Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآنی افادات (مولاناسید ابوالحسن علی ندوی) 546

قرآنی افادات

کامیابی کی ضمانت خواہشات نہیں حقائق ہیں

از قلم: مولاناسید ابوالحسن علی ندوی (شمارہ 546)

یہ کس طرح کی وصیت ہے، سوچئے آپ ذرا سا اپنے ذہن کو حاضر کر کے اور اس وقت کو سامنے لا کر… یہ ہیں کون جن سے بات ہو رہی ہے؟ یہ نبی زادے ہیں ، ولی زادے نہیں !ولی زادے بڑی چیز سمجھے جاتے ہیں، بزرگ زادے بڑی چیز سمجھے جاتے ہیں، عالم زادے بڑی چیز سمجھے جاتے ہیں، تو اس پر ہمارا ایمان ہونا چاہئے اگر ہمارا ایمان اس پر نہیںتو ہماراایمان ناقص ہے کہ پیغمبرزادے ہیں ان سے بڑھ کر اس وقت نوع انسانی میں کسی کو نہیں کہا جا سکتا ہے اور پوری روئے زمین پر ان سے بڑھ کر قابل احترام، قابل محبت اور قابل اعتماد کوئی اور انسانی مجموعہ نہیں ہو سکتا۔ نبی کے بیٹے کے بھتیجے، نبی کے پوتے سب کے سب ہیں۔ اورانہوں نے اپنے گھروں میں دیکھا کیا ہے، اپنے گھروں میں دیکھا ہے کہ نمازیں ہو رہی ہیں، اللہ تعالیٰ کا نام لیا جا رہا ہے، ذکر ہو رہا ہے، دعائوں میں رویا جا رہا ہے، اپنی مائوں کو دیکھا انہوں نے کہ بڑے گڑگڑا کر اپنے لئے، ان کے لئے دعائیں کر رہی ہیں اور ان گھروں میں خدا کے نام کے سوا کوئی نام نہیں لیا گیا۔ سنا ہی نہیں انہوں نے کہ دنیا میں کوئی اور بھی ہے اور اس کائنات پر اثر رکھتا ہے اور وہ نفع و ضرر کا مالک ہے اوراس سے کچھ مانگا جا سکتا ہے، کچھ اس سے امیدیں کی جا سکتی ہیں۔ توحید کے سوا کوئی عقیدہ،نمازروزہ کے سوا کوئی عبادت اور اللہ کے خوف و محبت کے سوا انہوں نے کوئی دعوت سنی ہی نہیں ! لیکن کیا بات ہے…
عشق است و ہزار بدگمانی
سارا معاملہ اہمیت کے احساس کا ہے
 جب یقین ہوتا ہے، آدمی کو اہمیت ہوتی ہے کسی چیز کی تو وہ پھر معقولات اور عقلی چیزوں اور مفروضات اور قیاسات پر عمل نہیں کرتا۔ یہی فرق ہے اگر آدمی بیمار ہے واقعی بیمار ہے تو وہ ساری احتیاطیں اُٹھ جاتی ہیں، کتنا ہی وہ غیور ہو اور کتنا ہی وہ خوددار ہو، کتنا ہی وہ ضابط ہو، کتنا ہی صابر اور متحمل ہو، وہ کہہ دیتا ہے اپنے لڑکوں سے، اپنے عزیزوں سے کہ ہمیں یہ تکلیف ہے، ڈاکٹر کو بلا لو، حکیم کو دکھائو، اسی طریقے سے اگرکوئی بھوکا ہوتا ہے واقعی اگر بھوک ہے تو پھر وہاں پر غیرت نہیں چلتی کہ ہم کس منہ سے کہیں کہ کھانا لائو، کھانے کا وقت ہوگیا ہے، بڑے بڑے امیر زادے امیر اور نواب زادے اور والیان ریاست اور حکماء اور جو ان سب چیزوں سے بالا تر سمجھے جاتے ہیں وہ بھی ایسے موقع پر اپنی بھوک کا احساس ظاہرکر دیتے ہیں، تو سارا معاملہ اہمیت کے احساس کا ہے تو بتائیے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کیوں اپنے لڑکوں کو جمع کیا اور کیا ان سے پوچھا ؟ آخری وقت اور تھوڑا ہی وقت ہے بات کرنے کا۔ اس کو اس دنیا سے جانے والے خودبھی سمجھتے ہیں اور وہ خداکا پیغمبرجومُلْہِمْ مِنَ اللّٰہ ہوتا ہے، جس پر وحی نازل ہوتی ہے، اس کو کیوںنہ اس کااحساس ہوگا کہ بس اب چند ہی منٹ کے بعد دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں، ان بیٹوں ،پوتوں کو بلا کر ان سے بات کرنے کی ، بات کیا ہو سکتی تھی؟ تو ہماری سمجھ میں تو یہی آتی ہے اور یہ ہم نے دیکھا کہ کتابوں میں وصیت ناموں میں جانے والے کی گفتگو کے ریکارڈ اگر ہوں تو ریکارڈ، ورنہ جن لوگوں نے دیکھا ہے جن کو اتفاق ہوا ہے سب جانتے ہیں کہ یہی کیا گیا ہے کہ دیکھو بھائی مل جل کر رہنا، صلح وآشتی کے سلیقے اورتہذیب کے ساتھ رہنا، اپنی ماں کا حق جو میں چھوڑ کر جارہا ہوں خیال رکھنا، ، عزیزوں کا خیال رکھنا، صلہ رحمی کا خیال رکھنا ہے۔
 ہزاروں برس سینکڑوں برس سے یہ دور چل رہا ہے کہ ایسے موقع پر ان باتوں کا اطمینان حاصل کیا جاتا ہے، لیکن کیا بات ہے، بات یہی ہے کہ جو دل سے لگی ہوتی ہے جس کی اہمیت ہوتی ہے اور جس کو آدمی فیصلہ کن سمجھتا ہے، جس کو سمجھتا ہے کہ یہ چیز دائمی سعادت یا دائمی شقاوت کا سبب ہے، اس کی طرف پہلے توجہ کرتا ہے، سارا معاملہ کسی چیز کے انتخاب میں اہمیت کے احسا س کا ہے۔
 اپنے بچوں کے دین و ایمان کی حفاظت، دین و ایمان کی معرفت اور پھر اس کی حفاظت اور پھر اس پر غیرت اور پھر اس پر زندگی گذارنے اور اس پر دنیا سے رخصت ہونے کے کام کوسب سے زیادہ اہمیت دیں، اس کے لئے اس سے بہتر واقعہ نہیں ہو سکتا جو میں نے آپ کو سنایا۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بچوں کو، ان کے پوتے بھی ہوں گے اس لئے کہ بڑی عمر میں ان کا انتقال ہوا ہوگا اور اس زمانے میں بھی لمبی عمریں ہوتی تھیں، گھر بھرا ہوگا اس میں بیٹے ،پوتے، نواسے، بھانجے اور بھتیجے ان سب کو شامل سمجھئے۔ عربی کا لفظ لبنیہ جو ہے ان سب پر مشتمل ہے،تو’’ ام کنتم شھداء اذ حضر یعقوب الموت‘‘ کیا اے قرآن کے پڑھنے والو! کیا تم اس وقت موجود تھے۔ جب یعقوب علیہ السلام کا آخری وقت آیا اور موت سامنے آکر کھڑی ہو گئی، گویا بالکل دم واپسیں تھا۔
 ’’ اذقال لبنیہ ماتعبدون من بعدی؟‘‘انہوں نے اپنے بچوں سے کہا کہ بیٹو! میرے جگر کے ٹکڑو! لخت ہائے جگر! نور نظر! یہ بتا دو ایک بات میں سننا چاہتا ہوں، ایک بات کا اطمینان لے کر دنیا سے جانا چاہتا ہوں، کوئی بات قرآن میں اس کے علاوہ کہی نہیں گئی اور ان کی تاریخ میں اور سیرت میں بھی نہیں ملے گی اور صحف سماوی میں بھی نہیں ملے گی کہ انہوں نے اس وقت جب بالکل یہ سمجھئے کہ چند سانسوں کا معاملہ تھا، کتنی سانسیں اور باقی ہیں’’ماتعبدون من بعدی ‘‘ کہ تم میرے بعد عبادت کس کی کرو گے؟ سرکس کے سامنے جھکائو گے۔
 میں آپ سے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ گویا بالکل دیکھ رہا ہوں اور سن رہا ہوں کہ دنیا میں یہ بات کوئی شخص بھی کہیں کہے گا اور یعقوب نے یہ بات کہی،تو قرآن مجید نے اس کا ذکر نہیں کیا تو اس میں بڑی حکمتیں ہیں ،اس کے جواب میں پہلے انہوں نے یہ کہا ہوگا لیکن غیرت توحید نے اور نبوت کے شرف اور اعزاز نے اس کی وجہ سے اس کا محل نہیں تھا کہ کوئی بیچ میں بات اور آتی، اللہ تعالیٰ نے فوراً ان کا جواب نقل کردیا یعنی خدا کی خود سے جو توحید کی وحدانیت ہے اس نے گوارہ نہیں کیا کہ ان کے سوال ان کے جواب کے درمیان کوئی اور بات آجائے مگر میں قیاساً کہتا ہوں کہ بالکل ممکن ہے کہ انہوں نے یہ کہا ہوگا کہ اباجان دادا جان نانا جان! یہ بھی پوچھنے کی بات ہے، آپ نے ہمیں سکھایا کیا تھا اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کیا اور اس گھر میں ہوتا کیا ہے اور ہم کس کی اولاد ہیں ہماری رگوں میں کس کا خون ہے۔ ارے ہم سے آپ پوچھ رہے ہیں یہ تو کہیں کافرقبیلے سے پوچھا جائے اور ہم کون ہیں، ہم آپ کے پررودہ آپ ہی کے جگر کے ٹکڑے آپ ہی کے جسموں کے ٹکڑے ہیں اور ہمارے متعلق تصور ہی نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یہ کہا ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ کی غیرت توحید نے اتنا فصل بھی گوارہ نہ کیا کہ ان سوال و جواب کے درمیان فوراً نقل کردیا’’نعبد الھک والہ ابائک‘‘
یہی ہر مسلمان کی شان ہونی چاہئے
انہوں نے کہا کہ ابا جان! دادا جان! نانا جان! یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے یہ بھی کوئی ڈرانے کی بات ہے، ہماری رگوں میں ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام،یعقوب علیہ السلام کا خون ہے، آپ نے ہمیں شرک سے نفرت دلائی، کفر سے نفرت دلائی، ہم مرجانا گوارہ کریں گے لیکن کفر و شرک میں مبتلا ہونا پسند نہیں کریں گے، آپ اطمینان سے دنیا سے جائیے۔’’نعبدالھک والہ ابائک‘‘ہم آپ کے معبود کی پرستش کریں گے، آپ کے بزرگوں ،آپ کے پرکھو، آپ کے باپ دادا کے معبود( اللہ)کی ہم پرستش کریں گے۔’’الھک والہ ابائک ابراھیم و اسماعیل واسحاق الھاواحدا ونحن لہ مسلمون‘‘ ہم سب اس کے فرماں بردار ہیں، تب ان کو اطمینان ہوا۔
یہی ہر مسلمان کی شان ہونی چاہئے، اپنے متعلق بھی ہمیشہ ڈرتا رہے، اپنے ایمان کی خبر مناتا ر ہے، اسی لئے دعاء کرتا رہے کہ ہمارا ایمان سلامت رہے، ہمارا خاتمہ ایمان پر ہو اور پنی اولاد کے متعلق بھی اطمینان حاصل کرلے۔یہ ہماری زندگی میں بھی اور ہمارے بعد بھی اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کے آستانہ پرسر نہیں جھکائے گی، یہ اطمینان،یہ گارنٹی آدمی کو حاصل کر لینی چاہئے ایمان کے ساتھ کفر اور کفر کی چیزوں سے نفرت بھی ضروری ہے۔’’فمن یکفر بالطاغوت ویومن باللّٰہ‘‘اللہ تعالیٰ اس کو مقدم رکھتا ہے کہ جو سرکش شیطان کا انکار کرے گا اور اس کو ٹھکرادے گا(Reject) کردے گااور اللہ پر ایمان لائے گا، تو اس نے اللہ کے کڑے کو مضبوط پکڑلیا، تو ’’فمن یکفربالطاغوت‘‘ بھی ضروری ہے اور’’لاالہ الا اللہ‘‘میں نفی پہلے ہے، اثبات بعد میں ہے، نہیں ہے کوئی معبود ،نہیں ہے وہ جو پورے طور پر محبوب بنایا جائے، مقصود بنایا جائے، مطلوب بنایا جائے، معبود بنایا جائے، ’’الااللہ‘‘ پہلے نفی ہے، پھر اثبات ہے، ایسے ہی نفی و اثبات پر ہم کو بھی قائم رہنا چاہئے۔
یہ ہے مسلمانوں کے ذہنوں کو ڈھالنے والا سانچہ،ایمان کی قیمت پہچاننے کا امتحان و معیار، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس واقعہ کا ذکر کرکے اس کو قیامت تک کے لئے محفوظ کردیا کہ ہر نسل کا مسلمان بلکہ ہر نسل کا انسان پڑھے اور اس سے سبق لے، اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو بیان کر کے تاریخ نہیں سنائی ہے، قرآن تاریخ کی کتاب نہیں ہیں، تاریخ ہے لیکن وہ تاریخ کے لئے نہیں، یہاں پر ہمیں بتایا کہ اس طرح مسلمان کے ذہن کو کام کرنا چاہئے۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor