Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 540

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 540)

ابن ماجہ کی روایت میں حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں:

’’کنا مع النبیﷺ و نحن فتیان حزاورۃ فتعلمنا الایمان ثم تعلمنا القران فازددنابہ ایمانا‘‘(سنن ابن ماجہ : کتاب الایمان، حدیث:۲۰)

’’ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور ہم ابھی لڑکے سے تھے، کہنا چاہئے کہ جو ان بھی نہیں ہوئے تھے۔ رسول اللہﷺ ہمیں تعلیم فرماتے تھے تو ہم نے سب سے پہلے ایمان سیکھا، اس کے بعد قرآن مجید سیکھا اور پھر قرآن مجید کے سیکھنے کی برکت یہ ہوئی کہ قرآن مجید کے سیکھنے کے بعد ہمارے ایمان میں اضافہ ہوگیا۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’رسول اللہﷺ کے زمانے میں ایک سورت نازل ہوتی یا ایک آیت یا زیادہ تو مسلمانوں کے ایمان اور خشوع میں اضافہ ہوجاتا، جس آیت نے جس چیز سے روکا ہوتا اس سے وہ رک جاتے اور جس چیز کا حکم فرمایا ہوتا اس پر وہ جم جاتے ۔‘‘

کامل ایمان کی تین نشانیاں

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ ایمان کا کون ساعمل سب سے افضل ہے؟فرمایا:یہ کہ تم اللہ کے لئے محبت کرو، اللہ کے لئے بغض رکھواوراپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں استعمال کرو۔میں نے عرض کیا:یارسول اللہ! اس کے بعد؟فرمایا: اور اس کے بعد یہ کہ تم دوسروں کے لئے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور دوسروں کے لئے بھی وہی چیز ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔‘‘

تشریح: ایمان کا نور جب دل میں سماجائے تو آدمی کی زندگی میں انقلاب برپا ہوجاتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا ایک ایسا تعلق پیداہوجاتا ہے کہ محبوب حقیقی کی رضا کا حصول اس کی زندگی کا نصب العین بن جاتا ہے، اس حدیث پاک میں اس’’ایمانی انقلاب‘‘ کی بڑی بڑی علامتیں بیان فرمائی گئی ہیں، پہلی علامت یہ ہے کہ آدمی کی محبت اور بغض کا پیمانہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات بن جائے، وہ کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر اور کسی سے بغض رکھے تو وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے۔

 ایک اور حدیث میں ارشاد ہے:

’’جس نے محبت کی تو اللہ تعالیٰ کے لئے، کسی سے بغض رکھا تو اللہ تعالیٰ کے لئے ، کسی کو کچھ دیا تو اللہ تعالیٰ کے لئے اور نہ دیا تو اللہ تعالیٰ کے لئے، ایسے شخص نے اپنا ایمان مکمل کرلیا۔‘‘( الترغیب و الترہیب: ج۴ ص۲۴)

ایک اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ایک منادی اعلان کرے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت کرتے تھے؟یہ اعلان سن کر کچھ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور ان کے لئے جنت میں جانے کا حکم ہوگا اور باقی لوگوں کا حساب و کتاب شروع ہوجائے گا۔

 دوسری علامت یہ بیان فرمائی کہ مومن کی زبان صرف ذکر الہٰی میں استعمال ہو اور اس کی زبان سے کبھی کوئی ایسا لفظ نہ نکلے جو محبوب حقیقی کی ناراضی کا موجب ہو، اللہ تعالیٰ کا ذکر ایمان کا زیور اور روح کی غذا ہے، دنیا میں ذکرالہٰی سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں اور ذکر الہٰی سے محرومی سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں، جو شخص ذکر الہٰی کی لذت سے نا آشناہے اس کی روح ہمیشہ مضطرب اور اس کا دل ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔

 ’’ایمانی انقلاب‘‘ کی تیسری علامت اس حدیث پاک میں یہ بیان فرمائی کہ مومن دوسروں کے لئے بھی اسی چیز کو پسند کرتا ہے جسے اپنے لئے پسند کرتا ہے اور جس چیز کو اپنے لئے پسند نہیں کرتا، اسے دوسروں کے لئے بھی پسند نہیں کرتا۔

 پہلی دوعلامتیں’’ حقوق اللہ‘‘ سے متعلق تھیں اور اس تیسری علامت کا تعلق’’حقوق العباد‘‘ سے ہے، مطلب یہ کہ مومن اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے سراپا خیر بن جاتا ہے اس کی زبان سے، اس کے ہاتھ پائوں سے، اس کے طور و طریق سے اللہ تعالیٰ کے کسی بندے کو ایذاء نہیں پہنچتی۔ جس طرح وہ یہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اس پر زیادتی کریں اس کی عزت و آبرو پر ہاتھ ڈالیں، اسے ذلیل کریں، اسی طرح وہ خود بھی کسی پر ظلم و زیادتی اور کسی سے بے انصافی کا برتائو نہیں کرتا، ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ مومن سراپا اُلفت ہے اور اس شخص میں کچھ بھی خیر نہیں جو نہ کسی سے اُلفت کرے اور نہ کوئی اس سے اُلفت کرے۔

 اس حدیث پاک میں جو تین علامتیں بیان فرمائی گئی ہیں یہ ہمارے ایمان کو جانچنے، پرکھنے کے لئے صحیح پیمانے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پیمانے پر پورا ترنے کی توفیق بخشیں۔

 ایمان والے آپس میں مودت و محبت رکھنے والے ہوتے ہیں

 ’’حضرت نعمان بن بشیررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: مثال ایمان والوں کی ان کے آپس میں دوستی کرنے میں اور ایک دوسرے پر شفقت کرنے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم کہ اگر جسم کا ایک حصہ بیمار پڑتا ہے تو جسم کا باقی حصہ بھی بے آرامی اور بخار کے ساتھ اس کے ساتھ موافقت کرتا ہے۔‘‘

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor