Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری) 532

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری)

مترجم: مولانا طلحہ السیف (شمارہ نمبر 532)

حدیث ۳۳۳:دوران جنگ عورتوں کو قتل کرنا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہﷺکی بعض لڑائیوں میں ایک عورت قتل شدہ پائی گئی تو رسول اللہﷺنے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمادیا۔

حدیث ۳۳۴:اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو عذاب نہ دیا جائے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں رسول اللہﷺنے ایک فوجی دستے کے ہمراہ روانہ کیا اور فرمایا: اگر تم فلاں، فلاں آدمی کو پالو تو انہیں آگ میں جلادو۔ جب ہم نے روانگی کا پروگرام بنایا تو پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: میں نے تمہیں فلاں، فلاں آدمی کو جلا دینے کا حکم دیا تھا، اب بات یہ ہے کہ آگ کے ساتھ صرف اللہ ہی عذاب دیتا ہے، لہٰذا اگر تم انہیں پائو تو قتل کردو۔

حدیث ۳۳۵:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہیں خبر ملی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلادیا ہے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں ہرگز نہ جلاتا کیونکہ نبی کریمﷺنے فرمایا: اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو عذاب نہ دو۔ ہاں میں انہیں قتل کردا دیتا جیسا کہ نبی کریمﷺکا ارشاد گرامی ہے: جو شخص اپنا دین بدلے، اسے قتل کردو۔

ارشاد باری تعالیٰ: قید کے بعد انہیں بطور احسان یا فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہیے کا بیان

اس کے متعلق حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث بھی ہے، نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے: نبی کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اس کے پاس جنگی قیدی ہوں (اور وہ انہیں قتل نہ کرے) یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون ریزی کرے یعنی ملک میں غلبہ کرلیا جاتا۔ تم دنیا کا مال چاہتے ہو؟

کیا مسلمان قیدی کسی کافر کو قتل کرسکتا ہے یا انہیں دھوکا دے جنہوں نے اسے قید کیا ہے تاکہ ان سے نجات حاصل کرلے؟

اس کے متعلق حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ہے جسے انہوں نے نبی کریمﷺسے بیان کیا ہے۔

حدیث ۳۳۶:جب کوئی مشرک کسی مسلمان کو جلادے تو کیا اس کو جلادیا جائے؟

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلۂ عکل کے آٹھ آدمیوں کی ایک جماعت نبی کریمﷺکے پاس آئی اور انہیں مدینہ طیبہ کی آب وہوا موافق نہ آئی تو آپﷺسے کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے لیے اونٹنیوں کے دودھ کا بندوبست کردیں۔ آپﷺنے فرمایا: میرے پاس تمہارے لیے اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ تم اونٹوں کے پڑائو میں قیام کرو۔ چنانچہ وہ چلے گئے اور وہاں اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پیا تو تندرست ہوکر پہلے سے بھی زیادہ موٹے ہوگئے۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور سب اونٹ ہانک کرلے گئے اور مسلمان ہونے کے بعد ارتدادکا راستہ اختیار کرلیا۔ نبی کریمﷺکو ایک پکارنے والے کے ذریعے سے ان کی خبر ملی تو آپ ﷺنے تلاش کنندہ ان کے تعاقب میں روانہ فرمائے۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا کہ انہیں پکڑ کر آپﷺ کے حضور پیش کردیا گیا۔ آپﷺنے ان کے ہاتھ اور پائوں کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر لوہے کی سلاخیں گرم کی گئیں اور انہیں ان کی آنکھوں میں پھیرا گیا اور انہیں پتھریلی زمین پر پھینک دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے تو ان کو پانی بھی نہیں پلایا گیا حتیٰ کہ وہ مرگئے۔

(راویٔ حدیث) ابو قلابہ کہتے ہیں کہ انہوں نے قتل کیا، پھر چوری کی، اس کے بعد انہوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺکے خلاف جنگ کی اور اللہ کی زمین میں ڈاکا زنی سے فساد برپا کیا۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor