Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآنی افادات (مولاناسید ابوالحسن علی ندوی) 532

قرآنی افادات

کامیابی کی ضمانت خواہشات نہیں حقائق ہیں

از قلم: مولاناسید ابوالحسن علی ندوی (شمارہ 532)

لیس بامانیکم ولاامانی اھل الکتاب من یعمل سوء یجزبہ

’’نہ تمہاری تمنائوں سے کام چلتا ہے اور نہ اہل کتاب کی تمنائوں سے، جو شخص کوئی براکام کرے گا وہ اس کے عوض سزادیا جائے گا؟(سورۃ النسائ:۱۲۳)

خواہشات اور حقائق میں فرق

دنیا میں دوچیزیں ہمیشہ سے رہی ہیں اور وہی انسانی نفسیات اور فطرت انسانی کا خاصہ ہیں، ایک تو ہیں خواہشات اور ایک ہیں حقائق۔ سنت اللہ بھی یہی ہے اور عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ اس دنیا میں اقوام وملل کی قسمتوں، ان کی تقدیر اور جرأت کے آگے یہ بھی کہتا ہوں کہ مذاہب اور ان کی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا معاملہ واقعات و حقائق کے ساتھ ہے، خواہشات کے ساتھ نہیں ہے۔ قرآن مجید میں آپ کو یہ دونوں چیزیں علیحدہ علیحدہ ملیں گی۔

’’لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتاب من یعمل سوء یجزبہ‘‘ اس آیت میں دونوں چیزوں کی پوری نمائندگی ہے۔ جہاں تک خواہشات کا تعلق ہے اخلاقی و عقلی حیثیت سے یہاں تک کہ دینی ورحانی حیثیت سے کیسی ہی عزیز اور قابل احترام ہوں لیکن فیصلہ خواہشات پر نہیں ہے۔ ’’لیس بامانیکم‘‘ اور یہ بھی قرآن کی حکمت ہے کہ’’ولاا مانی اھل الکتاب‘‘ سے پہلے ’’لیس بامانیکم‘‘ فرمایا تاکہ یہ خیال نہ ہو جہاں تک مذاہب باطلہ کا تعلق ہے ان کی خواہشات پر کیا فیصلہ ہوگا؟ ان کی کیا قیمت ہے؟ تو پہلے کہا اور یہ قرآن مجید کا امتیاز ہے کہ تمہاری اور آپ یہ بھی دیکھ لیجئے کہ مخاطب کون ہے؟ مخاطب بعد کی آنے والی نسلیں تو بعد میںہیں، ثانوی درجہ میں ہیں، مخاطب صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین ہیں، اصحاب بیعت رضوان،اصحاب بدررضوان علیہم اجمعین ہیں اور عشرہ مبشرہ رضوان علیہم اجمعین ہیں۔ان سب کو مخاطب کر کے فرمایا گیا’’لیس بامانیکم‘‘تمہاری خواہشات پر بھی فیصلہ نہیں ہے’’ ولاامانی اھل الکتاب ‘‘ہمارے یہاں اٹل قانون یہ ہے کہ’’من یعمل سوء یجزبہ‘‘ یعنی عمل کا نتیجہ ظاہر ہوگا۔ اس کو عمومی دائرے میں لیں تو’’من یعمل سوء یجز بہ‘‘ کا تعلق صرف عالم آخرت ہی سے نہیں ہے بلکہ اس تکوینی دنیا اور عالم آخرت دونوں سے ہے۔ ہمارے یہاں قانون یہ ہے کہ جو عمل کرے گا اس کی جزا ظاہر ہوگی۔

بقائے انفع

دنیا میں ہمیشہ سے بلکہ آخری دور میں خاص کر یورپ میں ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر یہ اصول تسلیم کیا گیا اور جس کو Survival of Fittest کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔

 ’’بقاء اصلح‘‘ جو زیاد صالح ہوگا وہ باقی رہے گا۔ اس کی بنیادیں مذہبی کتابوں اور مذہبی انسانوں کے بیانات میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ قرآن مجید میں اس سے بھی آگے کا اصول بیان کیا گیا ہے، جو نفسیات قرآنی اور نفسیات دینی سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ جو دوسرا قانون ہے وہ بقائے انفع کا۔ ’’فاماالزبد فیذھب جفاء واماما ینفع الناس فیمکث فی الارض‘‘( الرعد ۱۷) اس میں ایک حکمت ہے جو قابل غور ہے۔ ’’بقائے اصلح‘‘ کا فیصلہ بڑا مشکل ہے۔ ’’اصلح‘‘اصل میں اسم تفضیل کا صیغہ ہے، اشیائے صالحہ میں اصلح کا فیصلہ اشیائے فاسد میں صالح کا فیصلہ نہیں ہے۔ اشیائے صالحہ جن کو زندگی کا حق ہے جو کشمکش حیات میں پوری اُتر سکتی ہیں وہ چیزیں وہ نہیں ہیں بلکہ ان اشیائے صالحہ میں اصلح کون سا ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا، کون سی عدالت کرے گی، لیکن فطرت انسانی شروع سے ایسی ہے کہ نافع کا فیصلہ تو جلد کرلیتی ہے۔

نافع کا فیصلہ

نافع کا فیصلہ ہر دور میں یعنی علم و ترقی کے انتہائی عروج کے زمانے میں بھی اورعلم و ترقی کی پستی اور ابتدائی حالت میں بھی۔ نافع کا فیصلہ فطرت انسانی کی وہ صلاحیت ہے وہ ملکہ ہے جو ہمیشہ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں (چونکہ یہ کتاب کتاب انسانیت ہے پوری نوع انسانی کو یہ صحیفہ دیا گیا ہے یہ ہر دور کا ہے، اور عقلی وعلمی، روحانی و عملی جتنی سطحیں ہو سکتی ہیں ان سب پر حاوی ہیں) اس لئے قرآن مجید نے اس کو بقائے اصلح پر نہیں چھوڑا بلکہ بقائے انفع کا اصول بتایا ہے۔

ہم میں سے ایک بچہ بھی یہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ اس کے لئے زیادہ مفید ہے اس سے اس کو زیادہ آرام ملے گا۔ والدین کے حق میں اس کا یہی تجربہ ہوتا ہے کہ وہ ان کو انفع سمجھتا ہے۔ اپنے عزیز و اقارب کو وہ انفع سمجھتا ہے۔ جو زیادہ پڑھے لکھے تجربہ کا ر اور عقلمند ہوتے ہیں ان کے متعلق بھی بچہ اگر وہ فاتر الا ستعداد نہیں ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی اصطلاح میں وہ بھی یہ اندازہ کرلیتا ہے کہ یہ میرے لئے زیادہ مفید ہے ۔ تو بقائے انفع ایک ایسا اصول ہے جو نوع انسانی اور تاریخ انسانی کے ہر دور اور نوع انسانی کی ہر نسل میں وہ کام دیتا ہے۔ تو قرآن مجید نے یہ کہہ دیا’’فاماالزبد فیذھب جفاء واماما ینفع الناس فیمکث فی الارض‘‘ میں نے یہ تمہید اس لئے بیان کی کہ خواہشات اور حقائق یہ دوچیزیں ہیں اور اس میں قومی، ملی ، حکومتی ،انفرادی اور عوام کی جمہوری سطح پر بڑی غلطی ہے کہ خواہشات کو خواہشات سے بہ نسبت حقائق کے زیادہ وابستگی رہی ہے۔

حقائق کو صحیح طور پر محسوس نہ کرنا اور ان حقائق کا تقاضہ پورا نہ کرنا یہ ایسی غلطی ہے کہ اس میں بڑی بڑی طاقتور حکومتیں رومن ایمپائر اور پر شین ایمپائر اور پھر اخیر میں خلافت اندلس کی مستحکم وسیع اور طویل المیعاد سلطنت اور اسی طریقے سے خلافت عباسیہ اور پھر خوارزم شاہ کی وہ شہنشاہی کہ جو ساری اسلامی سلطنتوں کو اس نے اپنے اندر ضم کرلیا تھا۔ اگر ہم ان کی تاریخ پڑھیں گے اور ان کے زوال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو حقائق سے نظر پوشی نظر آئے گی۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor