Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت دائود علیہ السلام (قرآن کے سائے میں) 538

قرآن کے سائے میں

حضرت دائود علیہ السلام

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 538)

اس خیال کے برعکس محققین کی یہ رائے ہے کہ حیوانات ،نباتات اور جمادات حقیقۃً تسبیح کرتے ہیں اور ان کی تسبیح کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کا وجود زبان حال سے صانع حکیم پر دلالت کرتا ہے اور یہ ان کی تسبیح ہے ، اس لئے کہ قرآن عزیز نے سورئہ بنی اسرائیل میں بصراحت یہ اعلان کیا ہے:

’’آسمان اور زمین خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور کائنات کی ہر شے خدا کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کا فہم و ادراک نہیں رکھتے۔‘‘( بنی اسرائیل)

اس جگہ دوباتیں صاف صاف نظر آتی ہیں:

 ا)کائنات کی ہر شے تسبیح کرتی ہے۔

 ۲)جن وانس ان کی تسبیح سمجھنے کا ادراک و فہم نہیں رکھتے۔ تو اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین اور کائنات کی ہر شے حیوانات،نباتات اور جمادات کی جانب تسبیح کی نسبت فرمائی ہے تو یہ ضرور ہے کہ ان اشیاء میں تسبیح کا حقیقی وجود موجود ہو اور پھر دوسرے جملہ کا اس پر اطلاق کیا جائے کہ جن وانس ان کی تسبیح کے فہم و ادارک سے قاصر ہیں۔ اگر اس جگہ تسبیح کے حقیقی معنی نہ لئے جائیں بلکہ ’’زبان حال سے تسبیح کرنا‘‘ ان معنی کو اختیار کیا جائے تو پھر قرآنِ عزیز کا یہ ارشاد کیسے صحیح ہوگا ’’ولکن لا تفقھون تسبیحھم ‘‘تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے اس لئے کہ اگر ایک دہری اس کو نہیں سمجھتا کہ کائنات کا ہر ذرہ خدائے واحد کی ہستی کا پتہ دے رہا ہے تو تمام اہل مذاہب خصوصاً ہر مسلمان تو بے شبہ اس کو سمجھتا ہے اور وہ جب کبھی وجودِ باری پر کچھ سوچتا ہے تو اس کا یقین کر کے سوچتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی ہستی کا اقرار کررہا ہے اور ہر شے کا وجود ہی خود خالق کائنات کا پتہ دے رہا ہے۔ ابن حزم نے’’ الفصل‘‘ میں اس جگہ یہ شبہ پیش کیا ہے کہ اگر حیوانات ،نباتات اور جمادات کی تسبیح کو حقیقتاً تسبیح پر محمول کیا جائے تو یہ اشکال لازم آئے گا کہ ایک دہری انسان بھی ’’شے‘‘ ہے مگر وہ خدا کی تسبیح کسی لمحہ بھی نہیں کرتا، لہٰذا آیت کا عموم کیسے صحیح باقی رہے گا۔

ابنِ حزم کا یہ اشکال بہت ہی سطحی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس شبہ کے بیان کرتے وقت ان کی نظر قرآن عزیز کے اس مطلب و مراد سے غافل ہوگئی جو اس مقام پر اس کے پیش نظر ہے اور انہوں نے آیت زیر بحث کے سیاق و سباق پر غور نہیں فرمایا۔

قرآن عزیز اس آیت سے قبل مشرکین کا تذکرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بتا رہا ہے کہ مشرکین اپنی ناسمجھی اور کج فہمی سے خدا کے ساتھ معبود ان باطل کوشریک ٹھہراتے ہیں لیکن قرآن جب اس مسئلہ کے بطلان کوان پر واضح کرتا اور طرح طرح سے سمجھاتا ہے تو ان پر نصیحت کا الٹا اثر پڑتا ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ نفرت کرنے لگتے ہیں ، حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے ان تمام باطل نسبتوں سے جو مشرکین اس کی جانب منسوب کرتے ہیں۔

 اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ یہ انسان ہی ہے جو اس قسم کی مشرکانہ گمراہی میں مبتلا ہو رہا ہے ورنہ ساتوں آسمان و زمین اور کائنات کی ہر شے خدا کی پاکی بیان کرتی اور شرک سے بیزاری کا اظہار کرتی ہے ، مگر انسان ان کی اس تسبیح کے فہم و ادراک سے قاصر ہے، بے شک اللہ بردبار ہے بخشنے والا۔

اس کے بعد مشرکین کے باطل عقیدہ کا ثمرہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب محمدﷺ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم ان کے اور مشرکین کے درمیان ایک ’’حجاب‘‘ قائم کر دیتے ہیں۔ یعنی وہ جب قرآن کو خدا کا کلام نہیں مانتے تو وہ آپ ﷺکو رسول بھی تسلیم نہیں کرتے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ آپﷺ کی نصیحت سے منہ موڑ کر آخرت کے انجام سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے:

’’اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔ کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اورمعبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور(خدائے) مالکِ عرش کی طرف(لڑنے بھڑنے کے لئے) راستہ نکالتے وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے ( اس کا رتبہ) بہت عالی ہے۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جوان میں ہیں اس کی تسبیح کرتے ہیں اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے ۔بیشک وہ بردبار اور غفار ہے۔‘‘( بنی اسرائیل)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor