Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 677

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 677)

تین خوبیاں

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:تین خوبیاں ایسی ہیں کہ جس شخص میں پائی جائیں، اللہ تعالیٰ( قیامت کے دن) اس پراپنا پردہ پھیلادیں گے(یعنی اپنی رحمت و مغفرت کے پردے سے اس کے عیوب ڈھانک دیں گے) اور اسے جنت میں داخل کردیں گے( بشرطیکہ وہ مسلمان ہو اور وہ تین خوبیاں یہ ہیں) کمزوروں سے نرمی کرنا ، والدین سے شفقت کرنا اوراپنے غلام سے حسنِ سلوک کرنا۔‘‘

تشریح:یہ تین امور اعلیٰ درجے کے مکارمِ اخلاق میں سے ہیں،جس مسلمان میں یہ جمع ہوجائیں حق تعالیٰ شانہ اس کے عیوب کی پردہ پوشی فرمائیں گے اور اسے جنت میں داخل فرمائیں گے۔ میں نے ترجمے میں’’بشرطیکہ وہ مسلمان ہو‘‘ کی قید اس لئے لگائی کہ اسلام و ایمان کے بغیر کوئی خوبی،خوبی نہیں۔

’’حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جس کو میں ہدایت دے دوں، پس تم مجھ سے ہدایت مانگومیںتم کو ہدایت دوں گااور تم سب فقیرہو، سوائے اس کے جس کو میں غنی کردوں، پس تم مجھ سے اپنا رزق مانگو اور تم سب گنہگار ہو،سوائے اس شخص کے جس کومیں عافیت میں رکھوں، پس تم میں سے جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ میں بخشش دینے پر قدرت رکھتا ہوں پس وہ مجھ سے بخشش مانگے تو میں اس کو بخش دوں گا اور میں کوئی پروا نہیں کروں گا اور اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، زندے اور مردے، تر اور خشک سب مل کر میرے بندوں میں سب سے زیادہ متقی دِل والے بندے پر جمع ہوجائیں( یعنی سب اس جیسے بن جائیں) تویہ چیز میرے ملک میں ایک مچھرکے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں کرے گی! اور اگر تمہارے پہلے اور پچھلے،زندے اور مردے،تر اور خشک سب مل کر میرے بندوں میں سے سب سے بدبخت دِل والے بندے پر جمع ہوجائیں( یعنی اس جیسے بن جائیں) تو یہ چیز میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کرے گی اور اگر تمہارے پہلے اورپچھلے،زندے اور مردے، تر اور خشک سب کے سب ایک میدان میں جمع ہوجائیں ،پھر تم میں سے ہر شخص وہ سب کچھ مانگ لے جہاں تک اس کی تمنا پرواز کر سکتی ہے اور میں ہر شخص کو وہ سب کچھ دے دوں جو اس نے مانگا ہو، تو اس سے میری سلطنت ( کے خزانوں) میں ذرا بھی کمی نہیں ہوگی،جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر پر جائے اور اس میں سوئی ڈبو کر نکالے( کہ اس سوئی کولگنے والے پانی سے بحرِ محیط میں کیا کمی واقع ہوئی ہے؟)اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جواد( سخی) ہوں، غنی ٔ مطلق ہوں،بہت ہی وسعت سے عطا کرنے والا ہوں، جو چاہتا ہوں کرتا ہوں، میری عطاء صرف حکم دینا ہے اور میرا عذاب صرف حکم دینا ہے( یعنی اسباب و وسائل کا محتاج نہیں ہوں) میرا کام تو بس یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتاہوں اور اس سے کہہ دیتا ہوں کہ:’’ہوجا! بس وہ ہو جاتی ہے۔‘‘

تشریح:حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث صحیح مسلم ( کتاب البروالصلۃ،باب تحریم الظلم) میں مزیداضافوں کے ساتھ مروی ہے ،تتمیم فائدہ کے لئے اس کو یہاں نقل کیاجاتا ہے۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے منجملہ ان احادیث کے جو آپﷺ ،اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں ،فرمایا کہ( حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ) اے میرے بندو! میں نے ظلم کواپنے اوپر بھی حرام قرار دیا ہے( یعنی میں ظلم سے پاک ہوں)پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔اے میرے بندو!تم سب گمراہ ہو،سوائے اس شخص کے جس کو میںنے ہدایت دے دی، پس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تم کو ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس شخص کے جس کو میں کھلائوں، پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلائوں گا۔اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو، سوائے اس شخص کے جس کو میں پہنادوں، پس تم مجھ سے پہننے کے لئے مانگومیں تم کو پہنائوں گا، اے میرے بندو! بے شک تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں سب گناہ بخش سکتا ہوں، پس تم مجھ سے بخشش مانگو میں تم کو بخش دوں گا۔ اے میرے بندو!تم ہرگز میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچائو اور ہر گز میرے نفع کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نفع پہنچائو۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے انسان اور جنات سب کے سب کسی ایسے شخص کے دل پر جمع ہوجائیں جو سب سے زیادہ متقی ہو تو ( تمہاری یہ پارسائی) میری سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں کرے گی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے انسان اور جنات سب سے بد بخت( یعنی ابلیس لعین) کے دِل پر ہو جائیں( یعنی فرض کرو کہ ساری دنیااول سے آخر تک ابلیس لعین جیسی بھی بن جائے) تب بھی یہ چیزمیری سلطنت میں ذرابھی کمی نہیںکرے گی۔اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے انسان اور جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں ، پھر مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر شخص کو اس کی مانگ کے مطابق دیتا جائوں تو یہ چیزمیرے پاس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں کرے گی، مگر جیسا کہ سوئی سمندرمیں ڈال کر نکال لی جائے، وہ سمندر میں کیاکمی کر سکتی ہے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor