Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 538

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 538)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دین کے بارے میں ایسی غیرت رکھتے تھے، جو غیرت عزت وآبرو کے بارے میں ہوتی ہے اور یہی ان کا سب سے بڑاوصف ور ان کا اصلی جوہر تھا جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کے اس وصف کو ان کا وہ جملہ بتاتا ہے جس کو تاریخ نے اُنہی کے لفظوں میں نقل کیا ہے، یہ جملہ خود بول رہا ہے کہ وہ کس دل سے نکلا ہے اور کس ایمان ویقین کے ساتھ نکلا ہے۔ وہ جملہ ہے ’’اینقص الدین واناحی‘‘(میرے جیتے جی دین میں کتربیونت ہوسکتی ہے؟ میری آنکھوں کے سامنے اللہ کے دین میں ایک حرف کیا ایک نقطہ کی بھی کمی ہو سکتی ہے؟

یہ ہے وہ چیز جس کی مذاہب وادیان کو سب سے پہلے ضرورت پڑتی ہے اور یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں بدرجۂ کمال موجود تھی۔

 دوسری ضرورت حاملین دین کا مزاج نہ بدلنے پائے

اب دوسرے نمبر پر ضرورت تھی کہ دین تو محفوظ رہ گیا لیکن حاملین دین بھی محفوظ رہیں اور جو داعیان اول ہیں اور اس کے نمونہ اکمل ہیں اور جو اس کے عملی پیکر اور اس کا مظہر کامل ہیں ان کا مزاج بدلنے نہ پائے۔

 اس وقت روم اور شام اور ایران فتح ہو رہے ہیں، مصروشام کی دولت اُمنڈاُمنڈ کر آرہی ہے اور بارش کی طرح برس رہی ہے، جن کو آنکھوں نے کبھی دیکھا نہیں تھا وہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں آرہی ہیں، اب خطرہ یہ تھا کہ اُمت تمدن کے اس سیلاب میں بہہ نہ جائے۔

 اللہ تعالیٰ اس موقعہ پر ایسی ہستی کو سامنے لایا جو اس وصف میں سب سے زیادہ ممتاز تھی۔ کہا نہیں، بالکل نہیں… میرے سامنے عربوں کا ،امت اسلامیہ کا مزاج نہیں بدل سکتا، یہ تمدن کا شکار نہیں ہو سکتے، عیش و عشرت میں نہیں پڑ سکتے، انہوں نے عربوں کو بڑی تاکید سے سادگی، جفاکشی ، شہسواری، زہد وقناعت اور اپنی قدیم نسلی سپاہیانہ و متقشفانہ خصوصیات قائم رکھنے کی ہدایت و تلقین کی۔

اسلامی فتوحات اور باکمال

افراد کی ضرورت

تیسرے نمبر پر کس چیز کی ضرورت تھی؟ فتنہ ارتداد ختم ہوچکا، تحریف کا دروازہ بند ہوچکا، انسانی مساوات اور عدل کا نظام قائم ہوچکا تھا، اب ضرورت تھی کہ یہ اسلامی مملکت قائم رہے گی تو خیر کا دروازہ کھلا رہے گا، کیسی کیسی قومیں حلقہ بگوش اسلام ہوں گی، کیسے کیسے باکمال افراد پیدا ہوں گے، کیسے کیسے عالم ربانی پیدا ہوں گے، کیسے کیسے آئمہ و مجتہدین پیدا ہوں گے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسے ،کیسے کیسے محدث پیدا ہوں گے، امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ جیسے ، کیسے کیسے قانون ساز پیدا ہوں گئے، امام ابویوسف رحمہ اللہ اور امام محمدرحمہ اللہ جیسے ،کیسے کیسے فاتح پیدا ہوں گے، عقبہ بن نافع اور طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم رحمہم اللہ جیسے۔

چنانچہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا، کیونکہ اُنہی کے خاندان کے لوگ زیادہ تر ملکوں کے فاتح اور حاکم و منتظم تھے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جب اہل کار ان سلطنت کا خونی رشتہ بھی ہوتا ہے، بستی ووطنی رشتہ بھی ہوتا ہے تو وہ اس چیز کو اپنی چیز سمجھتے ہیں، وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم محض ملازم ہیں اور جوابدہ ہیں تو اس وقت اس کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہیں، اب یہاں پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ضرورت تھی، چنانچہ وہ آئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ کیسی فتوحات ان کے زمانہ میں ہوئیں، آپ کے زمانہ میں قبرص، افریقہ کا ایک بڑا حصہ، آذربائیجان، اصطخر، سابور، شیراز، اصفہان، طبرستان ، سجستان اورنیشاپور فتح ہوئے۔

سیاسی اقدار کی ضرورت

اسلام کی طرف سے اب بالکل اطمینان ہوچکا تھا، انتظامی اور عسکری طور پر اب کوئی خطرہ باقی نہ تھا۔اب ضرورت تھی کہ مسلمان اتنے دنوں تک حکومت کر چکے تھے اور تمدن کا اثر پڑنا لازمی تھا اور سیاسی طرز فکر کا آنا بھی ضروری تھا کہ آدمی سیاسی اقدار کے ذریعہ سوچے اور فیصلہ کرے کہ اس وقت یہ کرنا مناسب ہے اور یہ کرنا نامناسب، سیاسی مصلحت کا تقاضہ یہ ہے اور دین کا مطالبہ یہ ہے۔

 اب ضرورت تھی کہ خلیفہ رابع سید ناعلی المرتضی رضی اللہ عنہ کو لایا جائے، جن کا اصل وصف اور اصل امتیازیہ تھا کہ سیاسی اصولوں اور سیاسی منافع اور مفادات پر خالص دینی اصولوں کو ترجیح دی جائے اور اس کی ذراپرواہ نہ کی جائے کہ خلافت ہاتھ میں رہے گی یانکل جائے گی، نہیں یہ چیز یہاں کے لئے مناسب نہیں اس کو بدل دینا چاہئے، یہ کام یہاں نہیں ہونا چاہئے۔

 آپ کے عہد خلافت کی ایک یہ خصوصیت و افادیت تھی کہ آپ نے اس کا نمونہ پیش کیا کہ اندرونی فتنوں، ہم مذہبوں کی مخالفت و انتشار کے دور میں کس طرح اصول پر قائم رہا جاتا ہے اورسیاست دین پر غالب نہیں ہونے پائی۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے خوب فرمایا کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دور نہ ہوتا تو ہمیں خیر القرون کی کوئی مثال اور نمونہ نہ ملتا کہ فتنوں اور خود مسلمانوں کی مخالفت کی حالت میں کیا کرنا چاہئے۔

یہ تھا وہ جوہر جس کی چوتھے نمبر پر ضرورت تھی۔ اسی طریقہ سے اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو جاری رکھا اور دیکھئے یہی ہے تقدیر الہٰی اور ’’ذلک تقدیرالعزیزالعلیم‘‘ سے میںاسی کی طرف اشارہ کررہا ہوں۔ آپ روز سورج کو مشرق سے نکلتے اور مغرب میں ڈوبتے دیکھتے ہیں۔ یہی تنہا اللہ کے قہار ہونے اور حکیم وغالب ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ آفتاب رسالت کے اللہ تعالیٰ نے جو منازل مقرر کئے اور جن منازل سے اس کو گذارا اور جس طرح کے اس کے دین کو تکمیل تک پہنچایا اور جس طرح اس کے جانشین مہیا کئے اور اپنے نبی کو جو خلفاء دئیے یہ بھی ’’ذلک تقدیرالعزیز العلیم‘‘ کا مظہر ہے۔

 

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor