Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفقہ 538

الفقہ

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’حلال وحرام‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 538)

الجواب وباللّٰہ التوفیق:

چونکہ سوال(۱)اور( ۵) میں ایک ہی نوعیت کے مسئلے مذکورہیں،اس لیے دونوں کا حکم ایک ساتھ لکھا جاتا ہے:

 ۱،۵)اسکول کو ملنے والی یہ رقم بہ ظاہرکسی چیز کا عوض نہیں اور شرعاً مالی معاملات میں طے کرکے یاعرف کے بناء پر اس طرح کوئی رقم لینا جو کسی چیز کا عوض و بدل نہ ہو، رشوت کے دائرے میں آتا ہے، نیز اس رقم کو مونو گرام کے حق استعمال کا معاوضہ قرار دے کر بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اس طرح کے حق پر کرایہ وصول کرنا شرعاً جائز نہیں،’’وفی الاشباہ:لا یجوزالاعتیاض عن الحقوق المجردۃ کحق الشفعۃ‘‘(الدر مع الرد:۷/۳۳) البتہ درج ذیل طریقوں میں سے کوئی طریقہ اپنا نے کی شرعاً گنجائش ہو سکتی ہے:

(الف) اسکول انتظامیہ دکاندار کے ساتھ شرکت کا معاملہ کرلیں، پھر جو کچھ نفع حاصل ہو، باہم حسبِ قرار داد تقسیم کرلیں۔

 (ب) مونو گرام پر مشتمل کاپی کتاب وغیرہ کاسرِ ورق( ٹائٹل) یا اسٹیکر( جو کپڑے پر لگانے کے قابل ہو) تیار کروا کر مناسب منافع شامل کر کے دکاندار کے ہاتھ فروخت کردیں۔

(ج) یا تمام چیزیں کاپی، کتاب وغیرہ اسکول والے خود تیار کروا کر مطلوبہ منافع شامل کر کے دکاندار کے ہاتھ فروخت کردیںپھر دکاندار اپنے نفع کے ساتھ آگے فروخت کر دے۔

 (۲) مذکورہ صورت میں چونکہ اسکول خود کرایہ پر چل رہا ہے، اس لیے اگر مالک کی طرف سے کرایہ پر لی ہوئی زمین پرتعمیر کرنے یا اس پر موجود عمارت پر اضافہ کر کے دوسرے کو کرایہ پر دینے پر کوئی اعتراض نہ ہو، تو اسکو ل والوں کا ہوٹل کرایہ پر دینا اور اُجرت نیز بجلی، پانی وغیرہ کا صرفہ وصول کرنا شرعاً جائز ہے۔’’ولہ السکنیٰ بنفسہ واسکان غیرہ باجارۃ وغیرہاوکذا کل لایختلف بالمستعمل یبطل التقیید‘‘(الدر مع الرد:۹/۳۸) لیکن یہ بات وضاحت طلب باقی رہے گی کہ تعمیر کا خرچہ کس عنوان سے لیا جائے گا، پھر اس تعمیری اضافہ پر ملکیت کس کی رہے گی؟اصل مالک کی؟ اسکول والوں کی؟ یا کرایہ پر لینے والوں کی؟ بہرحال کرایہ کے نا م پر ہی رقم لینا بہتر ہے، اگرچہ کرایہ کی تعیین میں تعمیری اخراجات کو ملحوظ رکھا جائے ۔

(۳،۴ کا مشترکہ حکم)اگر’’بس فارم‘‘یا’’داخلہ فارم‘‘ پر مثال کے طور پر یہ عبارت لکھ دی جائے ’’فلاں مہینے سے فلاں مہینے تک کا کرایہ، تعلیمی فیس اتنی رقم ہے، خواہ کوئی طالب علم پوری مدت بس کی خدمت لے، اسکول میں پڑھے یا صرف کچھ دن یایہ بات عرف کی بناء پر لوگوں کو معلوم ہو، تو کچھ مہینے بس کی خدمت لینے، اسکول میں پڑھنے پر معاہدے کے مطابق پوری مدت کا کرایہ فیس وصول کرنا شرعاً جائز رہے گا۔ امداد الفتاویٰمیںا س سے ملتے جلتے سوالات کے جواب میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے جو کچھ لکھا، اس سے استفتاء ہذا میں مذکور مسئلے کا حکم شرعی معلوم ہوتا ہے اگرچہ امداد الفتاویٰ میں یوم اور مہینہ کی بات اور یہاں( استفتائ) میں چھ مہینے کی بات ہے۔

واللّٰہ اعلم

کمیشن پر چندہ کرنا اور چندہ پر انعام لینے کا حکم

سوال: کیافرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ: ہمارے مدارس دینیہ میں زیادہ تر آمدنی بمد زکوٰۃ ہوتی ہے، جس کو تملیک کرنے کے بعد مختلف مدات میں خرچ کیاجاتا ہے ،اسی ذیل میں چندہ کرنے والے سفراء کی تنخواہ اور ان کا انعام بھی ہے، حسنِ کارکردگی پر سال ختم پر انعام دیاجاتا ہے، کیا سفراء کو انعام دینے کی شرعاً گنجائش ہے، بعض مدارس میں کمیشن طے کیا جاتا ہے اور سفراء کو کمیشن دیاجاتا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ نیز انعام اور کمیشن میں کیا فرق ہے؟بعض اہل خیر معطی حضرات کو اشکال واعتراض ہوتا ہے کہ ہمارے چندہ میں سے کمیشن اور انعام دینے کی اجازت نہیں ہے، اس سلسلے میں شرعی حکم کی وضاحت فرمائیں تاکہ معطی صاحبان اور اہل مدرسہ کے سامنے صحیح صورت حال واضح ہو سکے۔

الجواب و باللّٰہ التوفیق:

صرف کمیشن پر چندہ کرنے کا معاملہ کرنا بچند و جوہ ناجائز ہے:

۱)اُجرت من العمل ہے، جو ناجائز ہے’’ولو دفع غزلا لآخر لینسجہ لہ الخ‘‘(الدر مع الرد:۹/۷۹)یعنی اس جمع شدہ چندہ میں سے یہ اُجرت دی جاتی ہے تو یہ معاملہ جائز نہیں، کیونکہ یہ صورت’’قضیزطحان‘‘ کی ہے، جو حدیث شریف کی رو سے ممنوع ہے( اگر مدرسہ اپنے فنڈ سے دے گا، تو یہ وجہ ناجائز ہونے کی باقی نہ رہے گی مگر دوسری مندرجہ ذیل وجوہ قائم رہیں گی)

(۲) اجیر اس عمل پر بنفسہٖ قادر نہیں، قادر بقدرۃ الغیر ہے، اس کا عمل چندہ دینے والوں کے عمل پر موقوف ہے اور قادر بقدرۃ الغیر بحکم عاجز ہے، جبکہ صحتِ اجارہ کے لیے بوقت عقد اجیر کا قادر علی العمل ہونا اور مستاجر کا قادر علی تسلیم الاجرۃ ہونا صحت عقد کے لیے شرط ہے، لہٰذایہ اجارہ باطلہ ہوا، اس لیے چندہ لانے والے کے لیے اس کی اجرت بصورتِ حصہ مقررہ حلال نہیں۔( راجع احسن الفتاویٰ) (۳) اسی طرح اس میں اُجرت اور منفعت بھی مجہول ہے، کیونکہ اس کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کہ کتنے گھنٹے روزانہ لوگوں کے پاس جانا ہے، ان تمام وجوہات کی بناء پر کمیشن کی بنیاد پر چندہ کرنا ناجائز ہے ’’وتفسد (الاجارۃ) بجھالۃ المسمیٰ کلہ او بعضہ…وتفسد بعدم التسمیۃ‘‘(الدر مع الرد:۹/۶۶) سفیر کے لیے چندہ جمع کرنے پر اجرت کا بے غبار طریقہ یہ ہے کہ مہتمم مدرسہ جس شخص کو چندہ جمع کر نے کے لیے مقرر کرے ،ا س کے چندہ جمع کرنے کے عمل کی کوئی معین اُجرت طے کردے ،خواہ ماہانہ ہو یا یومیہ اور وہ شخص اس طے شدہ معاملہ کے مطابق چند ہ جمع کرے، تو یہ صورت بلاشبہ جائز ہے اور اگر سفیر تنخواہ دار ملازم ہو تو اس کی حسن کارکردگی یا متعینہ مقدار( وصولیا بی کی) پوری کرنے کی وجہ سے تنخواہ کے علاوہ کچھ رقم بطور انعام دینا تو جائز ہے لیکن زکوٰۃ کے پیسے سے دینا جائز نہیں، بلکہ زکوٰۃ کا پیسہ مدرسہ میں جمع کرنا لازم ہے اور یہ انعام مدرسہ اپنے امددی فنڈسے ( جس سے تنخواہ دی جاتی ہے) دے سکتا ہے۔

اب یہاں دوباتیں ہوئیں: کمیشن پر چندہ کرنا( جو کہ ناجائز ہے) دوسرے تنخواہ پر چندہ کر کے اخیر میں انعام دیا جانا، یہ جائز ہے، ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ کمیشن اجرت کے درجہ میں ہوتا ہے جس کا اجارہ فاسدہ میں داخل ہونا اوپر ذکر کیا جا چکا اور انعام اجرت کے علاوہ حسن کارکردگی پر اضافی طور پر دیا جاتا ہے جو شرعاً جائز ہے، ہاں یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر نعام بطور فیصد دیا جائے تو بھی اس کی گنجائش ہے، کیونکہ یہ اصل اجرت نہیں ہے کہ اجرت مجہول میں داخل ہونے کا گمان ہو۔

مذکورہ بالا تفصیلات سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ خاص چند ہ کی رقم جو عموماًزکوٰۃ ، صدقات واجبہ کے مد کی ہوتی ہے، اس میں سے کمیشن یا انعام دینا جائز نہیں، بلکہ مدرسہ اپنے عمومی فنڈ سے تنخواہ یا انعام دے، جس طرح مدرسہ کی دوسرے جائز مصارف میں خرچ کرنے اور ملازمین کو تنخواہ دینے کا مہتمم مجاز ہوتا ہے، اس کا بھی مجاز ہوگا، معطیین کی زکوٰۃ وغیرہ رقم خاص سے نہیں دیاجاتا کہ معطیین کو اعتراض یا اشکال ہو، ہاں اربابِ حل و عقد یا شوریٰ اس کے صواب و ناصواب ہونے کی جانچ کر سکتے ہیں اور جہاں کہیں مطیین کی رقم خاص سے تنخواہ یا انعام کمیشن لے لینے کا طریقہ ہو،وہاں معطیین کا اعتراض بجا ہوگا۔

 واللّٰہ اعلم

(جاری ہے)

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor