Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت دائود علیہ السلام (قرآن کے سائے میں) 540

قرآن کے سائے میں

حضرت دائود علیہ السلام

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 540)

ومااسئلکم علیہ من اجران اجری الا علی اللّٰہ(اور میں تم سے اس خدمت کا کوئی معاوضہ نہیں چاہتا میر ا معاوضہ تو اللہ کے ذمہ ہے)

 حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث بخاری کا مقصد یہ ہے کہ خلیفۂ اسلام کو اگر چہ بیت المال سے بقدر کفاف وظیفہ لینا درست ہے لیکن افضل یہ ہے کہ اس پر بار نہ ڈالے، چنانچہ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت اس تمام رقم کو واپس کردیاتھا جو انہوں نے زمانۂ خلافت میں بیت المال سے وظیفہ کی شکل میں لی تھی۔ اسی طرح دوسری خدماتِ اسلامی پر معاوضہ لینے کا معاملہ الگ ہے، چنانچہ حضرت دائود علیہ السلام کی اس خواہش کو اللہ تعالیٰ نے اس فضیلت کے ساتھ قبول فرمایا کہ ان کے ہاتھ میں لوہے اور فولاد کو موم کی طرح نرم کردیا کہ جب وہ زرہ بناتے تو سخت مشقت اور آلاتِ خدادی کے بغیر فولاد کو جس طرح چاہتے کام میں لاتے اور ان کے ہاتھ میں موم کی طرح بآسانی ہر قسم کی شکل اختیار کرلیتا تھا۔

 قرآن عزیز نے اس واقعہ کو سورئہ انبیاء اور سورئہ سبا میں اس طرح بیان کیا ہے:

والنا لہ الحدید ان اعمل سابغات وقدر فی السردواعملواصالحا انی بما تعملون بصیر

’’اور ہم نے اس( دائود) کے لئے لوہا نرم کردیا کہ بنازرہیں کشادہ اور اندازہ سے جوڑ کڑیاں، اورتم جو کچھ کرتے ہومیں اس کو دیکھتا ہوں۔‘‘(سبا)

وعلمناہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من بأسکم فھل انتم شاکرون

’’اور ہم نے اس ( دائود) کو سکھایا ایک قسم کا لباس بناناتاکہ تم کو لڑئی کے موقعہ پر اس سے بچائو حاصل ہو۔ پس کیا تم شکر گزار بنتے ہو۔‘‘(انبیائ)

توراۃ اور‘‘لوہے کے استعمال کے زمانہ کی تاریخ‘‘ سے پتہ چلتا ہے کہ دائود علیہ السلام سے پہلے لوہے کی صنعت نے اس حدتک ترقی کرلی تھی کہ فولاد کو پگھلا کر اس سے سپاٹ ٹکڑے بناتے اور ان کو جوڑ کر زرہ بنایا کرتے تھے۔

 لیکن یہ زرہ بہت بھاری ہوتی تھی اور چند قوی ہیکل انسانوں کے علاوہ عام طریقہ سے ان کا استعمال مشکل اور دشوار سمجھا جاتا تھا اور میدان جنگ میں سبک خرامی دشوار ہوجاتی تھی۔

 حضرت دائود علیہ السلام پہلے شخص ہیں جن کو خدائے تعالیٰ نے یہ فضیلت بخشی کہ انہوں نے تعلیم وحی کے ذریعہ ایسی زرہیں ایجاد کیں جو باریک اور نازک زنجیروں کے حلقوں سے بنائی جاتی تھیں اور ہلکی اور نرم ہونے کی وجہ سے میدان جنگ کا سپاہی اس کو پہن کر بآسانی نقل و حرکت بھی کر سکتا تھا اور دشمن سے محفوظ رہنے کے لئے بھی بہت عمدہ ثابت ہوتی تھیں۔

 سید محمود آلوسی نے روح المعانی میں حضرت قتادہ سے بھی اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔( روح المعانی جلد ۱۷ ص۷۱)

منطق الطیر

حضرت دائود علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان علیہ السلام کو خدائے تعالیٰ کی جانب سے ایک شرف یہ عطا ہوا تھا کہ دونوں بزرگوں کو پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم دیا گیا تھا اور جس طرح ایک انسان دوسرے انسان کی گفتگو سمجھتا ہے، اسی طرح وہ پرندوں کی گفتگو سمجھتے تھے۔

نطقِ طیر کی حقیقت کیا ہے اور حضرت دائود وسلیمان(علیہماالسلام)کو نطقِ طیر کے متعلق کس قسم کا علم تھا۔ اس کی مفصل بحث حضرت سلیمان علیہ السلا م کے واقعات میں آئے گی، لیکن یہ یقینی بات ہے کہ ان کا یہ علم اس طریقہ کا نہ تھا جو علم الحیوانات کے ماہرین نے تخمینی اور ظنی طور پر ایجاد کیا ہے اور جو علمی اصطلاح میں زولوجی(ZOOLOGY) کی ایک شاخ شمار ہوتا ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک موہبت اور بخشش تھی جس سے ان دونوں پیغمبروں کو نوازا گیا تھا۔

تلاوتِ زبور

گذشتہ سطور میں ذکر آچکا ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام جب گھوڑے پر زین کسنا شروع کرتے تو اس سے فارغ ہونے تک مکمل زبور کی تلاوت کر لیا کرتے تھے، تو حضرت دائود علیہ السلام کا یہ معجزہ ’’حرکت زبان‘‘سے تعلق رکھتاہے۔گویا خدائے تعالیٰ حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے زمانہ کو اس مدت میں ایسا سمیٹ دیتا تھا کہ عام حالت میں وہ گھنٹوں کی مقدار بن سکتا ہے یا حضرت دائود علیہ السلام کو سرعتِ اداء الفاظ کی اس درجہ قوت عطا کردی گئی تھی کہ دوسرا شخص جس کلام کو گھنٹوں میں ادا کرے،حضرت دائود علیہ السلام اس کو بخاری کی نقل کردہ روایت کے مطابق مختصر وقت میں ادا کرنے پر قدرت رکھتے تھے اور یہ تو آج بھی مسلّم ہے کہ سرعتِ حرکت کے لئے کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی۔

حضرت دائود علیہ السلام اور دو

 اہم تفسیری مقام

حضرت دائود علیہ السلام کے واقعہ میں دواہم مقام ایسے ہیں جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی اور مفسرین کے تفسیری مباحث کے لحاظ سے بھی اہم شمار ہوتے ہیں اور پہلا مقام اگر چہ اختلافی نہیں ہے مگر دوسرا مقام معرکۃ الآراء بن گیا ہے اور اہل علم کی موشگافیوں نے اس کو کچھ سے کچھ بنا دیا ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ اس حقیقت کو آشکارا کیا جائے اور باطل اوہام ومزعومات کو ادلہ و براہین کی روشنی میں رد کیا جائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor