Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری) 546

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری)

مترجم: مولانا طلحہ السیف (شمارہ نمبر 546)

حدیث ۳۹۰:فتوحات کی بشارت دینا

 حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہﷺنے فرمایا: تم ذی الخلصہ کو تباہ کرکے مجھے کیوں خوش نہیں کرتے ہو؟ یہ قبیلۂ خثعم کابت کدہ تھا جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا، چنانچہ میں (قبیلے) احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر تیار ہوگیا اور یہ سب بہترین شہسوار تھے۔ میں نے نبی کریمﷺکو بتایا کہ میں گھوڑے پر اچھی طرح جم کر بیٹھ نہیں سکتا تو آپﷺ نے میرے سینے پر تھپکا دیا حتیٰ کہ میں نے آپ ﷺکی انگلیوں کا اثر اپنے سینے میں پایا۔ پھر آپﷺ نے دعاء فرمائی: اے اللہ! اس کو گھوڑے پر جمادے، اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنادے۔ اس کے بعد جریر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور اسے تباہ وبرباد کرکے آگ میں جلا دیا۔ پھر نبی کریمﷺکو خوشخبری دینے کے لیے آپ ﷺکی طرف قاصد روانہ کیا۔ جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد نے رسول اللہﷺسے کہا: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس وقت تک آپﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا جب تک وہ بت کدہ جل کر خارشی اونٹ کی طرح سیاہ نہیںہوگیا۔ تب (یہ سن کر) آپﷺنے قبیلۂ احمس کے شہسواروں اور ان کے پیدل جوانوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعاء فرمائی۔

خوشخبری دینے والے کو انعام دینا

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو جب ان کی توبہ قبول ہونے کی بشارت سنائی گئی تو انہوں نے (خوشخبری دینے والے کو) دو کپڑے بطور انعام پیش کیے۔

حدیث ۳۹۱:فتح مکہ کے بعد (مکہ سے) ہجرت نہیں ہے

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریمﷺنے فتح مکہ کے دن فرمایا: اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ حسن نیت اور جہاد باقی ہے اور جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو فوراً نکل جائو۔

حدیث ۳۹۲:فتح مکہ کے بعد (مکہ سے) ہجرت نہیں ہے

 حضرت مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بھائی حضرت مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یہ مجالد ہیں اور آپﷺ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ آپﷺنے فرمایا: فتح مکہ کے بعد تو ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ دین اسلام پر (استقامت کی) بیعت ان سے لے لیتا ہوں۔

حدیث ۳۹۳:فتح مکہ کے بعد (مکہ سے) ہجرت نہیں ہے

حضرت عطاء سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں عبید بن عمیر کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ ثبیر پہاڑ کے دامن میں تشریف فرما تھیں۔ انہوں نے ہمیں فرمایا: جب سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمﷺ کو مکہ مکرمہ پر فتح دی ہے، اس وقت سے ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor