Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآنی افادات (مولاناسید ابوالحسن علی ندوی) 540

قرآنی افادات

کامیابی کی ضمانت خواہشات نہیں حقائق ہیں

از قلم: مولاناسید ابوالحسن علی ندوی (شمارہ 540)

جاہلیت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف جاہلیت عربیہ مراد ہے اور جاہلیت عربیہ سے مراد ہے بت پر ستی کا دور، دختر کشی کا دور، شراب نوشی کا دور اور رہزنی کا دور… ان کے سامنے صرف یہ آتا ہے لیکن معاشرت، طرز معیشت، طرززندگی، فیصلے کرنے کے معیار و اصول اور رغبات اور نفرتیں ،یہ چیز یں جاہلیت کے تصور کے ساتھ ذہن میں نہیں آتیں، حالانکہ جاہلیت ان سب پر مشتمل ہے۔ اگر جاہلیت کا ترجمہ اردو میں کیا جائے تو اس کا جوترجمہ حاوی ہے اور ان سب چیزوں کو اپنے ضمن میں لے لیتا ہے ،وہ یہ ہے کہ اس سے مرا د وہ دور ہے جو نبوت کی روشنی اور ہدایت سے محروم رہا ہے، قوم کا وہ دور جو نبوت کی روشنی اور ہدایت سے محروم رہا ہے، چاہے وہ یورپ ہو یا ساسانی مملکت ہو، چاہے وہ ہندوستان ہو، چاہے وہ عرب ہو، میں اس کا ایک دوسرا ترجمہ کرتا ہوں’’من مانی زندگی!‘‘ جاہلیت کیا ہے؟من مانی زندگی گذارنا، یہ روح ہے جاہلیت کی ، جاہلیت کی اسپرٹ ہے، جو چیز اسلام کی مخالف و متوازی ہے اور آسمان سے اللہ کے نازل کئے ہوئے ادیان سے اور صحف سماوی سے اور تعلیمات ربانی سے بے نیاز ہے، وہ یہ ہے کہ نبوت اور ہدایت آسمانی کی روشنی سے جو دور محروم ہو وہ جاہلیت ہے اور اس میں پھر کیا ہوتا ہے،زندگی کیسے گذاری جاتی ہے، من مانی زندگی، یعنی جو دل میں آئے جو ہماری سوسائٹی، ہمارا ماحول چاہتا ہے اور جو معیار اس وقت مقرر ہو چکے ہیں اور’’حیثیت عرفی‘‘ کے اظہار کے جو اصول مقرر ہوگئے ہیں ہم تو اس پر چلیں گے، یہ ہے من مانی زندگی! اور اس کو قرآن اور حدیث کی اصطلاح میں’’جاہلیت‘‘ کہا گیا ہے۔

 جو جاہلیت کا نعرہ لگائے

دیکھئے اگر آپ احادیث کا جائز ہ لیں تو آپ کو کئی جگہ ایسا معلوم ہوگا کہ حضورﷺ نے ایسی چیز پر بھی جس کا تعلق عقیدہ سے نہیں تھا، جاہلیت کا اطلاق فرمایا، ایک صحابی ہیں( جن کا نام نہیں لوں گا) ان کا معاملہ اپنے ملازم کے ساتھ کوئی مساویانہ نہیں تھا، آپﷺ نے فرمایا: انک امرؤ فیک جاھلیۃ‘‘ تم ایک ایسے آدمی ہو،تمہارے اندر جاہلیت کی بو ہے، اب عقائد تلاش کر نے کی ضرورت نہیں، خادم کے ساتھ ایسا معاملہ رکھنا کہ یہ مالک ہے اور وہ مملوک ہے، اس کو جاہلیت کہا اور پھر اس سے بڑھ کر ’’من تعزی علیکم بعزاء الجاھلیۃ‘‘ جو تمہارے سامنے جاہلیت کی دعوت دے، عصبیت جاہلیت کی طرف بلائے اور جاہلیت کا نعرہ لگائے، اس کے ساتھ سخت کلامی کرو، سخت سے سخت بات اس کے سامنے کہو’’ولاتکنوا‘‘ اور کنایہ و اشارہ سے بھی کام نہ لو۔ اس کو جاہلیت کیوں کہا؟

فرمایا:’’من تعزی علیکم بعزاء الجاھلیۃ‘‘ اس کے معنی اگر آپ کسی عالم سے پوچھیں تو رونگٹے کھڑے ہوجائیں ۔جو تمہارے سامنے جاہلیت( خلاف اسلام)کا نعرہ لگائے، اس کے کسی فعل یا رواج کی تحسین کرے، تم سخت لفظ استعمال کرو اور ذرا بھی رعایت ، اشارہ اور کنایہ سے کام نہ لو،کون کہہ رہا ہے وہ رحمۃ للعالمینﷺ فرما رہے ہیںاور جوسراپارافت و رحمت ہیں وہ یہ کہہ رہے ہیں، مثال نہیں مل سکتی۔ اس سے آپ اندازہ کیجئے کہ جاہلیت کو، جاہلی زندگی کو، جاہلیت کے معیاروں کو، جاہلی دعوتوں کو کس نظر سے خدا نے بھی دیکھا ہے اور اس کے رسول ﷺ نے بھی دیکھا ہے۔

 یہ سوچنے کی بات ہے کہ آنحضرتﷺ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین اور اعظم ترین پیغمبر کی بعثت جس زمانہ میں ہوئی اس میں ہزاروں عیب تھے، بت پرستی،ظلم و ڈاکہ زنی، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا وغیرہ۔ اسی طریقہ سے پچاس قسم کے عیب ان کے اندر تھے، اس سے مسلمانوں کو سبق لینا چاہئے کہ اس دور کانام ’’جاہلیت‘‘رکھا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس زمانہ کی مذمت کرنے کے لئے اور اس زمانہ کے عیب کو ظاہر کرنے کے لئے اور اس جیسے زمانہ سے ڈرانے کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے عربی جیسی فصیح زبان میں اس عہد کا نام ’’جاہلیت ‘‘رکھا ۔یہ کہا ہوتا کہ بت پر ستی کا زمانہ ،یہ کہا ہو تا کہ کشت وخوں کا زمانہ ، یا یہ کہا ہوتا کہ ظلم و زیادتی کا زمانہ یا خانہ جنگی کا زمانہ ، لیکن قرآن شریف میں اس عہد کا نام ’’جاہلیت‘‘ آیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:

۱)ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ

دیکھو عورتو! تم اس طرح اور بے پردہ نہ پھرو جس طرح جاہلیت اولیٰ میں ہوا کرتا تھا۔

۲)اذجعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ

جبکہ لوگوں نے اپنے دل میں جھوٹی غیرت اور خواہ مخواہ کی خودداری پیدا کی جو جاہلیت اولیٰ کی تھی۔

۳)افحکم الجاھلیۃ یبغون

تو کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلہ کو چاہتے ہیں۔

 اسلام کی صحت کی دلیل جاہلیت اور اس کے متعلقات سے نفرت ہے۔

 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں’’جاہلیت‘‘کا لفظ استعمال کیا ہے، ہم قرآن شریف پڑھتے ہیں، گذر جاتے ہیں ہمیں خیال نہیں آتا، الفاظ کا انتخاب یہ بڑی اہم چیز ہوتی ہے، جس کو مصنف و ادیب محققین اور بڑے وسیع النظر لوگ اور اعلیٰ درجہ کے زبان داں جانتے ہیں کہ کسی چیز کے لئے کسی لفظ کا اگر انتخاب کیاجاتا ہے تو اگر وہ آدمی حقیقت شناس ہے، نبض شناس ہے اور زبان پر اس کو پوری قدرت ہے تو وہ ایسا لفظ انتخاب کرتاہے جو اس کی پوری تصویر کھینچ دے اور اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کی حقارت پیدا ہو تو ایسالفظ لاتا ہے کہ اس سے حقارت پیدا ہوجائے، اگر تعریف کرنا چاہتا ہے تو ایسا لفظ لاتا ہے جس سے اس کی عظمت پیدا ہو، عزت پیدا ہو۔

 اللہ تعالیٰ زبانوں کا ،الفاظ کا خالق ہے، معانی و حقائق کا خالق ہے اور ادیبوں، شاعروں اور بڑے بڑے اہل کمال کا خالق ہے، وہ اس عیب کو کسی اور لفظ سے تعبیر کر سکتا ہے، لیکن دیکھئے یہ ہم کو سبق دیا گیا ہے کہ ہمیشہ جاہلیت سے ڈریں کہ وہ جو زمانہ باقی رہنے کے قابل نہیں تھا، خدا جانے کس وقت اس پر اللہ کا عذاب آجاتا، اللہ تعالیٰ نے بڑا رحم و کرم فرمایا، انسانیت پر رحم فرمایا کہ عرب کے اس دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے محبوب ،سب سے بڑے پیغمبر کو پیدا کیا۔ لیکن اس زمانہ کا جب ذکر آتا ہے اور قرآن شریف میں اس کی صفت آتی ہے تو جاہلیت کے لفظ سے آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بڑے جلال سے ارشادفرمایا:’’افحکم الجاھلیۃ یبغون‘‘یہ اسلام کے قانون کو نہیں مانتے اور شریعت کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کرتے تو کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلہ کو چاہتے ہیں۔

 یہاں پر دیکھئے اس غصہ کا اظہار کر نے کے لئے کتنا سخت لفظ آنا چاہئے تھا، مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی نگاہ میں اور قرآن کریم کی زبان میں’’جہالت‘‘ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کو ’’جاہلیت‘‘ کہا گیا۔

 اسلام کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ ( کفر)’’جاہلیت‘‘ اور اس کے پورے ماحول، اس کے تمام متعلقات اس کی تمام خصوصیات اور شعائر سے نفرت پیدا ہوجائے، اس کی طرف واپسی اور اس میں مبتلا ہوجانے کے تصور سے آدمی کو تکلیف ہو اور ایمان کی پختگی یہ ہے کہ وہ کفر (زمانہ جاہلیت) کے کسی ادنیٰ سے ادنیٰ کام کے مقابلہ میں موت کو زیادہ پسند کرتا ہو۔

 ’’افحکم الجاھلیۃ یبغون‘‘ کیا جاہلیت کے رسم ورواج کو چاہتے ہیں، کیا جاہلیت کی ترجیح و انتخاب کو چاہتے ہیں؟ جاہلیت کے فیصلہ کو چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ حکم کے معنی صرف فیصلہ کے نہیں ،بلکہ ترجیح و اختیار کے بھی آتے ہیں، یعنی آدمی کسی چیز کو اختیار کرتا ہے جو قوت محرکہ ہوتی ہے جو اس کی دلیل ہوتی ہے وہ بھی اس کے اندر شامل ہوتی ہے کیا جاہلیت کا فیصلہ قبول کریں گے، جاہلیت نے جس چیز کو ترجیح دی ہے، اختیار کیا ہے اس کو اختیار کریں گے اس پر چلیں گے؟ یہ جائز نہیں ۔

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor