Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآنی افادات (مولاناسید ابوالحسن علی ندوی) 538

قرآنی افادات

کامیابی کی ضمانت خواہشات نہیں حقائق ہیں

از قلم: مولاناسید ابوالحسن علی ندوی (شمارہ 538)

دوسری بات سمجھنے کی یہ ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے یہ کیوں کہا کہ’’مجھے اپنی ذات اور جان سے محبت زیادہ معلوم ہوتی ہے؟بات یہ کہ انہوں نے پہلے غور نہیں فرمایا تھا، یوں سمجھا تھا کہ جب آدمی پر بن آتی ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے، یہ ایک فطری بات ہے، جب آدمی خود پھنسا ہوا ہو تو کوئی یاد نہیں رہتا، اس لئے انہوں نے سمجھا کہ اپنی جان کی محبت ہر ایک سے زیادہ ہے، تو رسول اللہﷺ سے بھی زیادہ ہوگی، لیکن یہ بات نہیں تھی جیسا کہ میں نے بتایا جب آدمی کی اپنی جان پر بن آئے تو سب کو بھول سکتا ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول کو نہیں بھول سکتا ۔

حضرت زید بن دثنہ، حضرت خبیب رضی اللہ عنہما، مشہور واقعہ ہے بئر معونہ کا، وہاں کافروں نے دھوکے سے ان کے ساتھیوں کو شہید کردیا تھا اور ان دونوں کو پکڑکر مکہ میں بیچ دیا اور مکہ کے جو کافر جنگ بدر میں مارے گئے تھے ان کے وارثوں نے ان دونوں سے بدلہ لینا چاہا، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا واقعہ بخاری شریف میں ذکرکیا گیا ہے کہ جس دن ان کو سولی پر لٹکایا گیا، پکڑ کر لے گئے تو اس سے پہلے فرمانے لگے کہ اگر اجازت دو تو میں دورکعت پڑھ لوں، کہا: شوق سے پڑھو !دورکعتیںپڑھیں اور پڑھ کر فرمایا:

’’اللھم اخصھم عددا،واقتلھم بدداولا تبق منھم احدا‘‘

’’یا اللہ! یہ جتنے لوگ جمع ہیں ان کو گن لیجئے اور ایک ایک کر کے ان کو قتل کیجئے اور ان میں سے کسی ایک کو نہیں چھوڑئیے۔‘‘ یہ ان کے حق میں بددعاء کی پھر ارشاد فرمایا کہ: تم لوگ کہو گے کہ یہ موت کے ڈر سے نماز پڑھ رہا ہے، ورنہ جی چاہتا تھا کہ زندگی کی آخری نماز طویل پڑھتا۔ چنانچہ جب ان کو لٹایا گیا تو اس وقت فرمایا:

ولست ابالی حین اقتل مسلما

علی ای جنب کان للّٰہ مضرعی

مجھے کوئی پروانہیں ہے اس بات کی جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جارہا ہوں کہ مرکر میں کس پہلو پر گروں گا۔‘‘

وذاک فی ذات الالہ وان یشأ

 یبارک علی اوصال شلو ممزع

’’اور یہ سب کچھ اللہ کے لئے کر رہا ہوں اور اگر وہ چاہے تو گوشت کی ریزہ ریزہ بوٹیوں میں بھی برکت ڈال دے۔‘‘

بہرحال وہ شہید ہوگئے اور لکھا ہے کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قتل ہونے سے پہلے دورکعت نماز کی سنت جاری کی، حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو قتل کے لئے لے گئے تو ابوسفیان اور باقی لوگ کہتے لگے کہ تم سے ایک بات کہتے ہیں زبان سے اتنی بات کہہ دو کہ اے کاش! میری جگہ محمد کو قتل کیا جاتا۔ نعوذ باللہ! فرمایا:میرے ایمان کی آزمائش کرنا چاہتے ہو؟اللہ کی قسم! میں یہ بھی پسند نہیں کروں گا کہ حضرت محمدﷺ اس وقت جہاں تشریف فرماہیں وہاں ان کو کانٹا بھی چبھ جائے، میں ان کو کانٹا چبھنا بھی پسند نہیں کروںگا۔ چنانچہ ان کو شہید کردیا گیا، اگر کوئی چاہتا تو جان بچانے کے لئے جھوٹ بول سکتا تھا لیکن نہیں کیا، اپنے دل کی بات کہہ دی،کسی مسلمان پر خواہ کتنی ہی قیامت گزر جائے لیکن یہ نہیں چاہے گا کہ آنحضرتﷺ کو ذراسی خراش بھی آجائے، جب حضورﷺ نے فرمایا: جب تمہیں اپنی جان سے زیادہ مجھ سے محبت نہیں تو پھر تم مومن نہیں حالانکہ حضرت عمررضی اللہ عنہ  کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اس پر فرمایا: اب تو آپ میری جان سے بھی زیادہ مجھے محبوب ہیں۔ فرمایا: ہاں اب ٹھیک ہے! اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضورﷺ کی سچی محبت نصیب فرمائے اور اگر سچ پوچھو تو آنحضرتﷺکی محبت کا نام ہی ایمان ہے۔ ہم نے ساری عمر پاپڑبیل کر یہی سیکھا ہے ، اگر حضور اقدسﷺ کی محبت اور عظمت قلب میں نہیں ہے تو پھر کچھ بھی نہیں ہے۔

 جو چیز اپنے لئے پسند کرو اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرو

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:بندہ ایمان دار نہیں ہوگا یہاں تک کہ پسند کرے اپنے بھائی کے لئے وہی چیز جو پسند کرتا ہے اپنی ذات کے لئے۔‘‘

اس حدیث میں ارشاد فرمایا کہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے اُسی چیز کو پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ یہ بھی کمال ایمان کی بات ہے، اپنے بھائی سے مراد ہے مسلمان بھائی، دوسروں کے لئے وہی بات پسند کرو جو اپنے لئے چاہتے ہو، اگر تم نہیں چاہتے ہوکہ لوگ تمہاری برائی کریں تو تم بھی کسی کی برائی نہ کرو، اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہاری غیبت نہ کریں تو تم کیوں کرتے ہو؟ اگر تم نہیں چاہتے کہ دوسرے لوگ تمہیں دھوکا دیں تو تم دوسروں کو کیوں دھوکا دیتے ہو؟ غرضیکہ ہر وہ معاملہ جو اپنے اوپر پسند نہیں کرتے وہ دوسروں کے حق میں بھی پسند نہ کرو، فارسی میں ضرب المثل ہے:’’ہر آنچہ برخود نہ پسندی ، بدیگراں پسند‘‘ جو چیز اپنے حق میں پسند نہیں کرتے ہو دوسروں کے حق میں بھی پسند نہیں کرو، یہ کمال ایمان ہے اور اگرہمارا طرز عمل اس کے خلاف ہے تو اس کا معنی ہے کہ ایمان کے کمال میں نقص ہے، یہاں یہ بات یاد رکھو کہ اچھا بیج ڈال دیا زمین میں اور زمین بھی بہت طاقتور ہے، زرخیز اور بیج بھی بہت عمدہ ڈالا، اس کا پودا اُگ آیا، اوپر سے بکریوں نے کھالیا تو ویسے کا ویسا ہی رہ جائے گا اور اگر اس کی نگہداشت صحیح طور پر کی جائے تو تنا ور درخت بن جائے گا، یہی مثال ایمان کی سمجھو، ایمان نہایت طاقت ور بیج ہے لیکن بعض لوگوں کے دل اتنے کمزور واقع ہوتے ہیں کہ ان میں پوری طرح جڑ ہی نہیں پکڑتا، ریتیلی زمین میں کیا درخت اُگے گا اور بعض لوگوں کے دلوں میں صلاحیت موجود ہے لیکن اس ایمان کے پودے کی نگہداشت نہیں ہوئی، صحیح پرورش نہیں ہوئی، خواہشات کی بکریاں ان کو چر جاتی ہیں، اس لئے وہ ایمان برگ وبار نہیں لاتا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے میں وہ کوتاہی کرتے ہیں، علماء فرماتے ہیں کہ ایک یہ حدیث تمام کے تمام معاملات کو درست کرنے کے لئے کافی ہے ۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor