Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفقہ 546

الفقہ

چند اہم عصری مسائل ازافادات مفتی زین الاسلام قاسمی…سے ماخوذ ہیں

(شمارہ 546)

۴)الف: اندرون خانہ بیرون خانہ دونوں صورتوں میں ذریعہ معاش اختیار کرنے کے لیے والد یا شوہر کی اجازت ہونا ضروری ہے، ہاں اگر شوہر ناکارہ ہے، نان و نفقہ میں لاپرواہی کرتا ہے، اندرون خانہ رہ کر مناسب معاش سے گزراہ نہ ہو سکتا ہو تو پھر شوہر کی اجازت ضروری نہیں۔

 

(ب) عورت اپنی تنخواہ کی مالک خود ہوگی۔

 واللہ تعالیٰ اعلم

خواتین کی ملازمت کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں:

کیا مسلم خواتین سرکاری وغیر سرکاری نوکریاں کر سکتی ہیں یا نہیں؟ کرنے اور نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ اگر شوہر تنگدست ہو تو اس صورت میں بیوی کے لیے نوکری کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟

قرآن و حدیث کی روشنی میں مذکورہ جزئیات کے جوابات مدلل ومفصل تحریر فرمائیں، عین کرم ہوگا۔

الجواب وباللّٰہ التوفیق:

شریعت نے اصالۃً عورت پر کسبِ معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے بلکہ مردوں کو کسبِ معاش کا مکلف بنایا ہے، چنانچہ شادی تک لڑکیوں کا نان ونفقہ والد کے ذمے اور شادی کے بعد شوہر پرواجب قرار دیا ہے، یہی لوگ اس کے نان ونفقہ کے ذمہ دار ہیں۔ الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللّٰہ بعضھم علی بعض وبما انفقوا من اموالھم( سورہ نسائ:۳۴)

ترجمہ:مرد حاکم ہیں عورتوں پراس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔

 اس لیے کسی عورت کو اگر نفقہ کی تنگی یا مخصوص حالات کے تحت معاشی بدحالی کا سامنا نہیں، تو محض معیارزندگی بلند کرنے اور زندگی پر ترفہ پیدا کرنے کے لیے گھر سے باہر نکل کر ملازمت کے لیے پیش قدمی کرنا شریعت کی نظر میں پسندیدہ عمل نہیں، لیکن اگر عورت کو معاشی تنگی کا سامنا ہوا ور شوہر اس کی ذمہ داری اُٹھانے سے قاصر ہو یاتساہلی کرتا ہو، یاعورت بیوہ ہو اور گھر میں رہ کر اس کے لئے کوئی ذریعہ معاش اختیار کرنا ممکن نہ ہو، تو ایسی مجبوری اور ضرورت کے وقت ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی، چنانچہ حضرات فقہائے کرام نے معتدۃ الوفات کو کسبِ معاش کے لیے دن دن میں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے، مگر ایسی مجبوری اور ضرورت کے وقت باہر نکل کرملازمت کے جائز ہونے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ ملازمت کا کام فی نفسہٖ جائز ہو، ایسا کام نہ ہوجو شرعاً ناجائز یا گناہ ہو، کیونکہ ممنوع و ناجائز کام کی ملازمت بہر صورت ناجائز ہے۔

 عورت کے لیے ملازمت ناگزیر ہونے کی صورت میں اور اس شرط کے پائے جانے کے ساتھ کہ وہ ملازمت جائز کام کی ہے دوسری ضروری شرط احکامِ ستر و حجاب کی پوری پابندی کرنا ہے، اس کی تفصیل شرعی تعلیمات کی روشنی میں درج ذیل ہے:

(الف)شرعی پردہ کی مکمل رعایت ہو، باہر نکلنے کے وقت شدید ضرورت کی حالت میں اگرچہ چہرہ اور ہاتھ کھولنے کی اجازت ہے، مگر فتنے کا خوف ہو تو ان کے کھولنے سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے، موجودہ دور جو فتنہ کا خوف ناک دور ہے، اس میں عام حالات میں حکم چہرہ چھپانے ہی کا ہے۔

 (ب) لباس دبیز، سادہ اور جسم کے لیے ساتر ہو، بھڑک دار، جاذب، پرکشش اور نیم عریاں قسم کا نہ ہو اور ایسا لباس بھی نہ ہو جس سے جسم کا کوئی حصہ نمایاں ہوتا ہو، کیونکہ حدیث میں عورت کے لیے ایسا لباس پہننے کی ممانعت اور وعید وارد ہوئی ہے:

رب نساء کا سیات عاریات ممیلات و مائلات،لاید خلن الجنۃ ولا یجدن ریحھا و ان ریحھا لیوجد من مسیرۃ کذا وکذا

ترجمہ:کچھ عورتیں ہیں جو کپڑا پہننے والی ہیں( مگر) وہ برہنہ ہیں، دوسروں کو مائل کرنے والی ہیں اور خود بھی مائل ہونے والی ہیں( ایسی عورتیں) ہر گز جنت میں نہیں جائیں گی اور نہ اس کی خوشبو سونگھ پائیں گی حالانکہ اس کی بو اتنی اتنی دورسے آئے گی۔( مسلم شریف:۱/۳۹۷)

(ج) بنائو سنگار اور زیب و زینت کے ساتھ نیز خوشبو لگا کر نہ نکلے، قرآن کریم میں اس سے ممانعت وارد ہوئی ہے ارشاد باری ہے:ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی(احزاب:۳۳)

احادیث میں بھی خوشبو لگا کر نکلنے والی عورت کو زانیہ قرار دیا گیا ہے:کل عین زانیۃ والمرأۃ اذااستعطرت فمرت بالمجلس فھی کذا وکذا یعنی زانیۃ(ترمذی: رقم،۲۷۸۶)

ترجمہ : ہر آنکھ زناکرنے والی ہے اور عورت جب خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گذرتی ہے تو وہ زنا کرنے والی ہوتی ہے۔

 (د) مردوں سے بالکل اختلاط نہ ہو اگر کبھی کسی مرد سے اتفاقیہ گفتگو کی نوبت آئے تو عورت لوچ دار طرزِ گفتگو کے بجائے سخت لہجہ اختیار کرے تاکہ دل میں بے جا قسم کے وساوس و خیالات پیدا نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض(الآیۃ احزاب:۳۲)

ترجمہ:تم بولنے میں نزاکت مت کرو کہ ایسے شخص کو خیال ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے۔

 (ھ) ایسازیور پہن کر نہ نکلے جس سے آواز آتی ہو،ولا یضربن بارجلھن لیعلم مایخفین من زینتھن

ترجمہ:اور اپنے پائوں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجاوے۔( النور:۳۱)

 (و) ملازمت کرنے کی وجہ سے خانگی امور میں لاپروائی نہ ہو جس سے شوہر اور بچوں کے حقوق ضائع ہوں، کیونکہ عورت کی اولین اور اہم ذمہ داری بچوں کی تعلیم و تربیت اور امور خانہ داری ہے، ملازمت ثانوی درجہ کی چیز ہے، شریعت نے عورت کو اس کا مکلف بھی نہیں بنایا۔

(ز) راستہ پر امن ہو، یعنی آمد و رفت کے دوران کسی شر اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔

مذکورہ شرطیں قرآن و حدیث سے ثابت ہیں، فقہائے کرام نے ان کی صراحت کی ہے، ان شرائط کا لحاظ رکھتے اور ان پر عمل کرتے ہوئے اگر جائز کام کی ملازمت عورت اختیار کرے تو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے، مگر غور کا مقام ہے کہ اکثر جگہوں میں دوران ِ ملازمت ان میں سے بیشتر شرائط مفقود ہوتی ہیں اور یہ بھی غور کرنے کا مقام ہے کہ جہاں عورتوں کی ملازمت سے بظاہر کچھ فوائد محسوس کئے جاتے ہیں وہیں معاشرے پر اس کے بہت زیادہ خراب اثرات بھی پڑ رہے ہیں، مثلاً خاندانی رکھ کھائو ختم ہوجاتا ہے، زوجین کے مزاج و انداز میں ایک دوسرے سے دوری پیداہو جاتی ہے، بچوں کی تربیت نرسری کے حوالے ہوجاتی ہے، عورت کی ملازمت ہی کے نتیجے میں طلاق و تفریق کے مسائل بھی بہ کثرت رونما ہورہے ہیں۔

(جاری ہے)

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor