Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری) 537

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری)

مترجم: مولانا طلحہ السیف (شمارہ نمبر 537)

حدیث ۳۵۳:امیر کی نافرمانی نقصانکا باعث ہے

 حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوںنے بیان کیا کہ نبی کریمﷺنے غزوۂ اُحد میں حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو پچاس تیر اندازوں پر امیر مقرر کیا اور (ان سے) فرمایا: اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمیں نوچ رہے ہیں، تب بھی اپنی جگہ سے مت ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں پیغام بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کفار کو شکست دے دی ہے اور انہیں اپنے پائوں تلے روند ڈالا ہے، تب بھی اپنی جگہ پر قائم رہنا حتیٰ کہ میں تمہیں پیغام بھیجوں۔

چنانچہ مسلمانوں نے کفار کو شکست سے دوچار کردیا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! میں نے مشرکین کی عورتوں کو دوڑتے ہوئے دیکھا جن کی پنڈلیاں اور پازیب کھل گئے تھے جو اپنے کپڑے اُٹھائے ہوئے بھاگ رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے کہا: قوم کے لوگو! غنیمت جمع کرو، غنیمت اکٹھی کرو، تمہارے ساتھی غالب آچکے ہیں، اب کس کا انتظار کرتے ہو؟ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم وہ بات بھول گئے ہو جو رسول اللہﷺنے تم سے کہی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ہم تو لوگوں کے پاس ضرور جائیں گے تاکہ ہم مال غنیمت حاصل کرسکیں۔ جب یہ لوگ اپنی جگہ چھوڑ کر چلے آئے تو ان کے منہ کافروں نے پھیر دیئے اور وہ شکست خوردہ ہوکر بھاگنے لگے۔ اس وقت رسول اللہﷺانہیں پچھلی طرف سے بلارہے تھے، جب نبی کریمﷺکے ہمراہ بارہ آدمیوں کے علاوہ اور کوئی نہ رہا تو کافروں نے ہمارے ستر آدمی شہید کردیئے۔ قبل ازیں نبی کریمﷺاور آپ کے اصحاب نے بدر کے دن ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا۔ ستر کو قیدی بنایا اور ستر کو واصل جہنم کیا۔ پھر ابو سفیان نے تین مرتبہ یہ آواز دی: کیا محمد لوگوں میں زندہ موجود ہیں؟ نبی کریمﷺنے اپنے صحابہ کرام کو جواب دینے سے منع کردیا۔ اس کے بعد پھر ابو سفیان نے تین مرتبہ کہا: ان لوگوں میں ابو قحافہ کے بیٹے بھی ہیں؟

اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور کہا: یہ تینوں حضرات قتل ہوچکے ہیں۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ بے تاب ہوکر کہنے لگے:

اللہ کی قسم تو نے غلط کہا ہے، اے اللہ کے دشمن! یہ سب جن کا تو نے نام لیا زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے، ابو سفیان نے کہا: آج بدر کے دن کا بدل ہوگیا، یقیناً لڑائی تو ڈول کی طرح ہے، بلاشبہ تمہارے کچھ مردوں کے ناک، کان کاٹے گئے ہیں، البتہ میں نے ان کا حکم نہیں دیا لیکن میں اسے برا بھی نہیں سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد ابو سفیان رجز پڑھنے لگا:

اونچا ہوجا اے ہبل

تو اونچا ہو جا اے ہبل

نبی کریمﷺنے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: تم اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیاجواب دیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: تم یوں کہو:

سب سے اونچا ہے وہ الہٰ

سب سے رہے گا وہ اجل

پھر ابو سفیان نے یہ مصرعہ پڑھا:

ہمارا عزیٰ ہے تمہارے پاس عزیٰ کہاں

نبی کریمﷺنے فرمایا: تم اسے جواب نہیں دیتے ہو؟

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا جواب دیں؟ تو آپﷺنے فرمایا: یوں کہو:

ہمارا مولیٰ ہے الہٰ

 تمہارا مولیٰ ہے کہاں

حدیث ۳۵۴:جب رات کے وقت لوگ خوف زدہ ہوں (تو حاکم وقت خود اس کی خبر لے)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺسب لوگوں سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ اونچی اور سب سے زیادہ بہادر تھے، چنانچہ ایک دفعہ اہل مدینہ خوفزدہ ہوئے۔ جب انہوں نے ایک ہولناک آواز سنی تو نبی کریمﷺ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہوئے جبکہ آپﷺ اپنے گلے میں تلوار لٹکائے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا: مت گھبرائو، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: میں نے (سبک رفتاری میں) اس گھوڑے کو دریا کی طرح پایا ہے۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor