Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفقہ 533

الفقہ

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’حلال وحرام‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 533)

بربنائے شقاق فسخِ نکاح اور دارالقضاء ہریانہ کے ایک فیصلے کے چند تسامحات

سوال: بعد سلام گزارش ہے کہ میرا نکاح جو ن ۲۰۰۵ میں’’………‘‘ سے ہوا تھا، لڑکی دوبار میرے یہاں رہ کر گئی ہے، اس کے بعد ماں باپ نے لڑکی کونہیں بھیجا، جس کی وجہ سے یہ مقدمہ دار القضاء میں چلا گیا، وہاں سے جو فیصلہ آیا ہے وہ یہ ہے کہ نکاح فسخ ہوگیا ہے، کیامذہب اسلام میں بغیر طلاق دئیے نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا یہ فیصلہ غلط ہے؟

(۲) لڑکی کے پاس ہمارے تقریباً ایک لاکھ کے زیورات ہیں، نکاح ٹوٹ جانے کے بعد یہ واپس کرنا چاہیے یا نہیں؟کیونکہ دارالقضاء نے خالی نکاح فسخ کردیا، نہ ہی ہمارے زیورات لوٹانے کا حکم دیا اور نہ ہی جو لڑکی کے باپ نے ہم سے پیسے لے رکھے ہیں وہ واپس کرنے کے لیے کہا، کیا یہ فیصلہ صحیح ہے؟

(۳) اس فائل کے مطابق یہ فیصلہ صحیح ہے یا غلط؟ اس میں کوئی کمزوری اگر ہے اور ایسے نکاح نہ ٹوٹتا ہو، تو تفصیل دے کر احقر پر احسان فرمائیں۔شکریہ

الجواب وباللّٰہ التوفیق:

حامداومصلیا ومسلما:(۱) فقہ حنفی کے مطابق شقاق کی وجہ سے زوج کی رضامندی کے بغیر اگرچہ فسخِ نکاح نہیں ہوسکتا، لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کسی بھی طرح نباہ نہ ہونے، نیز شوہر کے طلاق پر عدمِ آمادگی کی صورت میں، شوہر کی اجازت کے بغیر بھی طلاق واقع کی جا سکتی ہے، چنانچہ’’کتاب الفسخ و التفریق‘‘ مولفہ حضرت مولانا عبدالصمدصاحب رحمانی اور’’مجموعۂ قوانین اسلامی ‘‘ مرتبہ مسلم پر سنل لاء بورڈ میں اسی مذہب مالکی کے مطابق حنفی قاضی کو بھی کارروائی کی اجازت دی گئی ہے، لیکن بہرحال حنفی قاضی کو امام مالک رحمہ اللہ کے مسلک کی شرائط وتفصیلات کی پابندی اور انہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے،وہ شرائط و تفصیلات ’’کتاب الفسخ و التفریق‘‘ میں کسی قدر تفصیل سے مذکور ہیں، نیز’’مجموعہ قوانین اسلامی‘‘ میں بھی بعض شرطوں کا اجمالاًذکر ہے۔

جہاں تک منسلکہ (مقدمہ …بنت علی شیر یمنانگر بنام ……یمنانگر،دائر کردہ دارالقضاء ہریانہ (مسلم پرسنل لاء بورڈ)فیصل کردہ بتاریخ ۱۴۳۲/۴/۴ بمطابق ۲۰۱۱/۳/۱۰فیصلے کی بات ہے تو اس کی پوری تفصیل ہمارے سامنے نہیں ہے،مقدمے کی کارروائی اور فیصلے کی جو تفصیلات آپ نے بھیجی ہیں ان میں بہ ظاہر کچھ خامیاں ہیں۔ ا س لیے کہ بعض ضروری امور( مثلاً قاضی کی طرف سے ابتدائً اصلاح حال کی کوشش، جس کا ذکر’’کتاب الفسخ التفریق‘‘ میں ہے، قاضی کا دوحکموں کو مقرر کرنا، پھر حکمین کی طرف سے مصالحت کی سعی اور سعی کی ناکامی کی صورت میں، عورت کی طرف سے مطالبۂ تفریق جس کا ذکر مجموعۂ قوانین اسلامی میں بھی ہے) کا (منسلکہ کا غذات میں) کوئی ذکر نہیں ہے، اس لیے جب تک یقین کے ساتھ معلوم نہ ہوجائے کہ شرائط کی تکمیل ہوئی یا نہیں ہوئی، ہم فیصلے کی صحت و عدم صحت سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے، لہٰذا آپ فیصلہ ہذا کا مرافعہ عالی قدر صد ر مسلم پرسنل لاء بورڈ حضرت مولانا ’’محمد رابع حسنی ندوی‘‘ صاحب، ناظم دارلعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی خدمت میں کریں، اگر وہ مناسب سمجھیں گے تو مرکزی دارالقضاء کو فیصلۂ مذکورہ پر نظر ثانی کی ہدایت فرمادیں گے۔

 ۲،۳) اگر آپ نے وہ زیورات اور پیسے اپنی بیوی کو بہ طورہدیہ یا مہر کے بدلے میں دیئے تھے، تو یہ چیزیں اس لڑکی کی ہوگئیں، نکاح فسخ ہو یا نہ ہو، بہرصورت یہ چیزیں واپس نہیں لی جا سکتیں، ہاں اگر زیورات یا پیسے دیتے وقت کچھ اور کہہ کردیا تھا اور اس پر شرعی گواہ بھی ہوں تو اس کی وضاحت کی جائے، البتہ اگر خلع کے وقت معافی مہریا اس جیسی کوئی مالی شرط لگادی جاتی، تو اس کے مطابق عمل ہوتا۔

 لڑکی کے باپ نے جو پیسے لیے اس کی کیا نوعیت تھی؟کیوں پیسہ لیا تھا؟ سائل نے یہ واضح نہیں کیا، اس لیے یہ جزء قابل تنقیح تھا۔ فقط

واللّٰہ اعلم بالصواب

زوجین میں سے ایک کے مسلمان ہونے کی صورت میں وراثت اور بچوں کی حضانت کا مسئلہ

سوال:ہم لوگ’’ملائشیا‘‘ میں ایک اسلامی تنظیم میں کام کررہے ہیں، ہم لوگوں کا مقصدغیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان دعوت کا کام کرنا اور اسلام کے تئیں لوگوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے۔

حالیہ کچھ دنوں سے کچھ اسلامی قوانین کے پہلوئوں پر ایک بڑا تنازع چل رہا ہے،غیر مسلم تنظیمیں جیسے’’بارکونس‘‘ اور دیگر ہندو اور عیسائی تنظیمیں اس تنازع کو بڑھا وادے رہی ہیں۔

 متنازعہ مسائل یہ ہیں:

(۱)جب کوئی غیر مسلم جو گھر کا ہیڈ ہو(شوہر، باپ) اسلام قبول کرے اور اس کی بیوی، بچے اپنے پرانے مذہب پر برقرار رہیں تو اس کی بیوی اور بچے انسانی حقوق کی بنیاد پر اس کے تمام مالی تعاون پر جائز دعویٰ کر سکتے ہیں اور اس کے ریٹائرڈ ہونے پر اس کی پنشن اور دیگر مالی منافع( بخشش وغیرہ) اس کے اثاثے اور اس کی جائداد پر بھی اس کی بیوی اور بچے دعویٰ کر سکتے ہیں، اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

۲)گھر ہیڈ کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کی بیوی اسلام قبول کرنے سے منع کرتی ہے، اس پر وہ اپنے چھوٹے بچوں کو اپنے ہاں رکھ لیتا ہے اور ان کو مسلمان بناتا ہے، بیوی اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں یہ اپیل کرتے ہوئے مقدمہ دائر کرتی ہے کہ شوہر کو ایسا کرنے کا کوئی حق نہیںہے، چونکہ مجھے بھی اپنے بچوں پر حق حاصل ہے، تمام غیر مسلم تنظیمیں قبولیت اسلام کو چیلنج کرنے کی وجہ سے اس کی حمایت کررہی ہیں۔

کیا باپ کا اپنے بچوں کو مسلمان بنانا جائز ہے؟کیا ماں کو اعتراض کرنے کا کوئی حق ہے؟ ان کے مطابق انسانی حقوق کی بنیاد پر بیوی کو بھی اپنے بچوں کے مذہب کے سلسلے میں فیصلہ کرنے کا یکساں حق حاصل ہے، مذہب اسلام اس سلسلے میں کیا کہتا ہے؟

۳)غیر مسلم گھرانے میں ایک شخص اسلام قبول کرتا ہے، لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر وہ اپنے اسلام کے بارے میں اپنے افرادِ خانہ کو نہیں بتاتا ہے، مثلاً اپنی فیملی اور اپنے احباب کی طرف سے نفرت کے خوف سے یاعدم تحفظ کی وجہ سے، لیکن جب اس کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے افرادِ خانہ اپنے رسم ورواج کے مطابق دفن کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اسلامی تنظیم جس نے اسے مسلمان بنایا، مداخلت کرتے ہوئے نعش پر اپنا دعویٰ پیش کرتی ہے، اس سے ایک بڑا تنازع پیدا ہوجاتا ہے اور معاملہ کورٹ تک جا سکتا ہے، کیا نومسلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تبدیلی مذہب کے بارے میں اپنے افرادِ خانہ کو بتا دے؟

۴)غیر مسلمین اور کچھ مسلمانوں کا یہ اعتراض:’’اسلام کہتا ہے کہ جنگ میں معصوم لوگوں مثلاً:عورت، بچے، بوڑھے اور عام شہریوں کو قتل نہ کیا جائے،

  (جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor