Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 675

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 675)

فضیلتِ صبر

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا :’’کھا کر شکر کرنے والا بمنزلہ روزہ رکھ کر صبرکرنے والے کے ہے‘‘

 تشریح:شکر اور صبر،ایمان کے دوبازو ہیں۔ جومعاملہ نفس کوناگوارہو، محض رضائے الہٰی کے لئے اس کوبرداشت کرنا اورجزع فزع کا اظہار نہ کرنا’’صبر‘‘ کہلاتا ہے( اورروزہ اپنی مرغوبات کو محض رضائے الہٰی کے لیے ترک کرنے کا نام ہے، اس لئے روزہ صبر کی اعلیٰ ترین قسم ہے) اور جو حالت طبیعت کے موافق ہو اس کو من جانب اللہ سمجھنا، اس پر خوش ہونا، اس کو اپنی لیاقت سے زیادہ سمجھنا ، اس پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا،اس نعمت کو گناہ میں استعمال نہ کرنابلکہ رضائے الہٰی کے حصول میں استعمال کرنا’’شکر‘‘ کہلاتا ہے، پس صبر اورشکر میں یہ فرق ہے کہ صبر میں تکلیف اور مصیبت کومعرفتِ الہٰی کے لئے مرآۃ بنایا جاتا ہے اوراس سے آدمی میں شکستگی اور عبدیت پیدا ہوتی ہے اور شکر میں انعامات الہٰیہ کومعرفتِ الہٰی کے لئے آئینہ بنایاجاتاہے جس سے حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ انس و محبت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اوربندے کے دِل میں حق تعالیٰ شانہ کے احکامات کی تعمیل اوران پر مرمٹنے کا داعیہ پیداہوتاہے، اس لئے حدیثِ پاک میں فرمایا گیا ہے کہ کھاکر شکر کرنے والا بمنزلہ روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کے ہے۔

وہ کون ہے جس پر دوزخ حرام ہے؟

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :کیا میں تم کونہ بتائوں کہ کون شخص ہے جوآگ پر حرام ہے اور آگ اس پر حرام ہے ؟ آگ حرام ہے ہر اس شخص پر جوقریب، نرم خو اور آسان ہو۔‘‘

 تشریح:اس حدیث میں آدمی کی نرم خوئی اور نرم مزاجی کی تعریف کی گئی ہے جو حق تعالیٰ کابہت بڑا عطیہ ہے، چنانچہ بعض لوگوں کے مزاج میں نرمی اور آسانی ہوتی ہے ایسے لوگ فطرۃً دوسروں سے نرمی و آسانی کا معاملہ کرتے ہیں ،اس لحاظ سے لوگ ان کے قریب ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کے دلوں کے قریب ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض لوگوںکے مزاج میں تندی ودرشتی پائی جاتی ہے،وہ دوسروں سے سخت گیری کامعاملہ کرتے ہیں اس وجہ سے لوگ ان کے قریب نہیںپھٹکتے اور وہ لوگوں کے دلوں سے دور ہوتے ہیں۔ آدمی کی پہلی حالت محمود اور دوسری مذموم، یہ اوصاف اگرچہ خلقی ہیںمگر ان کا استعمال اختیاری ہے۔

 آنحضرتﷺکے خانگی معاملات

حضرت اسود بن یزیدؒ ( جو بہت بڑے مرتبے کے تابعی ہیں) فرماتے ہیں کہ میں نے اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے دریافت کیا:جب آنحضرتﷺ گھر تشریف لاتے تھے توکیاکیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا : گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے تھے لیکن جب نمازکاوقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔‘‘

تشریح:یہ آنحضرتﷺکا کمالِ اخلاق اور کمالِ تواضع تھی کہ دولت خانے میں تشریف رکھتے ہوئے گھر کے معمولی کاموںسے بھی عار نہیں فرماتے تھے بلکہ ایک عام آدمی کی طرح گھر کی ضرورت خدمت میںمصروف رہتے تھے،شمائل ترمذی(ص:۲۴) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی روایت سے ان خدمات کی تفصیل اس طرح آئی ہے:

’’انہوںنے فرمایا کہ:آپﷺ بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے، اپنے کپڑے کی جوئیں دیکھ لیتے تھے( کہ کسی دوسرے کے کپڑے سے نہ چڑھ گئی ہوں)اوربکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اوراپنے ذاتی کام خود کرلیتے تھے۔‘‘

 مسند احمد اور ابنِ حبان کی روایت میں ہے :

’’اپنا کپڑا سی لیتے تھے اور اپنا جوتا گانٹھ لیتے تھے‘‘

اور ابنِ حبان کی روایت میں یہ اضافہ ہے :

’’ اور اپنے ڈول کی مرمت کرلیتے تھے۔‘‘

 آنحضرتﷺ کے کریمانہ اخلاق

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب کوئی شخص آنحضرتﷺ کے سامنے آکر آپﷺ سے مصافحہ کرتا تو آپﷺ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچتے تھے، یہاں تک کہ وہ شخص خود ہی اپنا ہاتھ کھینچ لیتا اور آپﷺاس کے چہرے سے اپنا چہرہ نہیں پھیرتے تھے یہاں تک کہ وہ خود ہی اپنا چہرہ پھیر لیتااور کبھی نہیں دیکھا گیاکہ آپﷺ نے اپنے گھٹنے کسی ہم نشین کے آگے کئے ہوں۔ (ٹانگیں پھیلائے بیٹھے ہوئے ہوں)

غرور وتکبر اور خودبینی کا انجام

حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

تم سے پہلی امتوں کا ایک شخص اپنے حُلّے میں اِتراتا ہوا نکلا، پس اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور زمین نے اسے پکڑلیا، چنانچہ وہ زمین میں قیامت تک دھنستا رہے گا۔‘‘

تشریح:’’حُلّہ‘‘ کہتے ہیں ان دو نئی چادروں کو جو پہلی بارپہنی جائیں۔ لباس پہن کر اِترانا متکبرین کاشیوہ ہے اورتکبر اللہ تعالیٰ کوپسند نہیں،اس لئے اس شخص کو اس کی خود پسندی ، غرور اور تکبر کی وجہ سے زمین میں دھنسادیا گیا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online