Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت سموئیل علیہ السلام (قرآن کے سائے میں) 532

قرآن کے سائے میں

حضرت سموئیل علیہ السلام

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 532)

طالوت وجالوت کی جنگ اور بنی اسرائیل کا امتحان

اس تمام ردوکد کے بعد بنی اسرائیل کا انکار کر نے کے لئے کوئی چارۂ کار باقی نہیں رہا اور حضرت سموئیل علیہ السلام کے الہامی فیصلہ پر طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ بنادیا گیا۔

اب طالوت نے بنی اسرائیل کو نفیر عام دیا کہ وہ دشمنوں ( فلسطینیوں) کے مقابلہ کے لئے نکلیں جب بنی اسرائیل طالوت کی سرکردگی میں روانہ ہوئے تو بنی اسرائیل کی آزمائش کا ایک اور مرحلہ پیش آیا وہ یہ کہ طالوت نے یہ سوچا کہ جنگ کا معاملہ بیحد نازک ہے اور اس میں بعض مرتبہ ایک شخص کی بزدلی یا منافقانہ حرکت پورے لشکر کو تباہ کردیا کرتی ہے اس لئے از بس ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے اس گروہ کو جہاد سے پہلے آزمالیا جائے کہ کون شخص حکم، ضبط نفس اور صداقت و اخلاص کا حامل ہے اور کس میں یہ اوصاف نہیں پائے جاتے اور وہ بزدل اور کمزور ہے تاکہ ادائے فرض سے پہلے ہی ایسے عناصر کو کاٹ کر الگ کردیا جائے کیونکہ یہاں صبر و ثبات قدمی اور اطاعت و انقیاد اصل ہے، لہٰذا جو شخص معمولی پیاس میں ضبط و صبر پر قدرت نہیں رکھتا وہ جہاد جیسے نازک معاملہ میں کس طرح ثابت قدم رہ سکتا ہے۔

 چنانچہ جب یہ گروہ ایک ندی کے کنارے پہنچا تو طالوت نے اعلان کیاکہ اللہ تعالیٰ اس نہر کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرناچاہتا ہے وہ یہ کہ کوئی شخص اس سے جی بھر کر پانی نہ پئے لہٰذا جوشخص اس کی خلاف ورزی کرے گا وہ خدا کی جماعت سے نکال دیا جائے گا اور جو تعمیل ارشاد کرے گا وہ جماعت میں شامل رہے گا، البتہ سخت پیاس کی حالت میں گھونٹ بھر پانی پی کر حلق تر کر لینے کی اجازت ہے۔

’’جب طالوت لشکریوں کو لے کر روانہ ہوا تو اس نے کہا بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو نہر کے پانی کے ذریعہ آزمائے گا پس جو شخص اس سے سیراب ہو کر پئے گا وہ میری جماعت میں نہ رہے گا اور جو ایک چلو پانی کے سوا اس سے سیراب ہو کر نہیں پئے گا وہ میری جماعت میں رہے گا تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ سب نے اس نہر سے سیراب ہو کر پی لیا۔‘‘(بقرہ)  مفسرین کہتے ہیں کہ یہ واقعہ نہراُردن پر پیش آیا۔ (البدایہ والنہایہ:ج۲ص۸) بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہﷺ آپس میں بات چیت کیا کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد اصحاب طالوت کے برابر ہے۔(بخاری باب المغازی)

بہرحال نتیجہ یہ نکلا کہ جب لشکر ندی کے پارہوگیا تو جن لوگوں نے خلاف ورزی کر کے پانی پی لیا تھا وہ کہنے لگے کہ ہم میں جالوت جیسے قوی ہیکل اوراس کی جماعت سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے، لیکن جن لوگوں نے ضبط نفس اور اطاعت امیر کا ثبوت دیا تھا انہوں نے بے خوف ہو کر یہ کہا کہ ہم ضرور دشمن کا مقابلہ کریں گے اس لئے کہ خدا کی قدرت سے یہ مظاہرہ اکثر ہوتا رہتا ہے کہ چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں البتہ ایمان باللہ اور اخلاص و ثبات شرط ہے۔

’’پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ وہ لوگ جو(حکم الہٰی پر سچا) ایمان رکھتے تھے ندی کے پار اُترے تو ان لوگوں نے( جنہوں نے طالوت کے حکم کی نافرمانی کی تھی) کہا ہم میں یہ طاقت نہیں کہ آج جالوت سے اور اس کی فوج سے مقابلہ کرسکیں لیکن وہ لوگ جو سمجھتے تھے انہیں ایک دن اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے پکاراُٹھے( تم دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہراساں کیوں ہوئے جاتے ہو؟)کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ہیں جو بڑی جماعتوں پر حکم الہٰی سے غالب آگئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے۔‘‘(البقرہ)

مجاہدین کا لشکر اب آگے بڑھا اور دشمن کی فوج کے مقابل صف آرا ہوا ، دشمن کی فوج کا سردار جالوت نامی دیو ہیکل شخص تھا اور اس کے لشکر کی تعداد بھی زیادہ تھی، مجاہدین نے اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں اخلاص و تضرع کے ساتھ دعا ء کی کہ دشمن کوشکست دے اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور اپنی فتح و نصرت سے شاد کام بنا۔

 تورات اور کتب سیر میں ہے کہ جالوت کی غیر معمولی شجاعت وبہادری نے بنی اسرائیل کو متاثر کررکھا تھا اور اس کی مبارزطلبی کے جواب میں جھجک محسوس کرتے تھے۔

 حضرت دائود علیہ السلام کی شجاعت

بنی اسرائیل کے اس لشکر میں ایک نوجوان بھی تھا جو بظاہر کوئی نمایاں شخصیت نہیں رکھتا تھا اورنہ شجاعت و بہادری میں کوئی خاص شہرت کامالک تھا ،یہ دائود علیہ السلام تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے والد کے سب سے چھوٹے لڑکے تھے اور شرکت جنگ کے ارادہ سے بھی نہیں آئے تھے بلکہ باپ کی جانب سے بھائیوں اور دوسرے اسرائیلیوں کے حالات کی تحقیق کے لئے بھیجے گئے تھے مگر جب انہوں نے جالوت کی شجاعانہ مبارزطلبی اور اسرائیلیوں کی پس وپیش کو دیکھا تو ان سے نہ رہا گیا اور طالوت سے اجازت چاہی کہ جالوت کا جواب دینے کے لئے ان کو موقع دیا جائے۔ طالوت نے کہا تم ابھی ناتجربہ کار لڑکے ہو اس لئے اس سے عہدہ برانہیں ہوسکتے، مگر دائود علیہ السلام کا اصرار بڑھتا ہی رہا اور آخر کا ر طالوت کو اجازت دینی پڑی۔

دائود علیہ السلام آگے بڑھے اور جالوت کو للکارا ، جالوت نے ایک نوجوان کو مقابل پایا تو حقیر سمجھ کر کچھ زیادہ توجہ نہیں دی مگر جب دونوں کے درمیان نبردآزمائی شروع ہوگئی تو اب جالوت کو دائود علیہ السلام کی بے پناہ شجاعت کا اندازہ ہوا۔

دائود علیہ السلام نے لڑتے لڑتے اپنی گوپھن سنبھالی اور تاک کر پے در پے تین پتھر اس کے سرپر مارے اور جالوت کا سرپاش پاش کردیا اور پھر آگے بڑھ کر اس کی گردن کاٹ لی۔ جالوت کے قتل کے بعد جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور بنی اسرائیل کی جنگ مغلوبہ جارحانہ حملہ میں تبدیل ہوگئی اور طاغوتی طاقت کو شکست ہوئی اور بنی اسرائیل کا مگاروکامراں واپس لوٹے ۔ اس واقعہ نے حضرت دائود علیہ السلام کی شجاعت کا دوست و دشمن دونوں کے قلب پر سکہ بٹھا دیا اور وہ بے حد ہر دلعزیز ہوگئے

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor