Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 532

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 532)

مومن جوشرک سے باز رہا وہ جنتی ہے ہر حال میں

علماء نے اس حدیث کی تاویلیں کی ہیں لیکن میں نے حدیث کی صحیح توجیہ بتادی کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی فضیلت یہ ہے، جس دن ایمان حاصل ہوا اس کی برکت سے دوزخ کی آگ حرام ہوگئی، اب اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد ایمان کے منافی کام بھی کرتا ہے تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد، چاہے معاف کردے، چاہے سزا دے اور یہی عقیدہ ہے اہل سنت و الجماعت کا کہ تمام اہل ایمان ایک نہ ایک وقت جنت میں چلے جائیں گے بشرطیکہ ایمان صحیح سلامت چلا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کا ایمان قبر تک صحیح سلامت لے جائے! تو خواہ کیسا ہی گناہگار ہو، کسی نہ کسی وقت میں جنت میں ضرور جائے گا، دوزخ اس پر حرام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ رہنے کے لئے دوزخ حرام ہوگئی، دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اب رہا گناہوں کا مسئلہ کہ اس نے جو گناہ کئے ہیں،اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں،ایک یہ کہ اپنی رحمت سے، اپنے فضل سے بغیر کسی حساب و کتاب کے، بغیر کسی پکڑ دھکڑ کے معاف فرمادیں کہ’’جائو معاف کردیا‘‘ وہ آدمی خواہ کتنا ہی گناہگار ہو، اگر اللہ تعالیٰ اپنے قصوروار کو معاف کردیں تو کسی کو کیا اعتراض ؟ یا کسی کو کوئی اشکال؟ وہ مالک ہے، جسے چاہے معاف کرے، تمہیں کیا اعتراض؟ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو بغیرسزا کے معاف فرمادیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو کسی کا مرتبہ ظاہر کرنے کے لئے یوں کہہ دیں کہ تم سفارش کرو اس کی، ہم معاف کریں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو دوزخ میں ڈال کراس کو تھوڑا ساپاک کردیں۔ بھائی ! بات یہ ہے کہ دھوبی کپڑوں کو ان کا میل اتارنے کے لئے بھٹی میں ڈالتا ہے تو گناہگاروں کا میل اُتارنے کے لئے ان کو بھٹی میں ڈال دیں گے، وہاں سے نکال کر پھر ایک نہر ہے جنت کے سامنے، جس کا نام ہے ’’نہر حیات‘‘ آب حیات وہاں غوطہ دیں گے، جہنم سے اس حالت میں نکلیں گے کہ جل کر کوئلہ ہوگئے ہوں گے، کالے رنگ کے، وہاں جب اس نہر میں غوطہ دے کر نکالیں گے تو چودھویں رات کے چاند سے زیادہ چہر ے چمکتے ہوں گے، باقی اہل ایمان کو دوزخ میں ڈالا جانا، سزادینے کے لئے نہیں بلکہ پاک کرنے کے لئے ہے، اسی لئے بزرگ فرماتے ہیں کہ یہیں پاک ہو کر چلے جائو، وہاں پاک کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ گندے جائو گے تو پھر وہاں پاک کرنے کی ضرورت پیش آئے گی ، تو بہ کا صابن لگا کررگڑ رگڑ کرذرا مانجھواس کو ،ایمان کے دامن کو خوب مانجھو،خوب رگڑو اور مجاہد ے کے پائوڈرسے بھی دھولو اس کو، جیسے دھوبی دیا کرتا ہے تاکہ سارامیل کچیل دور ہوجائے، پاک صاف ہو کر جائو، ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

 تو یہ ہے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ایمان والوں کے بار ے میں، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کی جزاء یہ ہے کہ اس کو جنت میں داخل کیا جائے اور اس پر دوزخ حرام کردی جائے، باقی شرط یہ ہے کہ بعد میں ایمان کے منافی کوئی کام نہ کرے، اگر ایمان کے منافی کوئی کام کرتا ہے تو ایمان کی برکت سے کسی نہ کسی وقت میں نجات ضرور ہوگی، لیکن یہ جو میل کچیل اور گندگیاں اس نے اپنے اردگرد لپیٹ لی ہیں، ان کو یا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ویسے ہی پاک کردیں گے یا کسی کی شفاعت کروادیں گے یااگر چاہیںاوراُن کی حکمت مقتضی ہو تو دوزخ میں غوطہ دے دیں، پاک کرنے کے لئے۔

دوسری بات حق تعالیٰ شانہ کی توحید اور آنحضرتﷺ کی نبوت کا قائل ہونا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام سب کا سب قبول کرلیا دل سے، جان سے ، زبان سے ،پورے دین کو اور دین کی ایک ایک بات کو قبول کرلیا، یہ ہے’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ لیکن اس حدیث میں تین باتیں اور آگئیں، ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اور ایک جنت میں دوزخ کا مسئلہ ، یہ خصوصیت کے اعتبار سے ذکر کیا کہ اگر کسی عیسائی کو مسلمان ہونا ہو تو اس کے لئے صرف کلمہ کہنا کافی نہیں، اس لئے کہ بہت سے عیسائی مانتے ہیں کہ محمدﷺ بھی اللہ کے رسول ہیں، جیسا کہ سکھ مانتے ہیں محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں، منکر نہیں ہیں، اس لئے کہ ان کے باباگرونانک ان کو مانتا تھا لیکن وہ کہتے ہیں کہ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ہمارے لئے ہے اور ’’محمدرسول اللہ‘‘ مسلمانوں کے لئے ہے، گویا یہ ہے تو برحق لیکن ہمارے لئے نہیں ، تو کوئی عیسائی اس وقت تک مسلمان نہیں ہوگا جب تک کہ موجودہ عیسائیت کے عقائد کو چھوڑ کر اسلام کے عقائد عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قبول نہ کرے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدانہیں ، خدا کے بیٹے نہیں بلکہ اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کے رسول ہیں، ہاں کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں،’’کلمۃ اللہ ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اور کائنات کی ہر چیز کو کلمہ’’کُنْ‘‘ سے پیدا فرمایا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے کلمہ ’’کُنْ‘‘ سے پیدا فرمایا چونکہ عام طور سے انسان ماں اور باپ دونوں سے پیدا ہوتے ہیں، تنہا ماں سے پیدا نہیں ہوتے ، اس لئے ان کا لقب ہی کلمۃ اللہ بنادیا تا کہ کوئی شخص غلط ذہن اختیار نہ کرے، ان کا لقب ہی اللہ تعالیٰ نے بنادیا’’کلمۃ اللہ‘‘اللہ کا کلمہ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلمے سے پیدا ہونے والے، اور اسی طرح ان کی روح چونکہ براہِ راست اللہ کی جانب سے آئی بغیر واسطہ باپ کے، اسی واسطے ان کا لقب رکھا’’روح اللہ‘‘اللہ کی جانب سے آئی ہوئی روح اور ان کو’’روح اللہ‘‘ کا لقب دئیے جانے کا ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ان کے بدن پر روح کے احکام طاری ہیں ، آدمی مر جاتا ہے تو روح آسمان پر چلی جاتی ہے، علیین میں چلی جائے یا سجین میں چلی جائے اور وہ کھائے پیئے بغیر زندہ ہیں، حضرت آدم علیہ السلام کی روح بھی وہیں پر ہے اور بغیر کھائے پیئے اب تک زندہ ہے اور جتنے بزرگ بھی پہلے چلے گئے سب زندہ ہیں ، تو جس طرح کہ ارواح آسمانوں پر زندہ ہیں اور کوئی شخص یہ سوال نہیں کرتا کہ کھا کہا ں سے رہی ہیں؟ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر چلے گئے اور زندہ ہیںاور ان کے بار ے میں یہ سوال غلط ہے کہ وہ کھاتے کہاں سے ہیں؟ اس لئے کہ ان پر احکام روح کے طاری ہیں ، اسی لئے شروع سے ان کا لقب ہی’’ روح اللہ‘‘ رکھ دیا گیا تا کہ یہ سوال ہی پیدانہ ہو، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے، ان کے وہاں رہنے اور ان کے زمین کی غذا کھائے پیئے بغیر زندہ رہنے اور زمین میں جو انسان کے تقاضے ہیں، ان کے بغیر زندہ رہنے پر کسی کو اشکال نہ ہو۔


 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor