے ہوئے عرفہ کی رات ۵۲۸؁ھ کو خوارزم کے قصبہ ’’جرجانیہ‘‘ میں فوت ہوئے۔

ف)…تفسیر کشاف کاوہ قلمی نسخہ جو’’سلطان شاہ رخ‘‘ کے کتب خانہ کے لئے لکھاگیا تھا کتب خانہ خدا بخش مرحوم پٹنہ میں موجودہے اور ایک مخطوطہ۸۶۶؁ھ کا جو کہ اس نسخہ سے منقول ہے جو زمخشری نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا اسلامیہ کالج پشاور کی لائبریری میں موجود ہے، اس نسخہ پر عبدالرحیم خان خاناں کی ذاتی مہر اور اورنگزیب عالمگیرؒ کے کتب خانہ کی مہر ثبت ہے، اسی طرح تفسیر کے قدیم قلمی نسخے کتب خانہ مولوی صاحب قدس سرہ العزیز’’مکھڈ ضلع اٹک‘‘( کیملپور) میں موجود ہیں۔

ابو الحسن علی بن عبداللہ بن محمد  الاندلسی الجذامیؒ

آپ نے ابن عبدالبر،ابو العباس عذری سے اکتساب علم کیا، اندلس کے مشہور علماء حدیث وتفسیر میں سے ہیں، علم اصول فقہ پر ایک بہترین کتاب لکھی ہے اور قرآن کریم کی ایک تفسیر بھی لکھی،۵۳۲؁ھ کو فوت ہوئے۔

محمد بن عبدالملک الکرجیؒ

قصبہ کرج میں ۴۵۸؁ھ کوپیدا ہوئے، اپنے علاقہ کے علماء وقت سے استفادہ کے بعد ہمدان،اصفہان اور بغداد کا سفر کیا۔ علم حدیث ،فقہ، ادب اورتفسیر میں کمال حاصل تھا،شافعی المسلک ہونے کے باوجود نماز فجر میں قنوت نہ پڑھتے تھے، قرآن کریم کی ایک تفسیر لکھی ہے، ۵۳۲؁ھ کوفوت ہوئے۔

علی بن مسلم بن الفتح

شام کے ان نوجوانوں میں سے ہیں جنہوں نے امام غزالیؒ سے اکتساب فیض کیا ہے، چنانچہ امام غزالیؒ نے ان کے متعلق فرمایا:

خلفت بالشام شاباان عاش کان لہ شان

علم فقہ اور تفسیر میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ قرآن کریم کی ایک تفسیر بھی لکھی ہے، نماز فجر میںبحالت سجدہ ۵۳۳؁ھ کوفوت ہوئے۔

حافظ کبیر شیخ الاسلام اسمٰعیل بن محمد  القرشی الطلحیؒ

اصفہان میں ۴۵۷؁ھ کوپیدا ہوئے، طلب علم کے لئے بغداداور نیشاپورکا سفر کیا، اپنے دور کے عالم اہل سنت ہونے کی وجہ سے’’قوام السنۃ‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ابن السمعانی وغیرہ علماء آپ کے شاگردوں میں سے ہیں، درس تفسیر و حدیث کے لئے تین ہزار مجالس منعقد کیں، قرآن کریم کی تین تفسیریں لکھی ہیں:

۱)الجامع فی التفسیر:جس کے متعلق خلیفہ چلپیؒ نے لکھا ہے کہ تیس جلدوں میں ہے۔

۲)المعتمد فی التفسیر:یہ دس جلدوں میں ہے۔

۳)الموضع فی التفسیر:یہ فارسی زبان میں ہے اور تین جلدوں میں ہے۔

قوام السنۃنے عیدالاضحی کے دن ۵۳۵؁ھ کو وفات پائی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor