Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری) 540

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری)

مترجم: مولانا طلحہ السیف (شمارہ نمبر 540)

حدیث۳۶۷:ذمیوں کی سفارش اور ان سے معاملہ کرنا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جمعرات کا دن! کیا ہے جمعرات کا دن! اس کے بعد وہ اس قدر روئے کہ آنسوئوں سے زمین کی کنکریاں تر ہوگئیں۔ پھر کہنے لگے کہ جمعرات کے دن رسول اللہﷺکی بیماری زیادہ ہوگئی تو آپﷺ نے فرمایا: میرے پاس لکھنے کے لیے کچھ لائو تاکہ میں تمہیں ایک تحریر لکھوادوں، تم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔ لیکن لوگوں نے اختلاف کیا اور نبی کریمﷺکے پاس جھگڑنا مناسب نہیں۔ پھر لوگوں نے کہا: رسول اللہﷺتو جدائی کی باتیں کررہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی جانب تم مجھے بلارہے ہو اور آپ ﷺنے اپنی وفات کے وقت تین باتوں کی وصیت فرمائی:

مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا اور قاصدوں کو اسی طرح انعام دینا جس طرح میں دیتا تھا۔ راوی کہتا ہے کہ میں تیسری بات بھول گیا ہوں۔

مغیرہ بن عبدالرحمن نے جزیرۂ عرب کے متعلق فرمایا کہ وہ مکہ، مدینہ، یمامہ اور یمن ہے۔ ان کے شاگرد یعقوب نے کہا: اور مقام عرج جہاں سے تہامہ شروع ہوتا ہے۔

حدیث۳۶۸:وفود کی آمد پر خود کو آراستہ کرنا

 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا بازار میں فروخت ہوتا پایا تو وہ اسے رسول اللہﷺکی خدمت میں لائے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپﷺ یہ جوڑا خرید لیں تاکہ عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن کیا کریں۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: یہ لباس تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ یا (فرمایا): یہ تو وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جتنے دن چاہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہے آخر ایک دن نبی کریمﷺنے ایک ریشمی جبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تھا یہ ان لوگوںکا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا یا اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود آپﷺ نے اسے میری طرف ارسال فرمایا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: تم اسے فروخت کردو۔ یا (فرمایا) اس سے اپنی کوئی اور ضرورت پوری کرلو۔

حدیث۳۶۹:بچوں پر اسلام کیسے

پیش کیا جائے؟

 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی کریمﷺکے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ابن صیاد کی طرف گئی۔ آخر بنومغالہ کے ٹیلوں کے پاس اسے بچوں کے ہمراہ کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت وہ قریب البلوغ تھا۔ اسے آپﷺکی آمد کا کچھ علم نہ ہوا حتیٰ کہ نبی کریمﷺنے اپنا دست مبارک اس کی پشت پر مارا پھر نبی کریمﷺنے فرمایا: کیا تو اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپﷺ کی طرف دیکھا اور کہا: ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺان پڑھ لوگوں کے رسول ہیں؟ پھر ابن صیاد نے نبی کریمﷺسے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں؟ یہ سن کر نبی کریمﷺنے فرمایا: میں تو اللہ اور اس کے سچے رسولوں پر ایمان لایا ہوں۔ پھر نبی کریمﷺنے فرمایا: تجھے کیا نظر آتا ہے؟ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ نبی کریمﷺنے فرمایا: تجھ پر حقیقت حال مشتبہ ہوگئی ہے۔ پھر نبی کریمﷺنے اس سے کہا: میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات سوچی ہے (بتا ؤوہ کیا ہے؟) ابن صیاد نے کہا: وہ دخ ہے۔ نبی کریمﷺنے فرمایا: ذلیل اور کم بخت! تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن ماردوں۔ نبی کریمﷺنے فرمایا: اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اس پر ہرگز مسلط نہیں ہوسکتے اور اگر یہ وہ نہیں تو اس کے قتل کرنے

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor