Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت سموئیل علیہ السلام (قرآن کے سائے میں) 533

قرآن کے سائے میں

حضرت سموئیل علیہ السلام

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 533)

اگرچہ قرآن عزیز نے ان تفصیلات کو غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کردیا ہے یا حقیقتاً یہ تفصیلات خود اپنی جگہ پر صحیح نہیں ہیں لیکن اس بات پر قرآن اور تورات دونوں کا اتفاق ہے کہ جالوت کے قاتل حضرت دائود علیہ السلام ہیں اور جالوت کے قتل سے ہی اسرائیلیوں کو فتح اور دشمن کو شکست نصیب ہوئی۔

’’اور جب وہ (مجاہدین) جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل ہوئے تو کہنے لگے اے پروردگار! ہم کو صبر دے اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافر قوم پر ہم کو فتح و نصرت عطا فرما۔بس اللہ کے حکم سے انہوں نے ان ( فلسطینیوں) کو شکست دے دی اور دائود نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے دائود کو حکومت اور حکمت عطا فرمائی اور جو مناسب جانا وہ سب کچھ سکھایا۔‘‘

بعض اسرائیلی روایات میں یہ بھی ہے کہ جالوت کی زبردست طاقت اور بنی اسرائیل کے اس کے مقابل ہونے میں جھجک کو دیکھ کر طالوت نے یہ اعلان کردیا تھا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے گا میں اس سے اپنی بیٹی کی شادی کروں گا اور اس کو حکومت میں بھی حصہ دار بنائوں گا، چنانچہ جب دائود علیہ السلام نے جالوت کو قتل کردیا تو طالوت نے وفاء عہد کے پیش نظر اس کے ساتھ اپنی لڑکی میکال کی شادی کردی اور حکومت میں بھی حصہ دار بنالیا۔( سموئیل کی کتاب۔ البدایہ والنہایہ ج ۲ ص ۸،۹)

ایک اسرائیلی روایت پر محاکمہ

تورات کے صحیفہ سموئیل میں طالوت اور دائود کے متعلق ایک طویل داستان پائی جاتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ طالوت نے دائودکے شجاعانہ کارناموں کی بناء پر حسب وعدہ ان سے اپنی بیٹی کی شادی کردی مگر بنی اسرائیل کی ان کے ساتھ والہانہ عقیدت اور ان کی غیر معمولی شجاعت کو اس نے اچھی نظر سے نہ دیکھا اور اس کے دل میں ان کی جانب سے آتش بغض و حسد بھڑک اُٹھی مگر اس نے اس کو پوشیدہ رکھا اور اندر ہی ایسی ترکیبیں کرتارہا کہ جس سے دائود کا قصہ پاک ہوجائے۔

باپ کے خلاف طالوت کے لڑکے اور لڑکی دائود کے راز دار ا ور ہمدردرہے اور اس لیے ہر موقع پر طالوت کو ناکام ہونا پڑا۔ آخر زچ ہو کر اس نے علی الاعلان دائود کی مخالفت شروع کردی اوردائود یہ دیکھ کر اپنی بیوی اور سالے کو ہمراہ لے کر فرار ہوگئے اور فلسطینیوں کے ایک قصبہ میں طالوت کے دشمن کے یہاں پناہ لی۔اسرائیلیوں کی اس باہمی آویزش سے دشمنوں نے فائدہ اُٹھایا اور انہوں نے فوج کشی کر کے اسرائیلیوں کو سخت ہزیمت دی۔

اب اس جگہ سے سدی کی روایت اور تورات کی روایت میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے، تورات کہتی ہے کہ طالوت اس جنگ میں مارا گیا اور سدی کہتا ہے کہ شکست کا یہ منظر دیکھ کر سائول (طالوت) اپنے کیے پر پچھتایا اور نادم ہوااور وقت کے بزرگوں اور کاہنوں سے دریافت کیا کہ میری توبہ قبول ہونے کی بھی کوئی صورت نکل سکتی ؟ہے سب نے انکار کیا مگر ایک عابدہ عورت ہاں کہہ کر اس کو الیسع نبی کی قبر پر لے گئی اور دعاء کی حضرت الیسع قبر سے اُٹھے اور اس سے کہا کہ تیری توبہ کی صرف یہ ایک صورت ہے کہ تو حکومت دائود کے حوالے کردے اور اپنے خاندان سمیت جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہو کر شہید ہوجا، چنانچہ اس نے یہی کیا اور اس طرح حکومت دائود کے ہاتھوں میں بلاشرکت غیرے آگئی اور سائول( طالوت) نے مع خاندان کے جام شہادت پی لیا۔

یہ پوری داستان سموئیل کے صحیفہ سے ماخوذ ہے مگر سدی کے حوالے سے اصحاب سیر نے بھی اس اسرائیلی داستان کو اسلامی روایات کی طرح بیان کیا ہے حتی کہ حضرت دائود علیہ السلام کی جو منقبت سورئہ بقرہ کی آیت میں مذکور ہے اس داستان کو اس کی تفسیر میں بیان کردیا گیا ہے، معلوم نہیں کہ گزشتہ دور میں اسرائیلیات کی نقل کا اس قدر ذوق کیوں پیدا ہوگیا تھا کہ یہود نے جن داستانوں کو اپنی گمراہی اور غلط روی کی تائید کے لئے گڑھا تھا ان کو بھی اسلامیات میں شامل کرنے سے احتیاط نہیں برتی گئی اور تاریخ و سیرت تو کجا تفسیر قرآن جیسے اہم مقام کو بھی اس خرافات سے محفوظ نہ رہنے دیا گیا چنانچہ یہاں بھی یہی صورت حال پیش آئی ہے۔

 قرآن عزیز کی زبانی آپ سن چکے ہیں کہ جب سموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے مطالبہ پر طالوت (سائول) کو بادشاہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور انحراف کی راہ اختیار کی تھی مگر جب خدائی نشان نے ان کو لا جواب بنا دیا تب مجبور ہو کر طالوت کو اپنا اولوالا مر تسلیم کرلیا۔چنانچہ علمائے یہود اس بات کو محسوس کرتے رہے کہ ہماری مجرمانہ عادات و خصائل کے اعداد وشمار میں یہ ایک مزید اضافہ ہے کہ ہم نے خدا کے مامور انسان طالوت کو نا اہل بنا کر شروع میں اس کو بادشاہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا لہٰذاایسی صورت پیدا کرنی چاہئے کہ جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ طالوت( سائول کے بارہ میں نااہلیت امارت کا جو دعویٰ ہم نے کیا تھا وہ صحیح اور سچ ظاہر ہوجائے اور ہم کو دنیا کے سامنے یہ کہنے کا موقع ملے کہ وہ امور تھے جن کو ہم نے اپنی فطانت و فراست سے پہلے ہی بھانپ لیا تھا اور آخر کار طالوت(سائول) کی نالائقی اور نااہلیت ثابت ہو کر رہی۔جرم ہلکا کرنے اور اپنی مجرمانہ خصلت پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ وہ اقدام ہے جو سموئیل کی کتاب میں طالوت( سائول) اور حضرت دائود علیہ السلام کی باہمی آویز ش سے متعلق داستان میں نظر آرہا ہے، مگر وائے افسوس کہ ہمارے بعض ارباب سیر وراویان تفسیر نے بھی اس حقیقت تک پہنچے بغیر اپنی سادگی سے کتب سیر و تفسیر میں اس کونقل کردیا اور یہ وجہ نہ فرمائی کہ جس ہستی( طالوت ) کو قرآن عزیز مامور من اللہ قرار دے رہا ہے اور جس کی برکت سے تابوت سکینہ بنی اسرائیل کو دوبارہ عطا ہو رہا ہے اور جس کو زادہ بسطۃ فی العلم والجسم کہہ کر اس کے علم و شجاعت کو پر شوکت الفاظ میں سراہ رہا ہے، ہم بغیر کسی دلیل و برہان قویم کے کس طرح ایسے شخص کو قابل نفرت حرکات کا حامل قرر دے کر موردلعن طعن بنا سکتے ہیں۔ قرآن عزیز سے یہ قطعاًبعید ہے کہ جس ہستی کی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ معاصی میں گزررہا ہو اور وہ جرائم کا مرتکب ہو رہا ہو اس کے مناقب و محامد کاتو ذکر کردے اور اس کی زندگی کے دوسرے پہلو کو نمایاں نہ کرے، پس جبکہ قرآن عزیز نے طالوت کی ثناء و منقبت کے علاوہ ایک لفظ بھی مذمت کابیان نہیں کیا بلکہ اس کی جانب اشارہ تک موجود نہیں ہے تو ایک مسلمان کے لئے کس طر ح جائز ہو سکتا ہے کہ وہ تورات کی اس خرافی داستان کو صحیح تسلیم کرے ۔

 

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor