Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفقہ 532

الفقہ

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’حلال وحرام‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 532)

اور حدیث شریف میں ہے:

عن محمود بن لبید رضی اللّٰہ عنہ قال:اخبر رسول اللّٰہﷺ عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً، فقام غضبانا، ثم قال: ایلعب بکتاب اللّٰہ وانابین اظھرکم حتی قام رجل وقال : یا رسول اللّٰہ!الا اقتلہ؟(نسائی:کتاب الطلاق،باب الثلاث المجموعۃ وما فیہ من التغلیظ) اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ایک دفعہ میں تین طلاقیں دینا خدا تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ کھیلنا اور آنحضرتﷺ کو سخت ناراض کرنا ہے، اگر تین طلاقیں تین واقع نہ ہوتیں تو آپﷺ اتنے ناراض نہ ہوتے اور اسے استہزاء بالکتاب نہ فرماتے اس لیے کہ ایک طلاق پر آپﷺ نے ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا اور نہ اسے استہزاء بالکتاب قراردیا ہے اور جب آپﷺ کو اطلاع دی گئی کہ اس نے تین طلاق اکٹھی دی ہیں، تو آپﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ اسے تین مت کہو بلکہ آپﷺ نے تین طلاقوں کو تین ہی قرار رکھا ہے اور اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور استہزاء بالکتاب قرار دیا ہے، جمہور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین ، تبع تابعین نیز ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہے، اسی طرح سعودی حکومت نے حرمین شریفین اور ملک کے دوسرے نامورعلماء کرام پر مشتمل ایک تحقیقاتی مجلس قائم کی تھی جن میں شیخ’’عبداللہ بن باز‘‘ عبداللہ بن سلیمان بن منبع‘‘ محمد بن عودہ عثمان الصالح‘‘ اور دیگر علماء عرب بھی شریک تھے اس کمیٹی میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں طے پایا کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں بھی تین ہی ہیں اور حضرت علامہ’’ ابن تیمیہ‘‘ رحمہ اللہ کی رائے( زیر بحث مسئلہ میں) قرآن و حدیث اور اجماع امت کے خلاف ہے، جس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور رہے ڈاکٹر ’’ذاکرنائک‘‘ توفقہ و فتاویٰ ان کامیدان ہی نہیں اور نہ ہی ان کے پاس اس کی مطلوبہ لیاقت ہے، پھر جبکہ وہ قرآن و حدیث اور اجماع امت کی مخالفت کریں تو ان کی بات کیسے معتبر ہوگی۔ (طلاق ثلاثہ) سے متعلق مزید تفصیل کے لیے ’’عمدۃ الاثاث فی الطلقات الثلاث‘‘(مؤلفہ حضرت مولانا سرفراز خانصاحب رحمہ اللہ) کا مطالعہ مفید ہوگا۔

نیز فتاویٰ رحیمیہ:ج۸،خیرالفتاویٰ :ج۵،مطالعہ غیر مقلدیت:جلد دوم اور احسن الفتاویٰ:ج۵ میں بھی مسئلہ ہذا کو مدلل اور مفصل بیان کیا گیا ہے۔

واللّٰہ اعلم بالصواب

جبراً طلاق کی تحریر لکھوا کر پڑھوانے سے کیا طلاق ہو جائے گی؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کی بابت کی کہ مولانا…ایک جگہ تقریر کے لیے گئے تھے، وہاں سے واپسی کے لیے اسٹیشن گئے اور وہاں پر وہ اکیلے تھے کچھ… لوگوں نے منصوبہ بند طریقہ سے ان کو گھیر کر اور منہ پر ہاتھ رکھ کر، ان کو اپنی گاڑی میں ڈال کر، بہت دور اپنے کسی مقام پر لے گئے اور ان کو زدوکوب کیا،پھر ان سے زبردستی تحریر لکھوائی، جس کو وہ لوگ بولتے رہے اور مولانا موصوف نے اس کولکھا، جس میں یہ لکھوایا گیا کہ اگر میں نے اس واقعہ پر قانونی کاروائی کی یااڑیسہ میں یا بنگال میں تقریر کرنے کے لیے آیاتو میری بیوی کو تین طلاق ہوجائے گی،پھران لوگوں نے اس آواز کوریکارڈ کرلیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں اگر موصوف اڑیسہ یا بنگال تقریر کرنے گئے یاوہ قانونی کارروائی کریں، تو کیا ان کی بیوی کو طلاق ہوگی؟

الجواب وباللّٰہ التوفیق:

زبردستی یعنی جبروا کراہ کے ساتھ طلاق کی تحریر لکھنے سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی ہے،قال الشامی وفی البحر:ان المراد الا کراہ علی التلفظ بالطلاق فلواکرہ علی ان یکتب طلاق امرأتہ، فکتب لاتلطلق(الدر مع الرد:۴/۴۴۰) اسی طرح اپنی بیوی کو لکھی ہوئی طلاق کی تحریر پڑھنے سے بھی اس کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی، کیونکہ تحریر پڑھنے میں طلاق کا قصد نہیں ہوتا، صرف تحریر شدہ الفاظ کی حکایت اورنقل ہوتی ہے، طلاق دینے کا ہرگز ارادہ نہیں ہوتا، چنانچہ الاشباہ میں جزئیہ موجود ہے:ولو کتبت’’امرأتی طالق‘‘ اوانت طالق وقالت لہ اقرأ علی فقرأ علیھا لم یقع علیھا لعدم قصدہ باللفظ( الاشباہ والنظائر:۹۱ النوع الاول،مطبوعہ کراچی)

ان عبارات سے صراحت کے ساتھ یہ بات معلوم ہوئی کہ صورتِ مذکورہ میں اگر مولانا موصوف’’اڑیسہ‘‘ یا ’’بنگال ‘‘ تقریر کرنے گئے یا کوئی قانونی کارروائی کی، تو اس سے ان کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔فقط

واللّٰہ اعلم بالصواب

یمین( تعلیق) مؤبدمع الایلاء کی ایک شکل

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کی بابت:

زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر ہم تمہارے جسم سے تعلق رکھیں گے ،تو تم کو تینوں طلاق پڑجائیں گی۔ تعلق سے مراد زید کی جماع ہے۔ اگر تعلق رکھنے سے طلاق مغلظہ واقع ہوجائے گی اور بیوی بغیر حلالہ کے حلال نہ ہوگی، تو دریافت طلب امریہ ہے کہ حلالہ سے بچنے کے لیے اگرفقہاء کرام نے کوئی صور ت ذکر فرمائی ہے، تو مفصل جواب عنایت فرما کر احسان عظیم فرمائیں۔

الجواب وباللّٰہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں جسم سے تعلق رکھنے سے زید کی مراد جماع ہے، تویہ جملہ یمین’’قال فی الفتح:ہو أن یصرح بلفظ الابد أو یطلق فیقول لا أقر بک‘‘(الدر مع الرد:ج۵ص۶۶) مؤبد کے ساتھ ساتھ ایلائ’’الایلائ:ہو الحلف علی ما ترک قربانہا،والمولی ہو الذی لا یمکنہ قربان امرأتہ الا بشی ء مشق یلزمہ‘‘(الدر مع الرد:ج۵ص۵۸) کو بھی متضمن ہوگا، لہٰذا اگر زید نے بیوی سے جماع کرلیا، تو مطابق یمین اس پر تین طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر جماع نہیں کیا ،یہاں تک کہ وقت یمین سے چارماہ گذرگئے توبہ تقاضائے ایلاء اس پر ایک طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی(الدر مع الرد: ج۵ ص۶۵ )اور عورت بعد عدت آزاد ہوجائے گی، زید سے یا جس دوسرے مرد سے نکاح کرنا چاہے کر سکتی ہے،لیکن زید کے حق میں یمین سابق باقی ہے(الدر مع الرد: ج۵ ص۶۵ ) لہٰذا اگر بعد نکاح زید ہمبستری کرتا ہے تو مطابق یمین بیوی پر تین طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر ہمبستری نہیں کرتا ہے تو بہ تقاضائے ایلاء چار ماہ بعد عورت پھر بائنہ ہوجائے گی ھکذالی ان یقع الثلاث(الدر مع الرد: ج۵ ص۶۵ ) صورتِ مسئولہ میں زید کے لیے ایک مرتبہ اس منکوحہ سے جماع کرنے کے بعد دوبارہ جماع کی بدون حلالہ شرعیہ کوئی صورت نہیں ہے۔اگر تین طلاق  پڑنے کی صورت میں زوج آخر کے بعد نکاح کرے گاتو ایلاء کا اثر ختم ہوجائے گا۔(الدر مع الرد: ج۵ ص۶۶ )

  (جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor