Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری) 538

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری)

مترجم: مولانا طلحہ السیف (شمارہ نمبر 538)

حدیث ۳۵۳:امیر کی نافرمانی نقصانکا باعث ہے

 حدیث۳۵۹:کیا آدمی خود کو گرفتاری کے لیے پیش کرسکتا ہے؟ اور جو گرفتاری نہ دے (تو اس کا کیا حکم ہے؟) نیز قتل کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے دس صحابہ پر مشتمل ایک جماعت کفار کی جاسوسی کے لیے روانہ فرمائی۔ آپﷺ نے اس جماعت کا امیر حضرت عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نانا حضرت عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، چنانچہ وہ لوگ (مدینہ منورہ سے) چلے گئے۔ جب وہ مقام ’’ہدأٰۃ‘‘ پر پہنچے جو عسفان اور مکہ مکرمہ کے درمیان ہے تو قبیلۂ ہذیل کے تقریباً دو سو تیر انداز ان کی تلاش میں نکلے اور ان قدموں کے نشانات سے اندازہ لگاتے ہوئے آخر ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بیٹھ کر کھجوریں کھائی تھیں جو وہ مدینہ طیبہ سے اپنے ہمراہ لے کر چلے تھے۔ تعاقب کرنے والوں نے کہا: یہ تو یثرب کی کھجوریں معلوم ہوتی ہیں۔ بالآخر وہ ان کے قدموں کے نشانات سے اندازہ لگاتے ہوئے آگے بڑھے۔ جب عاصم اور ان کے ساتھیوں نے انہیں دیکھ لیا تو انہوں نے پہاڑ کی ایک چوٹی پر پناہ لے لی۔
مشرکین نے ان سے کہا کہ ہتھیار ڈال کر نیچے آجائو، تم سے ہمارا عہد وپیمان ہے کہ ہم تم میں سے کسی شخص کو قتل نہیں کریں گے۔ مہم کے امیر حضرت عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو آج کسی صورت میں کافر کی پناہ قبول نہیں کروں گا، پھر دعاء کی: اے اللہ! ہماری طرف سے اپنے نبی کو ان حالات کی اطلاع کردے۔ بہرحال ان پر کافروں نے تیر برسانے شروع کردیئے اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کو ساتھیوں سمیت شہید کر ڈالا۔ باقی تین صحابی حضرت خبیب انصاری، ابن دثنہ اور تیسرا شخص ان کے عہد وپیمان پر چوٹی سے نیچے اُتر آئے۔ جب یہ تینوں صحابی پوری طرح ان کے نرغے میں آگئے تو انہوں نے اپنی کمانوں کی تانتیں اُتار کر انہیں باندھ دیا۔ تیسرے آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تمہاری پہلی غداری ہے، اس لیے میں تو تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جائوں گا بلکہ میں تو اپنے پیشروئوں کا نمونہ اختیار کروں گا، ان کی مراد شہداء سے تھی، چنانچہ مشرکین انہیں گھسیٹنے لگے اور زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہا۔ جب وہ کسی بھی طرح ساتھ جانے پر آمادہ نہ ہوئے تو ان لوگوں نے انہیں شہید کردیا۔ اب یہ حضرت خبیب اور ابن دثنہ رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر چلے اور مکہ پہنچ کر انہیں فروخت کردیا۔ یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے، چنانچہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاں چند دن قیدی رہے۔ راوی کہتا ہے کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے بتایا، انہیں حارث کی بیٹی نے خبردی کہ جب انہوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے پر اتفاق کرلیا تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے زیر ناف بالوں کی صفائی کے لیے اس سے اُسترا مانگا تو اس نے عاریتاً انہیں اُسترا فراہم کردیا۔ میری بے خبری میں میرا بیٹا حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے اسے پکڑ کر اپنی ر ان پر بٹھالیا جبکہ اُسترا ان کے ہاتھ میں تھا۔ میں اس قدر پریشان ہوئی کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے میری گھبراہٹ کو میرے چہرے سے بھانپ لیا۔ انہوں نے کہا: تمہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں اسے قتل کردوں گا؟ (نہیں، نہیں) میں یہ اقدام ہرگز نہیں کروں گا۔ عورت کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! خبیب سے بہتر میں نے کبھی کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن دیکھا کہ خوشۂ انگور ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ مزے سے انہیں کھارہے ہیں، حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ مکرمہ میں پھلوں کا موسم بھی نہیں تھا۔ وہ کہتی تھی:
بلاشبہ یہ تو اللہ کی طرف سے رزق تھا، جو اس نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو عطا کیا تھا۔ بہرحال جب وہ لوگ انہیں قتل کرنے کے لیے حرم کی حدود سے باہر لے گئے تو ان سے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے دو رکعتیں ادا کرنے کی مہلت دو تو انہوں نے چھوڑ دیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر کہا: اگر تم میرے متعلق بدگمانی نہ کرتے کہ میں قتل سے گھبرا گیا ہوں تو میں اپنی نماز کو ضرور طویل کرتا۔ پھر انہوں نے دعا ء کی: اے اللہ! ان کو چن چن کر صفحۂ ہستی سے مٹادے۔ پھر یہ اشعار پڑھے:
جب میں مسلمان ہوکر قتل کیا جارہا ہوں تو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ کی راہ میں مجھے کس پہلو پر گر کر مرنا ہوگا۔ یہ سب کچھ اللہ کی خوشنودی کے لیے ہے،اگر اللہ چاہے تو میرے بریدہ جسم کے جوڑ جوڑ میں برکت پیدا فرمادے۔
آخر حارث کے بیٹے (عقبہ) نے ان کو شہید کردیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ہر مسلمان کے لیے دو رکعتیں پڑھنے کا طریقہ جاری کردیا جسے باندھ کر قتل کیا جائے۔
دوسری طرف حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی دعاء کو اللہ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ نبی کریمﷺنے اپنے صحابۂ کرام کو اس جگر پاش واقعے کی اطلاع دی اور جن جن آزمائشوں سے وہ دو چار ہوئے تھے ان سب حالات سے انہیں آگاہ کیا، نیز کفار قریش کو جب حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو انہوں نے کچھ آدمی روانہ کیے تاکہ ان کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لائیں جس سے ان کی شناخت ممکن ہو، کیونکہ انہوں نے بدر کی لڑائی میں ان کے بڑے سردار کو جہنم واصل کیا تھا۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ پر سیاہ بادل کی طرح شہد کی مکھیوں کا ایک جتھا بھیج دیا گیا، جنہوں نے کفار کے قاصدوں سے ان کے جسم کو محفوظ رکھا، چنانچہ وہ ان کے گوشت سے کچھ بھی کاٹنے پر قادر نہ ہوسکے۔

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor