Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت دائود علیہ السلام (قرآن کے سائے میں) 546

قرآن کے سائے میں

حضرت دائود علیہ السلام

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 546)

نیز قرآن عزیز اور بنی اسرائیل کی تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام حجرہ بند کر کے عبادت اور تسبیح و تحمید کیا کرتے تھے تاکہ کوئی خلل انداز نہ ہوسکے۔ گویا تقسیم ایام میں صرف یہی ایک دن ایسا تھا جس میں حضرت دائود علیہ السلام تک کسی کا پہنچنا سخت دشوار تھا اور بنی اسرائیل سے ان کا تعلق منقطع ہوجاتا تھا اور باقی ایام میں اگر کوئی خاص ہنگامی صورت پیش آجائے تو حضرت دائو علیہ السلام کے ساتھ واسطہ باقی رہتا تھا اور وہ اپنے معاملات کو ان کی جانب رجوع کر سکتے تھے۔

 اب غور طلب بات یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عبادت الہٰی اور خدا کی تسبیح و تہلیل ایک مسلمان کا مقصدِ حیات ہے، تاہم خدائے تعالیٰ نے جن ہستیوں کو اپنی مخلوق کی رشد وہدایت اور خدمت خلق کے لئے چن لیا ہے ان کے لئے’’ کثرت عبادت‘‘ کے مقابلہ میں’’ادائیگی فرض میں انہماک‘‘ عند اللہ زیادہ محبوب اور پسندیدہ عمل ہے۔ بے شبہ ایک صوفی اور مرتاض عابد وزاہد جس قدر بھی گو شہ گیر اور خلوت پذیر ہو کر عبادات میں مشغول رہتا ہے’’منصب ولایت‘‘ کے درجات کو اسی قدر زیادہ حاصل کرتا رہتا ہے۔ بخالف’’منصبِ نبوت‘‘ و’’منصبِ خلافت‘‘ کے کہ خدائے تعالیٰ کی جانب سے اس کی موہبت وعطا کی غرض وغایت مخلوق کی رشدو ہدایت اور ان کی خدمت وصیانت ہے۔ اس لئے اس کاکمال مخلوق کے ساتھ رشتہ و تعلق قائم کر کے احکام الہٰی کی سربلندی کرنا ہے نہ کہ خلوت گزیں ہو کر’’صوفی‘‘ بننا۔

لہٰذا حضرت دائود علیہ السلام کی یہ تقسیم ایام اگرچہ زندگی کے نظم اور تقسیم عمل کے لحاظ سے ہر طرح قابل ستائش تھی، لیکن اس میں ایک دن کو عبادت الہٰی کے لئے اس طرح خاص کرلینا کہ ان کا تعلق مخلوق خدا سے منقطع ہوجائے ’’منصب نبوت‘‘ اور منصب خلافت کے منافی تھا اور حضرت دائود علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر اور خلیفۃ اللہ کے لئے کسی طرح موزوں نہ تھا۔ اس لئے کہ حضرت دائود علیہ السلام کوایک گوشہ نشین عابد و زاہد اور مرتاض کی حیثیت سے نہیں نوازہ تھا بلکہ ان کو نبوت اور خلافت بخش کر مخلوق کی دینی و دنیوی ہر قسم کی خدمت و ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا تھا اور اس طرح ان کی حیات طیبہ کا شاہکار’’ہدایت خلق‘‘ اور ’’خدمت خلق‘‘ تھا نہ کہ’’کثرت عبادت‘‘ چنانچہ حضرت دائود علیہ السلام کی اس روش کو ختم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح آزمائش(فتنہ) میں مبتلا کردیا کہ دوشخص جن کے درمیان ایک خاص مناقشہ تھا۔ عبادت کے مخصوص دن میںحجرہ کی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوگئے۔ حضرت دائود علیہ السلام نے اچانک خلاف عادت اس طرح دو انسانوں کو موجود پایا تو بہ تقاضائے بشری گھبرا گئے۔ دونوں نے صورتِ حال کا اندازہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ آپ خوف نہ کریں۔ ہمارے اچانک اس طرح داخل ہونے کی وجہ یہ قضیہ ہے اور ہم اس کا فیصلہ چاہتے ہیں۔

 تب حضرت دائود علیہ السلام نے واقعات کو سنا اور مسطورئہ بالا نصیحت فرمائی۔

 قرآن عزیز نے اس مقام پر قضیہ کے عام پہلوئوں کو نظر انداز کردیا کیونکہ وہ ہر فہم رسا میں خود بخود آجاتے ہیں کہ دائود علیہ السلام کا فیصلہ بلاشبہ حق کے مطابق ہی رہا ہوگا اور اس نے صرف اسی پہلو کو نمایاں کیا جس کا تعلق ’’رشد و ہدایت‘‘ سے تھا، یعنی زبردستوں کا زیر دستوں کے ساتھ ظلم کرنا۔

 غرض فریقین کا فیصلہ کرنے کے بعد حضرت دائود علیہ السلام کو فوراً تنبہ ہوا کہ مجھ کو خدائے تعالیٰ نے اس آزمائش میں کس لئے ڈالا ہے اور وہ حقیقتِ حال کو سمجھ کر خدا کی درگاہ میں سربسجدہ ہوئے اور استغفارکیا اور اللہ تعالیٰ نے استغفار کو شرفِ قبولیت عطا فرما کر ان کی عظمت کو اور دوبالا کردیا اور پھر یہ نصیحت فرمائی کہ’’ اے دائود! ہم نے تم کو زمین میں اپنا’’خلیفہ‘‘ بنا کر بھیجا ہے اس لئے تمہارا فرض ہے کہ خدا کی اس نیابت کا پورا پورا حق ادا کرو اور یہ خیال رکھو کہ اس راہ میں عدل و انصاف بنیاد کا ررہے اور صراط مستقیم سے ہٹ کر کبھی بھی افراط و تفریط کی راہ کو اختیار نہ کرو۔

 ۴) قیاس و اجتہاد یا آثار صحابہ سے استنباط پر مبنی گزشتہ تو جیہات سے جد امشہور محدث حاکم نے مستدرک میں خود حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ان آیات کی تفسیر نقل کی ہے اور محدثین نے اس روایت کو صحیح اور حسن تسلیم کیا ہے۔ لہٰذا بلاشبہ اس کو مسطورئہ بالا تو جیہات پر برتری اور تفوق حاصل ہے۔

 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت دائود علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ حضرت دائود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں ازراہِ فخر عرض کیا: بارِ الہا! دن اور رات میں ایک ساعت بھی ایسی نہیں گزرتی کہ دائودیا آل دائود میں سے کوئی شخص ایک لمحہ کے لئے بھی تیری تسبیح و تہلیل میں مشغول نہ رہتا ہو۔

 اللہ تعالیٰ کو اپنے مقرب پیغمبر حضرت دائود علیہ السلام کا یہ فخر یہ انداز پسند نہ آیا۔وحی آئی: دائود! یہ جو کچھ بھی ہے صرف ہماری اعانت اور ہمارے فضل و کرم کی وجہ سے ہے ورنہ تجھ میں تیری اولاد میں یہ قدرت کہاں کہ وہ اس نظم پر قائم رہ سکیں اور اب جبکہ تم نے یہ دعویٰ کیا ہے تو میں تم کو آزمائش میں ڈالوں گا۔ حضرت دائود علیہ السلام نے عرض کیا: خدایا! جب ایسا ہو تو پہلے سے مجھ کو اطلاع دے دی جائے لیکن آزمائش کے معاملہ میں حضرت دائود علیہ السلام کی استدعاقبول نہیں ہوئی اور حضرت دائود علیہ السلام کو اس طرح فتنہ میں ڈال دیا گیا جو قرآن عزیز میں مذکور ہے۔(مستدرک جلد ۲ صفحہ ۴۳۳)

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor