Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآنی افادات (مولاناسید ابوالحسن علی ندوی) 530

قرآنی افادات

کامیابی کا مادی نقطۂ نظر

از قلم: مولاناسید ابوالحسن علی ندوی (شمارہ 530)

قانونِ مکافات

’’قرآن مجید میںعمل اور جزائے عمل کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قانون مکافات پورا پورا موجود ہے۔ اس نے صاف صاف کہہ دیا ہے:

مسلمانو! نہ تم پر کچھ منحصر ہے اور نہ اہل کتاب پر(جن کو بڑے بڑے دعوے ہیں)

ہمارا قانون الہٰی یہ ہے:

’’من یعمل سوء یجزبہ‘‘ جو کوئی برائی کرے گا اس کو بدلہ ملے گا، کمزوری کا، کوتاہی کا، غفلت کا، غداری کا اور بے وفائی کا، اختلاف کا، بے عملی کا، دولت پرستی کا، اقتدار پر ستی کا، سب کا خدا کے یہاں ایک نتیجہ، ایک جزا ہے، جس میں کوئی رعایت اور استثناء نہیں…

یہ مضمون قرآ ن مجید میں:

کہیں صراحتاً اور کہیں کنایۃً بیان کیا گیا ہے، اس میں قوموں کے، سلطنتوں کے، بڑے بڑے جباروں کے تذکرے بھی ہیں اور کمزوروں کا ذکر بھی ہے۔‘‘

بقائے انفع کا بے لاگ قانون

فاما الزبد فیذ ھب جفاء واماما ینفع الناس فیمکث فی الارض،کذلک یضرب اللّٰہ الا مثال

’’جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لئے نافع ہے وہ ٹھہر جاتی ہے، اس طرح اللہ مثالوں سے( اپنی بات) سمجھاتا ہے۔‘‘(سورہ ٔرعد)

اللہ تعالیٰ کا جو نظام اس کائنات میں جاری و ساری ہے جو ہمیں قرآن مجید کے معالعہ سے اور تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے وہ بقائے انفع کا قانون ہے۔ یوں تو اس وقت دنیا نے جس قانون کو تسلیم کیا وہ بقائے اصلح کا قانون ہے۔ (Surnival of the fillest) ہے لیکن حقیقت میں قرآن مجید سے جو سمجھ میں آتا ہے وہ ہے ’’بقائے انفع‘‘ کا قانون …صاف صاف قرآن مجید میں ہے، سورۂ رعد کی آیت ہے:

’’فاما الزبدفیذھب جفاء واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض کذلک یضرب اللّٰہ الامثال‘‘

جو جھا گ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لئے نافع ہے وہ ٹھہر جاتی ہے اس طرح اللہ مثالوںسے ( اپنی بات) سمجھاتا ہے۔

 جس چیز میں کوئی نافعیت نہیں، جس چیز میں کوئی پیام نہیں ہے، جو چیز کوئی اہم خدمت انجام نہیں دے رہی ہے، جس پر انسان کی بقاء اور نشو اور انسان کی راحت اور ترقی کا کوئی انحصار نہیں ہے، اس کو قرآن مجید نے’’زبد‘‘ کے لفظ سے ادا کیا ہے، جو بہت ہی جامع اور نہایت وسیع اور عمیق لفظ ہے اور معانی سے لبریز ہے’’زبد‘‘پھین کو کہتے ہیں، یعنی دریا کا جھاگ جو اپنے اندر کوئی ہستی نہیں رکھتا، جس کے اندر ثبات و استقامت کی کوئی صلاحیت نہیں، وہ دریا کے جو ش کی ایک نمود ہے، دریا کے جو ش کا ایک خارجی ظہور ہے، اس کے اندر استقرار نہیں، کوئی صلاحیت نہیں، بس ایک پھولی ہوئی سی چیز ہے، جس کے اندر ہوا بھر گئی ہے، یاکہئے کہ نیچے کا جو میل کچیل تھا وہ اوپر آگیا ہے، اس کے اندر انسانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ وہ اوپر بہہ جائے گا یاکنارہ جا کر کسی چیز سے اٹک جائے گا اور باقی نہیں رہے گا، اس لئے کہ اس میں باقی رہنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

 اللہ تبارک و تعالیٰ کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا کہ’’زبد‘‘ زیادہ دنوں تک باقی رہے، اس لئے کہ یہ عالم اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ اس میں’’زبد‘‘ کی سمائی ہو، اگر دریائوں کا جھاگ اور پانی کا پھین اس طرح باقی رہنے لگے تو جن کو باقی رہنا چاہئے ان کے لئے مشکل ہوجائے۔

 ’’وامّاما ینفع الناس‘‘ لیکن جو چیزلوگوں کو نفع پہنچانے والی ہے، فیمکث فی الارض‘‘ وہ ٹھہر جاتی ہے۔

بہت سے قومیں دنیا میں ہیں جو بالکل ختم ہوگئیں، لیکن بہت سی قومیں ایسی ہیں جو بار بار شکست کھانے کے بعد بھی باقی ہیں۔ مسلمانوں نے تاتاریوں سے شکست کھائی تھی، لیکن چونکہ ان کے اندر’’وماینفع الناس‘‘ کامادہ تھا وہ ایک پیام رکھتے تھے، وہ ایک زندہ دعوت رکھتے تھے، اس لئے تاتاریوں کو ان کے سامنے جھکنا پڑا، وہ تاتاریوں کے سامنے جھکے لیکن تاتاریوں کی تلواروں کو ،دلوں کو اور دماغوں کو ان کی نافعیت کے سامنے اور ان کے پیام کے سامنے جھکنا پڑا، اس لئے کہ زمانہ جس زبان کو سمجھتا ہے وہ’’نفع‘‘ کی زبان ہے، وہ زندگی کے استحقاق کی زبان ہے۔

 یہ ہے خدا کا بنایا ہو اوہ ابدی قانون جس کو قرآن مجید کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ:

’’فاما الزبد فیذھب جفاء واماما ینفع الناس فیمکث فی الارض، کذلک یضرب اللّٰہ الامثال‘‘

جو جھاگ ہے وہ اُڑجایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لئے نافع ہے وہ ٹھہر جاتی ہے، اس طرح اللہ مثالوں سے( اپنی بات ) سمجھاتا ہے۔

اگر آپ ’’ وامّاما ینفع الناس فیمکث فی الارض‘‘ کے مصداق ہوں گے،زندگی کا استحقاق ثابت کردیں گے اور اپنے اندر نافعیت پیدا کرلیں گے، یعنی اپنے جو ہر کا ثبوت دیدیں گے اور یہ ثابت کردیں گے کہ زندگی کی کوئی ضرورت ہے جو آپ کے بغیر پوری نہیں ہوتی۔ تو کوئی بے رحم اور بے درد ہاتھ ، کوئی ظالم ہاتھ اور کوئی انقلاب و تغیر آپ کے نقش کو مٹا نہیں سکتا اور سچی بات یہ ہے کہ آپ کے لئے انقلاب نہیں ہے، آپ کے لئے کوئی تغیر نہیں ہے، اس لئے کہ آپ نے اپنی نافعیت ثابت کردی اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے لئے خاص طور پر ضمانت ہے جو دین کے ذریعہ دین کے راستہ میں اپنی نافعیت ثابت کردے۔

جب ہی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا’’ اللّٰھم ان تھلک ھذہ العصابۃ لن تعبد‘‘ اے اللہ! تیری عبادت کا انحصار ان پر ہے، تیری توحید کا انحصار ان پر ہے، آپ بھی ثابت کردیجئے کہ اگر مسلمان نہ رہیں تو زندگی بے معنی ہو کر رہ جائے گی یا زندگی ناقص ہوجائے گی اور کم سے کم اس میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوجائے گا جس کو کوئی اور پُر نہیں کر سکتا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor