معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 676

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 676)

بندئہ مومن کو حق تعالیٰ کوئی نعمت( مثلاً اچھا لباس) عطاء فرمائیں تو اس کی نظر عطاء کرنے والے مالک پر ہوتی ہے خود اپنی ذات پر نہیں، اس لئے اس میں اس نعمت کی وجہ سے عجز و انکساری کی کیفیت پیداہوتی ہے اور وہ اس بے استحقاق احسان و انعام پر اللہ تعالیٰ کاشکر بجالاتا ہے اور اس لئے وہ حق تعالیٰ کے مزید لطف و انعام کا موردبنتا ہے اور کافر و فاسق کی نظر اپنی ذات پر ہوتی ہے، اس لئے اچھا لباس پہن کر اس میں کبرو نخوت کی کیفیت پیداہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ حق تعالیٰ شانہ کے قہرو غضب کا مورِ د بنتا ہے۔ نعوذباللہ من غضب اللہ و غضب رسولہ!

متکبروں کا انجام

عمرو بن شعیب( بن محمد بن عبداللہ بن عمروبن العاص) اپنے والد( شعیب سے اور وہ اپنے داد ا( حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے) روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی مثل آدمیوں کی صورتوں میں اُٹھائے جائیں گے، ان کو ہر جگہ سے ذلت ڈھانک رہی ہوگی، ان کوجہنم کے ایک قیدخانے کی طرف،جس کا نام’’بولس‘‘ ہوگا ہانک کر لے جایاجائے گا، ان پر ایسی آگ چھائی ہوگی جو ’’نار الانیار‘‘ کہلاتی ہے،انہیں پینے کو دوزخیوں کے زخموں کا دھون اور کچ لہو ملے گا۔‘‘

تشریح:اس حدیث میں متکبرین کی سزاکا ذکر ہے کہ وہ قیامت کے دن چیونٹیوں جیسی ننھی منی جسامت میں اٹھائے جائیں گے مگر شکل انسانوں کی ہوگی، یہ ان کے تکبر کی سزا ہوگی کہ انہوں نے اپنے ذہن میں اپنے آپ کو جتنا بڑا سمجھا تھا ، اللہ تعالیٰ انہیں اس قدر چھوٹااور ذلیل کردکھائیں گے۔

 ’’بولس‘‘جہنم میں ایک قید خانے کا نام ہے جس میں ان متکبروں کومحبوس کیا جائے گااور جس کی طرف انہیں مویشیوں کی طرح ہانک کر لے جایا جائے گا۔ ’بولس‘‘ کا مادہ’’بلس‘‘ ہے جس کے معنی غم واندوہ، عجزوتحیر اور پشیمانی و ناامیدی کے ہیں۔امام راغب اصفہانیؒلکھتے ہیں:

’’ابلاس کے معنی ہیں: وہ غم جوشدید گرفت کی وجہ سے لاحق ہو…جس شخص کویہ حالت پیش آئے چونکہ وہ بسااوقات سکوت کو لازم پکڑ لیتاہے اور سٹی بھول جاتاہے،اس لئے ’’ابلس فلان‘‘ اس وقت کہاجاتاہے جب وہ خاموش اورلاجواب ہوجائے۔‘‘

اس جہنمی قید خانے کا نام’’بولس‘‘ شاید اسی مناسبت سے رکھا گیاکہ ان پرشدتِ عذاب کی وجہ سے غم واندوہ کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے، وہ ہر طرح عاجزو لاچار ہوں گے اور ان پر حیرت و پشیمانی کی وجہ سے رحمت الہٰی سے ناامیدی کی کیفیت طاری ہوگی۔نعوذ باللہ!( ابلیس کوبھی ابلیس اس لئے کہتے ہیں کہ و ہ اللہ کی رحمت سے مکمل ناامید ہوتاہے)

’’نار الانیار‘‘ کا لفظی ترجمہ ہے:’’آگوں کی آگ‘‘ یعنی وہ آگ جودنیا جہان کی آگوں کو اس طرح کھاجائے جس طرح آگ لکڑی وغیرہ کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ ’’بولس‘‘ کے قید خانے میں ان متکبرین پر یہ آگ سر سے پائوں تک مشتعل ہوگی اور جب وہ پینے کو کچھ مانگیں گے تو دوزخیوںکے زخموں سے رسنے والے کچ لہو،پیپ اور غلیظ مادے سے ان کی تواضع کی جائے گی، جس کا نام ’’طینۃ الخبال‘‘ہوگا،’’خبال‘‘ اس فسادکو کہتے ہیں جو جنون اور عقل و فکر کے اختلال کا موجب ہو( مفردات راغب) اس غلیظ مادے کا نام…واللہ اعلم… شایداس لئے رکھا گیا کہ اس کے پیتے ہی ان لوگوں پر اضطراب وبے چینی کی کیفیت طاری ہوجائے گی، ان کی عقل و فکر اورہوش و حواس میں اختلال و فساد پیدا ہوجائے گا اور ان سے مجنونانہ حرکتیں صادرہونے لگیں گی۔

فائدہ…صحیح مسلم( ج:۲ ص :۱۶۷باب بیان ان کل مسکرحرام)میں یہی سزانشہ آور چیزپینے والے کے لئے آئی ہے۔

’’بیشک اللہ کے ذمے عہد ہے اس شخص کے لئے جو نشہ آور مشروب پیتا ہے کہ اس کو’’ طینۃ الخبال‘‘ میں سے پلائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! طینۃ الخبال کیا چیز ہیـ؟فرمایا:دوزخیوں کا عرق یا دوزخیوں ( کے زخموں) کانچوڑ۔‘‘

اور سنن ابن ماجہ( ص :۲۴۲) کی ایک روایت میں ’’ردغۃ الخبال‘‘ کے الفاظ اسی مفہوم کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔

متکبرین اپنے تکبر کی وجہ سے ایک طرح کے جنون اور فکری اختلال میں مبتلا تھے، اسی طرح شراب نوشی کرنے والے بھی مدہوشی وبدحواسی کی بلا میں گرفتار تھے، شایداسی لئے جہنم میں بھی ان کو جنون اورمشروب پیش کیا جائے گاجسے’’طینۃ الخبال‘‘ یا ’’ردغۃ الخبال‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اعاذنا اللّٰہ عنھما!

غصے کوپی جانے کی فضیلت

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا :جس شخص نے غصہ پی لیا، حالانکہ وہ اپنے غصے کونافذ کرنے کی قدرت رکھتاہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائیں گے، یہاں تک کہ اسے اختیاردیں گے کہ جس حور کا وہ چاہے انتخاب کرلے۔‘‘

تشریح:قدرت کے باوجود غصے کو پی جانااور اس کے مقتضا پر عمل نہ کرنا بڑے حلم وبردباری اوربہادری کی بات ہے، چنانچہ صحیحین کی حدیث میں ہے:

بہادر وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑدیتاہو،بہادرتو و ہ ہے جوغصے کے وقت اپنے آپ کو قابومیںرکھے۔‘‘(مشکوٰۃ ص : ۴۳۳)

غصے کا منشا کبر ہے اور حلم و ضبطِ نفس کا منشا تواضع ہے، اس لئے جوشخص قدرت کے باوجود اپنا غصہ جاری نہ کرے، آمادئہ انتقام نہ ہو بلکہ عفوودرگزر سے کام لے، حق تعالیٰ شانہ قیامت کے دن سب کے سامنے اس کا یہ اکرام فرمائیں گے۔

٭…٭…٭