Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 537

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 537)

رحمن کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے درمیان ہیں، مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی چیز کسی کی چٹکی میں ہوتی ہے اور اس کو پورا تصرف حاصل ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس کوبدل دے، اسی طرح تمام کے تمام قلوب حق تعالیٰ شانہٗ کے قبضے میں ہیں، جس کو جس طرف چاہے بدل دے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:’’ان اللّٰہ یحول بین المرء وقلبہ‘‘(الانفال:۲۴) بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آڑ(پردہ) واقع کردیتے ہیں آدمی اور اس کے دل کے درمیان ، یعنی اس کے دل کی مراد پوری نہیں ہوتی۔

 رحمن کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہونا کنایہ ہے قدرت سے، باقی اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات ہیں جیسے اس کے ہاتھ، اس کا چہرہ اورجیسے ایک حدیث میں آتا ہے’’ اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک رکھیں گے‘‘ تو یہ ساری کی ساری چیزیں متشابہات میں سے ہیں، ہم اس پر جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ایمان رکھتے ہیں اور اس کی کیفیت کے درپے نہیں ہوتے، اس کے ہاتھ کیسے ہیں؟ اس کی انگلیاں کیسی ہیں؟ وہاں’’کیسے‘‘ کاگزر نہیں ہے۔

 اور یہ فرمایا کہ رحمن کے قبضے میں ہیں ،اس میں لطیف اشارہ فرمادیا کہ ہیںتو اس کے قبضے میں لیکن اس کی رحمانیت تقاضا کرتی ہے کہ ان کو ہدایت پر رکھا جائے ۔

حضرت قاری رحیم بخش صاحب رحمہ اللہ جو ہمارے حضرت کے خلیفہ تھے، شیخ القراء بلکہ مجدد القراء ۃ تھے، ہمارے حضرت ڈاکٹر عبدالحی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے کہنے لگے : حضرت! بہت ہی بے چینی اور پریشانی ہے کہیں خدانخواستہ خاتمہ خراب نہ ہوجائے، اس کی بڑی بے چینی رہتی ہے، ساری عمر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم پڑھانے کی توفیق عطا فرمائی ہے لیکن خاتمہ کی طرف سے بڑی پریشانی لگی رہتی ہے، ہمارے ڈاکٹر عبد الحی رحمہ اللہ بڑی حکیمانہ باتیں کہا کرتے تھے مختصر بات فرماتے تھے، فرمانے لگے: مطمئن رہو! سخی چیز دے کر واپس نہیں لیا کرتا، اس کریم نے تمہیں جب ایمان عطا فرمادیا ہے تو کیوں چھینے گا؟ سخی دے کر واپس نہیں لیا کرتا۔

 تو آنحضرتﷺ جو فرما رہے ہیںـ’’ صبعین من اصابع الرحمن‘‘ اس میں اسی بات کا لطیف اشارہ ہے کہ وہ رحمن ہے اس کی رحمانیت پر اعتماد کرو، لیکن ڈرتے بھی رہو کہ کہیں ہم سے کوئی گستاخی ایسی نہ ہو جائے کہ خدانخواستہ ایمان سلب ہوجائے، اللہ کی غیرت سے ڈرتے بھی رہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ رحمن ہے محض اپنے لطف،عنایت اور فضل کے بغیر ہمارے مانگے اور توجہ کے اس نے ہمیں یہ دولت عطا فرمادی اور امید رکھو کہ دے کر واپس نہیں لے گا۔ ان شاء اللہ

ایمان کا مل کی علامت

 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا : نہیں ایمان دار ہوگا تم میں سے کوئی شخص یہاں تک کہ میں اس کے لئے زیادہ محبوب نہ ہو جائوں اس کے والد سے بھی ، اس کی اولاد سے بھی اور تمام انسانوں سے بھی۔‘‘

تشریح: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ، آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک میں اس کے لئے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجائوں، یعنی جب تک کہ آنحضرتﷺ کی محبت سب سے بڑھ کر نہ ہوجائے اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا، اس حدیث کی تقریر تو پہلے گزر چکی ہے لیکن یہاں اتنی بات اور سمجھ لی جائے کہ محبت دوقسم کی ہوتی ہے، ایک عقلی اور ایک طبعی محبت،طبعی محبت سے مراد ہے طبیعت کی کشش کسی شخص کی طرف ہو اور عقلی محبت سے مراد ہے کہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے بجائے فلاں آدمی میرے لئے زیادہ لائق قدر ہے تو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی محبت اگر کسی کو طبعی نصب ہوجائے تو زہے قسمت! ورنہ آدمی اس کامکلف نہیں ہے، آدمی عقلی محبت کا مکلف ہے، یعنی ازروئے عقل یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ آنحضرتﷺ سب سے بڑھ کر محبوب ہیں اور معیار اس کا یہ ہے کہ اگر آنحضرتﷺ کے مقابلے میں کوئی شخص حکم دے تو آنحضرتﷺ کے حکم کو ترجیح ہو، اور نعوذ باللہ! اگر کوئی شخص نبی اکرمﷺ کی بے ادبی کرے تو اس کو برداشت نہ کر سکے اور الحمد للہ ہر مسلمان کی شان یہی ہے، اگر چہ اپنے بیوی بچوں سے بھی محبت ہو، دوسرے لوگوں سے محبت ہو لیکن وہی لوگ جن سے وہ محبت رکھتا ہے اگر خدانخواستہ آنحضرتﷺ کی شان میں نازیبا لفظ بول دیں تو ان کو مارنے کے لئے تیار ہوجائے گا، تو معلوم ہوا کی عقلی محبت ہر مسلمان کو آنحضرت ﷺ سے ہی زیادہ ہے۔ (جاری ہے)

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor