Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفقہ 540

الفقہ

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’حلال وحرام‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 540)

الجواب وباللّٰہ التوفیق:

۱)ملازمین و مدرسین اورمہتمم کے مابین جو معاملہ ہوتا ہے وہ عقد اجارہ کا ہوتا ہے، حساب کتاب باہم طے شدہ معاہدے کے مطابق کیا جانا چاہیے، کسی کو خواہ وہ ملازم و مدرس ہو یا مہتمم، اس کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے، اب جبکہ سوال میں مذکورہ بیان کے مطابق تنخواہ وغیرہ کا لینا قمری مہینے سے طے تھا اور یہ ہونا بھی چاہئے، تو پھر شمسی مہینے کے اعتبار سے لینے کی کیا وجہ ہے؟ مہتمم صاحب نے تنخواہ دیتے وقت کیا کہہ کردیا؟ اور ملازمین نے کیا کہہ کر لیا؟ نیز کسی ایک مہینے میں ایسا ہوا یا پورے سال اسی طرح کرتے رہے؟ ان سب باتوں کی وضاحت کے بغیر جواب نہیں دیا جا سکتا۔

۲)مدرسہ میں جو رقم آتی ہیں، اگردینے والوں کی طرف سے کسی مصرف مثلاً تعمیر، کتابوں کی خریداری وغیرہ کی صراحت کردی گئی ہے، تو ان رقوم کو انہی مصارف میں خرچ کرنا ضروری ہے، فان شرائط الواقف معتبرۃ اذالم تخالف الشرع وھو مالک فلہ ان یجعل مالہ حیث شاء مالم یکن  معصیۃ(الدر مع الرد: ج۶ ص ۵۲۷) نیز زکوٰۃ کا اور صدقاتِ واجبہ جیسی واجب التملیک رقومات کو غریب طلبہ پر خرچ کرنا ضروری ہے ’’الزکوٰۃ:ہی تملیک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر غیر ہاشمی ولا مولاہ مع قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للّٰہ تعالیٰ(شامی:ج۳ص۷۰) البتہ عام عطیات کی مد میں آئی ہوئی رقم سے ضرورت کے موقع پر مہمانوں کے کھانے پینے وغیرہ میں خرچ کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ بات انتہائی قابل لحاظ ہے کہ مدرسے کے فنڈسے انہی مہمانوں کی خاطر تواضع کی گنجائش ہے، جو خاص مدرسہ کے کام کے لیے آئے ہوں، اپنا ذاتی کام یا کسی دوسرے مقصد اگر چہ دینی ہو، جیسے تبلیغ و اصلاح وغیرہ کے لیے آنے والے کو مدرسہ کی رقم سے کھانا کھلانا شرعاً جائز نہیں، (مستفاداز فتاوی محمودیہ:۲۳/ ۵۳، و احکام المدارس) البتہ کسی مہمان کے اعزاز میں اگر مہتمم صاحب یا ان کے حکم سے بعض اساتذہ کھانے میں شریک ہوجائیں تو کوئی حرج نہیں، اسی طرح اگر مدر سے کے کام کے لیے مہمان کے ساتھ سفر درپیش ہو اور مہتمم یا اساتذہ کی معیت بھی ضروری سمجھی جائے، تو مدرسے کے خرچ پر سفر کرنے کی گنجائش ہے، لیکن کفایت شعاری بہر حال ضروری ہے۔

 نوٹ: یہ اختیارات مہتمم صاحب کو اس وقت حاصل ہوں گے، جب چندہ دینے والوںیا مجلس شوریٰ یا انتظامی کمیٹی کی طرف سے وہ(مہتمم صاحب) اس طرح کے اختیارات کے مجاز ہوں۔

 (۳) زکوٰۃ کی جو رقم مہتمم صاحب کو یہ کہہ کر دی گئی ہو کہ’’ آپ اپنی صوابدید پر جہاں چاہیں خرچ کریں‘‘ اسے عارضی ملازمین کو بہ طور تبر ع دینا جائز نہیں،اس لیے کہ اگر چہ یہ بہ ظاہر تبرع ہے، لیکن حقیقت میں یہ اُجرتِ عمل ہے، ورنہ اتنے دن جو عارضی ملازمین نے کام کیا، اس کی اُجرت کہاں ہے؟ البتہ مدرسے کے ملازمین اگر مستحق زکوٰۃ ہوں تو ان کو اس رقم سے پیسے دیئے جا سکتے ہیں،خواہ قرض کے عنوان سے ہو یا کسی اور عنوان سے، بہ شرطیکہ عوض یا اُجرت ہونے کا شبہ نہ ہو اور جب زکوٰۃ کی نیت سے دے دی تو پھر دوبارہ اسے واپس لینا جائز نہیں، صورتِ مذکورہ میں کن کو کس نیت سے رقم دی تھی؟ پھر بعض سے واپس لینے اور بعض سے نہ لینے کی کیا وجہ ہے؟ پھرتجارت کے لیے کس مد کی رقم ، کس نیت و ارادے سے دی تھی؟ مہتمم صاحب کی جانب سے پوری وضاحت ہونے کی صورت میں ہی جواب دیا جا سکتا ہے، البتہ اتنی بات قابل لحاظ ہے کہ مدرسے کی رقم کو بطور مضاربت دینے کو مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے ناجائز لکھا ہے( کما فی فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:۱۳،۱۱۰ ط:مکتبہ دارالعلوم دیوبند) نیز اس مد کی رقم کو اپنے حق میں تملیک کرانا بھی دینے والے کی منشاء کے خلاف ہے، اس لیے اس سے بچنا بھی لازم ہے۔

 (۴) مذکورہ صورت میں یہ رقم استاذ کے پاس امانت تھی، اسے بعینہٖ یا( مجبوری کی شکل میں) اس کا بدل مدرسہ میں پہنچانا ضروری ہے، لہٰذا استاذ صاحب کا اس رقم کے ساتھ اپنی ذاتی رقم ملانا، تجارت کرنا اور نفع کمانا وغیرہ سب امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔لیس للمودع حق التصرف والا سترباح فی الودیعۃ(مبسوط للسرخسی:ج۱۱ص۱۲۲ طبع بیروت) ا س لیے استاذ صاحب پر خیانت سے توبہ لازم ہے، لیکن چونکہ مذکورہ عمل سے استاذ کا مقصد منتقلی زر کی غیر قانونی شکل( ہنڈی) سے بچنا تھا، نیز ضائع ہونے یا نقصان ہونے کی شکل میں استاذ خود ہی ذمہ دار ہوتے اور اس کا ضمان ادا کرتے، اس لیے کویتی دینار جتنی مقدار میں ان کو ملے تھے، اتنی مقدار میں کویتی دینار ہندوستانی روپے سے اس کا بدل مدرسے میں جمع کردیں اور مابقیہ رقم بشمول منافع اپنے پاس رکھنے کی گنجائش ہے۔

۵)ترغیباً ایسا کہہ دینے میں حرج نہیں ، یہ رشوت میں داخل نہیں، الرشوۃ: مایاخذہ الاخذ ظلما بجھۃ یدفعہ الدافع الیہ من ھذہ الجھۃ، وفی البرجندی: الرشوۃ:مال یعطیہ بشرط ان یعینہ والذی یعطیہ بلاشرط فھو ھدیۃ کذا فی فتاویٰ قاضی خان، قواعد الفقہ، ۳۰۷، ط: اشرفی

واللّٰہ تعالیٰ اعلم

عورتوں کے لیے چہرہ چھپانے کا حکم

آیات و احادیث کی روشنی میں

سوال: فرانس میں برقع پہننے پر پابندی لگانے کی حکومتی سطح پر تیاری چل رہی ہے، فرانس کے صدر کا بیان برقع پر پابندی کے حق میں آچکا ہے، فرانس کے ممبران پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو مسلمانوں میں برقع کی حیثیت کو جاننے کی کوشش کر رہی ہے، وہ کمیٹی مولانا لوگوں سے یہ پوچھتی ہے کہ مذہب اسلام میں جب عورت کے لیے چہرہ کھولنے کی گنجائش ہے تو پھر مسلمان برقع پر پابندی کے خلاف احتجاج کیوں کرتے ہیں؟تو کیا عورت کے لیے چہرہ کھولنا درست ہے؟ کیا اس گنجائش سے ہمیں حجاب کی اہمیت سے دست بردار ہوجانا چاہیے؟

 والسلام

الجواب وباللّٰہ التوفیق:

قرآن کی سات آیات اور حدیث کی ستر روایات سے پتا چلتا ہے کہ شریعت کا اصل مطلوب ایسا حجاب( پردہ) ہے، جس میں عورتوں کا وجود، ان کی نقل و حرکت، ان کا لباس ، ظاہر اور چھپی ہوئی زینت کا کوئی حصہ کسی اجنبی مرد کو نظر نہ آئے۔

 ایسا پردہ گھر کی چہار دیواری یا معلق پردوں کے ذریعہ ہو سکتا ہے، یہی عورت کا اصل مقام ہے اور یہ حجاب( پردہ) کا اول درجہ ہے، جس کا حکم آیات ذیل میںدیا گیا ہے:

 (۱)وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی( احزاب: ۳۳) قرار رکھو اپنے گھروں میں( مراد اس سے یہ ہے کہ محض کپڑا اوڑھ لپیٹ کر پردہ کر لینے پر کفایت مت کرو، بلکہ پردہ اس طریقہ سے کرو کہ بدن مع لباس نظر نہ آئے( البتہ ضرورت کے مواقع اس مستثنیٰ ہیں) اور پہلے زمانہ جاہلیت کی طرح اظہار کرتی مت پھرو( جس میں بے پردگی رائج تھی)

(جاری ہے)

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor